آپریشن ضرب ِ عضب

کالم نگار  |  غلام اکبر
 آپریشن ضرب ِ عضب

 29 جنوری 2014ء کو حکومت کے طالبان سے مذاکرات کا آغاز ہوا اور اس میں کئی طرح کی آراء سامنے آئیں۔ اس دوران میڈیا میں بیانات سامنے آتے رہے اور مذاکرات کا عمل نشیب و فراز کا شکار رہا اور اب تقریباً ساڑھے چار ماہ بعد حکومت نے مذاکرات ختم کرکے فوجی آپریشن کا باقاعدہ آغاز کردیا اور اب تک کی کارروائیوں میں پاک فوج نے سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے جبکہ مزاحمت و باروی سرنگوں کے دھماکوں میں پاک فوج کے تقریباً 8-10 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ حکومت نے جب مذاکرات کا اعلان کیا تھا تو میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ یہ مذاکرات کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتے کیونکہ طالبان کی جانب سے جس طرح کے مطالبات سامنے آئے تھے وہ ماننا ممکن نہیںتھا اور ساتھ ہی ساتھ مولانا سمیع الحق و مولانا ابراہیم سمیت طالبان کمیٹی کے افراد نے میڈیا پر پبلسٹی کے ذریعے مذاکرات کو سبوتاژ کیا حالانکہ مذاکرات کو خفیہ رکھ کر شاید کسی نتیجے پر پہنچا جاسکتا تھا مگر ایسا ہونا پھر بھی تقریباً ناممکن ہی تھا۔
بہرحال حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دوران جنگ بندی کی گئی مگر طالبان کی جانب سے زبانی کلامی جنگ بندی کے دعوے کئے جاتے رہے اور عملی طور پر حملے و بم دھماکے جاری رہے جس سے یہ تاثردینے کی کوشش کی گئی کہ اگر حکومت نے ان کے تمام مطالبات من و عن تسلیم نہ کئے تو خدانخواستہ وہ پورے پاکستان کو جلاکر رکھ دیں گے حالانکہ کبھی بھی حکومت کسی ایک گروہ
 کے ساتھ مذاکرات نہیں کرتی بلکہ مذاکرات 2 ممالک کے درمیان ہوتے ہیں۔ میرا تو نظریہ ہے کہ پورے ملک میں کہیں بھی کوئی اگر حکومت کی رٹ کو چیلنج کرتا ہے اور بغاوتی کارروائیاں کرتا ہے اور پاکستان کی مسلح افواج پر اگر حملے کئے جاتے ہیں تو اس سے کسی بھی صورت میں مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں بلکہ اس کے خلاف آپریشن ہی واحد حل ہے۔
حکومت کی جانب سے وزیرستان میں آپریشن کا اعلان کیا تو پیپلزپارٹی‘ متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی نے فوری طور پر اس کی بھرپور حمایت کی جبکہ جماعت اسلامی نے مذاکرات کی ناکامی کی وجہ دریافت کی ہے اور تحریک انصاف نے بھی ایک روز بعد آپریشن کی حمایت کا اعلان کیا جبکہ وفاقی حکومت سے آپریشن کے متعلق خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت کو اعتماد میں نہ لینے کا شکوہ بھی کیا گیا۔ اب تمام بڑی سیاسی جماعتیں وزیرستان میں آپریشن کی بھرپور حمایت کررہی ہیں اور حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک فوجی آپریشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے جبکہ عمران خان نے جلد از جلد آپریشن مکمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ حکومت نے آپریشن کا اعلان کرتے ہی ملک بھر میں اہم
سرکاری تنصیبات و سول و فوجی اہم عمارتوں کی سیکورٹی فوج کے حوالے کردی ہے اور تمام ایئرپورٹس فوج کے حوالے کردیئے گئے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے اعلان کیا کہ کراچی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد فوجی آپریشن ناگریز ہوچکا ہے۔
وزیرستان میں فوجی آپریشن کے دوران تمام صوبائی و وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الصوبائی سرحدوں پر نقل و حمل کی موثر مانیٹرنگ کرکے دہشت گردوں کی جوابی کارروائیوں کو ناکام بنائیں کیونکہ طالبان نے اسلا م آباد‘ لاہور‘ کراچی سمیت تمام بڑے شہروں میں انتقامی کارروائیوں کا اعلان کردیا ہے اور اگر ان حالات میں پولیس و دیگر سول اداروں نے نااہلی کا مظاہرہ کیا تو ملک بھر میں معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ہے اور اگر تمام خفیہ اداروں نے باہمی کوآرڈی نیشن کے ذریعے دہشت گردوں کی نقل و حمل کو روک لیا تو یقینی طورپر عوام کی جان و مال کو تحفظ مل سکے گا۔ کراچی ایئرپورٹ پر حملے سے سیکورٹی اداروں کی اہلیت کی قلعی کھل گئی ہے اور پھر وزیراعلٰی سندھ نے عجیب و غریب بیان دیا کہ کراچی ایئرپورٹ کی سیکورٹی حکومت سندھ کی ذمہ داری نہیں حالانکہ ایسے وقت میں اپنی نااہلی
پر بیرون ملک اعلٰی عہدیداران مستعفی ہوجاتے ہیں لیکن یہاں کراچی ایئرپورٹ حملے پر نااہلی کو قبول ہی کرنے کی جرات نہیں ہے۔ اگلے ہی دن چوہدری نثار نے بالکل درست جواب دیا کہ کراچی ایئرپورٹ بھارت میں نہیں ہے کہ جس کی سیکورٹی سندھ حکومت کی ذمہ دار ی نہ ہو۔
اب وزیرستان آپریشن میں پاک فوج نے تقریباً 40,000زمینی فوج بھیجی ہے اور زمین و فضائی آپریشن تیزی سے جاری ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ افغانستان کے صدر حامد کرزئی سے بھی پاک افغان بارڈر سیل کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث لوگ فوجی آپریشن کے دوران افغانستان فرار نہ ہوسکیں ۔ حامد کرزئی نے اب تک پاکستان کی بجائے بھارت کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اور اب تو نریندر مودی جوکہ کٹر ہندو انتہاپسند مشہور ہیں‘ ان کی حکومت میں تو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف زیادہ گھنائونی سازشیں کی جاسکتی ہیں۔ پاکستان کی بارڈر سیل کرنیکی درخواست پر میرے خیال میں حامد کرزئی الٹا اثر لیں گے اور پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث لوگوں کے لئے افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ بنادیں گے۔ اسی طرح امریکہ بھی پاکستان میں دہشت گردی کا ہی حامی ہے کیونکہ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی پاور امریکہ کوکسی صورت بھی برداشت نہیں۔
 پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث طالبان کے امیرملا فضل اﷲ افغانستان ہیں تو امریکہ وہاں ڈرون حملے یا کسی بھی طریقے سے اس کا قلع قمع کرتا لیکن امریکہ دہشت گردی کے خلاف صرف زبانی جمع خرچ کرتا ہے ۔ اسی لئے ملا فضل اﷲ کو افغانستان میں پناہ دے رکھی ہے اور وہاں سے  ’’طالبان‘‘ کو پاکستان میں
 داخل کرکے یہاں ِدہشت گردی کرائی جارہی ہے اور فرقہ ورانہ فسادات کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو افغانستان میں تربیت‘ اسلحہ و ڈالر دیکر بلوچستان بھیجا جاتا ہے تاکہ پاکستان دہشت گردی سے کمزور ہوکر خدانخواستہ اپنا وجود ہی کھو بیٹھے۔
اس نازک صورتحال میں جب پاکستان چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرا ہوا ہے تو پوری قوم کا فرض بنتا ہے کہ اپنی مسلح افواج کا ہر طرح سے مکمل ساتھ دے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو بھی اپنے ماضی کے رویئے پر نظرثانی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف ایک ہونا پڑے گا اور صوبائی حکومت و اداروں کی باہمی کوآرڈی نیشن سے ہی طالبان کے ردعمل کو روکا جاسکتا ہے اور وزیرستان سے دہشت گردوں کی دوسرے علاقوں میں منتقلی کو روکا جاسکتا ہے۔ اگر اب بھی صوبائی حکومتوں نے باہمی مشاورت کو موثر نہ بنایا تو شاید بڑے شہروں میں طالبان کے ردعمل سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہو لیکن اس کی ذمہ داری صرف اور صرف وفاقی و صوبائی حکومتوں پر عائد ہوگی کیونکہ وہ حالات کی نزاکت کے مطابق اقدامات کرنے میں ناکام ثابت ہوں گی۔
وزیرستان آپریشن پر پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہم دعاگو ہیں کہ پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن ہوسکے۔ میں پرامید ہوں کہ مسلح افواج انشاء اﷲ دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیاب رہے گی ‘ بھارت اور اسرائیل و افغان حکومت کی سازش ناکام ہوجائیگی۔حکومت دہشت گردی کی جنگ سے علیحدگی کا اعلان کرے کیونکہ اس جنگ میں پاکستان تقریباً 103 ارب ڈالر اور ہزاروں قیمتی جانوں کا نقصان کرچکا ہے۔