پاکستان میں توانائی بحران کب حل ہو گا؟

پاکستان کی معیشت کے پانچ ستون زراعت، مویشی بانی اور آبی حیات، معدنیات، صنعت اور تجارت ہیں۔ ان تمام عناصر کو متحرک ہونے کیلئے قوت، توانائی سے حاصل ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ عوام کی روزمرہ زندگی کا دارومدار بھی بجلی، قدرتی گیس، پٹرول وغیرہ پر ہے۔ دنیا بھر میں بنیادی طور پر تیل، گیس، کوئلہ، نیوکلیائی قوت، ہائیڈل قوت، سورج کی روشنی اور ہوا کی قوت سے بجلی کی توانائی حاصل کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی ان تمام ذرائع سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ ڈیموں، بیراجوں اور دریا کے بہاﺅ پر خالصتاً ہائیڈرو پاور پراجیکٹس سے ہائیڈل بجلی حاصل کی جاتی ہے۔ دریاﺅں اور نہروں پر نصب تھرمل بجلی گھروں کو گیس اور فرنس آئل استعمال کرکے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ اسکے علاوہ ڈیزل گیس اور فرنس آئل سے چلنے والے بجلی گھر ہیں جنہیں IPP کہتے ہیں۔ یہ غیر ملکی کمپنیوں کی طرف سے نصب شدہ بجلی گھر ہیں۔ کچھ ایٹمی توانائی سے چلنے والے بجلی گھر بھی بجلی کی پیداوار دے رہے ہیں۔ انکے علاوہ حال میں ٹھٹھہ کراچی اور لسبیلا کے ساحلی علاقوں میں ہوا سے چلنے والے بجلی گھر تعمیر کئے گئے ہیں جن میں سے 5000 میگاواٹ کے ہوا سے چلنے والے بجلی گھر مکمل ہو چکے ہیں اور بقیہ بھی چند مہینوں میں مکمل ہونگے۔ بہاولپور کے چولستان کے علاقہ میں ایک ارب ڈالر کی لاگت سے 50 میگاواٹ صلاحیت کا ایک سورج کی روشنی یعنی سولر بجلی گھر زیر تعمیر ہے۔ ونڈ انرجی (ہوا سے چلنے والے بجلی گھر) اور سولر انرجی بجلی گھر غیر ملکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔ ان سے حاصل شدہ بجلی بہت مہنگی ہوتی ہے اور یہ غیر ملکی کمپنیاں بجلی فروخت سے حاصل شدہ رقم کے اربوں ڈالر سالانہ اپنے ملکوں میں لے جائینگے۔ پاکستان میں بجلی کی بحرانی کیفیت کی ایک مثال درج ذیل ہے۔
2010-2011ءمیں تنصیب شدہ استعداد
-1 ہائیڈرو پاور 5000 میگاواٹ، -2 تھرمل بجلی 3200میگاواٹ، -3 نیوکلیائی بجلی 462 اور IPP 6185، 6647 میگاواٹ، -4 کے ای ایس سی کراچی تھرمل 1756 میگاواٹ۔ کل پیداوار: 19757۔
اصل پیداوار جولائی 2012ئ
-1ہائیڈرو پاور 3000 میگاواٹ، -2 تھرمل بجلی 2000میگاواٹ، -3 نیوکلیائی بجلی اور IPP 6216 میگاواٹ، -4 کے ای ایس سی کراچی تھرمل 710 میگاواٹ۔ کل پیداوار: 8500میگاواٹ۔
پورے پاکستان میں بشمول کے ای ایس سی کراچی بجلی کی زیادہ سے زیادہ مانگ موسم کے لحاظ سے کچھ یوں ہے۔ جولائی 2012ءمیں 18713 میگاواٹ، اکتوبر 2012 ءمیں 14200 میگاواٹ۔
سال رواں تک کچھ ہائیڈرو پاور بجلی گھروں نے پیداوار شروع کی ہے۔ ونڈ پاور کے کئی بجلی گھر مکمل ہو چکے ہیں اور نیوکلیائی بجلی کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا جس کی بدولت بجلی کی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔جولائی 2013ءمیں بجلی کی تنصیب شدہ پیداواری صلاحیت یوں ہے:
-1 واپڈا ہائیڈرو پاور 7818 میگاواٹ، -2 تھرمل ہائیڈرو پاور 5000 میگاواٹ، -3 نیوکلیائی چشمہ 1 چشمہ 2 اور چشمہ 3 1462 میگاواٹ، -4 آئی پی پیز 6185 میگاواٹ، -5 کراچی الیکٹرک پاور سپلائی کمپنی (تھرمل) 1756 میگاواٹ، -6 ہوا کی قوت سے پیدا ہونے والی بجلی 3200 میگاواٹ۔ مجموعی پیداواری صلاحیت: 25,259 میگاواٹ۔
کچھ میگا ہائیڈرو پاور پراجیکٹس بھی زیر تعمیر ہیں جو کہ آئندہ پانچ برسوں میں مکمل ہو سکتے ہیں بشرطیکہ حکومت تندہی سے ان پر کام جاری رکھے۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور 969 میگاواٹ کوہالہ ہائیڈر پاور 1100 میگاواٹ، تھاکوٹ 2800 میگاواٹ، پتن ہائیڈرو پاور 2800 میگاواٹ، بونجی ہائیڈرو پاور 7100 میگاواٹ اور داسو ہائیڈرو پاور 4200 میگاواٹ قابل ذکر ہیں۔ اس طرح آنیوالے پانچ برسوں کے اختتام تک مجموعی طور پر ملک کی بجلی کی پیداواری صلاحیت 44228 میگاواٹ ہو سکتی ہے۔
قدرتی گیس کے معاملہ میں اس وقت پاکستان خود کفیل ہے۔ وزارت پٹرولیم حکومت پاکستان کے گزٹ نوٹیفکیشن :
SRO-1078 (1)/2012 dated 1september 2012 کے مطابق ملک کے تمام گیس فیلڈز کی پیداواری صلاحیت 4063 mmcfd یومیہ ہے۔ جبکہ ملک کی فیکٹریوں، بجلی گھروں، گھریلو صارفین اور سی این جی پر چلنے والی گاڑیوں کیلئے مجموعی ڈیمانڈ (ضرورت) 2800 mmcfd یومیہ ہے۔ سوئی ناردرن اور سوئی ساﺅدرن پائپ لائن لمیٹڈ کی طرف سے موجودہ طلب کی بجائے 1900 mmcfd سے 2000 mmcfd یومیہ گیس سپلائی کی جا رہی ہے۔ یوں 800 mmcfd سے 900 mmcfd یومیہ کی مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے۔ حکمران قیادت ان حقائق کو چھپائے ہوئے ہیں اور عوام کو مایوس کن حالات بتا کر محرومیوں میں دھکیل رہے ہیں۔
پاکستان میں لسبیلا، پنجگور، خاران اور قلات میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ OGDC/PPL کے قومی اداروں کے ذریعے تیل اور گیس نکال لیں اور اندرون ملک وسائل پر انحصار کریں۔ پاکستان میں بجلی اور گیس کی کمی ہرگز نہیں ہے۔ ملک میں حکومت کے اندر Anarchy یعنی افراتفری کی صورتحال ہے۔ ایک حکومتی اندازے کیمطابق پانچوں صوبوں اور وفاق کے سرکاری محکمے 153 ارب روپیہ کے بجلی کے نادہندہ ہیں۔ یہ رقم تو وزارت خزانہ ایک حکم کے ذریعے تمام صوبوں اور وفاقی محکموں کیلئے مختص فنڈز میں سے منہا کرکے واپڈا کو ادائیگی یقینی بنا سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ بااثر افراد اور وزراءاور مشیروں کے کاروبار اور کارخانہ اور گھریلو صرف شدہ بجلی کی نادہندگی کی مد میں 159 ارب روپیہ واجب الادا ہیں۔ ان سرکاری محکموں اور بااثر افراد کی نہ تو بجلی منقطع کی جاتی ہے نہ ان سے رقم وصول کی جاتی ہے۔ آنیوالی حکومت جس دن بھی ان سے رقوم وصول کرکے واپڈا کو ادائیگیاں یقینی بنائے گی اس دن سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو جائیگی۔ رقم کی وصولی میں حکومت جتنی بھی دیر لگائے گی اتنی دیر بعد بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو جائیگی۔ یک وقتی وصولی کے بعد مسلسل بجلی کی واجبات کی وصولی کو یقینی بنانا حکومت کا کام ہے۔ اگر حکومت بجلی کے واجبات کی مسلسل وصولی کو یقینی بناتی ہے تو عوام کو اندھیروں سے نجات ملے گی اور کارخانوں کا پہیہ چلتا رہے گا۔ بصورت دیگر اندھیرے عوام کی تقدیر بن جائینگے۔ وسائل ضرورت سے زیادہ موجود ہیں اس لئے حکمرانوں کے بہانے کہ وسائل بڑھانے میں اتنے برس لگیں گے تو یہ ٹال مٹول دھوکہ اور نااہلی ہے۔
یہی صورت قدرتی گیس کی ہے۔ اس شعبہ میں بھی نادہندگان سے بروقت وصولیاں کرکے رقم گیس کمپنی کو فراہم کی جائے تو گیس کی لوڈشیڈنگ بھی فوری طو پر ختم ہو سکتی ہے۔ عوام اپنے حکمرانوں سے توقع کرتے ہیں کہ انہیں دھوکہ میں نہ رکھیں اور فوری ریلیف دینے کیلئے تندہی اور سختی سے نادہندگان سے وصولیاں یقینی بنائیں۔