اندھیر نگری چوپٹ راج

کالم نگار  |  آغا امیر حسین
 اندھیر نگری چوپٹ راج

پاکستان کے ساتھ ہی بھارت، الجزائر بھی آزاد ہوئے، نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افراد کی بحالی کے لیے ہر ملک نے محکمہ بحالیات قائم کئے۔ پاکستان اور بھارت کے علاوہ الجزائر نے تمام متروکہ جائیداد کو ’’قومی ملکیت‘‘ قرار دے کر الجزائری باشندوں کو برائے نام کرائے پر رہنے اور اس کی دیکھ بھال کا نگران بنا کر دنوں میں مسئلہ نمٹا دیا۔ پاکستان اور بھارت میں بہت بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی تھی۔ بھارت نے مسلمانوں کی چھوڑی ہوئی جائیدادوں کو غیر اعلان شدہ پالیسی کے مطابق برائے نام قیمت پر ہندو سکھ شر نارتھیوں کو منتقل کر دیا کسی شخص کو نام نہاد نیلام عام میں سرکاری طور پر مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت کی بولی دینے کا حق نہیں تھا چند سو یا چند ہزار روپے میں پورا مکان نیلام کیا۔ اس کے برعکس پاکستان میں بحالیات کے محکمے نے جو کارکردگی دکھائی اس کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ اخلاقی طور پر دیوالیہ ہوگیا۔ جھوٹ، فریب، رشوت، سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر سفارشوں نے تمام اقدار کا گلا گھونٹ دیا۔ قوانین میں مقامی آبادی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ترامیم کی گئیں۔ مہاجرین کو دو شہادتوں کی بنیاد پر جائز یا ناجائز، دیکھے جانچے بغیر کلیموں کی منظوری دی گئی اور ’’کلیم بکس‘‘ جاری کی گئیں پھر مقامی آبادی کو وہ ’’کلیم بکس‘‘ اونے پونے خریدنے کی اجازت دی گئی۔ شہر میں بڑی بلڈنگوں کو ’’بگ منیشن‘‘ قرار دے کر نیلام عام کروایا گیا اور خریداروں کے درمیان مقابلہ کروا کے زیادہ سے زیادہ رقم حاصل کی گئی۔ ان پاکستانی سرکاری اعدادو شمار کو لے کر بھارت نے اقوام متحدہ میں درخواست دی کہ بھارت میں مسلمان جتنی جائیداد چھوڑ کر گئے ہیں اس کی مالیت اور پاکستان میں جو جائیداد فروخت کی گئی ہے اس کی مالیت میں اربوں کھربوں روپوں کا فرق ہے۔ یہ کھربوں روپیہ پاکستان سے دلوایا جائے اس کے جواب میں پاکستان کے نمائندے نے بھارت کو صرف یوپی میں مسلمانوں کی چھوڑی زمینوں، جائیدادوں کا بھارت کے ریکارڈ کے مطابق تخمینہ پیش کیا تو بھارت نے حسب سابق راہِ فرار اختیار کی اور اپنے مطالبے سے دست بردار ہوگیا۔ تقریباً 175  سال گورے حکمران رہے بیوروکریسی کا شفاف نظام دیا، برصغیر میں صوبے بنائے، ضلع بندی کی، ڈپٹی کمشنر مقرر کئے۔ ہندوستان میںرہنے بسنے والی قومیتوں پر تحقیق کرکے ہر نسل اور اس کی ذیلی شاخوں کا، ان کے رئویوں اور مزاج کا جائزہ پیش کیا۔ ’’پنجاب کی ذاتیں‘‘  اور گوتھیں اگر آپ پڑھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ گوروں نے کتنی محنت اور جدوجہد کے بعد ہندوستان کی قومیتیں کا ریکارڈ مرتب کیا یہ سب کچھ انہوں نے بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا کسی بھی اعلیٰ پوسٹ پر تعیناتی کے وقت اس شخص کو جانچا پرکھا جاتا تھا
 بعض قوموں کو سرکاری ملازمت کے لیے نااہل قرار دیا تھاوغیرہ۔ ان کے دور میں تاج برطانیہ کے خلاف کوئی کام کرنے کی اجازت نہ تھی باقی معاشرے کے اندر دور دراز علاقے کے کسی پٹواری تحصیل دار، تھانیدار، زمیندار یا جاگیر دار کی یہ مجال نہیں تھی کہ وہ غریب کھیت مزدور کے ساتھ کوئی زیادتی کا تصوّر بھی کرے۔ عدلیہ میں مجسٹریٹ سے لیکر ہائی کورٹ تک پہلے فارسی اور پھر اردو زبان میں دفتری کام ہوتا تھا اور کسی بھی قسم کی کسی کے ساتھ ناانصافی کرنے کی کوئی ہمت نہیں کر پاتا تھا، آزادی کے بعد پاکستان میں ابتدائی دور کو چھوڑ کر نئی نسل کے پاس اقتدار آیا اور سیاہ و سفید کے مالک بنے یہ نوجوان تمن داروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں ،نوابوں اور سرداروں کی اولاد تھے اور ہیں۔ ان کی رگوں میں انگریز کی غلامی کا خون دوڑ رہا ہے اور یہ اب قوم سے اپنے آقائوں سے جدا کرنے آزاد اور خود مختار ملک بنانے کا بدلہ لے رہے ہیں جبکہ وہ سیاہ و سفید کے مالک بن گئے ہیں انہوں نے تمام قواعد و ضوابط کو اپنے مفادات کا غلام بنا لیا۔ آج ملک کے سرکاری محکموں میں چپڑاسی سے لے کر سیکرٹری تک الا ماشاء اللہ خلق خدا کو پریشان کرنے لوٹنے اور عیاشی کرنے علاوہ کوئی کام نہیں وہ صبح جب دفتر آتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ گھر سے قسم کھا کر نکلے ہیں کہ آج جو بھی سائل آئے گا اس کے جسم کے کپڑے ہی نہیں کھال بھی اتار لیں گے۔ مشتہِ از نمونہ لاہور کے اندرون شہر یکی دروازے کے اندر ایک مکان کا قصہ پیش کرتا ہوں۔ 1947ء میں پورے مکان کا PTO  ایک فیملی کو دیا گیا کچھ عرصہ کے بعد اسی مکان کا ایک اور PTO دوسری فیملی کو جاری کرکے محکمانہ طور پر زیادتی کی گئی ان دو فیملیز کے درمیان طویل مقدمے بازی ہوئی سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک کا فیصلہ آنے میں 37 سال لگے۔ سپریم کورٹ نے 1984ء میں فیصلہ کیا کہ بالائی منزل وہاں رہنے والوں کو دے دی جائے اور زیریں منزل وہاں رہائش پذیر فیملی کو دے دی جائے۔ جبکہ فریق اول سے محکمہ بحالیات نے
 پورے مکان کی قیمت بھی وصول کر لی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد کے لئے 16 سال کی مزید ذلت و خواری اور ہر قسم کی بار بار چھان بین کے بعد سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 2010ء میں TO  جاری کر دیا گیا۔ اس عرصے میں محکمہ بحالیات ختم ہوچکا تھا اور اس کا کام بورڈ آف ریونیو میں ایک برانچ قائم کرکے اس کے حوالے کر دیا گیا تھا جو ایک سیکرٹری کے ماتحت کبھی نہ ختم ہونے والے جھگڑوں کو نمٹانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ یہاں جس سیکرٹری کو بھی تعینات کیا جاتا وہ اپنی سروس کے آخری دنوں میںہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی سائل کو کوئی ریلیف نہ ملے اور اسے مختلف محکموں کے چکر میں ڈال دیا جائے، یکی گیٹ کا یہ مکان اس کی ایک بدترین مثال ہے۔ 1995ء میںبحالیات کے ریکارڈ کو آگ لگ گئی یا لگا دی گئی اس کی سزا بھی متروکہ جائیداد کے خریدار آج تک بھگت رہے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے آگ لگنے کے واقعے 1995ء کے بعد جاری کردہ TO کی مصدقہ نقل لینا قریب قریب ناممکن بنا دیا گیا جبکہ اس کا مکمل ریکارڈ محکمے کے پاس محفوظ ہے اور قانون کے مطابق پبلک ڈاکو منٹ حاصل کرنا ہر پاکستانی کا حق ہے لیکن بحالیات کے ذمے داروں نے اسے ناممکن بنا کر رکھ دیا ہے۔ اب جو شخص کسی اچھے وکیل کو بھاری فیس ادا کرکے عدالت عالیہ میں رٹ کرے اس کی داد رسی تو ہو جاتی ہے اسے TO  کی مصدقہ نقل بھی مل جاتی ہے اور اس سے معذرت بھی کی جاتی ہے لیکن  کیا پاکستان کے غریب عوام اچھے وکلا کی بھاری فیس ادا کرکے اپنا یہ چھوٹا سا کام کروا سکتے ہیں؟ یہی سب کچھ پاکستان کے تمام صوبوں اور مرکز کے ہر محکمے میں ہو رہا ہے اسے  ’’اندھیر نگری چوپٹ راج‘‘ کی تازہ ترین مثال سانحہ ماڈل ٹائون کی ہے جس میں بدترین پولیس گردی کی گئی سیدھی گولیاں برسائی گئیں عورتوں کو شہید کیا گیا رات دو بجے اچانک ادارہ منہاج القرآن کے مرکزی دفتر پر حملے کا ابھی تک پنجاب حکومت کوئی جواز پیش نہیں کرسکی۔ اعترافِ گناہ بدتر از گناہ کے مصداق ایک کے بعد ایک غلطی کی جا رہی ہے کسی بھی مہذب معاشرے میں دانستہ یا نادانستہ غلطی یا حماقت کی ذمہ داری فوری قبول کی جاتی ہے اور ذمہ دار خود ہی مستعفی ہو جاتا ہے یہاں بارہ انسان شہید ہوئے ہیں۔ گلو بٹ نامی غنڈے کو چینلز نے ساری دنیا کو دکھایا ہے کہ کس طرح وہ پولیس کی قیادت کرتے ہوئے نعرہ تکبیر بلند کرکے حملہ آور ہوا، کس طرح اس نے گاڑیوں کے شیشے توڑے، کس طرح اس نے دُکانوں سے لوٹ مار کی، پاکستان کی تاریخ میں آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا۔ علامہ طاہر القادری کی آمدکے خوف سے عقل، سمجھ اور افہام و تفہیم کی جگہ ’’گلو بٹ‘‘ نے لے لی نتیجہ تو پھر یہی نکلنا تھا کسی بھی زاویئے سے مسلم لیگ ن کا یہ کارنامہ سمجھ سے باہر ہے۔ اسے کہتے ہیں آبیل مجھے مار!