دائروں میں سفر

کالم نگار  |  فریحہ ادریس

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ گردش تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
پراسرار لہجے کے شاعر منیر نیازی کا یہ شعر اس ملک کی سیاسی تاریخ کی ایک تلخ حقیقت بھی ہے اور پورے پاکستان کی چھیاسٹھ سالہ تاریخ کا ایک مکمل احاطہ بھی۔ یہ شعر مجھے یوں یاد آیا کہ ایک بار پھر ہم ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد وہیں آ پہنچے ہیں جہاں سے چلے تھے۔ چودہ سال قبل چھ اکتوبر انیس سو اٹھانوے کو جو مخمصہ وزیراعظم نواز شریف کو درپیش تھا آج پھر وہی سوال ان کے سامنے سر اٹھائے کھڑا ہے اور یہ سوال اس لیے بہت اہم ہے کہ آج پاکستان پہلے سے کہیں زیادہ نازک صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستانی افواج کا آئندہ سپہ سالار کون ہو گا؟
چھ اکتوبر انیس اٹھانوے میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کے استعفے کے وقت بھی وزیراعظم نواز شریف کے سامنے سینئر جنرل علی قلی خان ، ان کے بعد جنرل خالد نواز خان اور جنرل پرویز مشرف کے نام تھے۔ کہا جاتا ہے کہ میاں نواز شریف نے چوہدری نثار اور شہباز شریف کے مشورے سے سنیارٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف مقرر کر دیا۔ مگر جس خوف کی وجہ سے اس وقت سینئر جنرل علی قلی خان آرمی چیف نہ بن سکے اور ایک جونیئر جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا گیا آج بھی وہی خوف وزیراعظم کے ذہن پر طاری ہے۔
صدر جنرل ضیاءالحق کی آرمی چیف بننے کی وجہ اور اہلیت بھی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دل کا یہ دھڑکا ہی بنا کہ کہیں آرمی چیف اقتدار پر قبضہ نہ کر لے ورنہ ضیا ءالحق سے کئی سنیئر جنرل موجود تھے۔ چھبیس فروری 1976ءکو جنرل ٹکا کی ریٹائرمنٹ کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے قریبی رفقا سے مشورہ کیا تو انہیں آّئی ایس آئی کے سربراہ جنرل غلام جیلانی خان اور ان کے ملٹری سیکرٹری جنرل امتیاز کے نام دیئے گئے مگر وزیرعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف اپنے قریبی ساتھیوں کے پیش کردہ یہ دونوں نام مسترد کر دیئے بلکہ سات سینئرجنرلوں کو نظرانداز کر کے جنرل ضیاءالحق آرمی چیف مقرر کر دیا اور اس کے ایک سال بعد جو کچھ ہوا وہ ہماری تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔ میاںنواز شریف اپنے سیاسی سفر میں تیسری بار پاکستان کے سب سے طاقتور عہدے کیلئے نئے آرمی چیف کا انتخاب کرنے جا رہے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف سنیارٹی، میرٹ یا وفاداری میں سے کس کو اہمیت دیتے ہیں ۔ وزیراعظم نواز شریف ماضی میں کہتے رہے ہیں کہ وہ آرمی چیف کی تقرری میں آئین کے مطابق فیصلہ کریں گے اور انہوں نے قوم سے ہر معاملے میں میرٹ کو ترجیح دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ اب ان کے سامنے سنیارٹی کے اعتبار سے تین جنرلوں کے نام ہیں۔ جنرل ہارون اسلم، ارشاد محمود، اور جنرل راحیل شریف۔
اگر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی لینے کا فیصلہ بری فوج سے ہوا تو سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم میرٹ اور سنیارٹی میں سب سے آگے ہیں۔لیکن ایسا نہ ہوا تو پھر چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے کے لیے وہ اپنے ہم عصروں میں پہلے نمبر پر ہوں گے۔ہارون اسلم کے چیئرمین جوائنٹ چیفس بننے کی صورت میں چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹنٹ جنرل ارشاد محمود سینئر ترین افسر ہوں گے۔وہ بھی شاندار کیریئر کے حامل افسر ہیں۔آئی ایس آئی میں ڈپٹی ڈی جی اور لاہور کور کی کمانڈ کرنے کے بعد اب جی ایچ کیو کے اہم ترین عہدے چیف آف جنرل اسٹاف پر فائز ہیں۔
 اگر وزیر اعظم نواز شریف نے فوج کی سنیارٹی کو مد نظر رکھا تو پھر جنرل ہارون اسلم ہی موجودہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے جانشین ہوں گے۔ اگر وزیراعظم نے ماضی کی طرح اپنے سیاسی مفادات کو سامنے رکھاتو پھر سنیارٹی اور میرٹ کو نظر انداز کیا جائے گا۔ مگر اس وقت پاکستان دفاعی لحاظ سے جن سنگین خطرات کا شکار ہے اگلے سال افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا اور ہماری مشرقی سرحدوں پر بھارتی جارحیت کی وجہ سے یہ انتخاب پاکستان کے لیے نہایت اہم بن چکا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ میرٹ اور سنیارٹی کو ترجیح دی جائے کیونکہ اس وقت پاکستان کو ایک ایسے سپہ سالار کی ضرورت ہے جو اپنے تجربے اور صلاحیت سے پاکستان کی سرحدوں کو محفوظ بنا سکے اور دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹ سکے۔
 پاکستانی افواج میں تقرری اور ترقی کے لیے پیشہ وارانہ مہارت ہی معیار ہے اور اس کے لیے ایک نہایت شفاف اور کڑا طریقہ کار موجود ہے جس کی وجہ سے نہایت قابل اور اہل افسران ہی ترقی پا سکتے ہیں اس لیے سنیارٹی اور میرٹ کو ہم الگ الگ تصور نہیں کر سکتے۔ جب ملک کے دیگر اداروں بشمول عدلیہ سنیارٹی کو ہی ترجیح دی جاتی ہے تو پھر فوجی سربراہ کے انتخاب میں ایسا کیوں نہیں؟ کیا فوج کا نظام اتنا کمزور اور ناقص ہے کہ ایک نا اہل شخص مسلسل ترقی کرتے ہوئے سینیئر ترین جنرل کے عہدے تک پہنچ سکتا ہے ؟ اگر جواب مثبت ہے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے اور پھر فیصلہ سازوں کے کے غلط فیصلے پر صرف رویا ہی جا سکتا ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفیس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 6 نومبر کو خالی ہو رہا ہے۔ بری فوج کی "خوش قسمتی یابزور" طویل عرصے سے اس عہدے پر پاکستان کی بری فوج کا ستارہ ہی جگمگا رہا ہے۔مگر کیا پاک بحریہ یا پاک فضائیہ کا کوئی سینیئر آفیسر اس عہدے کا اہل نہیں ہو سکتا یا پہلے اس عہدے پر فائز نہیں رہا؟حقیقت یہ ہے کہ پاک بحریہ کے ایڈمرل محمد شریف 1980-1978 اور ایڈمرل افتخار احمد سروہی 1991-1988 اور پاک فضائیہ کے ائیر چیف مارشل فاروق فیروز خان 1997-1994 تک چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی رہے مگر سیاسی وجوہات کہیں یا پھر کوئی اور نام دیں گزشتہ 16 سال سے پاک بحریہ یا پاک فضائیہ کے کسی آفیسر کی قسمت نہ جاگ سکی۔کیا اب بھی ایسا ہی ہو گا ؟اگر موجودہ صورتحال اور نواز شریف کے دعووں کا جائزہ لیں تو چیئرمین جوائنٹ چیف کی ریٹائر منٹ کے بعد تینوں مسلح افواج کے سینیئر ترین آفیسر ز کا نام ہوگا۔ایڈمرل آصف سند ھیلہ اگرسنیارٹی کے اصولوں اور گزشتہ 16 سال کی تاریخ کو مد نظر رکھا جائے تو فیصلہ کسی صورت مشکل نہیں ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پاک بحریہ کے ایڈ مرل افتخار سروہی جب چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی تھے تو یہی ایڈمرل سندھیلہ ان کے اے ڈی سی کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ نیول اسٹرٹیجی اور وار اسٹیڈیزمیں ایم ایس سی کی ڈگری رکھنے والے آصف سندھیلہ نے دوران سروس انتہائی اہم ترین ذمہ داریاں نبھائیں اور 2010 میں پاک بحریہ کی کمان سنبھال لی۔ سنیارٹی اور میرٹ میں اس عہدے کے لیے وہ سب سے آگے ہیںمگر فیصلہ اور قرعہ فال پاکستان کی بری فوج کے نام نکلا تو وہاں سینیئر ترین آفسر لیفٹنٹ جنرل ہارون ہیں۔ڈائریکٹر ملٹری آپریشنز ڈی جی رینجر پنجاب ایس ایس جی کی کمان، ایرا کی ڈپٹی چیئرمین شپ اور بہاولپورکور کی کمانڈ کرنے والے ہارون اسلم ان دنوں جی ایچ کیو میں چیف آف لاجسٹک کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔سیاچن سے لیکر دہشت گردوں کے خلاف مختلف آپریشنز میں اپنا فرض ادا کرنے والے ہارون اسلم پاک فوج کے سینیئر افسران میں معتبر ترین نام ہے۔سوات میں ایس ایس جی کمانڈوز کاآپریشن ہو یا جی ایچ کیو میں دہشت گردوں کا خاتمہ ،ہمیں ہارون اسلم ہی نظر آتے ہیں لیکن ان تینوں ناموں کے علاوہ دونوں عہدوں پر کوئی اور نام سامنے آئے تو سمجھ لییجئے گا کہ تاریخ کا پہیہ پھراُلٹا گھومنے لگا ہے۔حکمرانوں نے نہ تو ما ضی سے سبق سیکھا نہ مستقبل سنوارنے جا رہے ہیں۔سیاسی مصلحتوں اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر قوم اور ملک کے مفاد میں فیصلے اب نہیں ہوں گے۔میرٹ کا راگ ا لاپنے والے حکمرانوں کے لیے مشکل گھڑی آن پہنچی ہے۔اگر نواز شریف نے درست اور مصلحتوں سے بالا تر ہو کر فیصلے کئے تو یقیناً آئندہ آنے والے حکمرانوں کےلئے ان روایات پر عمل درآمد کرنا مجبوری بن جائےگا۔لابی، پسند نا پسند اور اس طرح کے بہت سے دروازے بند ہو جائینگے ۔عالمی قوتوں کی شرارتیں اور سازشوں کی راہیں بھی مسدود ہو جائیں گی لیکن نواز شریف صاحب ! ایسا نہ ہوا تو نہ تو تاریخ آپ کو معاف کرے گی اور شاید نہ ہی آپ کا اپنا فیصلہ جیسا کہ ماضی میں آپ کے ساتھ ہوا۔