آئین کی پکار

کالم نگار  |  خالد کاشمیری
آئین کی پکار

ایک قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے مختلف وزارتوں کی جانب سے بھجوائی گئی بجٹ تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بجٹ میں عام آدمی پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ’’کم ہی‘‘ رکھی جائیں۔ معلوم نہیں عزت مآب وزیراعظم کی طرف سے جو ’’کم ہی‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس سے کیا مراد ہے۔ یوں لگتا ہے کہ حضوروالا کو نہ اس بات کا علم ہے اور نہ ہی احساس ہے کہ ضروریات زندگی کس بھائو بک رہی ہیں۔ ان کے نہاں خانہ دماغ میں غالباً یہی ہے کہ ضروری اشیا کی قیمتیں کم ہیں اس لئے انہوں نے مختلف وزارتوں کی جانب سے بھجوائی گئی تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے اشیا ضروریہ کی قیمتیں ’’کم ہی‘‘ رکھی جانے کو کہا ہے۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ان کو اس سلسلے میں جو رپورٹیں مل رہی ہیں ان میں ضروریات زندگی کی قیمتیں ’’کم ہی‘‘ ہونے کی نوید مل رہی ہو۔ اگر واقعی سب اچھا ہے تو ملک کے متوسط اور نچلے درجے سے تعلق رکھنے والے کروڑوں خاندانوں کی نیندیں کیوں اڑ چکی ہیں۔ قیمتوں میں مہنگائی کا عالم یہ ہے کہ اسکے طوفان کی زد میں آ کر نچلا اور متوسط طبقہ ایک ہو گیا ہے اور اب وہ ایک ہو کر خط غربت سے نیچے کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
ارباب اقتدار کی طرف سے بار بار اسی بات کو دہرایا جا رہا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے لوٹ مار، کرپشن کا بازار گرم کئے رکھا ہم عوام کو بجلی کے اندھیروں سے نکالنے کا وعدہ ہر صورت پورا کرینگے‘‘۔ لوگ بے بسی کے عالم میں سوچ میں پڑے ہوئے ہیں کیا صرف بجلی کے اس بحران پر قابو پانے کیلئے موجودہ برسراقتدار قیادت کو مینڈیٹ دیا گیا؟ اور اس وعدہ کو پورا ہونے میں بھی جتنے برس لگیں گے اس وقت تک عوام فاقوں سے ایسے نیم جان ہو چکے ہیں کہ وہ ایک صحت مند قوم نہیں ہونگے۔ صرف بجلی کے بحران کو سالوں صرف کرکے قابو پانا ہی حکومت کا فرض اولیں نہیں جس آئین و قانون کی بات پر شاخ اقتدار پر چہچہانے والے کرتے رہتے ہیں اس آئین کی رو سے مفلس وقلاش اور مہنگائی کی چکی میں سسکنے والے عوام بھی اپنا حق مانگتے ہیں۔ کیا عوام کو ضروریات زندگی سستے داموں مہیا کرنا برسراقتدار قیادت کی آئینی ذمہ داری نہیں؟ اگر عوام کو انکے وسائل کے اندر رہتے ہوئے ضرورت کی اشیا دستیاب نہیں ہو رہیں اور عوام کی عظیم اکثریت کیلئے جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل بلکہ کسی حد تک ناممکن ہو گیا ہے تو کیا یہ آئین شکنی نہیں ہے؟
آئین کیمطابق عمل نہ کرنا قانون شکنی ہی کے زمرے میں آتا ہے؟ بھوکے ننگے عوام تو اب اس قابل بھی نہیں کہ وہ اپنی آواز سے ارباب حل وعقد کی توجہ حاصل کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں اس وقت حکومت کے دور میں پہلی بار بھوک سے بلکتے بچوں کی مائیں نہر کے پانیوں کے سپرد کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ اسی حوالے سے عوام کو ضروریات زندگی کی بے پناہ مہنگے داموں فراہم ہونے کی صدائے باز گشت ملک کی سب سے بڑی عدالت انصاف سے بلند ہوئی ہے اور مہنگائی سے زندگی سے عاجز لوگوں کی بات عدلیہ کی زبان ادا کرنے لگی۔ عدالت عظمی نے آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران کہا کہ یہ کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس میں ایک خاتون اپنے بچوں کو بھوک کے باعث نہر میں پھینک دیا۔ مسٹر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ہمارے پاس تو وسائل ہیں ہم 140 روپے میں بھی آٹا خرید سکتے ہیں یہ مشکل ان لوگوں کی ہے جو خرید نہیں سکتے یہ بتائیں کہ لوگوں کو ان کی قوت خرید میں آٹا مل رہا ہے یا نہیں اگر راولپنڈی میں آٹے کا توڑا گیارہ سو کا مل رہا ہے تو پنجگور، تربت اور دور دراز علاقوں میں کتنے کا مل رہا ہو گا۔ وفاق اور صوبے آٹے سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی کب تک یقینی بنائینگے۔ حکمران طبقہ کی طرف سے متعدد بار مختلف مواقع پر عدلیہ پر بھرپور اعتماد کرنے کے دعوے کئے جاتے رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ایسے دعوئوں پر کس حد تک پوری اترتی ہے۔ عدالت عظمی نے کہا کہ حکومت یقین دہانی کرائے کہ آئندہ کوئی شہری بھوک سے نہیں مرے گا۔
دیکھنا یہ ہے کہ آئین اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے کے دعوے دار حکمران آئین پر کس حد تک عمل پیرا ہیں؟ اس حوالے سے آئین ہی سے رجوع کرنا زیادہ بہتر ہے۔ آئین کی شق نمبر 38 عوام کی معاشی اور معاشرتی فلاح وبہبود کے حوالے سے ہے۔ اسکی ذیلی شق (د) میں آئین کا حکم ہے کہ حکومت ان تمام شہریوں کیلئے خوراک، لباس، رہائش تعلیم اور طبی امداد مہیا کرے گی جو کمزوری، بیماری یا بیروزگاری کے باعث مستقل یا عارضی طور پر اپنی روزی نہ کما سکتے ہوں۔ انہیں بلالحاظ جنس، ذات، مذہب یا نسل بنیادی ضروریات حکومت مہیا کریگی۔ اس آرٹیکل 38 کی ذیلی شق (ہ) میں آئین پکار رہا ہے کہ حکومت پاکستان کی ملازمت کے مختلف درجات میں اشخاص سمیت، افراد کی آمدنی اور کمائی میں عدم مساوات کو کم کریگی۔
سوال یہ ہے کہ حکومت آئین کے مطابق ضرورت مند شہریوں کو خوراک لباس، رہائش، تعلیم اور طبی امداد مہیا کر رہی ہے؟وجوہ کچھ بھی ہوں اس کا جواب نفی میں ہے، حکومت آج تک افراد کی آمدنی اور کمائی میںتفاوت ختم کرنے پر کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ اس حقیقت حال کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ملک میں آمدنی اور کمائی میں عدم مساوات کے باعث ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ریکارڈ ہوشربا مہنگائی نے طوفان نے عوام کو حواس باختہ کر رکھا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی کہ ملک میں چند ہزار خاندانوں کی آمدنی اور کمائی اس قدر ہے جو انکی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے، انہیں ضروری اشیا کی مہنگائی سے کوئی فرق نہیں پڑتا نہ انہیں اپنی بے محابہ کمائی اور آمدنی کے باعث اس قسم کا احساس ہی ہوتا ہے کہ اشیائے ضرورت کی گرانی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جہاں تک آمدنی اور کمائی میں عدم مساوات کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ملک کی صوبائی اسمبلیوں سمیت مرکزی اسمبلی اور سینٹ کے ارکان کے ماہانہ مشاہراہ اور دیگر مراعات اور سہولتوں کا ذکر کرنا بے جا نہ ہو گا۔ انکے مقابلے میں مزدور کا معاوضہ کیا ہے؟ وہ بے چارہ دس گیارہ ہزار روپے ماہوار پر بچوں کو فاقے سلانے پر مجبور ہیں۔ ان میں اکثریت ایسے محنت کشوں اور تنخواہ داروں کی ہے۔ جن کے پاس رہنے کیلئے اپنی چھت بھی نہیں۔
اس حقیقت سے انکار کرنے والے احمقوں کی جنت کے مکین ہو سکتے ہیں کہ ضروریات زندگی کی ریکارڈ مہنگائی نے پاکستان کے عوام کو دو طبقوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔ ایک طبقہ غریب اور قلاش عوام کے ٹیکسوں سے مراعات یافتہ طبقہ ہے اور دوسرا مفلوک الحال اور بیوی بچوں کو پیٹ بھر روٹی، رہائش کے چھت اور تن ڈھانپنے کیلئے کپڑا نہ دینے والا طبقہ ہے۔ یہ طبقہ اپنے آئینی و قانونی حقوق کیلئے اس وقت سے شکوہ بلب چلا آ رہا ہے جب سے حریصاں اقتدار جمہوریت کے استحکام کا شور مچا کر عوام کے حقیقی مسائل سے دانستہ صرف نظر کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ان عناصر کے ایسے اقدام کے پس پردہ جمہوریت کو جمہور سے دور رکھنے کے مقاصد کارنر ہیں مگر عدالت عظمی سمیت سیاسی خواہ اپوزیشن کی دعویداری سہی پر عوام کے دکھوں اور زخموں کا ذکر ہونے لگا ہے۔ گزشتہ دنوں ٹیلی فونک خطاب پر سہی مگر عوامی تحریک کے زیراہتمام مختلف شہروں میں ہونیوالے احتجاجی اجتماعات میں اسکے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے عوامی دکھوں کے مداوا کیلئے کہا ہے کہ بے گھروں کو چھت مہیا کریں۔ پندرہ سے بیس ہزار ماہوار آمدن والوں و اشیا خورونوش، آٹا، چاول، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں اور کپڑا پچاس فیصد رعایت پر مہیا کیا جائیگا۔
عوام کے زخم رستے رستے ناسور کی شکل اختیار کر چکے ہیں اس میں کوئی مبالغے کی بات نہیں۔ زخموں پر متذکرہ اقدامات اٹھانے ہی سے مرہم کا پھاہا رکھا جا سکے گا اب یقیناً قیادت کا جام اسی خوش نصیب کو حاصل ہو گا جو آگے بڑھ کر ایسے اقدامات عملی طور پر اٹھا سکے گی۔ اسی قسم کے اقدامات کی ملک کا آئین دہانی دے رہا ہے اور آئین کے احکامات سے روگردانی آئین شکنی ہی قرار دی جا سکے گی۔ آئین کی پاسداری اور عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرنے کے دعوے داروں کو آئین کی پکار پر غور کرنا ہو گا۔