اگر ریاست دوسری طرح کی باپ ہوتی!

کالم نگار  |  نازیہ مصطفٰی
 اگر ریاست دوسری طرح کی باپ ہوتی!

چلیں مان لیا کہ انیس سو ترانوے میں آپ نے ڈکٹیشن لینے سے انکار کرتے ہوئے آٹھویں ترمیم بردار اسحق خان کو للکارا تو آپ کیخلاف سازش ہوگئی۔چلیں یہ بھی مان لیا کہ انیس سو ننانوے میں آپ نے ملک میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کی مکمل بالادستی کیلئے اسٹیبلشمنٹ کو اس کی حدود میں رکھنے کی کوشش کی تو تمام غیر جمہوری قوتیں آپ کیخلاف متحد ہوگئیں،جسکے نتیجے میں آپ سازش کا شکار ہوئے اور پہلے جیل اور پھر جیل سے سیدھا جدہ سدھار گئے۔چلیں یہ بھی مان لیا کہ اسکے بعد ہونیوالے دو انتخابات میں بھی آپ کیخلاف سازش ہوتی رہی اور آپ کو انتخابات جیتنے نہ دیے گئے ۔ چلیں! ایک اور بات مان لیتے ہیں کہ دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد گزشتہ برس اگست میں لاہور سے اسلام آباد کیلئے آزادی اور انقلاب مارچ نکلے تو یہ بھی آپ کے خلاف سازش تھی اور شاید پاکستانی تاریخ میں کسی بھی حکومت کیخلاف کی جانیوالی سب سے خوفناک سازش تھی، مگر مبارک ہو کہ آپ اس سازش سے صاف بچ کرنکل گئے لیکن ٹھہریے! یہ جو قوم کے نوجوان اب بوتلیں اٹھاکر اور برقعے پہن کر پیٹرول تلاش کرتے پھرتے ہیں، یہ جو پیٹرول اچانک ہی بخارات بن کر اُڑ گیا تو یہ کہاں سے سازش ہوگئی؟جناب عالی! حکومت آپ کی، انتظامیہ آپکی، وزیر آپکے، سیکرٹری آپکے، کمپنیاں آپکی اور پھر بھی کہتے ہیں کہ سازش ہوگئی! پیٹرول کا غائب ہونا بھی کیا کسی ’’لندن سازش پلان‘‘ کا حصہ تھا؟نہیں جناب ! اِسے سازش نہیں بلکہ نااہلی ہی کہا جاسکتا ہے۔ اِس نااہلی کو سازش کا لبادہ اوڑھاکر آپ اُن ذمہ داریوں سے اپنا دامن نہیں بچاسکتے، جوایک ریاست کے سربراہ کے طور پر آپ پر عاید ہوتی ہیں۔
ایسی ریاستیں جہاں لوگوں کیساتھ ظلم کا گھناؤنا کھیل کھیلا جاتا ہے، انہیں جبر کی چکی میں پیسا جاتا ہے،وہ بھلا کیسے جمہوری کہلاسکتی ہیں؟اور لوگ ہیں کہ اُنہیں اپنے حقوق کا علم ہی نہیں، بلکہ حد تو یہ بھی ہے کہ بہت سے معاملات میں لوگوں کو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ اُنکے ساتھ ظلم ہورہا ہے۔افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں ریاست اور معاشرے کے درمیان تعلق جمہوریت اور قانون کے دائرہ کار میں نہیں ہے۔ ریاست کیا ہے اور یہ ریاست کس کیلئے ہوتی ہے؟یہ ریاست کس کی خدمت کیلئے ہوتی ہے؟شہریوں کی سماجی زندگی میں ریاست کا کیا کردار ہونا چاہیے؟ان سوالات کاجواب دینا پڑتا ہے تو جیسے ریاست چلانے والوں سانپ ہی سونگھ جاتا ہے اور شور مچانے لگتے ہیں کہ سازش ہوگئی، سازش ہوگئی۔بہت سے دانشور تو ریاست کو اوتار کا درجہ دے دیتے ہیں، جسے کچھ بھی کرنے کا اختیار ہوتا ہے، وہ ریاست اپنے شہریوں کو قتل کرے، دان کرے یا کسی کی بھینٹ چڑھادے، کسی کو پیٹرول دے یا نہ دے، کسی کو کھانے پینے کو کچھ دے یا نہ دے اوراس مقصد کیلئے اُن حکمرانوں کی مثال دی جاتی ہے، جنہوں نے ’’ریاست‘‘ کے نام پر اپنے بیٹوں اور بھائیوں تک کو قتل کرادیا اور اس کیلئے انتہائی مضحکہ خیز اسباب بیان کرتے رہے کہ اُن کا یہ اقدام ریاست کو مضبوط بنانے کیلئے تھا۔ تو کیا ظلم، جبر اور ناانصافی کے ذریعے ریاست کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے؟ حالانکہ اس طرح کی صورتحال باالعموم نقائص پر مبنی انتظامی ذہنیت کو ظاہر کرتی ہے، جس سے فرد واحد کے اقتدار کو دوام ہی نہیں ملتا بلکہ ظلم پر مبنی ایسا نظام پروان چڑھتا ہے،جس میں شفافیت اور انصاف کا دور دور تک نام و نشان نہیں ملتا۔ جب تک اس طرح کا نظام چلتا رہتا ہے ، شفافیت قائم ہوسکتی ہے نہ ہی قابل مواخذہ حکومت اقتدار میں آسکتی ہے اور نہ ہی اندرونی جانچ پڑتال اور احتساب کا کوئی نظام وضع کیا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے سامنے رشوت، فراڈاور دھوکہ دہی سمیت ہر قسم کی بدعنوانی ہوتی ہے، لیکن ہم اس کے بارے میں کسی کو نہیں بتاپاتے، بتائیںبھی تو کس کو، اس حکومت کو جو خود ہی کرپٹ ہو، جو خود ہی فراڈ، گھپلوں اور کک بیکس میں گھری ہوئی ہو۔
عام آدمی ٹیکس ادا کرتا ہے، لیکن اسے کچھ علم نہیں ہوتا کہ اسکے ادا کردہ ٹیکس کو کہاں رکھا گیا یا یہ کہ وہ ٹیکس کس مد میں استعمال کیا گیا؟ریاست میں حزب اختلاف کی جماعتیں بھی اس حوالے سے کوئی آواز نہیں اٹھاتیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ کل وہ اقتدارمیں آئے تو انہیں بھی یہی کچھ کرنا ہے، تو اُس وقت موجودہ حکومت بطور اپوزیشن بھی خاموش رہے گی۔کیا ایسی صورتحال تقاضا نہیں کرتی کہ ظلم کے نظام کے خاتمے کیلئے ایک لمحہ رُک کر سوچا جائے کہ صورتحال اسکے برعکس بھی ہوسکتی ہے اور آج ظلم کرنیوالوں کو کل ظلم کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ ظلم اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک کوئی ظلم برداشت کرتا رہے ، لیکن جیسے ہی کوئی ظلم کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا، چاہے وہ تنہا ہی کیوں نہ ہو تو ظلم کا زیادہ دیر تک ٹھہرنا ممکن نہیں رہتا اور مظلوم اس وقت تک ظلم برداشت کرتا رہتا ہے، جب تک اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ اسی سلوک کا مستحق تھا یا پھر وہ یہ یقین کرلے کہ ریاست کو یہ سب کرنے کا حق حاصل ہے۔ تو کیا اس ملک کے مظلوم طبقات نے سوچ لیا ہے کہ وہ اسی سلوک کے مستحق تھے اور ریاست کو یہ سب کچھ کرنے کا اختیار حاصل تھا، اگر ایسا ہے تو سمجھ لیں کہ ریاست کی اکثریت غلامانہ ذہنیت کی حامل ہے، اسے اسکی مرضی کے بغیر اگر آزادی دلوانے کی کوشش کی گئی تو ممکن ہے کہ وہ خود ہی غلامی کا طوق اتارنے سے انکار کردے۔
کیا کبھی کسی نے سوچنے کی زحمت گوار کی کہ ریاست کے حکمرانوں کے اللے تللوںاور عیاشیوں کیلئے پیسے کہاں سے آتے ہیں؟کبھی کسی نے سوچا کہ حکومتی خزانے سے تنخواہ نہ لینے والے حکمران طبقے کے افراد کیلئے عیاشی کا پیسہ کہاں سے آتا ہے؟بھائی یہ سارا پیسہ میرا اور آپکا پیسہ ہے، یہ وہ پیسہ ہے جو میں اور آپ مختلف ٹیکسز کے نام پر اپنا پیٹ کاٹ کر حکومت کو ادا کرتے ہیں۔ عوام کا پیسہ باپ کی کمائی سمجھ کر اللے تللوں پر اُڑایا جاتا ہے تواِسے جھوٹ، دروغ گوئی اور بدعنوانی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے، لیکن افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اِس صریحا جرم پر بھی اوپر سے لیکر نیچے تک کوئی بولنے کو تیار نہیں۔ کئی دہائیوں سے بے دریغ استعمال کی وجہ سے قومی وسائل ضائع ہورہے ہیں اور جو اس سارے جرم کی جڑ ہے، اسے پکڑنے کو کوئی تیار نہیں۔ عجیب بات ہے کہ حکمران طبقہ خود کو عوام کا خادم کہتا ہے لیکن عوام کی اکثریت کو علم ہی نہیں کہ ایک ’’مخدوم‘‘ اپنے خادم کو کس طرح کے احکامات دے سکتا ہے ، ان مخدوموں کو معلوم ہی نہیں کہ ایک باس اپنے ماتحتوں سے کس طرح اپنی مرضی کے کام نکلواسکتا ہے، اگر ریاست اور ریاست کو چلانے والے عوام کے خادم ہیں تو پھر انہیں اپنے ’’مخدوموں‘‘ کی ضروریات، خواہشات اور حقوق کا اُسی طرح خیال رکھناچاہیے، جس طرح کوئی خادم یا نوکر کرتا ہے۔
قارئین کرام!! مسئلہ تو یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاںہر ریاست خود کو باپ اور ہر حکمران خود کو آقا جیسا سمجھتا ہے لیکن باپ بھی تو دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک باپ وہ ہے جو بچوں کو پیدا کرکے اُنہیں زمانے کی ٹھوکریں کھانے کیلئے چھوڑ دیتا ہے یا پھر اپنے بچوں کو فیکٹریوں، ورکشاپوں اور کارخانوں میں بطور ’’چھوٹا‘‘ بھرتی کراکر اُنکے بڑا ہونے اور اُنکی ’’کمائی‘‘ پر عیاشی کرنے کے منصوبے بناتا رہتا ہے، جبکہ دوسری طرح کا باپ وہ ہوتا ہے کہ جو اپنی اولاد کو خود محنت کرکے کھلاتا پلاتا ہے، اُنہیںجوان کرتا ہے، علم کی دولت سے مالا مال کرتا ہے اوراپنے بچوں کو اچھا شہری بنانے کیلئے اپنا تن ، من اور دھن سب لٹادیتا ہے۔یقین مانیں! ہمارے پٹرول پمپ کبھی خشک نہ ہوتے اور صنعت سے لے کر ٹریفک تک کا پہیہ کبھی جام نہ ہوتا اگر ریاست دوسری طرح کی باپ ہوتی!