بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

پانامہ کیس بالآخر اپنے انجام کو پہنچ ہی گیا۔ پچھلے سوا سال سے پانامہ کی وجہ سے پوری قوم پریشان تھی کہ ہمارے راہنما قومی دولت لوٹ کر غیر ممالک میں اولاد کے نام پر وسیع جائیدادیں بناتے ہیں اور پکڑے بھی نہیں جاتے۔ یہ حکمرانوں کی لوٹ مار ہی ہے جس نے قوم کو مفلوک الحال بنا دیا ہے۔ لوگ خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔چالیس فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔غریب جو دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں انکی اولادیں سکول جانے کی بجائے بھٹوں پر مزدوری کر کے پیٹ پالتی ہیں۔ان کے مقابلے میں اس ملک کا طبقہ اشرافیہ نہ صرف دولت میں کھیلتا ہے بلکہ ہم پر حکمرانی بھی کرتا ہے۔ان میں سے زیادہ تر اشرافیہ نے اپنی دولت قوم کی لوٹ مار کر کے نا جائز ذرائع سے اکٹھی کی ہے۔یہی الزام محترم شریف فیملی پر بھی لگا ہے۔یہ تو وقت ثابت کریگا کہ یہ الزام سچا ہے یا جھوٹا لیکن وہ اس الزام کے نتیجے میں نا اہل قرار دئیے گئے ہیں اور انکی فیملی کے خلاف تفتیش کر کے ریفرنس دائرکئے جا رہے ہیں جنہیں وہ قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ تو یوں ملک کا امیر ترین اور پا پولر سیاستدان اقتدار کی بھول بھلیوں سے نکل کر سڑکوں پر آگیا ہے۔سمجھ نہیں آتی کہ ان کے ساتھ اظہار ِ ہمدردی کیا جائے یا قدرت کی طرف سے مکافاتِ عمل سمجھ کر اظہارِ افسوس کیا جائے۔ ویسے بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں کیونکہ محترم تین بار وزیر اعظم بنے اور انکا خاندان پچھلے تیس سالوں سے اس ملک پر حکمرانی کر رہا ہے اور جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عروج نصیب ہوتا ہے وہاں کبھی نہ کبھی زوال بھی تو آتا ہے۔ ممکن ہے اس زوال میں بھی قدرت کی کوئی بہتری ہو۔
میاں صاحب کی خوبی یہ ہے کہ وہ قوم کے سامنے وعدے کرنے میں بڑے فراخ دل ہیں۔ وعدوں سے دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیتے ہیں۔ آسمان سے ستارے توڑ لاتے ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد وہ صرف حکمرانی کرتے ہیں۔ اسی طرح ملک کے لئے قرض لینے میں بھی بہت فراخدل ہیں۔ ملک پر 175ارب ڈالرز تک کا قرضہ چڑھا دیا ہے جو معلوم نہیں کیسے ادا ہوگا۔ پیسہ خرچ کرنے میں بھی شاہانہ رویہ رکھتے ہیں بشرطیکہ یہ پیسہ سرکاری خزانے سے خرچ کرنا ہو۔ معمولی سی تکلیف کے لئے انگلینڈ علاج کرانے چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں کوئی ہسپتال ان کے معیار کا نہیں۔ انگلینڈ سے واپس آنے کے لئے پاکستان سے خصوصی بوئنگ طیارہ منگواتے ہیں۔ سو سے زیادہ دورے کر چکے ہیں۔ تیس لاکھ کی گھڑی پہنتے ہیں۔یہی حال باقی لباس کا بھی ہے۔ مرسیڈیز گاڑیوں سے نیچے کی گاڑی میں سفر کرنا کسرِ شان سمجھتے ہیں۔ اقتدار میں رہ کر اسمبلی اجلاس میں جانا وقت کا ضیاع تصور کرتے ہیں۔ میاں صاحب جو اپنے آپ کو خادم اعلیٰ کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔ ایک دفعہ اقتدار کے شروع شروع میں اپنی تقریر میں فرمایا تھا: ”پہلے وزیر اعلیٰ اپنی عیاشی کے لئے ہوائی جہاز خریدتے رہے ہیں۔ میں ایسا کام کبھی نہیں کرونگا۔ میں غریب عوام کا پیسہ ایسی فضول عیاشیوں پر کبھی ضائع نہیں کرونگا“۔ پھر اسی غریب عوام نے دیکھا کہ محترم نے اپنے لئے ایک پر تعیش ہیلی کاپٹر خریدا جسے وہ کھلے دل سے استعمال کرتے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ہر ماہ لاکھوں کا پیٹرول خرچ کیا جاتا ہے۔
میاں صاحب حب الوطنی اور غریب پروری پر تقریریں کرتے نہیں تھکتے لیکن پاکستان کے سب سے بڑے دشمن نریندرا مودی یا بلوچستان میں پکڑا جانیوالا بھارتی جاسوس اور دہشتگرد کلبھوشن یادیو کے خلاف آج تک ایک لفظ بھی زبان سے نہیں نکالا۔ صرف یہی نہیں بلکہ چپکے سے بھارتی مہمانوں (جندال وغیرہ) کو اسلام آباد بلوایا۔ بغیر ویزہ مری کی سیر کرائی اور قوم کو آج تک نہیں پتہ کہ اس میزبانی کا مقصد کیا تھا؟ جب سے پانامہ کیس سامنے آیا ہے میاں صاحب نے عقلمندی اور ذہانت کا قابل رشک مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے عوام کو آدھے درجن شاطر وزراءکی ایک ایسی ٹیم تیار کی جو ہر وقت میاں صاحب کی ایمانداری اوران کے زیر سایہ پاکستان کی شاندار ترقی کے دعوے کر کر کے ان کو دنیا کے عظیم لیڈروں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ تعریفوں کا ایسا پل باندھا کہ اگر میاں صاحب کو اقتدار سے علیحدہ کیا گیا تو پاکستان آسمان سے زمین پر آگرے گا۔ ملک سے جمہوریت کا بوریا بستر گول ہوجائیگا اور خدانخواستہ پاکستان کی سا لمیت سخت خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس ٹیم نے میاں صاحب کی تعریفوں کے علاوہ مخالفین، تفتیش کرنے والے افسران اور جج صاحبان کو کھلے عام دھمکیاں بھی دیں۔ ایک صاحب نے تفتیشی افسران کو قصائی کی دوکان قرار دیا۔ دوسرے نے فرمایا: ”تم لوگوں نے بھی ریٹائر ہونا ہے۔ ہم تمہارے لئے پاکستان کی زمین تنگ کر دےں گے“ پھر اسی صاحب نے جوش خطابت میں فرمایا: ”کوئی مائی کا لعل نواز شریف یا ان کے بچوں کی تلاشی نہیں لے سکتا“۔
پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ انسان کے اصل کردار کا پتہ اس وقت چلتا ہے ”جب وہ بخت میں ہو یا وقت میں ہو“۔ بدیگر الفاظ عروج و زوال۔ ”وقت“ سے یہاں مراد زوال اور مصائب ہیں۔ قوم نے میاں صاحب کے دونوں رخ دیکھے ہیں۔ جب وہ اقتدار میں نہیںہوتے تو ہمیشہ میرٹ اور اصولوں کی بات کرتے ہیں۔ حق و انصاف اور قوم کی خدمت کی بات کرتے ہیں لیکن جب اقتدار میں ہوتے تو ان میں سے کسی چیز کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ جب پہلی دفعہ اقتدار سے نکالے گئے تو لانگ مارچ کیا اور بحالی پر سپریم کورٹ پر حملہ بھی ہوا۔ دوسری دفعہ نکلے تو ڈیل کرکے جدہ چلے گئے۔ جب جناب یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے سزا دی تو میاں صاحب کا مشورہ تھا کہ خاموشی سے گھر چلے جائیں لیکن جب ایسا ہی وقت اپنی ذات پر آیا تو پورے پاکستان میں ہلچل مچادی۔ ججز اور فوج کے خلاف نا انصافی اور شکایات کے انبار لگادئیے۔یہاں تک کہ عوام کو بھی اکسایا۔ 2014 میں جب عمران خان اور طاہر القادری صاحب سڑکوں پر آئے تو میاں صاحب کا بیان تھا ”قوم اور اقتدار کے فیصلے سڑکوں پر نہیں ہوتے۔ ملک میں ایک اسمبلی ہے۔ آئین ہے۔ عدلیہ ہے تو پھر سڑکوں پر کیوں؟“ کتنی جائز اور مناسب بات ہے۔ مہذب ملکوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ جمہوریت کا بھی یہی انداز حکمرانی ہے لیکن افسوس کہ جب میاں صاحب اقتدار سے فارغ ہوئے۔ دوسروں کو عدلیہ اور قانون کا درس دینے والے خود سڑکوں پر آگئے۔ دوسروں کو نصیحتیں کرنا اور خود اس پر عمل نہ کرنا ایک قومی لیڈر کو زیب نہیں دیتا۔ بقول آصف علی زرداری ©”ہر وہ حکومت جس میں میاں صاحب خود ہوں وہ جمہوریت ہے اگر وہ نہیں تو جمہوریت نہیں ہے“۔
پانامہ کیس ہماری تاریخ کا سنگ میل ہے۔ اس سے بہت سی چیزیں کھل کر سامنے آئی ہیں جن سے تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔ سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ آج تک کسی بڑے پر کوئی کیس نہیں چلا۔ ہماری تاریخ میں پہلی دفعہ ایک اقتدار میں بیٹھے وزیراعظم اور ان کی اولاد پر جرم کا الزام لگا۔ سپریم کورٹ میں کیس چلا۔ وزیر اعظم مجرم ثابت ہوا اور اسے سزا کے طور پر نا اہل قرار دیدیا گیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ پچھلے ستر سالوں سے قوم کے سامنے صرف ایک اصول آیا ہے کہ یہاں غریب کے لئے قانون ہے اور طاقتور قانون سے بالاترہے۔ شکر ہے کہ اس دفعہ ہماری عدلیہ نے ثابت کر دیا ہے کہ بڑے سے بڑا بھی قانون کے پنجہ سے نہیں بچ سکتا۔ تیسری اہم چیزJITکا کردار ہے۔ یہ تمام ادارے وزیراعظم کے ماتحت ہیں۔ کسی کو امید نہ تھی کہ وہ وزیراعظم اور اس کی فیملی کو مجرم قرار دیںگے جو انہوں نے کر دکھایا اور ساری قوم سے شاباش وصول کی۔ میاں صاحبان کو بھی داد دینی پڑتی ہے کہ یہ لوگ سیاسی طور پر بڑے باشعور ہیں۔ مرحوم جنرل ضیاءالحق نے بڑے میاں صاحب کو پنجاب کا وزیرخزانہ مقرر کیا اور پھر پوری فیملی سیاست میں آگئی اور اب پچھلے تیس سالوں سے بالواسطہ یا بلا واسطہ اقتدار میں ہیں۔ انکے بخت اور خوش قسمتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اب بھی بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ میاں صاحب واپس اقتدار میں آجائیں گے۔