کراچی والوں پر ایک اور ستم

کالم نگار  |  محمد اکرم چوہدری
کراچی والوں پر ایک اور ستم

یا اللہ، کراچی کے لوگوں پر رحم فرما۔پاکستان کے سوا دو یا ڈھائی کروڑ آبادی والے اس سب سے بڑے شہر کی زمین پر تو پہلے ہی سے ہر طرف مار پیٹ چل ہی رہی تھی کہ اب آسمان سے سورج نے بھی شہرِ قائد میں لوگوں کو مارنا شروع کر دیا ہے۔ پیر کی شام تک گرمی سے جاں بحق ہونے والوں کی سرکاری تعداد چار سو سے تجاوز کر چکی تھی۔انا للہ و انا الیہہ راجعون۔یہ تعداد ان اموات کی ہیں جو رپورٹ ہو چکی ہیں، جو اموات رپورٹ نہیں ہوئیں اور نہ ہی ہونگی،غیر سرکاری، میڈیا اور ایدھی ذرائع کیمطابق انکی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔عام طور پر ایسی آفات میں ساٹھ فیصد سے زائد اموات رپورٹ نہیں ہوتیں۔کراچی میں ایدھی اور دوسرے مردہ خانوں میں میتیں رکھنے کیلئے جگہ ختم ہو چکی ہے، مریضوں اور میتوں کی ٹرانسپورٹیشن کیلئے ایمبولینسیں کم پڑ گئی ہیں اور طبی عملہ اپنی بھرپور کوشش کے باوجود قریب المرگ لوگوں کو اٹینڈ کرنے سے قاصر ہے۔بتایا جاتا ہے کہ کراچی میں درجہ حرارت 43 سنٹی گریڈ ہو گیا ۔ لیکن یہ تو کوئی اتنا زیادہ نہیں کہ سینکڑوں لوگ جاں بحق ہو جائیں کیونکہ بہت سے شہروں میں یہ 48-49 سنٹی گریڈ تک پہنچا ہوا ہے ۔ کراچی میں جون کے مہینے میں درجہ حرارت عام طور پر 34-35 سنٹی گریڈ ہوتا ہے اور کم ہی چالیس ڈگری تک پہنچتا ہے، البتہ کراچی میں جون کے مہینہ میں ریکارڈ گرمی 18 جون 1979 میں پڑی تھی جس دن یہاں 47 سنٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔اصل مسئلہ کیا ہے؟اصل بات یہ ہے کہ کراچی کے لوگوں کے جسم سے پانی پہلے ہی نچوڑا جا چکا تھا جو وہ 43 سنٹی گریڈ بھی برداشت نہیں کر پائے۔ ہائے ری کراچی والوں کی قسمت، کوئی خون بہنے سے مرتا ہے اور کوئی پانی کی کمی سے مرتا ہے۔ کراچی میں پانی تو پہلے ہی نہیں تھا، کئی دنوں سے بجلی بھی غائب تھی ، اب گرمی اور لو کے عذاب نے بھی بلا کی قیامت برپا کر دی ہے۔ بات کی تہہ تک اگر پہنچا جائے تو ان ہلاکتوں میں قدرت کا اتنا قصور نہیں جتنا منصوبہ بندی کے فقدان، بد انتظامی، نا اہلی اور کرپشن کا نظر آتا ہے۔ اگر سندھ میں کرپشن کی بجائے اچھی گورننس ہوتی، لوگوں کو پانی اور بجلی مل رہے ہوتے تو کیا اتنے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوتیں؟ یقینا نہیں، کیونکہ زیادہ تر اموات پانی کی کمی سے ہوئی ہیں۔اسی طرح خوراک کی دائمی کمی سے لوگوں کی اکثریت کی قوت مدافعت جواب دے چکی ہے۔ظاہر ہے جب جسم میں قوت مدافعت ہی نہیں ہوگی تو وہ بیماریوں یا ناگہانی حالات کا مقابلہ کیسے کرے گا۔ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زیادہ گرمی سے اموات آخر کیوں ہوتی ہیں؟ طبی ماہرین کے مطابق زیادہ گرمی اور لو لگنے سے دل یا گردے فیل ہونے کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے ، خاص طور پر اگر ماحول آلودہ ہو اسکے رسک میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ بڑے شہروں میں ہر وقت خارج ہونےوالی ماحولیاتی آلودگی ان شہروں کے باسیوں کیلئے زہرِ قاتل ہیں۔ کراچی کا حال بھی کچھ کم مختلف نہیں ،کراچی کے ماحول میں کاربن کی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اس لئے زیادہ گرمی سے کاربن کا زہر موت کا باعث بنتا ہے۔ اس وقت کراچی میں چلنے والی ٹرانسپورٹ بیس لاکھ سے زائد ہے جس میں ہر مہینے بیس ہزار گاڑیوں کا اضافہ ہورہا ہے۔ کراچی میں ہزاروں فیکٹریاں اور ان کے علاوہ خاص طور آئل ریفائنری اور بجلی گھر بھی ہیں۔ یہ لاکھوں گاڑیاں، ہزاروں فیکٹریاں، آئل ریفائنری اور بجلی گھر کراچی کے ماحول کی قاتل ہیں اور قاتل ماحول لوگوں کیلئے قتل گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جس سے کراچی جیسے شہر خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں جہاں کے لوگ سانس میں کاربن کی تباہ کن مقدار لے رہے ہیں۔ دنیا کے دوسرے بڑے بڑے شہروں کا بھی یہی حال ہے۔ امریکہ کی ایک رپورٹ کیمطابق اس صدی میں ڈیڑھ لاکھ امریکی صرف بڑے شہروں میں گرمی سے ہلاک ہوں گے۔ہم دنیا کے مختلف ممالک میں یہ مناظر دیکھتے رہتے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں تقریباً ایک مہینہ پہلے بھارت میں بھی دو ہزار سے زائد لوگ گرمی کی شدت سے ہلاک ہو گئے تھے۔

حضرت محمدﷺ کی ایک حدیث کیمطابق جب شہر بڑے ہو جائیں تو نئے شہر بسانے چاہئیں۔ دیکھا جائے تو اللہ کے نبی ﷺ نے ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہی گلوبل وارمنگ اور بڑے شہروں کے مسائل جن میں گورننس، امن و امان، سہولیات کی فراہمی، روزگار، تعلیم ، صحت اور رہائش میں مشکلات وغیرہ کا حل بتا دیا تھا۔کراچی میں ہر طرح کے مافیاﺅں کا توڑ بھی یہی ہے کہ اس شہر کو مزید بڑھنے سے روکا جائے۔ اس وقت کراچی کی آبادی میں ساڑھے سات فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے یعنی ہر سال اس کی آبادی پندرہ لاکھ بڑھ جاتی ہے۔ ظاہر ہے کراچی شہر اس اضافے کا متحمل نہیں ہو سکتا جس کی وجہ سے وہاں کے مسائل کی پیچیدگیاں بڑھتی جا رہی ہیں، کبھی یہ سیاسی پیچیدگیوں کی شکل میں سامنے آتی ہیں اور کبھی انتظامی اور کبھی دوسرے مسائل کی صورت میں۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ ملک بغیر کسی منصوبہ بندی کے چل رہا ہے۔ حکومت کو پالیسی وضع کرنی چاہئے کہ نئے تعمیراتی اور صنعتی منصوبے بڑے شہروں میں شروع کرنے کی بجائے انہیں چھوٹے شہروں میں شروع کرے اور وہاں زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرے تاکہ چھوٹے شہروںکے لوگوں کو روزگار، تعلیم اور کاروبار کیلئے کراچی، لاہور اوراسلام آباد جیسے شہروں میں ہجرت نہ کرنی پڑے۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں عدم مرکزیت (decentralization) کی مثالیں ملتی ہیں۔ پاکستان میں خاص طور پر کراچی کو اس کی ضرورت ہے۔
جب میں نے حالات معلوم کرنے کیلئے کراچی میں مقیم اپنے دوستوں سے رابطہ کیا تو انکے جذبات سخت مشتعل تھے۔ ان میں سے زیادہ تر حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا رہے تھے جس کی نا اہلی، بد انتظامی اور کرپشن کی وجہ سے اتنی زیادہ تعداد میں اموات ہوئیں۔
سندھ کی حکمران جماعت کے سربراہ فوج کو برا بھلا کہتے ہیں، کیا کراچی کا پانی اور بجلی فوج نے بند کی ہوئی ہیں؟کوئی مانے یا نہ مانے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سندھ حکومت کی سفاکی اب تمام حدیں عبور کر چکی ہے۔ میں کئی مہینوں سے ٹینکر مافیا کی بے رحم کارگذاریاں دیکھ رہا تھا۔ یہ وہ یزیدی مافیا ہے جس نے کئی مہینوں سے کراچی کا پانی بند کر رکھا ہے تاکہ لوگ ہزاروں روپے خرچ کرکے پانی ٹینکروں سے لیں۔ لوگوں کے پاس دو وقت کی روٹی پہلے ہی نہیں ہے، کاروبار کراچی کی ٹھیکیدار دونوں سیاسی پارٹیوں کے ٹوینٹی ٹوینٹی میچ کی وجہ سے اکثر بند رہتے ہیں، لوگ حکمرانوں کی تجوریاں بھرنے کیلئے پانی کے ٹینکر کہاں سے ڈلوائیں گے ؟ پانی کی طرح ہی بجلی کا بھی یہی حال ہے۔ مجھے کئی لوگوں نے بتایا کہ تین دن سے ان کی بجلی نہیں آ رہی۔ کراچی الیکٹرک ایک ڈراﺅنا خواب بن چکا ہے ، اس کی پرائیویٹائزیشن میں کئے گئے گھپلوں کی گونج میڈیا میں اکثر سنائی دیتی ہے۔ پینے کا صاف پانی تو مدتوں پہلے ہی کراچی سے عنقا ہو گیا تھا اور اب سالہا سال سے لوگ پینے کیلئے دکانوں سے پانی خریدتے ہیں۔ یہ کیسی گورننس ہے جو عوام کو بنیادی شہری سہولتیں نہیں دے سکتی؟مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کراچی کے ڈھائی کروڑ لوگ کہاں جائیں اور کس سے فریاد کریں۔ گرمی کی شدید لہر اور لو کے تھپیڑے یا حبس تو محض ایک بہانہ ہے، اصل وجہ تو کراچی میں بنیادی شہری سہولتوں کا فقدان ہے۔ جب کراچی میں شہری حکومت قائم تھی اس وقت پھر لوگوں کو کچھ نہ کچھ سہولیات مل رہی تھیں لیکن اب تو شہرِ قائد کے باسیوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر قسم کی سیاست کو بالائے طاق رکھ کر صرف لوگوں کیلئے سوچا جائے اور جس طرح بھی ممکن ہو سکے انہیں ضروری شہری سہولتیں فراہم کی جائیں کیونکہ اگر اب بھی کراچی کے مسائل سیاست کی نذر ہوئے تو معاملات سیاست دانوں کے ہاتھ سے نکل جائینگے۔ یا اللہ، کراچی کے لوگوں پر رحم فرما اور انہیں زمینی اور آسمانی بلاﺅں سے محفوظ رکھ کیونکہ یہ پہلے ہی ا پنے حصہ سے کہیں زیادہ مصیبتیں جھیل چکے ہیں۔ آمین!!