روزے کے مقاصد اور تقاضے

کالم نگار  |  قیوم نظامی
روزے کے مقاصد اور تقاضے

رمضان شریف بابرکت مہینہ ہے۔ اس مقدس مہینے میں قرآن پاک کا نزول ہوا۔ ارشاد ربانی ہے ”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کیلئے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کررکھ دینے والی ہیں“۔ [البقرة185:2] رمضان المبارک کا قرآنی تقاضہ یہ ہے کہ اس مہینے میں قرآن فہمی کی کوشش کی جائے اور رب کے واضح حکم کیمطابق روزے رکھے جائیں۔ رب کائنات نے روزے کا مقصد اپنی کتاب میں بیان کردیا ہے۔ ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کئے گئے جس طرح تم سے پہلے انبیاءکی اُمتوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو“۔ [البقرة183:2] ایک اور آیت میں ارشاد ربانی ہے ”تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے اس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار ہو“۔[البقرة185:2] قرآنی حکم کے مطابق روزے کا مقصد تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ اگر ہم تقویٰ کا قرآنی مفہوم جان لیں تو ہم اپنے روزوں کو قرآنی معیار پر لاسکتے ہیں۔

تقویٰ کا لغوی معنی ہے نفس کو اس چیز سے محفوظ رکھنا جس سے اسے ضرر کا خوف ہو۔ اصطلاح شریعت کے مطابق تقویٰ کا مقصد ان کاموں سے بچنا ہے جو اس کیلئے آخرت میں خدا کے غضب کا باعث ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ ارشاد فرماتے ہیں ”تقویٰ یہ ہے کہ انسان شرک ، کبیرہ گناہ اور بے حیائی کے کاموں سے بچے۔ سورة آل عمران میں ہے ”تم اللہ سے تقویٰ اختیار کرو جیسا تم سے ہوسکے“۔ قرآن پاک میں 236سے زائد آیات میں مختلف انداز میں تقویٰ کا بیان ہے۔ دنیا میں جتنے انبیاءتشریف لائے سب نے تقویٰ کا پیغام دیا۔ اگر ہم روزے رکھیں مگر متقی نہ بنیں تو روزے کا مقصد حاصل نہیں ہوگا۔
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”آگیا تمہارے پاس رمضان یہ مبارک مہینہ ہے اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کا روزہ فرض کیا ہے اس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور سرکش شیطان باندھ دئیے جاتے ہیں۔ اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے جو اس رات کی خیر اور برکت سے محروم رہا تو وہ محروم ہوگیا“۔[احمد، نسائی]
بدقسمتی سے مسلمانوں نے قرآن اور سنت کے واضح پیغامات کو ترک کرکے ثقافت اور روایات کی پیروی شروع کردی اور روزے کے قرآنی مقصد اور تقاضے کو ہی کھو بیٹھے ہیں۔کیا ہم اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم قرآن اور سنت کی روح کے مطابق روزے کے مقاصد اور تقاضے پوری نیک نیتی کے ساتھ پورے کررہے ہیں۔ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ قرآن اور سنت کی روشنی میں اپنا محاسبہ بھی کرتا رہے تاکہ بھٹکنے نہ پائے، گمراہ نہ ہو اور قیامت کے دن رب کی بارگاہ میں سرخرو ہوسکے۔ رب کائنات نے رمضان کے مہینے کو بابرکت قراردیا مگر افسوس کہ اپنے رب کے حکم کے برعکس اس مبارک مہینے کو انسانوں کیلئے رحمت بنانے کی بجائے زحمت بنا کر رکھ ردیا جاتا ہے۔ ہم رب کی خوشنودی کیلئے اشیاءکی قیمتیں کم کرنے کی بجائے ان میں ناجائز منافع خوری کی خاطر ہوشربا اضافہ کردیتے ہیں۔ مسلمانوں سے تو عیسائی عملی اعتبار سے بہتر نظر آتے ہیں ۔ وہ اپنے مقدس مہینے کرسمس کے موقع پر چیزوں کی قیمتیں کم کردیتے ہیں۔پاکستان میں بدقسمتی سے اشیاءکی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں۔ پنجاب حکومت نے اس سلسلے میں جو رمضان بازار لگوائے ہیں ان میں نہ تو چیزیں معیاری ہیں اور نہ ہی وافر تعداد میں موجود ہیں۔حکومت کی بیڈ گورننس کے نتیجے میں متوسط طبقے اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے کروڑوں عوام روزہ رکھنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے بھی عوام کو اذیت میں مبتلا کردیا ہے وہ روزے کیساتھ سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ حکمرانوں کا فرض تھا کہ وہ رمضان المبارک سے پہلے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے مناسب انتظامات کرتے مگر افسوس انہوں نے بجلی کی پیداوار کی بجائے میٹرو ز کو ترجیح دی۔دو سال گزارنے کے بعد بھی حکمران بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی نہیں کرسکے حالانکہ انتخابی مہم کے دوران شریف برادران چھ مہینے کے اندر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کرتے رہے۔ اب بھی وقت ہے کہ حکمران بجلی کی پیداوار کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں تاکہ وہ اپنی آئینی مدت پوری کرسکیں۔اگر میٹرو کا منصوبہ وقت پر بن سکتا ہے تو بجلی کا ایک بھی منصوبہ کیوں وقت پر مکمل نہیں ہوسکتا۔ حکمرانوں نے نندی پور پراجیکٹ پر خاموشی طاری کررکھی ہے جس پر قوم کے اربوں روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ ہم خدا کی خوشنودی کے بجائے مخلوق خدا کو زچ کرکے خدا کے غضب کو آواز دے رہے ہیں۔ کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور سخت گرمی سے ایک اندازے کیمطابق ساڑھے چار سو افراد جان کی بازی ہارگئے۔ حکومت وفاقی ہو یا صوبائی انسانی جانوں کے سلسلے میں بڑی بے حس ، بے رحم اور سخت سنگدل ثابت ہوئی ہے۔ اسلامی ریاست میں جب اللہ اور اسکے رسولﷺ کے واضح احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی جائیگی اور قرآن سنت اور ریاست کے آئین پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں کیا جائےگا تو ردعمل کے طور پر القاعدہ، طالبان اور داعش جیسی انتہا پسند تنظیمیں نمودار ہونگی۔اگر پاکستان میں کرپشن اور لوٹ مار نہ ہوتی اور نظام عدل اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق کام کررہا ہوتا تو انتہا پسند تنظیمیں جنم ہی نہ لیتیں۔
رب کی منشاءیہ ہے کہ رمضان المبارک میں غریبوں، محتاجوں اور مسکینوں کو سحرو افطار میں شریک کریں مگر مذہب کی بجائے ثقافت پر عمل کرتے ہوئے امیر طبقے کو ہی افطار میں شریک کیا جاتا ہے۔ ٹی وی چینلوں پر رمضان شریف کے نام پر کمرشل شو ہورہے ہیں جن میں روزے کی روح (تقویٰ اور پرہیزگاری) نظر نہیں آتی۔ روزہ صرف پیٹ کا نہیں آنکھ، کان اور زبان کا روزہ بھی ہوتا ہے مگر ہم روزہ رکھ کر بھی ٹی وی شوز بڑے شوق سے دیکھتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر عریانی اور فحاشی کے سلسلے میں تنظیم اسلامی کے امیر حافظ عاکف سعید کا ایمان افروز خط ملا ہے۔ انہوں نے تحریک کا آغاز کردیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کے مشیر عرفان صدیقی اپنے کالموں میں عریانی اور فحاشی کیخلاف آواز اُٹھاتے رہے ہیں۔ وہ الیکٹرانک میڈیا کو ضابطہ¿ اخلاق کا پابند بنانے کی سعی کریں۔ پاکستان کے فلاحی اور رفاہی اداروں نے زکوٰة کے سلسلے میں خطوط لکھ کر اپنی بے لوث خدمات کی جانب توجہ دلائی ہے۔ رمضان المبارک زکوٰة کا مہینہ بھی ہے۔ محترم قارئین سے اپیل ہے کہ وہ زکوٰة کے سلسلے میں ایدھی ٹرسٹ، الخدمت فاﺅنڈیشن، شوکت خانم میموریل ٹرسٹ ، غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ، گھرکی ٹرسٹ اور ادارہ فلاح انسانیت جیسے باوقار اور قابل اعتماد اداروں کو یاد رکھیں تاکہ زکوٰة ان محروم اور غریب طبقات تک بھی پہنچ سکے جن کو بنیادی حقوق اور سہولتیں ہی حاصل نہیں ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو سکولوں میں نہیں بھیج سکتے اور نہ ہی انکے پاس دو وقت کی روٹی ہوتی ہے۔ وہ اگر بیمار ہوجائیں تو انکے پاس دوا کیلئے بھی پیسے نہیں ہوتے۔ آئیے رمضان المبارک میں ہم یہ عہد کریں کہ ہم ہمیشہ پاکستان کے غریب عوام کی اخوت مدینہ کی بنیاد پر سرپرستی کرینگے۔