بھٹو کی بیٹی آئی تھی

کالم نگار  |  قیوم نظامی

21 جون 1953ءپاکستان کی تاریخ کا وہ دن جب سندھ کے بھٹو خاندان میں ایک خوش بخت بچی نے جنم لیا جس کے مقدر میں پاکستان کا دوبار وزیراعظم بننا لکھا تھا۔ آج اگر بے نظیر بھٹو شہید زندہ ہوتیں تو ان کی عمر ساٹھ سال ہوتی اور پاکستان ان کی دانش، بصیرت، تجربے اور وژن سے فیض یاب ہورہا ہوتا۔ سنہرے بالوں اور گلابی رنگت کی وجہ سے ان کو خاندان میں ”پنکی“ کے نام سے پکارا جاتا۔ دادا اور دادی نے ان کا نام بے نظیر رکھا اور انہوں نے ثابت کیا کہ وہ واقعی بے نظیر ہیں۔ مردوں کی بالادستی والے مذہبی ملک میں عالم اسلام کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم کا اعزاز حاصل کرنا انسانی تاریخ کا بے مثال واقعہ تھا۔ 1958ءمیں نرسری کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بے نظیر کو شہر کے اعلیٰ ترین سکول کا نونٹ آف جیسس ایند میری میں داخل کرایا گیا۔ بھٹو شہید وفاقی وزیر بنے تو بھٹو خاندان کو راولپنڈی منتقل ہونا پڑا۔ بے نظیر بہترین تعلیمی ادارے ”پریذینٹیشن کانونٹ“ میں داخل ہوئیں۔ گھر پر ایک مذہبی عالم بے نظیر کو دین کی تعلیم دیتا۔ بیگم بھٹو نے اپنی بیٹی کو نماز پڑھنا سکھائی۔ صبح دونوں ماں بیٹی اکٹھی نماز پڑھتیں۔ چند سال کے بعد بے نظیر کو مری کے کانونٹ سکول میں داخل کرادیا گیا جہاں پر وہ ہاسٹل میں قیام پذیر رہیں۔
ایک موقع پر جب بھٹو خاندان یورپ کے دورے پر تھا بے نظیر نے شیشے کا گلاس توڑ دیا اور کرچیوں پر چلنا شروع کردیا۔ پاﺅں زخمی ہوگئے خون فرش پر پھیل گیا۔ بے نظیر بالکونی میں کھڑے ہو کر والدین کی آمد کا انتظار کرنے لگیں۔ بے نظیر نے بچپن میں ہی خون دیکھنے اور اسے برداشت کرنے کا حوصلہ پایا۔ خون کی لکیر زندگی بھر ان کے ساتھ چلتی رہی۔ نوجوان بھائیوں شاہنواز، مرتضیٰ کا خون اپنے پاپا کا خون اور پھر خود اپنا خون۔ ”یہ بازی خون کی بازی ہے یہ بازی ہم ہی جیتیں گے“ پی پی پی کا پاپولر سلوگن بن گیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ پی پی پی کی قیادت نے محترمہ کی 60 ویں سالگرہ پر اشتہار شائع کرکے کارکنوں کو خون دینے کی اپیل کی۔ بھٹو شہید نے بے نظیر کے نام جیل سے ایک تاریخی خط میں اپنی بیٹی کو یاد دلایا ”1957ءکے موسم سرما میں جب تم چار سال کی تھیں تو ہم ”المرتضیٰ“ کے بلند چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ صبح کے وقت موسم بہت خوشگوار تھا میرے ہاتھ میں دو نالی والی بندوق تھی میں نے بغیر سوچے سمجھے ایک جنگلی طوطا مار گرایا۔ جب طوطا چبوترے کے قریب آکر گرا تو تم نے چیخ ماری۔ تم نے طوطے کو اپنی موجودگی میں دفن کرایا۔ تم برابر چیختی رہیں۔ تم نے کھانا کھانے سے بھی انکار کردیا۔ ایک مردہ طوطے نے 1957ءکے موسم سرما میں لاڑکانہ میں ایک چھوٹی سی لڑکی کو رلا دیا تھا۔ 21 سال کے بعد وہ چھوٹی سی لڑکی نوجوان لڑکی بن گئی ہے جس کے اعصاب فولادی ہیں اور جو ظلم کی طویل ترین رات کی دہشت کا بہادری سے مقابلہ کررہی ہے۔ تم نے بلاشبہ یہ ثابت کردیا ہے کہ بہادر سپاہیوں کا خون تمہاری رگوں میں موجزن ہے“۔
بے نظیر بھٹو نے اعلیٰ تعلیم دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں ہارورڈ، کیمبرج اور آکسفورڈ سے حاصل کی۔ وہ آکسفورڈ یونین کی پہلی ایشین خاتون صدر منتخب ہوئیں انہوں نے اپنے والد کے ساتھ امریکہ، بھارت، چین اور دوسرے ملکوں کے دورے کیے۔ خارجہ آفس میں سفارتکاری کی تربیت حاصل کی۔ جب جنرل ضیاءالحق نے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر بھٹو شہید کے خلاف قتل کا مقدمہ قائم کیا بے نظیر نے اس مقدمے کی پیروی کے لیے وکلاءٹیم کی معاونت کی۔ پی پی پی کے اکثر لیڈر مارشل لاءکے دوران خوف و مصلحت کا شکار ہوگئے۔ آمر کا خیال تھا کہ بھٹو کے بغیر پارٹی ٹوٹ پھوٹ جائے گی۔ اس نازک موڑ پر بے نظیر بھٹو نے پارٹی قیادت کا چیلنج قبول کیا۔ بھٹو شہید نے آخری ملاقات میں اپنی بیگم نصرت بھٹو اور بیٹی بے نظیر بھٹو کو مشورہ دیا کہ وہ دونوں کچھ عرصے کے لیے پاکستان سے باہر چلی جائیں۔ دونوں نے بھٹو شہید سے کہا کہ وہ پاکستان میں رہ کر آمریت کا مقابلہ کریں گی۔ دونوں باعزم اور حوصلہ مند خواتین نے بڑی ہمت اور جرات کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرکے پارٹی کو بکھرنے سے بچا لیا۔ بے نظیر بھٹو نے پارٹی لیڈر اور وزیراعظم کی حیثیت سے جمہوری تاریخ کا ناقابل فراموش باب رقم کیا جو جدوجہد کے تیس سالوں پر محیط ہے۔
بے نظیر بھٹو بڑی متحرک اور فعال سیاستدان تھیں اپنے عظیم باپ کی طرح اٹھارہ گھنٹے کام کرتیں۔ کٹھن حالات میں بھی پارٹی رہنماﺅں اور کارکنوں سے رابطہ استوار رکھتیں۔ ان کا حافظہ کمال کا اور خود اعتمادی بلا کی تھی۔ لوگوں سے بڑی گرم جوشی کے ساتھ ملتیں اور ان کی عزت نفس کا خیال رکھتیں۔ وہ ایک منظم اور کرشماتی لیڈر تھیں۔ بے نظیر مثالی ایڈمنسٹریٹر اور مینجر تھیں انہوں نے کامیاب لیڈر کی طرح پارٹی کی رہنمائی کی۔ وہ پارٹی کے بنیادی نظریات سے وابستہ رہتے ہوئے زمینی حقائق کے مطابق سیاست کرتی تھیں۔ انہوں نے خواتین اور نوجوانوں کی ترقی کے لیے قابل قدر خدمات انجام دیں۔ یادوں کا سلسلہ ہے کہ بہتا چلا آتا ہے مگر خودنمائی مقصود نہیں ہے۔ بے نظیر کے سیاسی دور میں انتخابی شکست کا سامنا بھی ہوتا جیسے 1997ءکی انتخابی شکست بڑی دل گرفتہ تھی مگر پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کی اُمید نہیں ٹوٹتی تھی ان کو یقین ہوتا تھا کہ کرشماتی لیڈر موجود ہے جو شکست کو فتح میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آج سیاسی میدان میں پی پی پی کی کوئی کرشماتی شخصیت موجود نہیں ہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے سی این اے کی فکری نشست میں درست کہا کہ عوام نے نان بھٹو لیڈر کو قبول نہیں کیا۔ بلاول باصلاحیت کرشماتی نوجوان ہے مگر ابھی اسے سیاست کے پل صراط سے گزرنا ہے۔ بھٹو اور بے نظیر آمروں کے ساتھ ٹکرانے کے بعد ہی پاپولر لیڈر بنے تھے۔ کاش بلاول اور فاطمہ بھٹو قومی ایجنڈے پر اتفاق کرکے متحد ہوجائیں تو مایوس کارکنوں کے دلوں میں نئی اُمید کا چراغ جل اُٹھے ۔
سندھ میں پی پی پی کا چراغ جل رہا ہے اگر سندھ کے لیڈروں نے غلطیوں سے سبق سیکھ کر مثبت اور تعمیری سیاست کی تو بلاول کی منزل آسان ہوجائے گی۔ بھٹو اور بے نظیر کی نظریاتی اور اصولی سیاست پر چل کر ہی کھویا ہوا مقام واپس حاصل کیا جاسکتا ہے۔ بے نظیر، بھٹو شہید کی قومی خدمات بے شمار ہیں ان کی ایک بڑی قومی خدمت کا انتخاب کرنا چاہوں تو ایٹمی میزائل کا ذکر کروں گا۔ پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود تھے مگر ان کو کیری کرنے کے لیے ایٹمی میزائل موجود نہیں تھے۔ بی بی شہید نے اعلیٰ سفارتکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرکے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیا۔