کیا بھارت واقعی جنگ کی تیاری کررہا ہے؟

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
کیا بھارت واقعی جنگ کی تیاری کررہا ہے؟

بھارتی اورپاکستانی لیڈروں میں فرق یہ ہے کہ بھارتی لیڈرز قومی سرمایہ اکٹھا کر کے ہتھیار خریدتے ہیں ۔وہ بھارت کو ہر صورت میں عسکری لحاظ سے ایک مضبوط اور علاقے کا تھانیدار ملک بنانا چاہتے ہیں جبکہ ہمارے لیڈرز قومی پیسہ چرا کر بیرون ملک جائیدادیں خریدتے ہیں اور اپنے بنک اکاﺅنٹ بھرتے ہیں۔بھارت کا پیسہ بھارت کے اندر رہتا ہے اس لئے وہاں ترقی ہوتی ہے۔ہمارا پیسہ چونکہ منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر چلا جاتا ہے اس لئے یہاں ترقیاتی کام برائے نام ہوتے ہیں۔ ہمارے لیڈروں کا سارا زور بیرونی ممالک اور بیرونی اداروں سے قرض حاصل کرنے پر ہوتا ہے۔ انہیں بخوبی علم ہے کہ وہ خود تو یہ قرض ادا نہیں کرینگے بلکہ تمام قرض عوام کی ہڈیوں سے نچوڑا جائیگا۔ لہٰذا عوام جانے اور قرض جانے۔ہمارے عزت مآب لیڈروں کی دیکھا دیکھی ہماری دیگر اشرافیہ بھی جہاں کہیں بھی انکا ہاتھ پڑتا ہے وہ بھی یہی کام کرتے ہیں۔اسی لئے دبئی ،یورپ اور امریکہ میں سب سے زیادہ جائیدادیں پاکستانیوں کی ہیں۔صرف سوئٹرز لینڈ کے بینکوں میں 200ارب ڈالرز سے زیادہ رقوم پاکستانیوں کی جمع ہے۔باقی یورپی یا امریکی بینکوں میں دولت کے انبار انکے علاوہ ہیں۔قوم سے پیسہ چھپانے کےلئے بہت سے آسودہ حال پاکستانیوں نے آف شور کمپنیاں بنا رکھی ہیں جو انکی کمائی کا بڑا ذریعہ ہیں ۔جہاں ان کی دولت محفوظ بھی ہے اور بڑھ بھی رہی ہے۔

جب بھارت اور پاکستان آزاد ہوئے تو پاکستان کے حصے میں آنےوالے علاقے میں نہ کوئی ہتھیاروں کی انڈسٹری تھی ،نہ ہی معدنی اور معاشی وسائل اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم ٹیکنالوجی سے بھی تہی دامن تھے اس لئے ہمیں اپنی عام فوجی ضروریات کیلئے بھی ترقی یافتہ ممالک کی طرف دیکھنا پڑتا تھا۔ پھر سب سے بڑا ظلم یہ کہ ہمارے حصے میں آنیوالے ہتھیاروں کا ایک بڑا حصہ بھارت نے روک لیا۔ پاکستان کو ردی اور بیکار قسم کے ہتھیار بھیجے گئے۔ہمارے حصے میں آنیوالے نقد اثاثہ جات کا بھی ایک بڑا حصہ مختلف بہانوں سے روک لیا گیا۔
یہاں تک کہ ہمارے حصے میں فوج کے تربیتی ادارے بھی نہ تھے اس لئے پاکستان فوج کو شروع دن سے ہی ہر قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ہر سہولت اپنے زور ِ بازو سے حاصل کرنا پڑی جبکہ ہمارے مقابلے میں بھارت میں ہر قسم کے اسلحہ اور ہتھیاروں کی فیکٹریاں موجود تھیں ۔انڈسٹری کےلئے کوئلہ اور لوہے کے ضروری وسائل موجود تھے۔سوائے ایک آدھ کے تمام تربیتی ادارے بھی موجود تھے اور پھر بھارتی فوج کی تعداد ہم سے دو گنا زیادہ تھی۔ ان حالات میں پاکستان کو تو مجبوراً چھوٹی یا بڑی اپنی انڈسٹری ڈیویلپ کرنا پڑی لیکن حیران کن رویہ بھارت کا ہے کہ ملک میں تمام تر انڈسٹری اسکے متعلقہ خام مال ،ٹیکنالوجی اور مالی وسائل موجود ہونے اور بے تحاشہ مقامی پروڈکشن کے باوجود بھارت باہر سے ہتھیار اور گولہ بارود خریدتا رہا ہے۔1962 کی انڈو چائنا جنگ کے بعد حالانکہ بھارت ”غیر وابستہ تنظیم“ کا ممبر تھا ۔پھر بھی اسے امریکہ اور یورپ سے بے پناہ ہتھیار ملے۔ پھر بھارت روس کا پارٹنر بنا تو اسے وہاں سے ہر قسم کے ہتھیار مسلسل ملتے رہے۔ یہاں تک کہ آج بھارتی فوج کے 70فیصد ہتھیار روسی ساخت کے ہیں۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کے مد نظر بھارت کو کسی پڑوسی ملک سے کسی قسم کے حملے یا جنگ کا خطرہ نہیں جب تک کہ یہ خود کسی ملک پر حملہ نہ کرے لیکن پھر بھی ہر بھارتی لیڈر کی اپنی ملکی پیداوار کے علاوہ باہر سے ہتھیار جمع کرنے کا شوق رہا ہے۔ نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ماڈرن اور زیادہ تباہ کن ہتھیاروں کا حصول بھارت کی سب سے بڑی خواہش بن گئی۔جہاں سے بھی ملیں اور جس قیمت پر بھی ملیںحاصل کرنے میں بھارت دیر نہیں لگاتا ۔ان ہتھیاروں کے حصول کےلئے نریندر مودی نے Make in India پالیسی بھی اپنائی جس سے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ان کی ٹیکنالوجی بھی بھارت منتقل ہو رہی ہے۔
بھارت پچھلے دس سالوں میں امریکہ سے 15بلین ڈالرز کا اسلحہ خرید چکا ہے جس میں10عدد C-17گلوب ماسٹرIII، سٹریٹیجک ائیرلفٹ ائیر کرافٹ8عددP-81 نیول پٹرول ایر کرافٹ،22عددAH-64Eاپاچی ایر کرافٹ 15عدد CH-47F چنوک ہیلی کاپٹرز اور مزید یہ کہ 6عدد Scorpeneکلاس سب مرین بھارت میں بنائی جا رہی ہیں اور 6عدد امریکہ میں تیار ہورہی ہیں جو2020میں نیوی کو دیدی جائیں گی۔ انکے علاوہ امریکی لائسنس کے تحت Kamov 226 ہیلی کاپٹرز بھارت میں بن رہے ہیں۔ 145الٹرا لائٹ ہوٹزرHowitzerآرٹلری گنز،100عدد 155mm آرٹلری گنز، 280 عدد ایرو انجن برائے Jaguar ایر کرافٹ بھی خریدے گئے ہیں۔ انکے علاوہ 5یونٹس S-400 روسی ساخت کے جدید ائیر ڈیفنس سسٹم بھی خریدے گئے ہیں۔ رافیل فائٹر جہاز فرانس سے اور Amphibian جہاز جاپان سے حاصل کئے جا رہے ہیں۔ امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز کے مطابق بھارت اگلے سات سالوں میں 30 ارب ڈالرز فوج پر خرچ کر رہا ہے اور امریکہ اس سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ امریکہ بھارت کو ایٹمی ٹیکنالوجی بھی ٹرانسفر کر رہا ہے جس سے امریکہ میں 15000 نئے جابز نکلیںگے۔ نریندر مودی کی حالیہ امریکہ وزٹ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کو Sea Guardian unmanned air craft system دینے کی بھی پیشکش کی ہے جو جدید ترین ٹیکنالوجی ہے اور تاحال امریکہ نے اپنے ایک آدھ قریبی دوستوں کے علاوہ کسی کو نہیں دی۔ اس وزٹ کے دوران 23بلین ڈالرز کے کچھ دیگر قسم کے جہاز بھی خریدنے کا معاہدہ کیا گیا۔
ان ہتھیاروں کی خرید کے علاوہ بھارت اپنی ایٹمی توانائی کی ترقی پر بھی بھرپور توجہ دے رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کےمطابق اس وقت بھارت کے پاس لگ بھگ 120-130 ایٹمی میزائل موجود ہیں۔ بھارت کے پاس 600کلو گرام پلوٹینم بھی موجود ہے جس سے وہ 200تک ایٹمی میزائل بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بھارت اپنی اگنی سیریز میزائلز کو اگنی 5تک لے جارہا ہے جس سے وہ تمام چین کو ہدف بنا سکے گا اور یہی اس کا مقصد ہے۔ بھارت کے پاس اس وقت 7ایٹمی ڈلیوری سسٹمز موجود ہیں اور وہ چار مزید بنانے کی کوشش میں ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ بھارت ہتھیاروں کا اتنا بڑاذخیرہ اکٹھا کرکے کیا کرےگا جبکہ اسکی آبادی میں 50فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے نظر آتا ہے کہ بھارت کسی بڑی جنگ کی تیاری کر رہا ہے اور یہ چین اور پاکستان کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتے۔