منی انتخابات کے نتائج کا بے لاگ تجزیہ

کالم نگار  |  قیوم نظامی

ضمنی انتخابات کے بعد 11 مئی 2013ءکے عام انتخابات اپنی تکمیل کو پہنچے۔ اگر امیدوار کو ایک سے زیادہ نشستوں پر انتخاب لڑنے کی اجازت نہ ہوتی تو ضمنی انتخابات پر غریب قوم کا بھاری سرمایہ خرچ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ حالیہ ضمنی انتخابات پاکستان کے سب سے بڑے ضمنی انتخابات تھے جن میں 503 امیدواروں نے حصہ لیا۔ قومی اسمبلی کی 15 اور صوبائی اسمبلی کی 26 نشستوں پر مقابلہ ہوا جبکہ امن و امان کی بنیاد پر ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک نشست پر انتخابات ملتوی کئے گئے۔ یہ انتخابات ملک گیر تھے، 4218 پولنگ سٹیشنوں پر 50 ہزار فوجی تعینات کئے گئے۔ تعداد اور وسعت کے اعتبار سے ان انتخابات کو منی انتخابات قرار دیا جا رہا ہے۔ ضمنی انتخابات کا عام انتخابات سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ عام انتخابات میں سیاسی جماعتیں پورے جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوتی ہیں، نگران حکومتیں غیر جانبدار ہوتی ہیں۔ انتخابی ماحول کی بنا پر عوام کے ساتھ شریک ہوتی ہیں نگران حکومتیں غیر جانبدار ہوتی ہیں۔ انتخابی ماحول کی بنا پر عوام کی شرکت سے سیاسی لہریں اُٹھتی ہیں۔ ضمنی انتخابات میں حکومتی جماعتوں کو ریاستی مشینری کی خاموش حمایت اور تائید حاصل ہوتی ہے ووٹر پُرجوش اور سرگرم نہیں ہوتا۔ حالیہ منی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) وفاق اور پنجاب، پی پی پی سندھ اور پی ٹی آئی خیبر پی کے میں اقتدار میں ہیں اس طرح ان بڑی سیاسی جماعتوں کو حکومتی وسائل پر کنٹرول حاصل ہے۔ منی انتخابات میں الیکشن کمشن نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ صاف شفاف انتخابات کرائے، کسی سیاسی جماعت نے دھاندلی کا الزام نہیں لگایا۔ قائمقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدق حسین جیلانی خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے پُرامن اور شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے بہترین انتظامات کئے، انہوں نے ریٹرننگ افسروں اور فوج کو عدالتی اختیارات دئیے۔
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ایم ایل (این) اکثریتی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اس نے قومی اسمبلی کی 5 (پنجاب) اور صوبائی اسمبلی کی 11 (پنجاب) اور 2 (بلوچستان) کی نشستیں جیت لی ہیں البتہ اسے جنوبی پنجاب میں اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ راجن پور میں میاں شہباز شریف کی خالی کردہ نشست پر پی ٹی آئی کے علی رضا دریشک صوبائی نشست جیت گئے جبکہ ڈی جی خان میں سردار ذوالفقار کھوسہ کی چھوڑی ہوئی نشست پر بھی تحریک انصاف کا امیدوار کامیاب ہو گیا اس طرح تحریک انصاف کو پنجاب میں کامیابی ملی جو امیدواروں کے ذاتی ووٹ بنک کی مرہون منت ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے سیاسی قلعہ لاہور میں بھی اپنی برتری قائم رکھی۔ عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے۔ پنجاب کے عوام نے تحریک انصاف کی جانب سے جاری کردہ وائیٹ پیپر کو مسترد کر دیا۔ پی پی پی نے قومی اسمبلی کی 2 (سندھ) ، صوبائی اسمبلی پنجاب کی 2 اور سندھ کی ایک نشست پر کامیاب حاصل کی جو حوصلہ افزا ہے۔ اگر پی پی پی کے مرکزی رہنما انتخابی مہم میں پُرجوش اور سرگرم کردار ادا کرتے تو مزید چند نشستیں حاصل کر لیتے مگر افسوس اقتدار کے مزے لوٹنے والے لیڈروں نے ضمنی انتخابات کے دوران بھی پی پی پی کو لاوارث چھوڑ دیا۔
پی پی پی کی دو خواتین شازیہ مری نے قومی اسمبلی سانگھڑ اور مہرالنساءنے قومی اسمبلی ٹھٹھہ کا انتخابی معرکہ جیت لیا۔ مسلم لیگ فنکشنل کے امیدوار خدا بخش اور مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ پر انتخاب لڑنے والے سرفراز شیرازی انتخابات ہار گئے۔ شیرازی خاندان کو مسلم لیگ کی ٹکٹ مہنگی پڑی، وہ اگر آزاد امیدوار کی حیثیت میں انتخابات لڑتے تو کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے۔ پاکستان کی سیاست میں صوبائی تعصب روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائدین کو سندھ میں پذیرائی حاصل نہیں ہو رہی۔ وسطی پنجاب پی پی پی کے صدر میاں منظور احمد وٹو 11 مئی کے انتخابات میں اپنے خاندان کی سب نشستیں ہار گئے تھے ضمنی انتخابات میں ان کے صاحبزادہ خرم وٹو نے مسلم لیگ (ن) سے اپنی نشست واپس لے لی ہے۔
تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کی تین اور صوبائی اسمبلی پنجاب کی 2 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ عمران خان جذبے اور نیک نیتی کی بنا پر مکر و فن کی سیاست کا مقابلہ نہیں کر سکے۔ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کو دو بڑے سیاسی دھچکے لگے ہیں۔ تحریک انصاف میانوالی میں عمران خان کی جیتی ہوئی نشست ہار گئی ہے۔ عائلہ ملک کی نااہلی تحریک انصاف کو بڑی مہنگی پڑی۔ پنجاب میں آج بھی خاندان سیاست میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ تحریک انصاف پشاور میں عمران خان کی جیتی ہوئی نشست اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور کے ہاتھوں ہار گئی۔ پی پی پی اور جمعیت العلمائے اسلام نے اے این پی کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ پختون قوم عزتِ نفس کو خاطر جان بھی قربان کرنے پر تیار رہتی ہے۔ پختونوں نے عمران خان کو پاکستان کی سیاست میں شناخت دی اور اپنے صوبے کی حکومت ان کے سپرد کر دی۔ عمران خان نے پشاور کی نشست چھوڑ کر پختون نوجوانوں کی عزتِ نفس کو مجروح کیا، ان کا یہ فیصلہ سیاسی حرکیات کے خلاف تھا۔ حکومت کے پہلے سو دن دوررس اثرات مرتب کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ تحریک انصاف نے یہ دن ضائع کر دئیے اور کارکنوں کا جذبہ سرد پڑ گیا البتہ تحریک انصاف نے اسلام آباد، نوشہرہ، صوابی کی قومی اسمبلی کی نشستیں جیت لیں اور لکی مروت میں مولانا فضل الرحمان کے بھائی مولانا عطاالرحمن کو شکست دے دی۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنماﺅں نے ضمنی انتخباات میں پُرجوش کردار ادا نہیں کیا۔ عمران خان کو اپنی جماعت کے لیڈروں کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا فن نہیں آتا۔
اے این پی نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست جیت کر اپنی جماعت کے کارکنوں کو مایوسی سے باہر نکالا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اے این پی اور پی پی پی کے لیڈر دہشت گردی کی وجہ سے 11 مئی کے انتخابات میں انتخابی مہم کی رہنمائی نہیں کر پائے تھے اس لئے ان دونوں جماعتوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان جماعتوں کا ووٹ بنک موجود ہے جو بلدیاتی انتخابات میں اپنا رنگ دکھا سکتا ہے۔ جمعیت العلمائے اسلام نے خیبر پی کے میں صوبائی اسمبلی کی صرف ایک نشست جیتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا ”یہودی کارڈ“ کام نہیں آیا۔ بلوچستان میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نے قومی اسمبلی کی اپنی چھوڑی ہوئی نشست جیت لی ہے۔ ایم کیو ایم نے کراچی میں قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستیں جیت کر اپنی سیاسی برتری قائم کر رکھی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے بروقت فیصلہ کر کے خواتین کو ووٹ کے حق سے روکنے کا نوٹس لیا اور کئی پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم جاری کیا۔ اگر ریاستی ادارے متحرک مو¿ثر اور فعال ہوں تو کوئی فرد اور جماعت آئین اور قانون کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی۔ ووٹ پر شہری کا مساوی آئینی حق ہے جسے سلب نہیں کیا جا سکتا۔ منی انتخابات تحریک انصاف کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ اجتماعی سیاسی دانش سے ہی تحریک انصاف اپنا سیاسی مستقبل روشن بنا سکتی ہے۔