باتیں بزرگ پشتون سردار کی

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
باتیں بزرگ پشتون سردار کی

قانون کی حکمرانی اس کا یکسر اور مکمل نفاذ ‘ جمہوریت کا تسلسل، ہمارے تمام دکھوں کا علاج ان دونکات پر عمل درآمد میں پوشیدہ ہے۔ انسان بھی بڑی عجیب چیز ہے۔ بسا اوقات جن مسائل اور مصیبتوں کا کوہ گراں سمجھ رہا ہوتا ہے صرف زوایہ نگاہ بدلنے سے گنجلک اور پیچیدہ مسائل چٹکیوں میں حل ہو جاتے ہیں۔

بلوچستان میں دہشت گردوں کی اندرونی اور بیرونی سازشیں، گوریلا لشکر، چھاپہ مار کارروائیاں، فراری کیمپ، ہزارہ وال اور پنجابی آبادکاروں کے خون کی ہولی‘ آتش و آہن کا جان لیوا کھیل ‘ کیا یہ سب کچھ صرف قانون کی حکمرانی سے ختم کیا جا سکتا ہے اور جمہوریت، مکمل جمہوریت، انتخابات، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ مسلسل انتخابات ہمارے لئے امرت دھارا بن سکتے ہیں۔قلعہ عبداللہ کے پشتون نواب وزیر جوگیزئی اپنے مخصوص نرم لہجے میں پیچیدہ اور گنجلک مسائل کا آسان حل بتا رہے تھے۔
انہوں نے بڑی صاف گوئی سے اعتراف کیا کہ کراچی پڑھنے کے لئے آیا تو علم و ادب اور کتاب کی محبت کا اسیر ہو گیا اور پھر پتھروں میں گھری بے کیف زندگی کی طرف لوٹنے کو دل نہ چاہا۔ غیر حاضر امیدوار کے طور پر انتخاب میں حصہ لیا۔ محبت کرنے والے چچا کے سہارے جیت بھی گیا اس طرح کراچی سے اسلام آباد آن وارد ہوا، پھر کیا واپس جاتا، شہری تمدن ہمیشہ سے مرد مان کوہستانی کو اپنی رنگینیوں میں الجھاتا آیا ہے میرے ساتھ کچھ انوکھا نہیں ہوا۔
’’بلوچستان کے مسائل ‘ پاکستان کے مسائل ہیں جن کا حل بہت آسان ہے صرف نیک نیتی سے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نعرے بازی اور سیاسی شعبدہ بازی سے تو بلوچستان میں موجودہ جاری و ساری سرداری نظام ختم ہونے سے رہا … نہ انتظامی حکم نامے کے ذریعے اس عہد ستم کو موت کے گھاٹ اْتارا جا سکتا ہے، اگر ایسا ہونا ہوتا تو پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول عام ہر دل عزیز لیڈر جناب ذوالفقار علی بھٹو کے احکامات بہت کافی ہوتے آج مدتیں گزرنے کے باوجود سردار اور ان کا نظام پوری طرح بروئے کار ہیں جبکہ سرکاری انتظامی حکم نامے کسی کو یاد بھی نہیں۔
اس نظام کو ختم کرنے کے لئے تعلیم کو ہتھیار بنا کر علم کا تیشہ چلانا ہوگا۔ پیہم علم کا نور پھیلانا ہوگا۔ جس طرح ایک ٹمٹماتا چراغ چشم زدن میں گھٹاٹوپ اندھیروں کو ختم کرنے کے لئے کافی ہوتاہے اسی طرح سرداری نظام جس کی اساس جہالت اور منفی روایت پرستی سے ہے صرف علم کی روشنی سے دریا برد کی جا سکتی ہے۔
عدلیہ، پارلیمان اور انتظامیہ میں جاری کشمکش اور سہ فریقی آویزش کو قومی اداروں کی تعمیروترقی کے مثبت کام میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ پارلیمان کے نمائندہ اداروں کو مکمل اور کلی طور پر خودمختار بنایا جائے۔ منتخب سیاستدانوں کے لئے باقاعدہ ورکشاپس اور تربیت گاہیں منعقد کی جائیں تاکہ انہیں Do and Don't کی تمیز ہو سکے اور وہ چالاک اور بے رحم بیوروکریسی سے پنجہ آزمائی کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکیں۔
اسی طرح پیپلزپارٹی، مسلم لیگ کے دونوں بڑے دھڑوں سمیت تمام قومی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ بلوچستان اور بلوچ عوام سے سوتیلے پن والا سلوک ترک کر کے وہاں اپنے ایجنٹوں کی بجائے براہ راست تنظیم سازی اور سیاسی عمل کے ذریعے بلوچستان کی صوبائی اسمبلی میں پہنچنے کی کوشش کریں تاکہ جگہ جگہ بنی ہوئی قوم پرست جماعتوں نہیں گروہوں کی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں ختم ہوجائیں۔ یہ بڑا مشکل کام ہے جس کے لئے مسلسل اور انتھک محنت کرنا ہوگی ۔
یہ مسلمہ اور تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ مخلوط حکومتیں ہمیشہ بدعنوان اور کرپٹ ہوتی ہیں جس کا تجربہ اور نظارہ ہم گزشتہ تین دہائیوں سے قومی سطح پر کر رہے ہیں جبکہ بلوچستان کا تو کچھ نہ پوچھئے‘ باپ بیٹے کی جوڑیوں نے کن دکھوں کا مداوا کیا کن زخموں پر مرہم رکھا کہ اب بلوچستان اور بلوچ عوام کے غم میں دبلے ہوئے جا رہے ہیں۔
70ء کے بعد صرف چہرے بدلے ‘ اعمال اور افعال نہیں۔ آج بھی بلوچ وزیر اعلیٰ رئیسانی ڈیڑھ ارب مالیت کا جہاز خریدنے کے لئے دیوانہ ہو رہا ہے۔ ’’ڈیوڈسن ہارلے‘‘ برانڈ کی بائیکس پر اسلام آباد کی شاہراہوں پر تیز رفتاری کے کرتب دکھاتا ہے۔ جس دن سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت مکمل طور پر آئینی اعتبار سے ناکام ہو چکی ہے۔ موصوف کھیوڑہ کوہستان نمک کی کانوں اور کٹاس راج کی قدیم ہندو درسگاہ کی سیر کر رہے تھے ۔
علم کا نور، قانون کی بالادستی اور یکساں نفاذ اور متواتر انتخابات‘ یہ ہے ہمارے دکھوں کا علاج۔ بلوچستان کے تمام جملہ مسائل کا حل صرف نیک نیتی اور لگن آج بھی ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے۔ مردم شماری نے بلوچ پشتون تنازع کے نئے زاوئیے متعارف کرا دئیے ہیں ۔
بلوچ قوم پرست نئے دعوے اور تاویلوں کے ہتھیار مردم شماری کی مخالفت کے لئے میدان میں ہیں ان کا دعوی ہے کہ بلوچستان کی پشتون آبادی میں اضافہ افغان غیر قانونی تارکین وطن کی وجہ سے ہورہا ہے، کوئٹہ کے باہر شاہراہ پرافغان کیمپوں کو شہر کی آبادی بنادیاگیاجس میں قلعہ عبداللہ ، سرانان ، پشین ، چمن اور کچلاک شامل ہیں، کوئٹہ افغان غیر قانونی تارکین وطن دہائیوں سے ہزاروں کی تعداد میں چمن کے راستے بلوچستان میں داخل ہو رہے ہیں۔بلوچ قوم پرست حلقے ان افغانوں کو معاشی مہاجر قرار دیتے ہیں چونکہ افغانستان میں روزگار کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں، اس لئے وہ بلوچستان کا رخ کر رہے ہیں، کوئٹہ میں بلوچ علاقوں سے بھی پاؤندے آرہے ہیں۔جس کی تین وجوہات ہیں ، بلوچ علاقے خشک سالی کا شکار ہیں بلکہ اکثر علاقے خشک سالی کی وجہ سے قحط کا سامنا کررہے ہیں۔ چوری ،ڈاکے ،اغوا برائے تاوان سمیت تمام سنگین جرائم سرکاری اہلکاروں کی سرپرستی میں ہوتے ہیں جس کے باعث اکثر خاندانوں نے سندھ کے دیہی علاقوں کو چھوڑ کر بلوچستان کے شہروں کا رخ کیا۔جہاں امن اومان کی صورتحال بہتر تھی ، تیسری وجہ علیحدگی پسند بلوچ دھشت گردوں کی کارروائیوں کی وجہ سے بہت بڑی آبادی نے بگٹی اور مری کے قبائلی علاقے سے ملحقہ سبی اور کچھی کے علاقے ،مکران ،آواران ،جھالاوان سے نقل مکانی کرلی ہے۔ زیادہ تر لوگوگوں نے کراچی، سندھ ،پنجاب اور کوئٹہ کارخ کیا، ان تمام علاقوں میں مردم شماری نہیں ہوئی ، اس لئے بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ چیف آف ساراوان نواب اسلم رئیسانی نے مردم شماری کو یکسر مسترد کردیا، چونکہ بلوچستان میں مسلم لیگ نون اور اس کے اتحادیوں کی حکومت ہے وہ نواب رئیسانی کے مؤقف کی حمایت نہیں کرسکتے۔
بلوچستان میں مردم شماری کو بلوچ اور پشتون کے تنازع اور مفادات کے نقطہ نظر سے دیکھا جارہا ہے، بلوچوں نے کبھی بھی برطانوی سامراج کے افغانستان کے مفتوحہ علاقوں کو بلوچ سرزمین کا حصہ تسلیم نہیں کیا، مفتوحہ علاقوں کے علاوہ سبی ،لورالائی اور موسیٰ خیل کے بعض علاقے بلوچ سرزمین کا حصہ ہیں۔
اس طرح سے تمام ثقافتی اقلیتیں وسیع بلوچ سماج کا حصہ ہیں، پہلے سازشی عناصر براہوی زبان کو بلوچوں سے الگ رکھنے کی کوشش کرتے تھے، سابق گورنر اویس احمد غنی نے اس کیلئے باقاعدہ مہم بھی چلائی ، اب اگر آبادی کو شمار کریں تو اس میں براہوی بولنے والے بلوچوں کو بھی شامل کیا جائے۔اس طرح بلوچ سرزمین کو آبادی کے دباؤ کا کوئی خطرہ نہیں ۔ بلوچ اس بات کے حق میں ہیں کہ پشتونوں کیلئے متحدہ صوبہ ضروری ہے جس میں افغانستان کے مفتوحہ علاقے جو اس وقت انتظامی طور پر بلوچستان کا حصہ ہیں وہ ضم کرکے پختون صوبہ میں شامل کئے جائیں۔اگر اس میں دیر ہو تو افغانستان کے مفتوحہ علاقوں کو فاٹا میں ایک ایجنسی کے طور پر شامل کیا جائے، وفاق میں صرف اور صرف بلوچ سرزمین کی نمائندگی ہونی چاہئے، ان افراد کی وفاق میں نمائندگی نہیں ہونی چاہئے، جو بلوچ سرزمین کا حصہ نہیں، ان میں تمام ثقافتی اقلیتیں شامل ہیں۔
ادنیٰ سیاسی اہداف کی وجہ سے بلوچستان کی 6سب تحصیلوں کو صرف اور صرف سیاسی بنیادوں پر اضلاع کادرجہ دیاگیا۔ چند دیہاتوں پر مشتمل شیرانی سب تحصیل کو مولانا شیرانی کی وجہ سے ضلع کادرجہ دیاگیا۔
وسیع تر قومی مفاد میں بلوچ پشتون کھیل تماشا بند کرکے دور رس فیصلے کرنا ہوں گے روشن مستقبل ہمارا منتظر ہے ۔