ملکی سیاست میں فوج کا کر دار

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
ملکی سیاست میں فوج کا کر دار

چندماہ پہلے سابق صدرجنرل پرویز مشرف صاحب نے بیان دیا تھا کہ ملکی سیاست میں فوج کا آئینی کردارہونا چاہیے۔ اس بیان کی مخالفت میں ایک شدید ردِ عمل سامنے آیا اور آنا بھی چاہیے تھا کیونکہ جمہوری ممالک میں فوج کا کوئی سیاسی کر دار نہیں ہوتا ۔میں خود بھی ذاتی طور پر اسی سوچ کا حامل ہوں لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا عملی طور پر ایسا ممکن ہے۔اب تک تو ہمارے آئین کے مطابق فوج کو صرف سول اداروں کی مدد کے لیے بلایاجا سکتا ہے ۔ کیا صرف اسی بات پر فوج کا کر دار ختم ہو جاتاہے ۔ اب ایک دفعہ پھر فوجی عدالتوں کے قیام کے فیصلے نے سیاست میں فوج کے کردار کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔ سیاستدانوں کے بھی مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ کچھ نے رو کر اس آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ۔ کچھ نے حرام گوشت سے تشبیہ دی اور کچھ نے اسے گناہ عظیم کا نام دیکر اپنے آپ کو ووٹ سے دور رکھا ۔ میڈیا میں بھی سخت تنقید سامنے آئی اور فوجی آفیسرز کی صلاحیتوں پر بھی سخت اعتراضات اٹھائے گئے۔بحث تا حال جاری ہے۔اس سلسلے میں صرف اتنی سی گزارش ہے کہ ملٹری کورٹس یقینا کوئی اچھی بات نہیں لیکن آئیں ملکر دعا کریں کہ جس مقصد کے لیے اتنا بڑا فیصلہ کیا گیا اس میں اللہ تعالیٰ ہمیں کامیاب کرے۔ نیز یہ دعا بھی ضروری ہے کہ خدا کرے ہمارا عدالتی نظام اتنا طاقتور ہو کہ آئندہ ایسی کورٹس کی ضرورت ہی نہ رہے آمین!
کسی بھی ملک کی سب سے اہم ترجیح اسکی سلامتی ہے اور سلامتی کا تعلق سیکورٹی سے ہے چاہے وہ اندرونی ہو یا بیرونی ۔لہٰذا تمام ملکی پالیسیاں اسی اہم ترجیح کی تابع ہوتی ہیں۔ کوئی ملک ایسی پالیسی نہیں بنا سکتا جس میں ملکی سیکورٹی کو نظر انداز کر دیا جائے اور جہاں ملکی سیکورٹی کی بات آئیگی تو فوج کا لازمی عمل دخل ہوگا ۔ اسی سیکورٹی کے پیش نظر ممالک کا آپس میں دوستی یا دشمنی کا فیصلہ ہوتا ہے ۔ آخر ہم بھارت سے کیوں نالاں ہیں کیونکہ وہ ہماری سلامتی کا دشمن ہے۔ یہی حالت اسرائیل و کچھ دیگر ممالک کی ہے۔
یہ مسئلہ صرف ہمارے ساتھ ہی نہیںبلکہ پوری دنیا میں ایساہی ہوتا ہے۔ سابق صدرپرویز مشرف کے دور میں ٹریک ٹوڈپلومیسی کے ذریعے بھارتی اور پاکستانی حکومتوں میں سیاچن اور کشمیر پر کسی حد تک انڈرسٹینڈنگ ہو گئی تھی۔ یہ دونوں سیاسی مسائل ہیں اور سیاسی طور پر ہی حل ہونے ہیں۔اس وقت ایسی اطلاعات بھی تھیں کہ سیاچن سے دونوں ممالک اپنی اپنی فوج واپس بلالیں گے اور یہ بہت ہی اچھا فیصلہ تھا لیکن آخر میں بھارتی آرمی چیف اس فیصلے سے متفق نہ ہوا لہٰذا بھارت کو مذاکرات ہی ختم کرنے پڑے۔ فوج کی طرف سے اعتراض سیاسی فیصلوں پر غالب آگیا۔ قومی سلامتی کے تناظر میں بھارتی آرمی چیف کی رائے کو نظر انداز نہ کیا جا سکا۔ اسی طرح افغانستان میں AF-PAKپالیسی جس کے مطابق افغانستان میں مزید فوج بھیجی گئی تھی اسکی بنیاد پینٹا گان کی سفارشات تھیں۔
آئیں ذرا اپنی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان میں جب چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک چلی تو پورے ملک میں جلوس نکلے اور مظاہرے ہوئے۔ جناب نواز شریف صاحب نے اس تحریک سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ لہٰذانہوں نے ایک بہت بڑے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا۔ مارچز ۔دھرنے یا جلوس وغیرہ خالصتاً سیاسی عمل ہیں جو وزارت داخلہ کے زمرے میں آتے ہیں۔ فوج کا ان سے کسی قسم کا تعلق نہیں لیکن عملاً اسوقت آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی متحرک ہوئے۔ اس وقت کے صدر اور وزیراعظم کو حالات کی سنگینی کا احساس دلایا اور سابق چیف جسٹس صاحب بحال ہو گئے۔ دوسرے الفاظ میں اسے سیاسی دخل اندازی بھی کہا جاسکتا ہے لیکن ملکی مفاد میں یہ دخل اندازی بر وقت اور ضروری تھی ورنہ حالات خراب بھی ہو سکتے تھے۔ اگست دھرنوں کی مثال لیں۔ جب دھرنوں نے خطرناک رخ اختیار کیا تو سیاسی حالات گھمبیر ہو گئے۔ اس وقت فوج کی مدد لینے کا سوچا گیا۔ جناب شہباز شریف صاحب اور چوہدری نثار علی خان دو دفعہ آرمی چیف سے ملنے کیلئے انکے پاس گئے۔ پھر آرمی چیف نے دو دفعہ جناب وزیراعظم صاحب سے بھی ملاقات کی۔ پھر جناب طاہر القادری صاحب اور عمران خان بھی آرمی چیف سے ملے ۔ آرمی چیف کے بطور سہولت کار کر دار کا فیصلہ ہوا جو بعد میں سیاسی پریشر کی وجہ سے حکومت اس فیصلے پر عمل نہ کر سکی ۔ حالانکہ اگر آرمی چیف کو اپنا کر دار ادا کرنے دیا جاتا تو شاید یہ مسئلہ اسی وقت حل ہو جاتااور یوں نہ تو قوم اتنی پریشان ہوتی نہ لاشیں گرتیں اور نہ معیشت تباہ ہوتی۔ مانا کہ آرمی چیف کا کردار متنازعہ بنا دیا گیا لیکن وہ واحد انسان تھا جو صلح صفائی سے کشیدگی ختم کر ا سکتا تھا اور قوم کو اس بے مقصد عذاب سے نجات مل جاتی۔ یہاں سیاست ملکی مفاد پر غالب آگئی۔ پچھلے چند ماہ میں آرمی چیف نے افغانستان، امریکہ اور برطانیہ میں بہت سی سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ سیاسی بیانات بھی دیئے اور ملک کے مفاد میں سیاسی سفارتکاری بھی کی جس کا بالآخر فائدہ ہمارے ملک اور سیاسی حکمرانوں کو ہی ہوگا ۔
ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک میں ملکی سیاست میں سے فوج کا کردار ختم کرنا شاید ممکن نہ ہو ۔دراصل فوج کا ہر وہ عمل جو ملکی حالات یا ملکی سیاست پر اثر انداز ہو وہ سیاست ہی کا حصہ ہوگا کیونکہ پاکستان میں ہمارے مختلف قومی ادارے بہت کمزور ہیں بلکہ حکمرانوں نے قومی اداروں کو بالکل بے اثر کر دیا ہے۔ وہ اپنا کر دار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ فوج واحدایک ایسا منظم ادارہ ہے جسکی طرف ہر مشکل میں قوم کی نظریں اٹھتی ہیں۔ حکمرانوں نے بھی یہ رسم اپنا لی ہے کہ ہر چھوٹے بڑے مسئلے کیلئے فوج کو بلایا جائے مثلاً ہماری پولیس اور سول سیکورٹی اداروں کی نفری اور بجٹ دونوں کوئی کم نہیں ہیں پھر بھی جہاں امن و امان کا مسئلہ ہوا فوج یا رینجرز کو بلا لیا جاتا ہے ۔ کچھ حکمران تو اس حد تک چلے گئے کہ بھل صفائی،بجلی کی میٹر ریڈنگ اور گھوسٹ سکولوں کی چیکنگ کے لیے بھی فوج کو بلایا گیا۔اسی طرح فلڈ ریلیف یا زلزلوں جیسی قدرتی آفات کیلئے بھی ہمارے ادارے موجود ہیں۔ بڑے بڑے بجٹ ہیں لیکن پھر بھی مدد کیلئے فوج ہی کو بلایا جاتا ہے۔ یہ چونکہ تمام قومی معاملات ہیں جن سے فائدہ بالآخر حکمران جماعتیںہی اٹھاتی ہیں اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہر مشکل وقت پر فوج کا ایک کردار سامنے آتا ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر سیاست ہی کے زمرے میں آتا ہے۔ویسے بھی جب فوج اور سیاسی حکمران ایک صفحے پر ہوتے ہیں تو فوج سیاسی کردار ہی ادا کر رہی ہوتی ہے۔
یاد رہنا چاہیئے کہ ہم نہ برطانیہ ہیںاور نہ امریکہ اور نہ ہی ہمارے سیاستدان اس پائے کے ہیں کہ اس قسم کی جمہوریت قائم کی جائے۔ ہمارے مخصوص حالات ہیں۔ ہمیں رو ز اول سے سیکورٹی خدشات در پیش ہیںاور جہاں بھی سیکورٹی خدشات ہونگے فوج کا کردار ناگزیر ہو جائیگا چاہے اندرونی سیکورٹی ہو یا بیرونی۔ بعض اوقات ہمارے سیاستدان فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر حکومت کرنے کی کوشش کرتے ہیںجس کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ سیاستدانوں کی یہی عادت مارشل لاء کا موجب بنتی ہے۔ اگر سیاستدان اور قومی ادارے اپنا کر دار نیک نیتی اور خلوص دل سے ادا کریں تو یقینا سیاست میں فوج کا کر دار مکمل طور پر ختم کیا جاسکتا ہے ورنہ یہی بے ڈھنگی چال جاری رہے گی اور اپنی بے بسی چھپانے کیلئے شہر فوج کے حوالے ہوتے رہیں گے۔