پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کے محرکات

حکومتِ پاکستان نے آئین پاکستان کو 3نومبر2007ءکو معطل کرنے کی پاداش میں سابق صدر مملکت جنرل پرویز مشرف پر آئین کے آرٹیکل 6کے تحت کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سپریم کورٹ میں حکومت جنرل پرویز مشرف کو سنگین نوعیت کی بغاوت کے مقدمہ میں بچانے کی بجائے ان کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت کیس میں حکومت آئین اور قانون کی بالادستی کی حمایت کرے گی۔ جمہوری ملکوں میں ملکی آئین کو ہی سب سے مقدس دستاویز کا مقام حاصل ہوتا ہے۔ مملکت کے تمام امور اس کی روشنی میں طے پاتے ہےں اور کوئی اس کی خلاف ورزی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ بد قسمتی سے پاکستان میں آئین کی کوئی وقعت ہی نہیںرہی۔ جنرل ضیاءالحق کا کہنا تھا کہ آئین چند صفحات کی اےک بے وقعت سی دستاویز ہے۔ جسے جب چاہوں ہوا میں اُڑا دیں اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ بعض اوقات طاقتور اداروں کے سربراہ اپنے دلائل ےا حکم سے ماتحتوں کو اپنے غیر قانونی احکامات ماننے پر قائل یا مجبور کر لیتے ہےں۔ ےہی وجہ ہے کہ پاکستان میں چار مرتبہ آئین کو توڑا گیا۔ بدقسمتی سے ہر بار موقع پرست سیاستدانوں نے 8اکتوبر1958ءسے طالع آزماﺅں کا ساتھ دیا اور عدالتیں بھی ان کی آئین شکنی کو کبھی نظرےہ ضرورت اور کبھی کسی اور بہانے جائز قرار دیتی رہےں۔
سابق صدر مملکت جنرل پرویز مشرف پر آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت غداری کا مقدمہ چلانے سے کئی پردہ نشین بھی بے نقاب ہوں گے۔ پی۔سی۔او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز بھی حصہ دار ہےں اور اِسی طرح 2اکتوبر2002ءکے انتخابات اور اِس سے پیشتر معطل شدہ آئین کے تحت لوکل گورنمنٹ کے انتخابات میں تشکیل پانے والے ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ لوکل گورنمنٹ کے ارکان بھی شامل ہوں گے۔ آئین توڑنے کی پاداش میں آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت وفاقی حکومت مقدمے چلاتی ہے تو پھر اس مقدمے میں صرف سابق صدر ہی نہیں آئیں گے بلکہ اس وقت حکومت میں شامل وزراءپی۔سی۔او کے تحت بار بار حلف اٹھانے والے ججز اور عسکری قیادت ہی اس زد میں آسکتی ہے۔ 3نومبر2007ءکو جب سابق صدر پرویز مشرف نے آئین کو معطل کر کے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی اس وقت وزیراعظم شوکت عزیز اور ان کی کابینہ تھی اور اس کابینہ کی ہی سفارشات پر ایمرجنسی لگائی گئی تھی ۔ اس وقت پاکستان مسلم لیگ کی حکومت تھی۔ اگر پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلتا ہے تو ےہ تمام مراعات ےافتہ طبقہ بھی اس اعانت کے جرم میں اس مقدمے کی زد میں آسکتے ہےں۔
3نومبر2007ءکو جو ایمرجنسی کا حادثہ پیش آیا۔ اس کا پس منظر جاننے کے لئے غیر جانبدارانہ کمیشن بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے بہت ہی خطرناک محرکات ہےں۔ عدالت عظمیٰ کے لارجر بینچ نے صدر پرویز مشرف کو صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی اور الےکشن کمیشن آف پاکستان نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں 6اکتوبر2007ءکو صدارتی انتخاب کا انعقاد کرایا۔چاروں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان آئین کے شیڈول IIکے تحت پر یذائیڈنگ آفیسران تھے اور وفاق میں چیف الےکشن کمشنر اس صدارتی الیکشن کے ریٹرنگ آفیسر تھے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے لارجر بنچ جس کے سربراہ سینئر جج سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس جاوید اقبال تھے۔ انہوں نے فیصلہ دیا تھا کہ ملک میں صدارتی انتخاب شیڈول کے مطابق کروا لیا جائے لیکن حتمی رزلٹ کا نوٹی فکیشن عدالت عظمیٰ کے فیصلے تک جاری نہ کیا جائے۔ اس فیصلہ کے تحت الےکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی الےکشن کا انعقاد کرایا جس کی پشت پر چاروں صوبائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان موجود تھے ۔ 6اکتوبر2007ءکو انتخاب کا عمل مکمل ہوا۔اور وہ جسٹس افتخار محمد چوہدری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے پارلیمنٹ کے تمام ارکان نے اس صدارتی انتخاب کا حصہ تھے۔ صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ارکان مستعفیٰ ہوئے تھے۔غیر حتمی رزلٹ کی روشنی میں صدر پرویز مشرف کامیاب قرار دئےے گئے ۔ اسی دوران سپریم کورٹ آف پاکستان کا 13رکنی لارجر بنچ نے اپنی سماعت جاری رکھی اور 2نومبر2007ءتک ملک افواہوں، وسوسوں، اندیشوں کے سحر میں گھر گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا ےہ لارجر بنچ صدر مملکت کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے کی راہ پر چل رہا ہے۔ ےہاں صدر پرویز مشرف کے نادان دوستوں، خود غرض سیاستدانوں، پاکستان مسلم لیگ کی ذاتی حرص رکھنے والی شخصیات اور مفاد پرست ٹولے نے صدر پرویز مشرف کو گمراہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے صدر پرویز مشرف کو باور کرایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان ان کے صدارتی انتخاب کے خلاف فیصلہ 3نومبرکو جاری کرنے والی ہے۔ حالانکہ آئینی امور میں معمولی سی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کو صدارتی الےکشن کے آرٹیکل 42اور صدارتی الےکشن شیڈولIIکو مدِ نظر رکھنا چاہےے تھا۔ جب صدر مملکت کے کاغذات نامزدگی کو شیڈول IIکے تحت منظور کر لئے گئے تھے تو آئین کے مطابق ریٹرنگ آفیسر جو کہ چیف الےکشن کمشنر آف پاکستان تھے ان کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی آئینی طور پر اجازت ہی نہیں تھی اور محض آئین کے آرٹیکل 184کے تحت آئینی پٹیشن ہی دائر کی جاسکتی تھی۔ جب آئین کے خالقوں نے سوچ سمجھ کر ہی ےہ شق شامل کی تھی کہ ریٹرنگ آفیسر کے خلاف پاکستان کی کسی کورٹ میں اپیل دائر نہیں کی جاسکتی تو اس کے تحت ےہ سپریم کورٹ آف پاکستان محض آئینی پٹیشن کی ےہ سماعت کر رہی تھی اور سپریم کورٹ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے اس کا کوئی درمیانی راستہ نکال لیتی اور میری ناقص رائے میں سپریم کورٹ آف پاکستان صدر پرویز مشرف کے 6اکتوبر کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ صدارتی انتخاب کو ملک کی چاروں صوبائی کورٹس کے چیف ججز صاحبان نے توثیق کر دیا تھا اور اس سے پیشتر سپریم کورٹ آف پاکستان جون 2005ءمیں اہم فیصلہ صادر کرچکی تھی جس کے مطابق صدر پر آرٹیکل 62، 63لاگو ہی نہیں ہوتا۔ اس فیصلہ کی روشنی میں چیف الےکشن کمشنر جسٹس قاضی فاروق نے صدر پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کو منظور کیا تھا اور اس فیصلہ کی روشنی میں صدر آصف علی زرداری نے7ستمبر2008ءکو صدارتی الےکشن میں کامیابی حاصل کی تھی۔(جاری)











جون2005ءکے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں اگر سپریم کورٹ آف پاکستان صدر پرویز مشرف کا صدارتی انتخاب کالعدم قرار دیکر ملک میں آئینی بحران پیدا کر دیتی تو یہاں پر وسیع تر قومی مفاد کے تحت صدر پرویز مشرف وقتی طور پر ایمرجنسی نافذ کر کے ملک کو آئینی بحران سے بچانے میں حق بجانب ہوتے ان کا موقف ےہ ہوتا جب ےہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کی رو سے صدارتی انتخاب کا انعقاد ہو چکا تھا جس کے تحت پاکستان کی چاروں صوبائی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی بھی تائید حاصل تھی تو پھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلا وجہ ملک میں آئینی بحران کھڑا کر دیا جب کہ سپریم کورٹ آف پاکستان جون2005ءمیں قاضی حسین احمد اور بنام صدر پرویز مشرف میں ےہ فیصلہ دے چکی تھی کہ صدر کے انتخاب میں آئین کے آرٹیکل 62،63لاگو ہی نہیں ہوتا۔ اس بنچ کے سربراہ چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی اور ارکان میں جسٹس افتخار احمد چوہدری ، جسٹس تصدق حسین جیلانی جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس فقیر کھوکھر اور جسٹس نواز عباسی(نام کی غلطی اگر ہو تو پیش گی معذرت کے ساتھ) تھے اور اس بنچ کے فیصلہ کی روشنی میں 3نومبر2007ءکو صدر پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ آنے کا امکان نظر نہیں آرہا تھا۔ لےکن طاقتور میڈیا، صدر کے اردگرد نادان دوستوں نے ان کو سپریم کورٹ کے بارے میں غلط معلومات فراہم کر کے ان سے 3نومبرکی ایمرجنسی لگانے میں وہ کامیاب ہو گئے۔ دراصل صدر پرویز مشرف کے ارد گرد امریکی سی۔آئی۔اے کے ایجنٹوں کی قطار لگی ہوئی تھی۔لہٰذا صدر پرویز مشرف نے انتظامی طور پر تو اس ایمرجنسی کو لگوانے کے لئے تمام قانونی راستے اختیار کر لئے لےکن اصل حالات جاننے کے لئے اور چیف جسٹس آف پاکستان کے فرمان کو جاری کرنے کے تمام مرحلے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے اےک کمیشن تشکیل دیا جائے جو صحیح حالات جاننے کےلئے تمام آئینی اور قانونی پہلوﺅں پر غور کر ے۔
    بدقسمتی سے اتنے بڑے اور اس قدر سنگین قدم اٹھانے کے ارتکاب کی بناءپر جو مقدمہ آرٹیکل 6کی بنیاد پر شروع ہونے کا امکان ہے اس کی لپیٹ میں ہماری پوری تاریخ آجائے گی پھر قوم کو اس سچائی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا کہ 1973کا آئین بنانے والی آئین ساز ی غیر آئینی تھی اور جس حیثیت میں ذوالفقار علی بھٹو نے اس آئین کو مغربی پاکستان کا نام تبدیل کر کے اسے پاکستان سرکاری طور پر قرار دے دیا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالا تھا۔ اس وقت ملک میں چار صوبے تھے اور ان کو پاکستان کے نام پر یکجا کرنے کا اتھارٹی مارشل لاءکے آرڈر کے تحت دی گئی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مارشل لاءآرڈر کے تحت باقی ماندہ چاروں صوبوں کو یکجا کر کے جس پاکستان کی تقدیر بنانے کا قدم اٹھایا تھا وہ1973ءکا آئین بنانے والی اسمبلی ناجائز اور غیر آئینی تھی ۔ اصولی طور پر پاکستان کی ملٹری Establishmentکو مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو نگران صدر مقرر کر کے چاروں صوبوں میں فوراًنئے انتخابات کرائے جاتے اور بعد ازاں آئین ساز اسمبلی ملک کا آئین مرتب کرتی۔ سیاسی آلودہ ماحول میں مجرم کھلے عام پھر رہے ہےں اس میں جنرل پرویز مشرف کو احتساب کے کٹہرے میں لانا نہ تو انصاف کہلائے گا اور نہ ہی دانشمندانہ اقدام۔
    12اکتوبر1999ءکو وزیراعظم نواز شریف غلطی پر تھے ےا پھر جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھی جرنیلوں کا اقدام غیر آئینی تھا۔ نواز شریف کا اس معاملہ پر مو¿قف ہے کہ جنرل پرویز مشرف کا اقتدار پر قبضہ کرنے کا فیصلہ آئین کے خلاف تھا اور ان کو آرٹیکل 6کے تحت سزا ملنی چاہےے۔ جب کہ دوسری طرف جنرل مشرف اقتدار پر قبضہ کو درست سمجھتے ہےں۔ اس اہم معاملہ پر پاکستان کے ایک صحافی تصویر کا دوسرا رخ پیش کرتے ہےں ۔ معزول وزیراعظم نواز شریف کے پروٹوکول آفیسر زاہد محمود نے کراچی میں عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ 12اکتوبرکو ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر جاوید اقبال کے دفتر میں سعید مہدی اور جنرل ضیاءالدین بٹ نے ان کی موجودگی میں وزیراعظم کے لیٹر پیڈ پر جنرل پرویز مشرف کی ریٹائرنمنٹ کے احکامات ثابت کروائے۔4بجکر 40منٹ پر وزیراعظم ایوانِ صدر گئے اور 5بجے واپس آئے۔ زائد محمود کے مطابق پونے چھ بجے ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر جاوید اقبال کو پتہ چلا کہ ٹیلی ویژن پر فوجی دستے آگئے ہےں لہٰذا وہ پستول لیکر ٹیلی ویژن سٹیشن چلے گئے۔ جب کہ وزیراعظم نے شاہد خاقان عباسی کو حکم دیا کہ جس کے 805کار رخ فقط کیطرف موڑ دیں۔ زاہد محمود نے بتایا کہ مسٹر سعید مہدی کے بیان میں سب سے اہم بات ےہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی ریٹائرمنٹ کے احکامات اےک بریگیڈےئر اور اےک لفٹیننٹ جنرل کی موجودگی میں ٹائپ کروائے اور احکامات پر عمل درآمد کے لئے وزارت دفاع سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ جب تک وزارت دفاع آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری نہ کرے تب تک ٹیلی ویژن سے خبر بھی نشر نہیں کی جاسکتی۔ سچ تو ےہ ہے کہ وزارت دفاع سے جنرل پرویز مشرف کی ریٹائرمنٹ اور جنرل ضیاءالدین کی تقرری کوئی نوٹی فکیشن جاری نہیں ہوا۔ صدر جسٹس محمد رفیق تارڑ کے ہاں جو خط نواز شریف نے بطور وزیراعظم بھیجا اُس میں صدر پاکستان کی منظوری کے لئے نہیں ملک بلکہ برائے اطلاع ان کو خط بہ نفس نفیس میاں نواز شریف خود لیکر گئے اور انہوں نے وزیراعظم کی موجودگی کا لحاظ رکھتے ہوئے اس پر "Seen"لکھ دیا اور اگر اس خط کو حاضر بیورو کریسی کو جانچ پڑتال کے لئے دکھایا جائے تو بیورو کریسی کے ماہرین بتا دیں گے کہ صدر رفیق تارڑ نے بڑی بددلی سے "Seen"لکھا اور خط کے اےک کونے پر Half Signatureکر دئےے۔
    بیورو کریسی کی لغت میں اےسے دستخط کا مطلب ےہ اخذ کیا جاتا ہے کہ متعلقہ اتھارٹی نیم دلی سے دیکھ رہی ہے۔ جب وزارت دفاع کی جانب سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں گزٹ نوٹی فکیشن ہی جاری نہیں ہوا تو میاں نواز شریف کا جنرل پرویز مشرف کے بارے میں قدم غیر آئینی ہی تصور کیا جائے گا اور افواجِ پاکستان کو اشتعال دلانے کے مترادف ہی سمجھا جائے گا۔حالات واقعات بتاتے ہےں کہ آئین شام ساڑھے سات بجے نہیں بلکہ 5بجے ٹوٹ گیا۔ جب نوٹی فکیشن کے بغیر ٹیلی ویژن سے فوج کے سربراہ کی برطرفی کا اعلان کر دیا۔
    اگر صدر پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت وفاقی حکومت مقدمہ دائر کرتی ہے تو پھر سابق صدر پرویز مشرف کو اپنی صفائی کرنے کا پورا موقع ملنا چاہےے اور آرٹیکل 6کا اطلاق 5جولائی 1977ءسے شروع کیا جائے۔


                                کنور محمد دلشاد
                                شاھرائے دستور سے
                                kmdilshad@hotmail.com
                                22جون 2013ئ