ہوشو شیدی شہید‘ آزادی کا متوالا

کالم نگار  |  معین باری ....فیصل آباد
ہوشو شیدی شہید‘  آزادی کا متوالا

محترمہ فریحہ ادریس کا مضمون  ’’مرسوں مرسوں پر سندھ نہ ڈیسوں‘‘ نظر سے گزرا جس میں شیدی ہوش محمد کا ذکر تھا۔ محترمہ لکھتی ہیں۔ ’’اس آزادی کے متوالے نے انگریزوں سے لڑتے لڑتے جان دے دی۔‘‘ یہ آزادی کا متوالہ ہوشو شیدی تالپور پیروں کی فوج میں بلوچ آرمی کا فارمیشن کمانڈر اور چیف ایڈوائزر تھا۔ سالوں بیت گئے جب میں ہیڈ کوارٹر 51 انفنٹری بریگیڈ (سندھ فورس) میں تعینات تھا۔ ایک دن سندھ گذیٹیر کی ورق گردانی کرتے شیدی ہوش محمد کا نام نظر سے گزرا۔ اس کی بہادری اور سرفروشی کی داستان پڑھ کر حیران رہ گیا۔120 سال گزرنے کے بعد سندھی دانشور ہوش محمد کا نام اور قربانی کو بھول چکے تھے۔ وہ بھول گئے کہ شیدی ہوشو کی قبر کہاں پر ہے اور انگریز فوج نے اسے کیسے دفنایا۔راقم ہوشو شدی کی قبر کے کھوج میں قلعہ حیدر آباد پہنچا۔ قلعہ میں محکمہ آثار قدیمہ کے افسر کو ملا اور پوچھا کہ ہوشو شیدی کی قبر کہاں ہے۔ جہاں دبو (DABO) جنگ کے بعد انگریزوں نے اسے فل ملٹری آنرز کے ساتھ قلعہ کے اندر دفن کیا تھا اور اس کی قبر پر بہادری کو سراہتے ہوئے توپ رکھی گئی تھی۔
آثار قدیمہ کے افسر نے کہا کہ قبر کا نشان غائب ہو چکا ہے۔ توپ کا تھوڑا سا حصہ زمین سے باہر نکلا ہے اور ماربل کا قطبہ جو جنرل چارلس نیپئر کے حکم پر ہوشو شیدی کی قبر پر لگایا گیا وہ میرے دفتر میں پڑا ہے۔ اس کتبے کی بجھی ہوئی لکھائی میں میں نے سیاہی بھری اور فوٹو اتار لی۔ مزدوروں کو کہا کہ زمین میں دھنسی توپ کے گرد کھدائی کریں۔ توپ پوری نکال لی گئی۔ اسکی فوٹو لی۔ آثار قدیمہ کے افسر نے اس جگہ کی نشادہی بھی کردی جہاں سے قبر کا کتبہ ملا تھا۔ چند دنوں بعد 23 دسمبر 1962ء میرا مضمون ’’The Day Sheedee fell‘‘ ڈان اخبار میں شائع ہوا۔ جس میں توپ‘ ماربل کتبہ‘ دلو جنگ کا مانومنٹ اور میدان جنگ کے نقشہ کی فوٹوز تھیں۔چند سالوں بعد پتہ چلا کہ سندھی نوجوانوں نے حکومت پر زور دے کر ہوشو شیدی کا مقبرہ بھی تعمیر کروا لیا ہے۔ یاد رہے کہ انگریزوں نے اپنے دشمن سلطان ٹیپو کو بھی فوجی اعزازات کے ساتھ دفن کیا تھا۔
میں ان مقامات پر بھی گیا جہاں سندھی میروں اور انگریز فوجوں کے درمیان دبو کی لڑائی ہوئی تھی۔ ہوشو شیدی کی جس شجاعت اور دلیری پر انگریزوں نے اسکی میت کو سلامی دی اسکا اختصار سے ذکر کرنا ضروری ہے۔ جنگ کا منظرنامہ ملاحظہ ہو۔
’’دبو کی جنگ میں سندھی فوج کی جیت ہو رہی تھی۔ عین اس وقت میر مراد بڑے میر شیر محمد کا بھائی درپردہ انگریزوں سے ملا ہوا تھا۔ اس نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بارود کا ذخیرہ تباہ کرا دیا۔ عقب میں آگ اور دھواں کا خوفناک الاؤ دیکھ کر بلوچ فوج کے حوصلے پست ہو گئے۔ بلوچی جرنیل موصوف نے میر شیر محمد کو کہا کہ واپس چلے جائیں اور ’’نئی جنگ کی تیاری کریں میں فرنگی فوج سے نپٹ لوں گا۔‘‘
اس وقت شیدی ہوش نے توپوں کی کمان سنبھال لی۔ وہ گھوڑے پر سوار تلوار لہراتا ہوا ہر طرف حملہ آوری کے احکامات دے رہا تھا۔ وہ فوجیوں کو جنگ پر ابھارتا ہر جگہ پر دکھائی دے رہا تھا۔ توپچیوں نے پکارا کہ بارود کی کمی سے گولے نہیں چل سکتے۔ شیدی نے حکم دیا ’’فائر جاری رکھو۔ کاغذ‘ لکڑی‘ پتھر کے ٹکڑے ڈال کر چلاتے رہو۔ اس گھمسان کی جنگ میں گوروں کی 22 آئیرش ریجمنٹ نے حملہ کر دیا اور شیدی ہوش محمد اپنے ساتھیوں سمیت ان سے جنگ کرتا ہوا شہید ہوا۔ اس کے بے جان ہاتھ میں تلوار تھامی ہوئی تھی۔
سرچارلس نیپئر برٹش کمانڈر انچیف لکھتا ہے ’’اس کالے بہادر سندھی نے ایک جرنیل کی عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اگلی صفوں میں بار بار حملے کرتا رہا اور جب وہ فتح نہ کر سکا تو ہاتھ میں تلوار لئے ایک قدم پسپا ہوئے بغیر مارا گیا۔‘‘