ایک ناقابل معافی جرم!

کالم نگار  |  غلام اکبر
ایک ناقابل معافی جرم!

اب اِس امر میں کسی بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی کہ تہذیبوں کے جس تصادم کی بات عالمی سطح پر کی جاتی ہے وہ تصادم ملکی سطح پر پاکستان کے اندربڑے تشویشناک انداز میں زور پکڑ چکا ہے۔ اگر ہم آنکھیں کھول کر دیکھیں تو دو متصادم تہذیبیں سیاست ابلاغ اور معاشرت ٗ تمام شعبوں میں برسرِ پیکار نظر آرہی ہیں۔
تہذیبوں کے تصادم کا تصور تقریباً دو دہائیاں قبل مشہور امریکی مصنف ہنٹنگٹن نے اسی نام کی اپنی چونکا دینے والی تصنیف میں کیا تھا۔ اس تصنیف کا مرکزی تصور یہ تھا کہ دو عالمگیر جنگوں کے بعد عالمِ اسلام میں آزادی کا جو شعور پیدا ہوا وہ اب مکمل طور پر مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کو واپس لانے کے خواب اور عزم میں ڈھل چکا ہے۔ہنٹنگٹن نے اپنی تصنیف میں دو باتوں پر زور دیا تھا۔ ایک تو یہ کہ عالمِ اسلام میں مغربی تہذیب کی طرف سے ہونے والی جدیدیت کی یلغار کو ایک بہت بڑا خطرہ سمجھنے والی قوتوں نے زور پکڑنا شروع کردیا ہے جس کے نتیجے میں کئی مسلم ممالک کے اندر خلفشار اور غم و غصے کے جذبات میں اضافہ ہورہا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ شاید وہ وقت زیادہ دور نہیں جب اسلامزم اور مغربیت کے درمیان پایا جانیوالا ’’ فکری ٹکرائو ‘‘ آگ اور خون کے کھیل میں تبدیل ہوجائے۔ یہاں میرا مقصد ہنٹنگٹن کی متذکرہ تصنیف کا احاطہ کرنا نہیں ٗ میں اپنے آپ کو صرف اس تصادم تک محدود رکھنا چاہتا ہوں جو وطنِ عزیز کے اندر دو متحارب اور متضاد سوچوں اور تہذیبوں کے درمیان زور پکڑتا نظر آرہا ہے۔متذکرہ تصنیف کا تذکرہ کرنا یہاں میں نے اس لئے ضروری سمجھا ہے کہ اس شہرہِ آفاق کتاب کے سامنے آنے کے بعد ہی امریکہ کی ’’ نیو کون ‘‘ لابی متحرک ہوئی تھی اور واشنگٹن کے پالیسی ساز حلقوں میں یہ سوچ بڑی شدت کے ساتھ ابھری تھی کہ اگر مغربی تہذیب کی بالادستی آنیوالی صدی یا صدیوں میں بھی برقرار رکھنا مقصود ہے تو ’’ اسلامزم‘‘ کے ’’ فتنے ‘‘ کو جڑوں میںہی کچل دینا ناگزیر سمجھا جانا چاہئے۔ اگر آنیوالے وقتوں میں کبھی عالمی سیاست کے نقشے پر کوئی ایسی طاقت ابھری جو آج کے دور کے ’’ فاتحین ‘‘ پر ’’نیورمبرگ ٹرائلز ‘‘ کے اندازمیں جنگی جرائم کے مقدمات قائم کرنے کی پوزیشن میں ہوئی تو نائن الیون کے حوالے سے بھی ایسے ایسے انکشافات سامنے آئینگے کہ دنیا دنگ رہ جائیگی۔مگر جیسا کہ میں بیان کرچکا ہوں میرا موضوع یہاں کچھ اور ہے۔ میں یہاں اس ’’ تصادم ‘‘ پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں جو دو متضاد تہذیبوں کے درمیان وطنِ عزیز میں یوں تو ایک عرصے سے جاری ہے پر اب اچانک ابھر کر پوری قوم کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔میری اس بات پر آپ کی توجہ یقینا اس ’’ بحرانی صورتحال ‘‘ کی طرف جائیگی جس کی پیدائش 19اپریل 2014ء کی شام کو ملک کے ممتاز ٹی وی چینل کی سکرین پر ہوئی اور جو اتنی تیزی کے ساتھ پروان چڑھی کہ آج پوری قوم اس کی لپیٹ میں آئی ہوئی ہے۔سب سے پہلے یہاں میں ضروری سمجھتا ہوں کہ ان دو تہذیبوں کی تعریف وضاحت کے ساتھ ہوجائے جو ملک میں پنجہ آزما نظر آرہی ہیں۔’’ دو تہذیبوں ‘‘ کی بات میں نے یہاں اسی فکری پیمانے اور نقطہ ء نظر کو سامنے رکھ کر کی ہے جس کی کوکھ سے ’’ دو قومی نظریہ ‘‘ کی ترکیب نے جنم لیا تھا۔ اگر جغرافیائی نسلی لسانی اور مذہبی حقائق کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو برصغیر میں ’’ دو ‘‘ نہیں کئی قومیں آباد تھیں۔لیکن ’’ دو قومی نظریہ ‘‘ کے پرچم برداروں کے سالار کا رواں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے سامنے قومیت کا صرف وہ تصور تھا جو ہمار ے رہبرِ کامل وہادی ء اعظم اور اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے دیا تھا۔ اس تصور کیمطابق صرف برصغیر میں ہی نہیں دنیا بھر میں دو ہی قومیں آباد ہیں۔ ایک قوم مسلم اور دوسری قوم غیر مسلم۔ ایک مسلمان کیلئے دوسری تمام اقوام کی پہچان کا ایک ہی پیمانہ ہے۔ اور وہ ہے غیر مسلم یہاں بات اہلِ کتاب کی بھی کی جاتی ہے۔مگر اس ضمن میں یہ بات کبھی نہ تو فراموش کی جانی چاہئے اور نہ ہی نظر انداز کہ ’’ کتاب ‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ احکامات ہیں جو ظہورِ اسلام سے پہلے دوسرے انبیائے کرام کے ذریعے نسل ِ انسانی پر نازل ہوئے۔اگر پاکستان ’’ دو قومی نظریہ ‘‘ کی بنیاد پر بنا تھا تو یقینی طور پر یہ اس قوم کی تہذیب کے تحفظ اور فروغ کیلئے بنا تھا جس کی سالاری قائداعظم محمد علی جنا حؒ کررہے تھے۔ 1943ء میں مشہور برطانوی دانشور اور مصنف بیورلی نکلز نے ایک انٹرویو میں قائداعظم ؒ سے پوچھا تھا۔’’آپ کہتے ہیں کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں تو کیا آپ پاکستان میں شریعت نافذ کرینگے ؟‘‘ قائداعظمؒ  نے جواب دیا۔ ’’ اگر ہم ایک الگ قوم ہیں او ر اپنے لئے ایک الگ مملکت چاہتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس مملکت میں ہم اپنے قوانین نافذ کریں اپنی روایات کو فروغ دیں اور اپنی اقدار کو سربلند کریں۔‘‘
ہو سکتا ہے کہ دانشوروں کا وہ حلقہ یا طبقہ جو اپنا پورا زور قائداعظم ؒ  کی 11اگست1947ء والی تقریر کی تشریح اپنے اندازمیں کرنے پر صرف کرتا ہے ٗ اور جس نے اپنے اہداف اور مقاصد کے حصول کیلئے اپنا ایک الگ ’’ جناح‘‘ ایجاد کررکھا ہے ٗ وہ قائداعظم ؒ  کے متذکرہ بیان کو نظر انداز کرنا چاہے تو وقت آگیا ہے کہ اُن پر واضح کردیا جائے کہ پاکستان کی جغرافیائی بنیاد ضرور14اگست 1947ء کو رکھی گئی تھی لیکن اس کا فکری ڈھانچہ اور ریاستی نقشہ تب ہی تیار ہوگیا تھا جب ہمارے رہنمائے حقیقی حضرت محمد ﷺ ریاست ِمدینہ کی بنیاد رکھ رہے تھے۔ ہم پاکستانی بعد میں اور مصطفویٰ پہلے ہیں۔آپ پر اب وہ بات یقینا واضح ہوگئی ہوگی جو میں تہذیبوں کے تصادم کے زیر عنوان کہنا چاہ رہا ہوں پاکستان کے عوام کو پاکستان کے اندر اپنی حقیقی تہذیب ٗ اپنے حقیقی تمدن اور اپنی حقیقی اقدار و روایات پر ایک بیرونی تہذیب کی بھرپور یلغار کا سامنا ہے۔وطنِ عزیز کا شاید ہی کوئی چینل ہو جو اس یلغار میں ہماری تہذیب کی مخالف قوتوں کا حلیف اور ہتھیار بنا نظر نہ آتا ہو۔ سب جانتے ہیں کہ اس ثقافتی یلغار کا آغاز کہاں سے ہو ا ٗ اور کون لوگ ہیں جو بھارت کی تہذیب کو اس خطے کی غالب اور قابلِ تقلید تہذیب کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ اسے میںقومی بدقسمتی سمجھتا ہوں کہ تجارتی مفادات کے فروغ کی دوڑ میں دوسرے کئی ٹی وی چینل بھی ’’قو مِ ہاشمی ؐ ‘‘ کی حقیقی تہذیب واقدار کی دھجیاں بکھیرنے پر اتر آئے ہیں۔ اس شرمناک اور المناک صورتحال کی ذمہ داری میں اپنے اُن تمام اکابرین پر ’’عائد‘‘ سمجھتا ہوں جنہوں نے اپنی ساری توجہ حصولِ اقتدار اور تحفظِ اقتدار پر مرکوز رکھی اور ا س ثقافتی یلغار کیخلاف کوئی بھی بند باندھنے کی ضرورت محسوس نہ کی جو ہماری اپنی اقدار اور ہماری اپنی تہذیب کو داستانِ پارینہ بناتی چلی جارہی ہے۔ میں یہاں کسی ایک مجرم کا نام نہیں لوں گا۔ اگر اس خوفناک ثقافتی یلغار کو یہاں نہ روکا گیا اور ایک ایسا دن آگیا جب ہمارے ہر گھر سے ایک ’’ مُنّی‘‘ ناچتی برآمد ہوگی اور ’’بدنامی کے شوق ‘‘ میں اس قدر آگے بڑھ جائیگی کہ اسکے ماں باپ اپنا منہ چھپاتے پھریں گے۔ توتاریخ کی نظروں میں ہم سب مجرم قرار پائینگے۔
میں یہاںاُن الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا جن کے مطابق ہماری دشمن قوتیں پاکستان کے میڈیا پر بے انداز سرمایہ کاری کررہی ہیں ٗ مگر موجودہ حالات میں خاموش رہنا بھی تاریخ کی نظروں میں ایک ناقابلِ معافی جرم قرار پائے گا۔