کیا نواز شریف کو عوام ووٹ دینگے؟

کیا نواز شریف کو عوام ووٹ دینگے؟

گزشتہ روز ایک چینل پر یہ سوال زیر بحث تھا جو ہمارے کالم کا عنوان ہے… حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسی ملک میں لوگ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر کو ووٹ دے رہے ہیں۔ اس کا جیتا جاگتا ثبوت پیپلزپارٹی ہے۔ کیا لوگ دیانتداری سے سوچیں، جناب آصف علی زرداری کو ووٹ دیتے رہے ہیں؟ لوگ اگر بلاول کو ووٹ دینگے تو کیوں دیں گے؟ بھٹو کی وجہ سے بے نظیر کے بیٹے ہونے کی وجہ سے… اگر ان لوگوں کو ووٹ پڑ رہے ہیں جو زندہ نہیں ہیں تو نواز شریف الحمد اللہ موجود ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ جو اینکر پرسن جو سیاسی دانشور اور جو ریٹائرڈ فوجی سیاسی تجزیہ نگار یا لکھنے والے بعض نام نہاد سیاسی تجزیہ نگار مذکورہ بالا پروگرام میں شامل تھے وہ معمولی درجے میں سیاست کے رموز سے واقف ہی نہیں ہیں۔ سیاست کی Dynamics کیا ہوتی ہیں، وہ بے خبر ہیں۔ انہوں نے کبھی ’’کونسلر‘‘ کا الیکشن تو لڑا نہیں، انہیں کیا پتہ کہ سیاست کیا ہے؟ بلاوجہ دور کی کوڑی لاتے ہیں۔

ایک معروف انگریزی اخبار میں ایک صاحب نے مریم نواز کے خلاف کالم لکھا ہے۔ عنوان ہے ’’Love at first sight‘‘ حالانکہ اخبار کے ایڈیٹر نے جانے کیوں آرٹیکل کا نام دیا ہے مگر یہ سیاسی بیان ہے۔ حسرت ناکام کی بلند صدا ہے جو سیاست کے ویران صحرا میں گونج رہی ہے۔ اس کا بھی جواب ہے کہ کیا ایوب خان کیخلاف تحریک کے دوران بھٹو عوامی سیاست میں نازل نہیں ہوئے تھے؟ کیا وہ ایوب خان کی کابینہ کے سبکدوش وزیر نہیں تھے؟ پھر وہ یکایک قبول کیوں ہوگئے۔ یہ بھی تو ’’Love at first sight‘‘ تھا۔ بے نظیر تو ملک سے باہر تعلیم حاصل کر رہی تھیں پھر اپریل 1986کو وہ بیرون ملک سے لاہور آئیں تو ان کا فقیدالمثال استقبال کیا گیا‘ کیا یہ بھی ’’Love at first sight‘‘ کے واضح مثال نہیں ہے۔ جناب نواز شریف تو الحمدللہ حیات اور صحت مند ہیں۔
’’بنگلہ دیش ماڈل‘‘ تھیوری کا بہت ذکر ہے۔ وہ کیا تھی۔ اس میں بنگلہ دیش کی کورٹ اور فوج کا سمجھوتہ تھا۔ چیف جسٹس کو بنگلہ دیش کا صدر بنا دیا گیا تھا۔ یہ حکومت ناکام ہوئی، اسکی ناکامی کے نتیجے میں حسینہ واجد کی حکومت آئی جو بھارت سے سازباز کیلئے مشہور ہیں۔ جن کی حکومت میں پاکستان کی حمائت کے الزام میں بے گناہ بنگلہ دیشی لیڈروں کو سازشی عدالتوں کے ذریعے پھانسی دیکر لٹکا دیا گیا ہے اور مزید کو لٹکانے کی سازشیں ہو رہی ہیں‘ جن کے دور میں بی جے پی کے وزیراعظم مودی، بنگلہ دیش گئے تو اعلان کیا کہ بنگلہ دیش بھارت نے بنایا تھا۔ یہ ہے بنگلہ دیش ماڈل کی حقیقت… محض بنگلہ دیش کے چیف جسٹس کو صدر بناکر حکومت کو قانونی حیثیت ’’عطا‘‘ کی گئی۔ مگر نتیجہ صفر رہا۔کیا عمران خان ایسے ہی بنگلہ دیش ماڈل کیلئے کام کر رہے ہیں؟ کیا جاوید ہاشمی نے ایسی ہی کسی بات پر تحریک انصاف کو طلاق دی تھی۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں عدلیہ فوجی حکومتوں کو جواز فراہم کرتی رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ یحییٰ خان کے دورِ حکومت میں جسٹس کارنیلیئس جیسے درویش صفت جج وزیر قانون بن گئے۔
عدلیہ کا براہ راست حکومت میں آنا جیسا کہ ایک تدبیر کے تحت بنگلہ دیش میں چیف جسٹس کو بنگلہ دیش کا صدر بنا دیا گیا۔ پاکستان کی وحدت سالمیت اور استحکام کیلئے مناسب اقدام نہیں ہو سکتا۔ اور نہ ایسی ’’حکمت عملی‘‘ بنگلہ دیش کو راس آئی۔
بد قسمتی سے اسلامی ملکوں میں افراتفری اور انتشار کا سماں ہے۔ سعودی عرب اور ایران آپس میں الجھے ہوئے ہیں لبنان ، یمن کے حالات خراب ہیں عراق ، شام تباہی کے زیر اثر ہیں۔ لیبیا ، تیونس کے معاملات بد ترین ہیں۔ قطر کی سمت اور ہے۔ افغانستان ، بارود کے ڈھیر پر ہے۔ یہ حکمت اور دانائی کی ادا نہیں ہے کہ واحد ایٹمی اسلامی ملک کو بھی سیاسی عدم استحکام کا شکار بنانے کی سازش ہو رہی ہے۔
الیکشن سے محض چند ماہ پہلے، اقتدار کے آخری برس میں نواز شریف رخصت ہوگئے ہیں۔ خود جناب عزت مآب چیف جسٹس نے حالیہ دنوں میں فرمایا کہ ’’Justice hurried is justice burried‘‘ عجلت کیاہے؟ کیوں ہو رہی ہے؟ کسی کو پتہ بھی ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام کے کیا نتائج برآمد ہوں گے! جو اکاد کا سیاستدان ٹی وی پر دانشوری بگھارتے ہیں، ان کو اپنی خبر نہیں ہے، شیخ رشید احمد کٹی پتنگ کی طرح لہرا رہے ہیں۔ قسم کھا کر بتائیں انکی عوامی مسلم لیگ کیا ہے۔ اس میں انکے علاوہ کون ہے؟ نبیل گبول بھی پتنگ کی طرح کبھی پی پی میں، کبھی ایم کیو ایم میں، لیاری کی جس سیٹ کی وہ آرزو لگائے بیٹھے ہیں اس پر بے نظیر کی صاحبزادی الیکشن لڑیں گی۔ گبول صاحب جناب زرداری کی Good Books میں نہ تھے نہ ہیں۔ ہم نے بھی معمولی سا ’’تجزیہ‘‘ کر ہی دیا ہے۔ شیخ رشید کا مقابلہ پنڈی سے جاوید ہاشمی کرینگے، PMLN سپورٹ کریگی۔ دوسری سیٹ پر بھی کھڑے ہوئے تو مقابلہ نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر سے ہوگا! مریم نواز لاہور سے امید وار ہوں گی۔ الیکشن وقت پر ہوں گے۔ نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔
بھٹو کہہ کر ووٹ لیا جاسکتا ہے تو کیا فولاد ساختہ نواز شریف نااہل ہو کر سزا پا کر ووٹ نہیں لے سکتا؟ سیاست، عوامی نفسیات کا کھیل ہے۔ آپ نواز شریف سے حکومت چھین سکتے ہیں، مقبولیت نہیں چھین سکتے۔