تذکرہ فرض‘ قرض‘ مرض اور چند کتب کا!

کالم نگار  |  نعیم مسعود
تذکرہ فرض‘ قرض‘ مرض اور چند کتب کا!

سانحہ پشاور کی انتہا کے بعد بہرحال ایک ابتدا کا آغاز ہوچکا۔ ریاستوں کی زندگی کے کچھ موڑ اہداف کے حصول کی نشاندہی بھی کر دیا کرتے ہیں۔ اکثر تخریب تعمیر کا پیش خیمہ بھی ہوا کرتی ہے۔ قوم کا ایک بہت بڑا قرض کئی دہائیوں سے حکمرانوں اور سیاستدانوںکے سر تھا۔ قرض کی ادائیگی اس لئے نہ ہو سکی کہ قائداعظم کے بعد سیاستدان فرض شناسی کا سبق بھول گئے۔ سبق کا بھولنا وہ مرض ہے جو اقوام کو اندر ہی اندر سے کھا جاتا ہے۔ فرض اور قرض سے روگردانی کی مرض کا نتیجہ یہ آج کی دہشت گردی ہے۔ ساری دنیا سے نکل کر انتہاپسند ہمارے گلوں اور گلستانوں کو اُجاڑنے یہاں کیوں اکٹھے ہو گئے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم بے جا لاڈ پیار چھوڑ دیں۔ کوئی مانے نہ مانے پاکستان نے افغانستان‘ ایران اور عراق سے ہمیشہ پیار کیا‘ لیکن ضرورت پڑنے پر ہمیں ویسا جواب نہیں ملا ،وگرنہ کشمیر آزاد ہو چکا ہوتا۔ ہمیں چین اور ترکی نے ہمیشہ سہارا دیا۔ سعودیہ نے بھی بازو پکڑا‘ لیکن اب ضرورت قیادت کی ہے۔ وہ قیادت جو ایران سے عراق تک حتیٰ کہ سعودیہ بھی نہ کر سکا‘ ملائشیا اور انڈونیشیا بھی قیادت نہ کر سکے۔ اب صرف پاکستان کے قحط الرجال ہی کو نہیں‘ امت مسلمہ کے قحط الرجال کو بھی ختم کرنا ہے ۔ امریکہ اور روس کی دینا سے نکل کر اللہ کی دنیا‘ یعنی توحید و سنت کی اصل دنیا‘ تیسری دنیا آباد کرنی ہے جہاں سے صرف ملت اسلامیہ ہی کو نہیں امریکہ سے برطانیہ اور روس تک کو خیرکے پہلو اور مثالیں ملیں۔ ارادوں کی پختگی کا ثمر بھٹو کی مثبت اور پکی نیت پھر ضیاءالحق‘ غلام اسحاق خان‘ بینظیر بھٹواور میاں نوازشریف کی مسلسل جدوجہد سے ایٹمی پاکستان کے قیام سے ملا۔ تحریک پاکستان قیام پاکستان اور ایٹمی پاکستان نظریہ¿ پاکستان وہ باب ہیں جو پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان جب ناقابل تسخیر ہوا تو دشمنانِ پاکستان نے داخلی انتشار کا اُبھار دیا۔ ہاں! اگر خارجی محاذوں پر قابو ممکن ہے تو داخلی محاذوں یا خارجی و داخلی محاذ کے جدید آمیزے پر کیوں نہیں؟ تمام سیاستدان اور ساری قیادتیں محاذوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ اکثریتی قیادتیں جب محمد علی جناح اور اقبال کی قیادت کو اولیاءکی قیادت سے تعبیر کرتی ہیں اور نبی آخرالزمان کی قیادت کو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی قیادت سمجھتی ہیں تو پھر سہما سہما اور رکا رکا سا سماں کیوں؟ سیاسی قیادت اور دانشور سر جوڑ کر بیٹھیں۔ کرگس کے جہاں اور شاہین کے جہاں میں فرق کریں۔ ملا کی اذان اور مجاہد کی اذان کی روح کو سمجھیں‘ جس کیلئے پھانسی ضروری ہے‘ اُسے پھانسی دیں‘ جس کی تفتیش ضروری ہے اُس کی تفتیش اقربا پروری کو بالائے طاق رکھ کر کریں۔ سیاستدان کے قول و فعل کے تضاد کا خاتمہ ضروری ہے۔ طالبعلموں کیلئے قلم و قرطاس اور تحقیق لازمی ہے۔ ماہر معاشیات اپنے فن کا مظاہرہ کرے۔ سول بیوروکریسی اور آرمی فرض منصبی کو فوکس کرے۔ فرض اور قرض کی ادائیگی کا سبق یاد رکھنا ہے۔ اگر یہ مرض ساتھ رہا تو دائمی مرض جینے دیتا ہے نہ مرنے۔ باہمی احتساب اور خوداحتسابی ضروری ہے۔ عام آدمی اور ”سیاست دان“ کی طرح فرض اور قرض کی نادہندگی کے مرض میں ”ہم“ بھی مبتلا ہیں۔ معذرت چاہتا ہوں کہ سیاستدان اور عام آدمی کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا۔ ایک ہی صف میں محمود و ایاز کو کھڑا کرنے کی میرے پاس دلیل تو نہیں‘ لیکن اپنی حد تک مجھے اتنا ضرور معلوم ہے کہ عام آدمی ووٹ دیکر سیاستدان کو عوامی نمائندہ بناتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ عام آدمی ہاتھی کے دانتوں سے اچھی طرح آشنا نہیں ہوتا کہ یہ کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ عام آدمی ہاتھی کو سمجھ بھی پائے‘تو وہ نہیں جانتا کہ یہ ہاتھی بعدازاں ووٹ سفید ہاتھی بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال باوجود اس کے....

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
یہ چاہت رہنی چاہئے۔ چاہت ذوق کو پالتی رہتی ہے اور ذوق ارادے کی پختگی کی آبیاری کرتا رہتا ہے۔ شاید قیادت کو بھی قوم اور قومی ضروریات دریافت اور متشکل کرتی ہیں جیسے قیادت قوم کو منظم اور متحرک کرتی ہے۔ اپنے اپنے حصے کا کام اور اپنے اپنے حصے کی اذان ضروری ہے۔ چارہ گری‘ نجات اور مرہم ضروری ہیں....
یہ جفائے غم کا چارہ وہ نجاتِ دل کا عالم
ترا حسن دستِ عیسیٰ‘ تری یاد روئے مریم
اس سے بڑی مہلک مرض کیا ہوسکتی ہے کہ آپ کے احباب کو تاریخ ساز ی نہیں بلکہ بیٹری چارج کرنے والے انمول تحفوں سے نوازیں اور آپ ان کا شکریہ ادا کرنے کا فرض بھی بھول جائیں۔ اللہ مجھے معاف کرے اور فرض کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے تاکہ روز محشر سیاستدانوں میں سے نہ اٹھایا جاﺅں۔ پچھلے دنوں قیوم نظامی کی کتاب ”معلومات رسول“ ملی۔ حرف حرف تربیت اور لفظ لفظ صداقت عامہ صداقت‘ عبادت اور رحمت کو لفظوں کے موتیوں میں خوب پرویا گیا۔بلاشبہ بلامبالغہ قیوم نظامی کی یہ عمدہ کاوش انہیں دنیا اور آخرت میں خوب سرخرو کر دے گی۔ ”پاکستان کی روحانی اساس“ بھی ایک قابل غور اور قابل مطالعہ تصنیف ہے جس میں پروفیسر محمد یوسف عرفان کی نظریاتی سنجیدگی‘ فکری پختگی اور مخصوص نقطہ¿ نظر کے عناصر سیاسی تاریخی حقائق سنگ سنگ قائداعظم‘ علامہ اقبال‘ کچھ اللہ والے اور آمر جرنیل ضیاءالحق کے عملی اور لاجواب تذکرے سپردقلم ہیں۔ اچھی ہی نہیں‘ بہت اچھی کتاب ہے۔ کاش اس میں ضیائی ضیاع نہ ہوتا۔ اللہ جانے تذکرہ آمر کسی حُب علی کا معاملہ ہے یا بغض معاویہ کا سلسلہ۔ بہرحال تجزیہ نگاروں سے اساتذہ‘ طلباءتک کیلئے یہ بہتر کتاب ہے۔ یوسف عرفان! ہم نے اچھی طرح پڑھ لی۔ اساس کے احساس سے یاد آیا‘ اللہ کرے کہ وہ احساس جو آج کی نسل میں دم توڑ رہا ہے‘ وہ اساس اور احساس زندہ رہے۔ یوسف عرفان اور ان کا قبیلہ یہ کوشش کرتا رہے۔ عبدالستا رعاصم نے بھی قلم و قرطاس سے ایک جہان آباد کیا ہے۔ پانچ جلدوں پر مشتمل یہ ”جہانِ قائد“ اپنے اندر قائداعظم کے فرمودات‘ خیالات‘ پاکستانیات‘ دینیات‘ اخلاقیات‘سیاسیات‘ انسانیات اور نظریاتی موضوعات کی عظیم بستی بسائے ہوئے ہے۔ ”جہانِ قائد“ تحقیق نگار کیلئے انسائیکلوپیڈیا اور عا م طا لبعلم کیلئے ذخیرہ¿ علوم ہے۔ اگر کوئی خوش قسمت سیاستدان استفادہ کرے تو واقعی یہ نسخہ¿ حیات ہے۔ شہر اقبال کے پیارے دوست اور مربی محمد آصف بھلی کی کتاب ”میرے قائد کا نظریہ“ موصول ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ بھلی صاحب پاکستان اور نظریاتی پاکستان کے جرنیل سپاہی ہیں‘ ان کی یہ تحقیق ہے کہ قائداعظم حضور نبی کریم کے سچے پیروکار تھے۔ یہ تصنیف میں وہ تمام دلائل ‘ حوالے اور شواہد موجود ہیں جو قائد کے نظریہ اور نظریاتی پاکستان کی اسلامک جھلک کو عام کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ نظریہ¿ پاکستان حقیقت میں نظریہ¿ اسلام ہے۔ ”میرے قائد کا نظریہ“ پڑھنے کے بعد قائد پر انگلی اٹھانے والے کی انگلی پر نہیں دماغ پر شک گزرتا ہے۔ دوستوں کے تذکرہ شاہکار کو سمجھنے‘ سوچنے اور تذکرہ کرنے میں تاخیر کی۔ مقروض رہا اور فرض کی ادائیگی میں تساہل کی شاہراہ پر گامزن رہا۔ اس عرض پر معذرت!!! ”معلوماتِ رسول“ میں تو اکمل شخصیت اور رحمت اللعالمین کے کمال و جمال کی باتیں ہیں جن میں پیغام امن ہے۔ پیغمبر امن کے ہاں تدبر‘ فکر آخرت اور انسانی حقوق کی سچی‘ سیدھی اور عملی باتیں ہیں جہاں دہشت گردی نہیں بلکہ دو قومی نظریہ کا سبق ہے کہ ایک طرف توحید و سنت والے اور دوسری جانب اس عقیدے کے خلاف۔ گویا سارے مخالفین مل کر توحید و سنت کے دشمن۔ پس توحید و سنت کے پیروکاروں کو چھوٹے موٹے اختلافات کا قلع قمع کرکے یا انہیں فراموش کرکے داعی‘ مربی اور باعمل بننا ہے‘ دہشت گرد نہیں کہ جس سے امت میں طبعی‘ طبیعاتی اور نفسیاتی کمزوری آئے۔ ”پاکستان کی روحانی اساس“ سے ”جہان قائد“ اور ”میرے قائد کا نظریہ“ تک میںآپ اپنی قیادت کو ڈھنگ‘ قوم کا رنگ اور چیلنجوں سے مقابلے کی اُمنگ کے عناصر ملیں گے۔ اصلی نظریہ اور تحقیقی جہان ملے گا جس میں تعمیر ہی تعمیر ہے اور تخریب کی کوئی جگہ نہیں۔ اگر کسی تخریب اور ہشت گردی کی جگہ ہے تو واقعی پھانسی گھاٹ.... پھانسی گھاٹ!!!