قرارداد لاہور اور پاکستان کا نامکمل ایجنڈا

کالم نگار  |  قیوم نظامی
قرارداد لاہور اور پاکستان کا نامکمل ایجنڈا

23مارچ 1940ء کا دن برصغیر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مبارک ثابت ہوا۔ اس دن علامہ اقبال کے خواب کے مطابق ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد لاہور میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ 23مارچ کی قرارداد نتیجہ خیز ثابت ہوئی اور پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔آئیے آج اس تاریخ ساز قرارداد کے پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 1937-39ء میں ہندوستان میں کانگرس کی حکومتیں قائم ہوئیں۔ کانگرسی لیڈروں نے مسلمانوں کا معاشی استحصال کیا جس کے ردعمل میں مسلم اشرافیہ نے اپنے معاشی مفادات کے لیے علیحدگی کی تحریک چلائی۔ اس سیاسی و معاشی تحریک کی کامیابی کے لیے اُردو زبان اور اسلام پر جوش اور سرگرم معاون ثابت ہوئے۔[Dr. Naureen Talha: Economic Factors in the Making of Pakistan P3]  ڈاکٹر نورین طلحہ کے تحقیقی تجزیے کی معتبر گواہی تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما سردار شوکت حیات کی ہے جنہوں نے 1943ء میں قائداعظم سے ملاقات کی اور قائداعظم نے ان کو کہا ’’ہندوئوں اور انگریزوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے مسلمان معاشی طور پر اس حد تک پسماندہ ہوچکے ہیں کہ مغل شہزادے جو ہندوستان پر حکومت کرتے تھے دہلی شہر میں ماشکی، سبزیاں اور لکڑیاں بیچنے والے مزدور بننے پر مجبور ہوچکے ہیں۔شوکت حیات:
The Nation that last its soul P102.
برطانوی حکومت نے انگریز مصنف ڈبلیو ہنٹر(W. Hunter) کو یہ تحقیق سونپی کہ کیا ہندوستان کے مسلمان اپنے عقیدے کی بناء پر برطانیہ کے خلاف بغاوت پر مائل ہونگے۔ ہنٹر نے رپورٹ دی کہ مسلمان معاشی ابتری اور محرومی کی بناء پر برطانوی حکومت سے مایوس ہیں۔[Indian Musalmans]  علامہ اقبال نے قائداعظم کے نام اپنے خطوط میں مسلمانوں کے معاشی مسئلہ کو اُجاگر کیا۔ قائداعظم نے 24 اپریل 1943ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے تیسویں سالانہ اجلاس دہلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے تصور کے بارے میں وضاحت کی اور ’’آئیڈیا آف پاکستان‘‘ کے الفاظ استعمال کیے۔
’’یہاں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کردینا چاہتا ہوں جو ہمارا خون چوس کر ایسے نظام کے تحت پلے بڑھے جو اس قدر خبیث اور اس قدر فاسد ہے جو انہیں اس درجہ خود غرض بنا دیتا ہے کہ ان کے ساتھ معقول بات کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ عوام کا استحصال ان کی رگ و پے میں داخل ہوگیا ہے۔ وہ اسلام کی تعلیم کو فراموش کربیٹھے ہیں۔ ان لوگوں کی حرص اور خود غرضی نے دوسروں کے مفادات کو اپنے تابع کرلیا ہے تاکہ وہ موٹے ہوتے رہیں۔ ہمارے لوگوں میں لاکھوں ایسے ہیں جنہیں ایک وقت کا کھانا بھی میسر نہیں۔ کیا یہ تہذیب ہے؟ کیا پاکستان کا یہ مقصد ہے؟ کیا آپ یہ تصور کرسکتے ہیں کہ لاکھوں عوام کا استحصال کیا گیا اور انہیں دن میں ایک بار بھی روٹی نہیں ملتی۔ اگر پاکستان کا آئیڈیا(نظریہ) یہ ہے تو میں ایسا پاکستان نہیں لوں گا۔ اگر ان میں عقل ہے تو انہیں خود کو زندگی کے نئے اور جدید حالات سے ہم آہنگ کرنا ہوگا‘‘۔
نظریۂ پاکستان کی اس قدر جامع اور دو ٹوک وضاحت اور کیا ہوسکتی ہے۔ افسوس دانشوروں کی اس اقتباس پر نظر ہی نہیں ٹکتی اور وہ صرف اسلام کے بارے میں اقتباسات کو ہی بار بار کوٹ کرتے  ہیں۔ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے آج تک قائداعظم کے اس فرمان پر عمل نہیں کیا۔ قائداعظم نے 27 فروری 1946ء کو کلکتہ میں ابو الحسن اصفہانی کی رہائش گاہ پر مسلم لیگ کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’مجھے سرمایہ داروں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ میں ایک بوڑھا آدمی ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا دیا ہے کہ میں اس عمر میں آرام کی زندگی بسر کرسکتا ہوں۔ پھر میں اپنا خون پسینہ ایک کیوں کررہا ہوں؟ اِدھر اُدھر مارا مارا کیوں پھر رہا ہوں؟ اس قدر زحمت گوارا کیوں کررہا ہوں؟ یقینا سرمایہ داروں کے لیے نہیں بلکہ آپ کے لیے، غریبوں کے لیے‘‘۔[قائداعظم: تقاریر و بیانات، بزم اقبال، لاہور، جلد سوم، صفحہ 171]
حسین شہید سہروردی اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ بنگال میں تحریک پاکستان کی جنگ ہندو جاگیرداروں اور مہاجنوں کے معاشی استحصال کے خلاف لڑی گئی جبکہ مغربی پاکستان میں مذہبی اور معاشی عوامل مساوی طور پر موجود تھے۔[Memiors PP 22,100]  لیاقت علی خان نے فروری 1947میں متحدہ ہندوستان کے وزیرخزانہ کی حیثیت میں جو بجٹ پیش کیا اسے Poor Man's Budget یعنی غریب آدمی کا بجٹ قرار دیا گیا۔ لیاقت علی خان نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ ’’ارتکاز زر کی بناء پر امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھتا جارہا ہے۔ قرآن اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ دولت چند ہاتھوں میں گردش کرتی رہے۔ خدا نے دولت جمع کرنے والوں کو سخت تنبہیہ کی ہے‘‘۔[Ch. Muhammad Ali: The Emergence of Pakistan P106]
قائداعظم نے 14دسمبر1947ء کو کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’مسلم لیگ نے اس طریقے اور انداز سے پاکستان حاصل کیا ہے جس کی اور کوئی مثال نہیں ہے۔ مسلمان ایک ہجوم تھے اور وہ بددل تھے اور اُن کو معاشی طور پر نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ہم نے پاکستان مسلم لیگ یا اپنے رفقاء کے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے حاصل کیا ہے‘‘۔[قائداعظم: تقاریر و بیانات، بزم اقبال، لاہور، جلد چہارم، صفحہ 397]
پاکستان کے معروف مصنف خالد بن سعید لکھتے ہیں ’’مسلمان متوسط طبقے جنہوں نے مقابلے کی جدوجہد کا آغاز پسماندگی سے کیا تھا ان کو پاکستان کا نظریہ انتہائی دلکش نظر آیا۔ کیونکہ اس کا مطلب تھا کہ مسلم بنک، مسلم صنعتیں، مسلم تجارتی ادارے جو مسلم پاکستان میں قائم ہوں گے۔ جہاں نئی ریاست میں ہندو مقابلے کا خوف نہیں ہوگا‘‘۔[K. B.
 Sayeed: Pakistan, the Formative Phase, P7]
پاکستان کا ایجنڈا معاشی تھا جو آج بھی نامکمل ہے۔ اس ایجنڈے کے مطابق پاکستان کے ہر شہری کو ترقی کرنے کے مساوی مواقع ملنے چاہئیں۔ جب تک اس ایجنڈے پر عمل نہیں کیا جائے گا پاکستان گوناگوں مسائل کا شکار رہے گا۔ قرآن پاک میں رب کائنات نے ضرورت سے زیادہ خرچ کردینے کا حکم دیا ہے۔ سیرت رسولﷺ نے ہمیں مواخات مدینہ کا مثالی ماڈل دیا ہے۔ پاکستان کے دانشور بے مقصد بحثوں میں الجھنے کی بجائے پاکستان کے زمینی حقائق کی جانب لوٹ آئیں۔ جماعت الدعوۃ نے مجاہد پاکستان جناب حافظ سعید کی قیادت میں احیائے نظریہ پاکستان کی تحریک کا آغاز کیا ہے جو بروقت اور خوش آئند ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے لاہور کے سینئر کالم نویسوں سے مشاورت کی سب نے ان کے فیصلے سے اتفاق کیا کہ آج ایک بار پھر تحریک پاکستان کی روح کو بازیاب کرانے کی ضرورت ہے۔ ہرقسم کے تعصبات سے اوپر اُٹھ کر قوم کو متحد کیا جائے تاکہ پاکستان امن اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکے۔ جناب حافظ محمد سعید سے نظریاتی اختلاف اپنی جگہ مگر انہوں نے فلاح انسانیت کے لیے جو قابل رشک خدمات انجام دی ہیں ان کو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر سراہا جاتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ تحریک پاکستان کی اصل روح کے مطابق قوم کو متحد اور منظم کرنے میں کامیاب ہوں۔