صوبے، بجٹ اور چیلنجز !

کالم نگار  |  پروفیسر نعیم مسعود

سندھ، پنجاب اور خیبر پی کے نے بجٹ پیش کرنے کے ساتھ ہی اپنے اپنے بجٹ کے تعریفوں کے پُل باندھنا شروع کر دئیے۔ سندھ کا بجٹ وزیر اعلیٰ سندھ نے پیش کیا جبکہ پنجاب کا بجٹ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پیش کیا۔ خیبر پی کے کا بجٹ سادگی اور شائستگی میں معروف شخصیت سراج الحق نے پیش کیا۔ سندھ نے چھوٹے ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ، پنجاب نے 10 فیصد اور خیبر پی کے نے 16 فیصد اضافہ کیا ہے۔
پنجاب حکومت کا زور سولر لیمپ اور لیپ ٹاپ پر رہا۔ علاوہ بریں انہوں نے ملتان، فیصل آباد اور راولپنڈی میں میٹرو بس چلانے کا اعلان کیا ہے۔ بات بُری نہیں، جدتوں کی جانب اور جدتوں کا سفر اچھی بات ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے تعلیم کی بنیادی سہولتوں، سکولوں (90 فیصد پرائمری، مڈل اور ہائی سکولز) کی حالت زار کو بہتر بنانے کا مستحکم ارادہ اور عملی منصوبہ بندی کر لی ہے؟ کیا بے سری بنیاد پر پلازہ کھڑا ہو سکتا ہے اگر ہو سکتا ہے تو بسم اللہ۔ کیا تحقیق و تعلیم سے تعلق رکھنے والی یونیورسٹیوں کو 18ویں ترمیم کے بعد یتیم ہو جانے کے بعد اور بیورو کریسی کی دلدل میں پھنس جانے کے بعد ان کی ازسرنو تعلیم و ترقی کے لئے پنجاب ہائر ایجوکیشن کمشن کا بندوبست کر لیا ہے؟ سابق حکومت بھی میاں صاحب ہی کی تھی، کیا مسئلہ اور کیا مطلب ہے کہ روزگار کے دریچے نہیں کھولے گئے؟ صرف عدلیہ، تعلیم اور محکمہ صحت ہی میں بھرتیاں کیوں؟ (وہ بھی جانے کب؟) یہاں تو آپ کی حکومت تھی اور روایت ہے کہ بجٹ کے بعد روزگار کے دریچے کھلتے ہیں، اگر سر پلس ہے یا تھا، تو کیوں؟ صحیح ڈویژن کیوں نہیں؟ زراعت کے ساتھ محکمہ جنگلات، محکمہ ٹرانسپورٹ، پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ، پولیس کی ازسرنو ترقی اور ترتیب کیوں نہیں؟ پنجاب پاکستان کا سب سے اہم اور بڑا صوبہ، 18ویں ترمیم سے استفادہ کی عملی شکل کہاں ہے۔ سولر لیمپ کا قطرہ اپنی جگہ ”انرجی کرائسس مینجمنٹ“ کا ایک مختصر مگر جامعہ ادارہ جو ٹیکنو کریٹس اور کارکنان پر مشتمل ہو اس کی حقیقی تصویر کہاں ہے؟ دانش سکولز سے زیادہ دانش گاہوں کی اصلی صورت اور تعلیمی تزئین و آرائش کہاں ہے ؟
میاں صاحب اب اوپر زرداری ازم نہیں ہو گا کہ جس کا آپ کو کھلا فائدہ ہو گا ، اس دفعہ میٹرو اور لیمپ کا جادو نہیں چلے گا اور نہ ماضی کی طرح یہ بھی نہیں چلے گا کہ چار سال آپ تساہل سے کام لیں اور آخری سال دن رات کام کر کے قسمت کے دروازے کو کہیں کہ کھل جا سم سم اور وہ کھل جائے۔ اب پولیس، چھوٹی عدالتوں اور بجلی کے مسئلہ کو ریجنل سے مقامی سطح تک درست کرنے کے نمبر، ووٹ اور پذیرائی ملے گی۔ ہاں آشیانہ سکیم اچھی ہے اگر ماضی کی طرح 5 سے کم ہو کر 3 مرلہ اور 3 مرلہ سے کم ہو کر 2 مرلہ کا ہتھوڑا نہ چلے تو، اور پھر پچھلی دفعہ آپ کی سکیم پوری بھی نہیں ہوئی تھی تاحال ہدف مکمل نہیں ہُوا اور یہ نامکمل ہے پھر اس میں تو حکومت پاس سے کچھ نہیں دیتی اور حکومت کا کوئی نقصان نہیں البتہ حکومت کی سہولتیں سعی قابل تحسین ضرور ہیں۔ اللہ آپ کا بھلا کرے۔ اگر دیہی خواتین کے مویشیوں کے لئے 50 کروڑ، مزدوروں کے 12 ہزار بچوں کا داخلہ، درسی کتب کا 13 ارب 30 کروڑ، توانائی منصوبوں کا 20 ارب 43 کروڑ (سال میں اگر لگ گیا، بے شک تھوڑا ہے) اور ہیلتھ انشورنس کے امور مالی سال کے اندر ہی اندر نمٹائے گئے تو بہت اعلیٰ ۔ اگر ماضی کی طرح ہوا یعنی حکومت کے پہلے تین سالوں کی طرح تو پھر ماشاءاللہ! پنجاب کے اخراجات کا مجموعی تخمینہ 8 کھرب 97 ارب 50 کروڑ کا ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟
سندھ میں قائم علی شاہ نے 21 ارب 63 کروڑ کے خسارے کے بجٹ سے جو مالی سال کا آغاز کیا ہے وہ اپنی جگہ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ -1 سندھ میں بطور خاص کراچی میں دہشت گردی -2 اندرون سندھ تعمیر و ترقی کی بدحالی اور -3 اندرون صوبہ کے صحت و تعلیمی بحران سے وزیر اعلیٰ سندھ کیسے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ میاں شہباز شریف عوامی حلقوں میں 100 میں سے 70 نمبر لئے ہوئے ہیں، ان کے مخالفین بھی ان کی پھرتیوں سے ”متاثر“ ہیں مگر قائم علی شاہ 100 میں سے صرف 20 نمبر رکھتے ہیں۔ قائم علی شاہ نے کوئی نیا ٹیکس تو نہیں لگایا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ لگے لگائے ٹیکس بھی وصول کر پاتے ہیں کہ نہیں یا پھر وہی کراچی میں بھتہ والے بھتہ اور اندرون سندھ تاوان دوسرے اکٹھے کرتے رہیں گے۔ بہرحال مزے کی بات یہ ہے کہ سندھ میں پی پی پی نے اپنی روایت برقرار رکھی ہے جہاں چھوٹے ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کیا ہے وہاں پینشن میں مجموعی تین ہزار کا اضافہ بھی کیا ہے۔ اسی طرح دیگر صوبوں کے برعکس گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے اعلیٰ افسران کی تنخواہ میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا ہے۔ یہی کاپی بہرکیف خیبر پی کے میں ملتی ہے اور تحریک انصاف یہاں پی پی پی کے سندھ سے پیچھے نہیں رہی۔ سندھ نے احساس تو کیا ہے کہ امن و امان کے لئے کچھ کرنا چاہئے اور 20 ہزار پولیس والوں کی بھرتی کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ بھرتی میرٹ پر ہوتی ہے یا جیالا ازم زندہ باد؟ سندھ کے 6 کھرب 17 ارب 21 کروڑ اور 29 لاکھ کے بجٹ کا حساب کتاب اور افادیت کا معاملہ مالی سال مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔ بجٹ پیش کرنا ہی کافی نہیں ہوتا اس پر عمل کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔
جہاں تک خیبر پی کے کا تعلق ہے، اس کی حکومت اور اس کے بجٹ پر سب سے زیادہ نظریں لگی ہوئی ہیں۔ گو لوگ اور قائدین پرانے ہیں مگر سیاسی پلیٹ فارم اور حکومتی اتحاد نیا ہے۔ انہوں نے 344 ارب کا ٹیکس فری بجٹ دیا ہے۔ کم از کم تنخواہیں بڑھانے میں پنجاب سے آگے ہیں۔ کم از کم مزدوری 10 ہزار ضرور کی ہے، یہ قابل عمل کس حد تک ہوتی اس کا پتہ چند دن بعد سامنے آ جائے گا۔ جس طرح انہوں نے پٹواری اور تھانہ کلچر کے خاتمے کا دعویٰ اور ارادہ ظاہر کیا ہے یہ بھی ایک انقلابی اقدام ہے لیکن اس اقدام کا تعلق بھی عمل سے ہے۔ کیا ہو پاتا ہے اور کیا نہیں اس کا بھی جلد ہی معلوم ہو جائے گا تاہم ”تعلیمی اور توانائی ایمرجنسی“ کے نفاذ کا بھی اعلان ہے۔ تعلیم اپنی جگہ بھی ایک توانائی ہے، اچھا ارادہ اور اچھی کوشش ہے۔ پرویز خٹک اور سراج الحق ایک اچھا کمبی نیشن ثابت ہو سکتا ہے۔ خیبر پی کے وہ صوبہ ہے جو سب سے زیادہ آزمائش کا شکار ہے، قدم قدم پر امتحانات کے در وا ہیں۔ خیبر پی کے کو جن تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ان میں ایک ڈرون حملے، دوسرا دہشت گردی اور تیسرا بے روزگاری۔ کل کی اے این پی کی حکومت کی آج باقیات بھی اسمبلیوں میں نہیں ملتی ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ مذکورہ کام اُن کی دسترس اور گورننس سے باہر تھے۔ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پورا ملک ہی تین بڑے چینلجوں کا سامنا کر رہا ہے جس میں -1 ڈرون حملے/ دہشت گردی -2 تعلیمی اور طبی سہولتوں کا فقدان اور -3 توانائی کا بحران!
ضرورت اس امر کی ہے کہ سارے صوبے مل کر وفاق کے استحکام اور چیلنجوں کے لئے کمر کس لیں۔ اب ترامیم کی نہیں پختہ ارادوں اور مثبت جمہوریت کی ضرورت ہے۔ بجٹ پر ”سیاست“ کے بجائے اگر ان سب بجٹ پر دیانتداری سے کام شروع کر دیا جائے، اور یہ کام تسلسل کے ساتھ ہو تو اگلا مالی سال آنے تک تبدیلی نظر آئے گی اور اگر یہ سب لفظوں اور ہندسوں کا گورکھ دھندہ یا شمارتی کرشمہ ہی ہے، تو پھر اللہ ہی حافظ!