میڈیا کی پھیلتی آگ

کالم نگار  |  قیوم نظامی
میڈیا کی پھیلتی آگ

جب کسی کے گھر میں آگ لگتی ہے تو تماشہ دیکھنے والے زیادہ ہوتے ہیں جبکہ آگ بجھانے والے کم ہوتے ہیں۔ نامور صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد ایک میڈیا چینل نے جو آگ بھڑکائی تھی وہ آگ پھیلتی جارہی ہے اور اب اس آگ نے اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایک ذرائع کیمطابق حامد میر نے مبینہ طور پر ایک بڑے سیاستدان کو بتایا کہ انہوں نے اپنے چینل کے مالک کے اشارے پر قومی سلامتی کے اہم ترین ادارے آئی ایس آئی کا نام لیا تھا۔ پاکستان کے آئین کا بنیادی تقاضہ یہ ہے کہ قومی وسائل کی تقسیم مساوی اور منصفانہ ہو مگر جب آئین کی منشا کے برعکس اجارہ داریوں کی اجازت دیدی جائے تو پھر قومی مفادات خطرے میں پڑنے لگتے ہیں۔ پاکستان میں سیاسی، معاشی اور صحافتی اجارہ داریوں نے نہ صرف عوام بلکہ پاکستان کیلئے مختلف چیلنجوں کو جنم دیا ہے۔ پاکستانی اجارہ داروں اور عالمی اجارہ داروں کے مفادات جب مشترک ہوجاتے ہیں تو ان سے اپنے ملکوں کے سلامتی کے اداروں سے ٹکرائو پیدا ہوتا ہے جو قومی مفادات کا تحفظ کررہے ہوتے ہیں۔ جیو نے اس شدت اور سرگرمی کے ساتھ ’’امن کی آشا‘‘ کی مہم چلائی کہ محب الوطن افراد کے کان کھڑے ہوگئے تھے۔ حکومتوں کا فرض تھا کہ وہ جیو کو قومی مفادات کی حدود میں رکھتی مگر بدقسمتی سے حکمران چونکہ خود اجارہ دار تھے اس لیے وہ عالمی طاقتوں کے مفادات کے مقابلے میں قومی مفادات کا دفاع اور تحفظ نہ کرسکے۔ جو سیاستدان ’’پاکستان میڈ‘‘ ہونے کے دعوے دار تھے اب وہ عالمی سرمایہ کاروں میں شامل ہوچکے ہیں۔ ایک سابق حکمران نے ایک محب الوطن عسکری شخصیت کو یہ پیغام بھیج کر حیران کردیا کہ ان کو اس شرط پر پرموٹ کیا جاسکتا ہے اگر وہ مخصوص دفاعی ٹیکنالوجی رول بیک کرنے پر رضا مند ہوجائیں کیونکہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے امریکہ اور بھارت کو تشویش ہے۔
باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ قومی سلامتی کے ادارے کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے جیو اور حکومت کے درمیان مفاہمت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب جیو نے ادارے کے خلاف حیران کن الزام تراشی کی کھلی مہم چلائی تو حکمرانوں نے اس افسوسناک مہم کو بند کرانے کیلئے کوئی دلچسپی نہ لی بلکہ حکومت کے ترجمان وزیر نے یہ اشتعال انگیز بیان دے دیا کہ ’’ہم دلیل کے ساتھ ہیں اور غلیل کے ساتھ نہیں ہیں‘‘۔ حکومت اگر بروقت اقدام کرتی تو یہ آگ ٹھنڈی بھی ہوسکتی تھی مگر چیف ایگزیکٹو نے قومی سلامتی کے ادارے کے ساتھ تو یکجہتی کا اظہار نہ کیا البتہ وہ حامد میر کی عیادت کیلئے ہسپتال چلے گئے۔ مسلم لیگی حکمران جب بھی اقتدار میں آتے ہیں حکومت اور اداروں کے درمیان تنائو بڑھ جاتا ہے۔ آج بھی تنائو موجود ہے۔ حکمران حکومت کو آئین کیمطابق صاف اور شفاف انداز میں چلانے کی بجائے ’’چالاکیوں‘‘ سے کام لیتے ہیں۔ اعتدال میں آنے کی بجائے انتہا پسندانہ رویوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’گولی کھالیں گے سرینڈر نہیں کرینگے‘‘۔ ایک اور ٹرنیڈ سامنے آیا ہے کہ حکمران پرائمری سکولوں اور صحت کے بنیادی یونٹوں پر توجہ دینے کی بجائے میگا پروجیکٹس کے تعاقب میں رہتے ہیں۔ ریاست کی تشکیل کی بجائے ریاست کے اداروں کو کمزور اور تقسیم کرتے ہیں۔ ججوں کو تقسیم کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اب انہوں نے مذموم مقاصد کی خاطر پیمرا کو تقسیم کردیا ہے۔ پیمرا کے تین ارکان نے جیو نیوز، جیو تیز اور جیو انٹرٹینمینٹ کے لائسنس معطل کردئیے ہیں جبکہ دیگر ارکان کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ قوانین کے منافی ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور بھارت کے محبوب صحافی نجم سیٹھی کی خاطر پی سی بی کو بھی پوری دنیا میں تماشہ بناکر رکھ دیا گیا ہے۔
بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے
 جیو نے اہل بیت کی توہین پر تو پورے صفحے کا اشتہار شائع کرکے معافی مانگ لی جو دانشمندانہ فیصلہ تھا مگر وہ قومی سلامتی کے ادارے سے معافی مانگنے پر آمادہ نہیں ہورہا۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما کے جنگ اور جیو مالکان کیخلاف الزامات انتہا پسندانہ تھے۔ قومی رہنما کو یہ انداز زیب نہیں دیتا۔ جیو نے بھی صحافی آداب کے برعکس ایک سیاسی جماعت کی طرح سکرین کو استعمال کرنا شروع کردیا اور آگ کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے اسے مزید تیز کردیا اور چارہ گر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
ہر اک چارہ گر کو چارہ گری سے گریزتھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لادوانہ تھے
حکمرانوں کے پاس دولت کے ذخائر ہیں جن میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا ہے مگر عوام کی نظر میں ان کی کارکردگی قابل اطمینان نہیں ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں جنوبی ایشیاء کو دنیا کا کرپٹ ترین خطہ قراردیا ہے۔ حکمران سادگی اور کفایت شعاری کے کھوکھلے دعوے تو کرتے رہتے ہیں مگر قومی دولت سے عیش و عشرت کرنے سے باز نہیں آتے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کے مطابق حکمرانوں نے ترکی میں اپنا قیام ایک دن اس لیے بڑھا لیا کہ انہیں استنبول کے ایک معروف ہوٹل کا کھانا بہت پسند تھا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق حکومت نے وزیراعظم کی سکیورٹی کیلئے قومی خزانے سے 22کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ کرکے دو بلٹ پروف بی ایم ڈبلیو اضافی کاریں خریدی ہیں۔ میڈیا کے ہیروز اور صحافتی تنظیموں نے آگ بجھانے کیلئے نیم دلانہ کردار ادا کیا ہے۔ صحافی اپنی تنظیموں کے کارروائی اجلاس بلا کر خاموش ہوکر بیٹھ گئے۔ حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ میڈیا کے بحران کو حل کرنا پیمرا کا کام ہے جو آئینی ریگولیٹری ادارہ ہے۔ وفاقی وزیراطلاعات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت پیمرا کے کام میں مداخلت نہیں کریگی۔ حکومت نے میڈیا کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ایک قومی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ حکومت نے ایک سال میں پیمرا کو مکمل کیوں نہیں کیا اس کا چیئرمین تعینات کیوں نہیںکیا۔ ایک ماہر تجزیہ نگار کا خیال کہ اگر حکومت میڈیا، مشرف اور طالبان کا مسئلہ حل نہ کرسکی تو وہ نان فنکشل ہوکررہ جائے گی۔
وفاقی حکومت کے ادارے کے باخبر چیئرمین نے کہا ہے کہ مقتدر طاقتیں نئے چینل ’’بول‘‘ سے تعاون کررہی ہیں۔ دو تین ماہ میں یہ چینل سکرین پر آجائیگا۔ اس وقت تک میڈیا کی آگ سلگتی رہے گی۔ قومی سلامتی کے اداروں کو بھی اپنی آئینی حدود میں رہنا چاہیئے۔ پاکستان کے عوام نے پاک فوج کے ساتھ اپنی گہری وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ فوج بھی ایسی مہم جوئی سے باز رہے جس سے اس کا امیج خراب ہونے کا اندیشہ ہو۔ سابق ایڈیشنل ڈی جی آئی بی شبیر احمد نے بتایا کہ جن امریکی صحافیوں نے کتب تحریر کی ہیں انہوں نے تسلیم کیا کہ قومی مفاد میں ریاست کے ایسے راز افشا نہیں کیے جاسکتے جن سے ریاست کی معاشی ترقی اور قومی سلامتی متاثر ہوسکتی ہو۔ حکمران خدا کا خوف کریں اور میڈیا کو ضابطہ اخلاق کا پابند بنائیں نیز جیو کو علامتی سزا دے کر میڈیا کی آگ کو ٹھنڈا کریں۔ اس آگ پر اگر قابو نہ پایا گیا تو جمہوریت کی بساط بھی لپیٹی جاسکتی ہے۔