قوم کا جواب

کالم نگار  |  مطیع اللہ جان....ازخودی
قوم کا جواب

پشاور آرمی سکول کے معصوم طالبعلموں پر طالبان کا بزدلانہ حملہ قابل نفرت اور مذمت ہے، مگر ہمیشہ کی طرح ہم یہ کہہ کر ضمیر کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ یہ کام کسی مسلمان کا نہیں ہو سکتا، اور پھر ایسے دہشت گردوں کو کافر قرار دے کر ہم اپنے پسندیدہ دشمنوں امریکہ اور بھارت کے خلاف نعرے بازی کے ذریعے پاکستان اور اسلام سے محبت کا ثبوت پیش کرتے ہیں، ایسے میں اگر کوئی یہ کہے کہ ان دہشت گرد تنظیموں کو مذہبی شدت پسند تنظیمیں اور چند ریاستی ادارے تحفظ دیتے ہیں تو کفر اور غداری کے فتوے اچھال دیئے جاتے ہیں، مگر اب پشاور کے المناک سانحہ نے عوام کی آنکھیں کھول دی ہیں اب عام لوگ بھی مذہبی جماعتوں اور چند شدت پسند تنظیموں کی طرف سے پشاور حملے کی نیم دلانہ ، محدود اور مشروط مذمت کی منافقت کو سمجھ چکے ہیں۔ لال مسجد کے سامنے سینکڑوں افراد کا مظاہرہ، اس بات کا ثبوت ہے۔ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی طرف سے پشاور حملے میں ملوث واقعہ کی تو مذمت کی گئی نہیں مگر طالبان کی مذمت کرنے سے ان کے واضح انکار پر عوامی رد عمل قدرتی امر ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ماسوائے ایم کیو ایم کے ریڈی میڈ بھرپور عوامی جلسوں کے دوسری سیاسی جماعتوں نے پشاور حملے پر محض اخباری بیانات پر انحصار کیا۔ اسی طرح اتنے بڑے سانحہ کے بعد تحریک انصاف کا دھرنا ختم کرنا یقیناً قابل تحسین ہے مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ عمران خان اپنے صوبے پشاور میں نہ سہی تو ڈی چوک اسلام آباد میں ہی طالبان کے اس بزدلانہ حملے کے خلاف دس لاکھ افراد اکٹھے کرنے کا اعلان کرتے۔ اسی طرح کپتان نے حکومت گرانے کےلئے جو پلان اے ،بی، سی اور ڈی کا اعلان کیا تھا اگر ایسے ہی کچھ پلان طالبان اور شدت پسند تنظیموں کا ناطقہ بند کرنے کےلئے دیئے جاتے تو بہتر تھا۔ یہ مسئلہ اور مصلحت پسندی صرف تحریک انصاف کی میراث نہیں، پیپلز پارٹی اور حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) بھی ویسے تو سڑکوں پر عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی مشق کرتی رہی مگر پشاور حملے کے خلاف ابھی تک اعلانات و بیانات پر اکتفاءکیا جا رہا ہے۔ دوسری طرح پاکستان کے عظیم ترین جمہوری ادارے پارلیمنٹ نے بھی حسب روایت کمیٹی ڈال دی ہے۔آل پارٹیز کانفرنس نے جس کمیٹی کو جنم دیا ہے شاید یہ کمیٹی بھی اپنی سفارشات مرتب کرنے اور ان پر عملدرآمد کرانے میں اتنا وقت لگا دے گی کہ بہت سوں کی آنکھوں میں اترا خون سفید پڑ جائے گا۔فی الوقت عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کےلئے اخبار کے صفحات اول پر میڈیا کی اخلاقیات کی پھانسی پر لٹکتی تصاویر کی ایک خوراک عوام کے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کےلئے دی گئی ہے۔ ان تصاویر میں ایک دہشت گرد کی پھندے پر جھولتی لاش اور اس کے منہ سے باہر نکلی زبان واضح طور پر میڈیا کے ضابطہ اخلاق اور عوام کامنہ چڑھا رہی ہے، لگتا ہے کہ جیسے یہ میڈیا کے ضابطہ اخلاق کی قبر کے کتبے پر بنا کوئی کارٹون ہے۔کیا پشاور سکول کے شہید بچوں کے خون کا یہی حساب ہے؟ کیا عوام اور شہید بچوں کے والدین کےلئے یہ جاننا ضروری نہیں کہ ایک فوجی کنٹونمنٹ میں اتنے دہشت گردوں کا داخل ہو کر ایسی درندگی کا مظاہرہ کرنا کس کی غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے؟کیا ہمارے عوام اس قابل بھی نہیں کہ ایبٹ آباد میں امریکی حملے اور پشاور کے اندوہناک واقعے کے پیچھے چھپے حقائق و اسباب جان سکےں؟ خدانخواستہ اگر پشاور جیسا واقعہ ملک کے کسی عام سرکاری یا نجی سکول میں ہوتا تو اب تک تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا ملین مارچ رائے ونڈ ، اسلام آباد یا لاڑکانہ میں تمام سرکاری عمارتوں پر قبضہ کر چکا ہوتا اور تھرڈ امپائر نے انگلی کی بجائے بلا اٹھا لیا ہوتا اور ایسے میں دفاعی تجزیہ کار ریاست کے وجود کی آئین پر فوقیت اور قومی سلامتی کے فضائل بیان کر رہے ہوتے۔ مگر پشاور سانحہ کے بعد اب ایسا ہونا ممکن نہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ ریٹائرڈ پنشن یافتہ دفاعی تجزیہ نگار پشاور سانحے کے بعد قومی یکجہتی کا بینڈ بجا کر قوم کو ہم قدم ہونے کی تلقین کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ عمران خان اور طاہر القادری جیسے جارحانہ ناقدین بھی بظاہر حکومت کی اس غفلت اور نااہلی پر خاموش ہیں۔ شاید یہ سب جانتے ہیں کہ غفلت کس کی تھی، کوئی عدالتی کمیشن کا مطالبہ نہیں اور کوئی ایم آئی اور آئی ایس آئی پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تجویز نہیں، یہاں پر آ کر انقلاب اور نئے پاکستان کی بھی گھگی بندھ جاتی ہے، اتنا بڑا سانحہ ہوا اور اس کا ماسوائے دہشت گردوں کے کوئی بھی ذمہ دار نہیں،”اے کم کسے چور دا اے“ اور تو اور ہمارے منتخب وزیر اعظم اور ڈمی وزیر دفاع کو اتنی اخلاقی جرات نہ ہوئی کہ اپنی حکومت اور اداروں کی کوتاہی مانتے ہوئے قوم سے خطاب کر کے اپنے عہدوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیں۔ ہمارے سابق وزرائے اعظموں کی اخلاقی جرات کا معیار بھی کچھ مختلف نہیں رہا۔ گریڈ 22کے سرکاری افسران جیسا کہ آرمی چیف، ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی ”خوشخبری“ سنانے کےلئے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے آدھی رات کو قوم سے خطاب کر ڈالاتھا۔مگر شاید پشاور کا سانحہ منتخب وزیر اعظم پاکستان کے قوم سے خطاب کےلئے کافی نہیں، اسی طرح 14 اگست کو بھی اقتدار کی کرسی ہلتی دیکھ کر نواز شریف صاحب نے قوم سے خطاب کر کے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے فیصلے کا اعلان کیا تھا،تب ماڈل ٹاﺅن میں 14افراد کے قتل کا الزام بھی شریف خاندان اور اس کی جماعت پر لگا تھا۔شاید اسی لئے قوم سے خطاب ضروری ہو گیا تھا۔ ہماری سیاسی بزدلی کی تاریخ بھی پرانی ہے، آصف علی زرداری نے بھی گزشتہ دور میں ایبٹ آباد حملے کو روکنے میں ہمارے اداروں کی ناکامی کو اپنے پانچ سال پورا کرنے کےلئے بخوبی استعمال کیا اور ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کو بھی گڑھی خدابخش میں دفنائے رکھا، اس معاملے پر نواز شریف نے بھی قبر کشائی مناسب نہ سمجھی اور اب پشاور سانحہ کے بعد بظاہررائے ونڈ کے قبرستان میں ایک اور تاریخ کی لاش دفنائی جا رہی ہے۔

ہماری حکومتیں تو مصلحت پسند اور بزدل ہی رہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم عوام پشاور سانحے کے بعد اپنی سوچ میں تبدیلی لائیں گے؟ یا پھر کچھ عرصے بعد پشاور میں شہید ہونے والے بچوں کو ایسے ہی بھول جائیں گے جیسے ہم اپنے جگر گوشوں کو قبرستان میں چھوڑ آتے ہیں؟کیا ہم ان علمائ، مذہبی قائدین اور خطیبوں کے پیچھے یوں ہی نمازیں پڑھتے رہیں گے جو پشاور واقعہ میں ملوث طالبان کی مذمت کرنے سے انکاری ہیں؟ کیا ہم اپنے محلوں کی مساجد کے مولوی اور خطیب حضرات سے صفوں میں بیٹھ کر یہ پوچھ پائیں گے کہ وہ پشاور حملے پر طالبان کی مذمت کرتے ہیں یا نہیں؟ کیا ہم طالبان کےلئے نرم گوشہ رکھنے والے مدرسوں اورخطیبوں کو یوں ہی چندے اور قربانی کی کھالیں دیتے رہیں گے؟ کیا ہم اپنے نکاح اور جنازے پر پشاور سکول کے بچوں کے قاتلوں کے حامیوں کو رسم مذہب و دنیاکےلئے یوں ہی مدعو کرتے رہیں گے؟کیا ہم طالبان کے ہمدرد اور جنت کے ٹریول ایجنٹ مولوی حضرات پر انحصار کرنے کے بجائے کبھی خود بھی قرآن مجید کو پڑھنے کی کوشش کریں گے؟ان سوالوں کا جواب ہم سب جانتے ہیں،اسی لئے یہ بھی جان لیں کہ اگر ان سوالوں کا جواب ہمارے پاس خود بھی نہیں تو پھر حکمرانوں اور دہشت گردوں سے کیا گلہ۔ اگر ہم صحیح معنوں میں اپنی قوم کے اٹھارہ کروڑ عوام کی 36کروڑ آنکھیں، کان اور بازو بن جائیں تو ایسی ظالمانہ کارروائیاں کرنے والے طالبان کےلئے کہیں بھی پناہ لینا ممکن نہیں رہے گا۔ مگر یاد رہے کہ ہمیں اس جنگ میں قانون ،صبر اور اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑنا، جب تک ہم اپنی اخلاقیات اور قانون کا خود احترام نہیں کریں گے اور خود احتسابی کے ذریعے اپنی غفلت کی بیماریوں کی تشخیص اور اس کا علاج نہیں کریں گے تب تک ہم دہشت گردی کے خلاف دل اور دماغ کی جنگ نہیں جیت سکتے۔ہمیں دہشت گردوں کےخلاف فوجی آپریشن کو انتقامی کارروائی کا رنگ دینے کے بجائے آئین و قانون کی بالادستی کا علم اٹھانا ہو گا، ایسی فوجی کارروائیوں میں بھی غلطیوں کا ادراک کرتے ہوئے معصوم شہریوں کو بچانا ہو گا اور میڈیا کو بھی اس جنگ میں فریق بننے کے بجائے ایک منصف کا کردار ادا کرنا ہو گا۔جب تک میڈیا تمام مارے جانے والوں کو بلا حیل و حجت دہشت گرد قرار دیتا رہے گا اس وقت تک یہ جنگ کبھی ختم نہیں ہو گی، اب امتحان حکومت کے ساتھ ساتھ عوام اور میڈیا کا بھی ہے، پشاور حملے کا جواب محض فوج نے نہیں ہم سب نے دینا ہے۔