میڈیا اورجمہوریت کو شاباش.... مستقبل پرنظر رکھیں

کالم نگار  |  رحمت خان وردگ....

بی بی شہید بار بار کہتی تھیں کہ ”جمہوریت بہترین انتقام ہے“۔ واقعی یہ بات درست ہے کیونکہ الیکٹرانک میڈیا کی آزادی اور جمہوریت کے تسلسل نے اس بات پر مہر ثبت کردی ہے کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جنرل ضیاءالحق نے پیپلزپارٹی کے جیالوں پر پبلک مقامات پر کوڑے برسائے‘ انہیں قیدوبند کی صعوبتیں دیں اور پیپلزپارٹی کے لوگوں کیلئے زمین تنگ کردی تھی مگر ان کی اس کارروائی سے پیپلزپارٹی ختم ہونے کی بجائے مزید جڑیں پکڑتی گئی اور ضیا ءالحق کی شہادت کے بعد سے تین بار اقتدار میں آگئی۔ اسی طرح ایم کیو ایم بننے کے بعد میاں نوازشریف اور بی بی شہید نے اس کیخلاف فوجی آپریشن کئے اور طرح طرح کی کارروائیاں کی گئیں مگر یہ پارٹی بھی حکومت کارروائیوں سے ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھتی چلی گئی۔
جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور میں سب سے زیادہ جمہوریت پسندی کا یہ ثبوت دیا کہ سینکڑوں پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے لائسنس جاری کئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک میں الیکٹرانک میڈیا کا نیا انقلاب برپا ہواجس کا خمیازہ انہوں نے خود بھگتا اور انکے دور میں چند ٹی وی چینلز کو بند بھی کیا گیا مگر مجموعی طور پر الیکٹرانک میڈیا نے جمہوریت کے استحکام کیلئے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔ میڈیا نے پاکستان کی عوام کو بہت شعور دیا ہے اور اب وہ یہ اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ کس کس پارٹی نے کیا کچھ کیا ہے اور کونسی جماعت انکی کیا خدمت کرسکتی ہے اور کونسی جماعت سے ملک کو فائدہ ہوگا۔میں میڈیا کے اس کردار پر تمام چینلز کو داد تحسین پیش کرتاہوں جن کی وجہ سے الیکشن 2013ءمیں ووٹنگ ٹرن آﺅٹ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
پیپلزپارٹی نے اپنی حکومت میں نہ تو ضیاءالحق کی اولادوں سے کوئی بدلہ لیا ہے اور نہ ہی انکی سیاست یا کاروبار کرنے میں کسی قسم کے روڑے اٹکائے ۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کے دور میں پاکستان بھر میں کوئی سیاسی قیدی بھی نہیں تھا۔ گزشتہ دور میں قوم کو اچھی طرح علم ہے کہ ہر ٹی وی چینل دن میں 4-4 بار بریکنگ نیوز چلاتا تھا کہ ”اب حکومت گئی“ اور ”فلاں ایئرپورٹ پر طیارہ آگیا ہے جس میں حکومتی اہم شخصیت فرار ہو جائیگی“۔ میڈیا کی اس قدر جانبدارانہ رپورٹنگ کے باوجودشاباش ہے پیپلزپارٹی کی حکومت پر جس نے اپنے 5سالہ دور میں اس رپورٹنگ کی کوئی پرواہ نہیں کی اور میڈیا پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ پیپلزپارٹی نے اپنے دور میں میڈیا‘ عدلیہ اور فوجی سے کسی قسم کی بدمزگی پیدا نہیں ہونے دی اور فوجی سے تعلقات خراب کرنیکی تمام سازشوں کو بھی ناکام بنادیا جس سے انہوں نے اپنی مدت پوری کی۔
جمہوریت کے تسلسل اور میڈیا کی آزادی کی وجہ سے پنجاب کی عوام نے 18-18گھنٹے کی بدترین لوڈشیڈنگ کا انتقام لیتے ہوئے پیپلزپارٹی کو مسترد کردیا اور جمہوریت و میڈیا نے وہ کام کردکھایا جو ضیاءالحق 11سال کی محنت و مشقت سے نہیں کرپائے اور پیپلزپارٹی کو 1 صوبے تک محدود کردیا۔ پیپلزپارٹی کی عبرتناک شکست میاں صاحب کی کارکردگی کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ بدترین لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہوئی ہے اور اگر اب لوڈشیڈنگ پر قابو نہ پایا جاسکا تو قوم جمہوری طریقے سے نوازلیگ کو بھی اسی طرح سے کک آﺅٹ کردیگی۔ اسی طرح سے جمہوریت کے تسلسل اور میڈیا کی آزادی کی وجہ سے کراچی میں بھی متحدہ قومی موومنٹ کے مینڈیٹ میں نقب لگ چکی ہے اور کراچی میں تحریک انصاف بہت بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے جس نے خیبرپختونخواہ میں صوبائی حکومت بھی بنالی ہے۔یہ سب کچھ میڈیا کی آزادی اور جمہوریت کے تسلسل کی وجہ سے ہوا ہے کیونکہ جو کام فوجی آپریشن نہیں کرسکے وہ کام میڈیا اور جمہوریت نے کردکھایا ہے اور اب ہر سیاسی جماعت خصوصاً پیپلزپارٹی‘ اے این پی اور متحدہ قومی موومنٹ کو اپنے ماضی کی غلطیوں پر نظرثانی کرکے نئے سرے سے سیاست کا آغاز کرنا ہوگا۔
میاں صاحب نے ماضی میں اداروں سے ٹکراﺅ کاراستہ اپنایا جسکے باعث جمہوریت کو لپیٹ دیا گیا اورملک اسی کشمکش میں مبتلا رہا کہ یہاں کونسا نظام چلے گا؟ ماضی میں سب نے غلطیاں کی ہیں لیکن اب میاں صاحب نے جس طرح گزشتہ حکومت میں جمہوریت قائم رکھنے میں مثبت کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہے لیکن اس جدوجہد میں بھی ان پر فرینڈلی اپوزیشن کا الزام لگایا گیا مگر وہ اپنی جمہوریت پسندی کے موقف پر قائم رہے جس کے باعث بدترین جمہوریت بھی چلتی رہی اور مخالفین میاں صاحب پر پیپلزپارٹی کی حکومت چلانے کا ذمہ دار ہونے کا الزام لگاتے رہے۔ میرے خیال میں میاں صاحب نے بہت اچھا کیا اور جمہوریت قائم رکھنے کیلئے اپنا بہترین کردار ادا کیا۔ اسی طرح اب انتخابات میں فتح کے بعد انکی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
میاں صاحب کو اپنے پڑوسی ممالک سے بہترین تعلقات رکھنے چاہئیں مگر اس سلسلے میں زیادہ عجلت ٹھیک نہیں ہوگی کیونکہ بھارت کیساتھ انتہائی تیزی سے تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے۔ میاں صاحب کو ایران‘ چین اور افغانستان کیساتھ تعلقات پر خصوصی توجہ دینی ہوگی اورعسکری قیادت سے مکمل ہم آہنگی کیساتھ خارجہ پالیسی کی تشکیل نو کرنی ہوگی۔ اب فوج اپنے آئینی دائرے میں رہ کرکام کررہی ہے اور جمہوریت کے استحکام کیلئے جنرل کیانی صدق دل کیساتھ تعاون کررہے ہیں جس پر انہیں ”تمغہ جمہوریت کا فیلڈمارشل“ دینا چاہئے۔
دہشت گردی کیخلاف امریکی جنگ سے علیحدگی کیلئے عسکری قیادت اور سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد قومی پالیسی وضح کی جائے جس میں ڈرون حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں اور طالبان سے مذاکرات کا آغاز کیا جائے اور اس سلسلے میں اگر فوجی قیادت کو کچھ تحفظات ہیں تو ان پر انہیں مطمئن کیا جانا ضروری ہے۔ میاں صاحب کو اب اداروں کے استحکام کیلئے انتہائی تحمل و برداشت کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور پیپلزپارٹی کی حکومت کی طرح میڈیا‘ عدلیہ اور دیگر اداروں کی تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کرکے اپنی خامیوں کو ختم کرکے ہی عوام کے مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔
میاں صاحب کے فوری طور پر عسکری قیادت سے تعلقات کی خرابی کا باعث جنرل مشرف کا مسئلہ بن سکتا ہے اس لئے میاں صاحب کو چاہئے کہ پچھلی حکومت کی طرح جنرل مشرف کا مسئلہ خالصتاً عدلیہ پر چھوڑ دیں اور کسی بھی قسم کے ذاتی انتقام کے عزائم نہیں رکھنے چاہئیں اور کسی بھی حاضر سروس یا سابق جرنیل کیخلاف فیصلوں پر انتہائی دانشمندی سے فیصلے کرنا بہت ضروری ہوگا کیونکہ ماضی میں اس سلسلے میں میاں صاحب کا طرز عمل خطرناک رہا ہے ۔ جنرل مشرف کا معاملہ سول و عسکری قیادت کے درمیان اہم ہے اور ا س بارے میں ردعمل و رویئے ہی جمہوریت کے استحکام کا فیصلہ کرینگے اس لئے اس پر گزشتہ حکومت کی طرح خاموشی مناسب رہے گی۔میاں صاحب کی صدر زرداری سے ملاقات میںگرمجوشی انتہائی خوش آئندہے اورجمہوریت کو فائدہ ملے گا۔ مسلم لیگ ن کا متحدہ قومی موومنٹ سے رابطہ خوش آئند ہے کیونکہ کراچی میں امن سے ملکی معیشت زبردست ترقی کرتی ہے۔