سٹیٹ آف دی یونین خطاب

سٹیٹ آف دی یونین خطاب

اٹھارویں صدی کے آخر میں امریکہ کی آزادی کے بعد جب پہلی دفعہ امریکہ کا آئین بنا تو اسکے آرٹیکل II کی سیکشن تین میں یہ لکھا گیا تھا کہ ملک کا صدر ہر سال پوری قوم کو اعتماد میں لینے کیلئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو State of the Union یعنی امریکی ریاستوں کی یونین کی صورتحال کے متعلق بتائے گا۔ اس میں صرف یہ ہی نہیں بتایا جائیگا کہ امریکہ کی پچاس ریاستوں کی بہتری کیلئے سال بھر میں کیا کیا گیا بلکہ یہ بھی بتایا جائیگا کہ امریکہ کے مستقبل کی بہتری کے منصوبے کیا ہیں۔ اس میں Legislative Developments یا قانون سازی سے متعلق Vison بھی دینا ہوگا۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پہلا خطاب 8 جنوری1790ء کو امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے کیا۔ اسکے بعد یہ سلسلہ چلتا رہا‘ لیکن 1801ء میں امریکی صدر تھامس جیفرسن نے کہاکہ سالانہ خطاب ایک شاہانہ تقریب لگتی ہے اس لئے تقریر ختم کرکے صرف ایک رپورٹ جاری کر دی جائے۔ اسکے بعد تقریر کی رسم دوبارہ شروع ہو گئی جو اب تک جاری ہے۔ یہ تقریر ہر سال جنوری یا فروری میں کی جاتی ہے۔تقریباً چھ سال کی حکمرانی کے بعد امریکی صدر اوباما نے دو دن قبل اپنا چھٹا سٹیٹ آف دی یونین خطاب کیا۔ اس خطاب کے چیدہ چیدہ نکات کچھ یوں تھے۔صدر اوباما نے اپنے خطاب میں زیادہ زور اپنی داخلی پالیسیوں پر دیا۔ اس میں انہوں نے فرمایا کہ امریکی معیشت 1999ء سے لیکر اب تک کی مدت میں رواں سال میں بہترین ہے۔ ایک کروڑ دس لاکھ لوگوں کو امریکہ میں روزگار مہیا کیا گیا ہے۔ امریکہ انرجی یعنی تیل اور گیس کی پیداوار اور ہوا سے بجلی بنانے میں دنیا میں اول نمبر پر ہے۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ صنعتیں چین اور دنیا کے دوسرے ممالک میں لگیں اور ہمارے کاریگر بیروزگار ہو جائیں۔ مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوگا اور انٹرکالج تک تعلیم مفت ہوگی۔پہلے اس کا بندوبست صرف ہائی سکولز تک تھا اب کمیونٹی کالجز بھی بنائے جائینگے۔ صدر نے کہا کہ افغانستان میں Combat مشن ختم کر دیا گیا ہے۔ اب وہاں صرف 15000 فوجی رہیں گے۔ اوباما کیمطابق اب امریکہ نے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ دوسرے ممالک میں عجلت میں افواج بھیجنا ٹھیک نہیں۔ مضبوط سفارتکاری اور عسکری طاقت کے استعمال میں توازن پیدا کیا جائیگا۔ اوباما نے کہا کہ میں گوانتاناموبے والی بدنام زمانہ جیل کو ختم کر دوں گا۔ ایران کیساتھ باہمی معاہدے کو لڑائی مول لینے پر ترجیح دی جائے گی۔ پچھلے 50 سال کی ناکام پالیسی چھوڑ کر کیوبا کیساتھ اچھے تعلقات قائم کے جائینگے۔ پاکستان کے سکولوں سے لیکر فرانس کی گلیوں تک دہشت گردوں کا پیچھا کیا جائیگا۔ روس پر مزید معاشی پابندیاں لگا کر پیوٹن حکومت کو سبق سکھایا جائیگا اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج بھیجنے کے بجائے اتحادی فوجوں کیساتھ مل کر کارروائی ہوگی۔ شام میں حکومت مخالف جماعتوں کی مدد کی جائیگی‘ لیکن امریکی فوج زمینی حملوں میں شریک نہیں ہوگی۔ امریکی صدر نے ٹارچر سے اجتناب کا بھی ذکر کیا اور کہا امریکہ نے 9/11 کے بعد بہت قیمت ادا کرکے کچھ سبق سیکھے ہیں۔ اوباما نے کہا :
We Will not be drawn to un ncessary conflicts by taking rash decisions
قارئین اس میں شک نہیں کہ اوباما ایک اچھا مقرر ہے‘ لیکن اس حقیقت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کہ کانگریس اور سینٹ میں اکثریت کھونے اور پچاس میں سے اکتیس ریاستوں کے گورنرز کے عہدے پلیٹ میں رکھ کر اپنی سیاسی حریف پارٹی ری پبلکن کو دینے کے بعد اوباما کی حیثیت اب ایک لنگڑی بطخ سے زیادہ نہیں۔ اوباما کے سیاسی مخالفین یہ چاہتے ہیں کہ صدر اوباما اپنے باقی دو سال خاموشی سے پورے کرکے اپنا بوریا بستر گول کرکے چلا جائے اور ان دو سال میں کوئی ایسا کام نہ کرنے پائے جس سے ڈیموکریٹک جماعت کے وقار میں اضافہ ہوسکے اور انکی متوقع صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن اگلے صدارتی انتخابات میں جیت سکے۔
اوباما جب یہ درس دے رہے تھے کہ عجلت میں دوسرے ملکوں پر فوج کشی کرنا غلط ہے اور یہ کہ  ہم نے 9/11 کے بعد کافی قیمت ادا کرکے بہت اسباق سیکھے ہیں تو مجھے فوراً برطانیہ کے سابق وزیراعظم‘ عالمی سطح کے دانشور اور محقق سر ونسٹن چرچل کے مندرجہ ذیل الفاظ یاد آرہے تھے۔ چرچل نے امریکیوں کے متعلق کہا تھا کہ:
"The Americans will always do the right Thing after Thay have exhausted all the alternatives"
یعنی امریکن آخر کار ہمیشہ صحیح فیصلہ کریں گے‘ لیکن پہلے سارے غلط طریقے آزمانے کے بعد۔ آج سے چھ سال قبل جب ڈیموکریٹس کی سینٹ میں اکثریت تھی تو گوانتاناموبے جیل بند نہ ہو سکی۔ اب جب اوباما کی کوئی اتھارٹی نہیں تو یہ کام کیسے ہوگا۔ دراصل اگر صدر بش افغانستان اور عراق پر حملے کرکے اور درجنوں ڈرون حملے شروع کرکے بدتر تھا تو اوباما ان لڑائیوں میں تیزی لاکر اور سینکڑوں ڈرن حملے کرکے بدترین ثابت ہوا۔
اوباما کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کو امریکی عوام نے بھی مسترد کرتے ہوئے اسکو حالیہ سینٹ انتخابات میں شکست دیدی تھی۔ جمہوری ممالک میں انتخابی نتائج ہی کسی پارٹی کی مقبولیت کا اصل امتحان ہوا کرتے ہیں۔
جہاں تک امریکہ میں معاشی خوشحالی کا تعلق ہے تو اوباما کے نقاد یہ کہتے ہیں کہ’’ یہ تبدیلی اوباما کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی نالائقیوں کے باوجود آئی۔ اگر اوباما نہ ہوتا تو حالات بہتر ہوتے چونکہ موجودہ معاشی ترقی اس سے کہیں کم ہے جو چین اور BRICS کی دوسری ریاستوں میں آئی۔ ڈالر اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ چین‘ ہندوستان‘ روس‘ اوپیک کے ممالک ، حتیٰ کہ یورپی یونین کے ممالک اب ڈالر کو بطور بین الاقوامی کرنسی رد کرنے والے ہیں۔ اوباماپر تنقید کرنیوالے کہتے ہیں کہ افغانستان میں امریکی مشن مکمل نہیں ہوا بلکہ امریکہ کو شکست ہوئی۔ مشرق وسطیٰ میں موجود ساری خانہ جنگی، خونیں ہولی کا ذمہ دار بھی امریکہ ہے۔ سٹیٹ آف دی یونین خطاب سننے والے سارے لگتا یوں ہے کہ تالیاں بجانے کی ریہرسل کرکے بیٹھے تھے‘ لیکن سٹیج پر بیٹھے کانگریس کا سپیکر جو ری پبلکن تھا‘ اس نے صرف ایک دفعہ تالی کیلئے ہاتھوں کو سلوموشن میں حرکت دی۔ جب اوباما نے کہا کہ سائبر وار سے امریکہ کی قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے زور دار طریقے سے نمٹا جائیگا۔ صدر اوباما کی یہ خواہش ہے کہ اب دنیا میں جو کچھ بھی ہونا ہے امریکہ کے بنائے ہوئے برانڈڈ رولز کے تحت ہوگا۔ میرے خیال میں امریکہ ابھی تک روس اور چین کے متوقع اتحاد کو انڈر ایسٹی میٹ کررہا ہے لیکن اگر بدقسمتی سے فوجی اور معاشی طاقت کی بادشاہت امریکہ کے پاس رہی تو پھر یہ بندر کے ہاتھ میں استرے والی بات ہوگی۔