چین کی ترقی کا راز

کالم نگار  |  اصغر علی شاد
چین کی ترقی کا راز

اقوامِ عالم کی حالیہ تاریخ میں یوں تو کئی ملکوں نے ترقی کے مراحل طے کیے ہیں مگر جس طرح عوامی جمہوریہ چین نے خود کو گذشتہ دو عشروں میں ایک علاقائی قوت سے عالمی طاقت میں تبدیل کیا ہے ، یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر دنیا بھر کے ماہرین حیران ہے ۔ البتہ یہ امر بھی طے ہے کہ بھلے ہی کوئی ملک چین کا حامی ہو یا مخالف اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ چین نے معجزانہ طور پر ترقی کی منزلیں طے کی ہیں اور آج ایک جانب دوسری بڑی اقتصادی قوت ہے تو اس کے ساتھ دفاعی شعبے میں بھی کسی ملک سے پیچھے نہیں بلکہ اکثر ماہرین متفق ہیں کہ آنے والے چند برسوں میں وہ امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر سب سے بڑی عالمی قوت کی حیثیت اختیار کر لے گا ۔
اسی پس منظر میں 19 دسمبر 2014 کو اسلام آباد میں ” پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ “ اور چینی سفارت خانے کے اشتراک سے ایک تقریب منعقد ہوئی ۔ اس موقع پر چین کے صدر ” شی جن پنگ “ کی تحریر کردہ کتا ب ” دی گوننس آف چائنہ “ کی تقریب ِ رونمائی ہوئی ، جس کا افتتاح صدر پاکستان ” ممنون حسین “ نے کیا ۔واضح رہے کہ پاکستان چائنہ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر مین ” سینیٹر مشاہد حسین سید “ ہیں ۔ چینی وزیر نے اپنے ملک میں ” Rule Of Law “ پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ۔ یہ کتاب در اصل چینی زبان میں لکھی گئی تھی اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی موجود ہے ۔ یہ کتاب اٹھارہ ابواب اور 515 صفحات پر مشتمل ہے ۔اس کا ترجمہ عربی ، فرنچ ، جرمن ، پرتگالی ، سپینش اور دوسری زبانوں میں بھی ہو چکا ہے اور بہت جلد اردو ترجمہ بھی سامنے آنے کی امید ہے ۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پورے بر اعظم ایشیاءمیں اس کتاب کے انگریزی ورژن کی رونمائی کےلئے پاکستان کو چنا جانا اس امر کا مظہر ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی بنیاد کتنی مستحکم بنیادوں پر استوار ہے ۔ اس کتاب کی اہمیت وطن عزیز کےلئے اس لئے بھی بہت زیادہ ہے چونکہ پاکستان میں ہر شعبے میں تمام تر وسائل اور صلاحیت ہونے کے باوجود ملک گورننس کے مسائل کی وجہ سے تا حال قوموں کی برادری میں وہ مقام حاصل نہیں کر پایا ہے جس کا وہ مستحق ہے ۔ یہ کتاب گویا چین کی کرشماتی ترقی کا راز خود میں موجود رکھتی ہے ۔اور اس کے مطالعے سے اس بھید کو پایا جا سکتا ہے کہ کس طرح چین نے محض گذشتہ 25 برسوں کے اندر اپنے 50 کروڑ شہریوں کو خطِ افلاس سے نکال کر متوسط طبقے میں لا کھڑا کیا ۔ یہ اپنے آپ میں اتنا بڑا اقتصادی معجزہ ہے جس پر دنیا بھر کے معاشی ماہرین انگشت بدنداں ہیں اور یہ کتاب چینی صدر چینی صدر کی بچپن سے تاحال مختلف ادوار پر مشتمل 45 دلچسپ اور نادر تصاویر سے مزین ہے۔ یاد رہے کہ چین کی کل آبادی 2013 کے اعداد و شمار کے مطابق 1 ارب 35 کروڑ 73 لاکھ 80 ہزار افراد پر مشتمل ہے ۔
یہاں اس امر کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہو گا کہ چین نے گذشتہ چند عشروں میں عالمی سطح پر اقتصادی،دفاعی اور سفارتی شعبوں میں جو مقام حاصل کیا ہے اسے انٹر نیشنل ریلیشنز کی حالیہ تاریخ میں ایک معجزہ قرار دیا جا سکتا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اپنے چینی بھائیوں کے تجربات سے خاطر خواہ استفادہ حاصل کرےں اور اس دوستی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے وطنِ عزیز کو بھی انھی بلندیوں کی طرف لے جانے کی ٹھوس حکمتِ عملی مرتب کی جائے۔بہر کیف سبھی ماہرین نے دونوں ممالک کے تعلقات کا مختلف حوالوں سے تفصیلی جائزہ لیا ہے ۔جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ حکومتی سطح پر تو یہ تعلقات قابلِ رشک حد تک بہتر ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اور چین کے عوام کے باہمی رابطوں کو فروغ دینے کا موثر لائحہ عمل مرتب کیا جائے ۔
بہر حال اس زمینی حقیقت سے تو کسی بھی اعتدال پسند اور غیر جانبدار تجزیہ کار کو انکار نہیں ہو سکتا کہ وطنِ عزیز پاکستان کے عوام اور سبھی حکومتوں کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ اپنے ہمسایوں سمیت دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ برابری،عدم مداخلت اور باہمی تعاون کی بنیاد پر اچھے تعلقات قائم کیے جائیں اور پاکستان کو اپنے اس مقصد میں بڑی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی۔قوموں کی برادری میں زیادہ تر ملکوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات قابلِ رشک حد تک بہتر ہیں مگر پاک چین تعلقات گذشتہ کئی عشروں سے دنیا بھر میں مثالی نوعیت اختیار کر چکے ہیں ہیں کیونکہ اس دوستی کو نہ تو بدلتے ہوئے موسم متاثر کر سکے اور نہ ہی داخلی ،علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں اس مثالی دوستی پر اثر انداز ہو سکیں گویا یہ تعلقات”نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں “والا معاملہ ہے۔ تبھی تو چین کے سابق صدر ”ہوجن تاﺅ“ نے چند برس قبل اپنے دورہ اسلام آباد کے دوران کہا تھا کہ ”پاک چین دوستی نہ صرف سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے بلکہ یہ شہد سے زیادہ مٹھاس پر مبنی ہے“۔
21 تا 22 مئی 2013 کو اپنے دورہ پاکستان کے دوران اس مثالی دوستی کا تذکرہ کرتے ہوئے چینی وزیرِ اعظم نے چند الفاظ کا مزید اضافہ کیا جب انھوں نے اسے ”سونے سے زیادہ قیمتی اثاثہ قرار دیا“
علاوہ ازیں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے نومبر 2014 کے دورے سے اس باہمی دوستی کو مزید تقویت ملی ہے جس کے مثبت نتائج آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے عوام پر خوش گوار اثرات مرتب کریں گے ۔ انشاءاللہ