پسنی سے گوادر تک

کالم نگار  |  شوکت علی شاہ
پسنی سے گوادر تک

گزشتہ ہفتے وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف نے پسنی سے گوادر تک بذریعہ سڑک سفر کیا۔ 136 کلومیٹر کی کارپٹ روڈ پر ان کی گاڑی بغیر ہچکولے کھاتے چلی۔ راستے میں اکادکا ہوٹل بھی بن گئے جہاں آدمی شب باشی کر سکتا ہے یا اشیائے خورونوش خرید سکتا ہے۔ اسی راستے پر ہزاروں برس قبل سائیرس، سمیرامس اور سکندراعظم نے سفر کیا تھا۔ اس وقت مکران کو گڈروسیہ بولتے تھے۔ سفر اس قدر کٹھن، تکلیف دہ اور جاںگسل تھا کہ تینوں حکمران اپنی فوج کا بیشتر حصہ گنوا بیٹھے تھے۔ تمازت آفتاب سے ریت سلگتی تھی۔ چارسُو اس کی حکمرانی تھی۔ کوئی ویرانی سی ویرانی تھی۔ سپاہ کے حلق سے العتش اور الجو کی صدائیں اٹھتی تھیں۔ یونان سے لے کر ہندوستان تک سکندر کے اتنے فوجی جنگوں میں نہیں مرے تھے جتنے اس دشت بیکراں میں کام آئے۔
1968میں مجھے بھی اس راستے سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔ گو مشینی دور آ گیا تھا جانوروں کی جگہ موٹروں نے لے لی تھی لیکن جن ریت کے پہاڑوں کا ذکر مورخ ARRAIN نے کیا تھا وہ ہنوز سدراہ بنے ہوئے پائے۔ اس یادگار سفر کی روئیداد سنیئے! پسنی سے گوادر تک نہ کوئی بس سروس چلتی تھی اور نہ ہی پختہ یا نیم پختہ سڑک تھی۔ میں اور ملک غلام مصطفی انڈر ٹریننگ تھے۔ ہمیں پسنی سے گوادر جانا تھا لیکن ہمارے پاس سرکاری گاڑی نہیں تھی۔ سوچا کسٹم والوں کی منت سماجت کرکے دیکھتے ہیں۔ یہی سوچ کر ہم کلکٹر کسٹم کے دفتر پہنچے تو انہوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔چائے کے دوران ملک صاحب حرف مدعا زبان پر لانے کےلئے کوئی تمہید اٹھانے ہی والے تھے کہ احمد شاہ کہنے لگے....”ملک صاحب میری خواہش تھی کہ رات کا کھانا آپ میرے ساتھ کھاتے۔ چونکہ میں آج ایک ضروری کام سے گوادر جا رہا ہوں، اس لئے معذرت خواہ ہوں“۔
چائے کی پیالی ملک صاحب کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچی۔ اگر انہیں اپنے جذبات پر قابو پانے کا ملکہ حاصل نہ ہوتا تو ضرور کہہ بیٹھتے۔ شاہ بادشاہ اک واری فیر کہہ (شاہ صاحب ایک دفعہ پھر کہیں) لیکن مسرت کی جو لہر مدوجزر کی طرح ملک صاحب کے چہرے پر ابھری تھی، اسے انہوں نے چائے کے گھونٹ کے ساتھ ہی حلق سے نیچے اتار لیا اور ایک لمحے کے توقف کے بعد میری طرف دیکھ کر کہنے لگے.... ”شوکت! کیسا حسین اتفاق ہے کہ ہم بھی آج ہی گوادر جا رہے ہیں۔ آل رسول کا دیدار ہی باعث ثواب ہے چہ جائیکہ انسان سو میل تک ان کا ہمرکاب رہے۔ مجھے یقین ہے کہ آج کا سفر اس گناہ گار کی نجات کا عنوان بنے گا“۔ اسکے بعد جو انہوں نے آنکھیں بندکرکے خشوع وخضوع سے سر جھکایا تو ایک لمحے کےلئے ہمیں ایسا محسوس ہوا، جیسے تمام کائنات تسبیح پڑھ رہی ہے۔
ملک صاحب کے عارفانہ کلام سے شاہ صاحب بھی مسحور ہو گئے تھے۔ کہنے لگے: چشم ما روشن دل ماشاد! میری اس سے بڑھ کر اور کیا خوش قسمتی ہو سکتی ہے کہ ایسے برائٹ لوگوں کے ساتھ سفر کروں۔ میں آج کا سفر آپ لوگوں کی نذر کرتاہوں“ سفر تو غالباً شاہ صاحب نے ملک صاحب کی نذر کر دیاتھا، اس لئے میرے حصے میں صرف سامان سفر آیا اور اس سلسلے میں انہوں نے کسی بخل سے کام نہ لیا تھا، بلکہ اپنے ڈرائیور کا سامان بھی مجھے ہی سونپ دیا۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے۔ جیپ کی اگلی سیٹ پر ایک تو ڈرائیور تھا جسے بہر طور گاڑی چلانا تھی۔ ایک شاہ صاحب خود تھے جنہیں گاڑی میں پٹرول ڈلوانا تھا اور تیسرے ملک صاحب تھے جن کی بزرگی مجھے فارسی کا مشہور مقولہ ”برادر خورد مباش“ یاد کرانے پر تلی ہوئی تھی، پچھلی سیٹ پر میں بیٹھا تھا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا۔ میری معیت میں بہت کچھ تھا۔ شاہ صاحب کا پان دان، خاص دان، اُگال دان اور اس قبیل کے دیگر نہ جانے کتنے اسباب میرے پہلو میں براجمان تھے۔ شاہ صاحب کا بستر، انکے ڈرائیور کا بستر اور دو تین ٹرنک میرے دونوں طرف سنتریوںکی طرح تنے کھڑے تھے۔ پشت پر ملک صاحب نے اپنا سامان غالباً اس نقطہ نگاہ سے رکھ چھوڑا تھا مبادا میں گھبرا کر چلتی جیپ سے چھلانگ ہی نہ لگا دوں۔ اس پر میرا اپنا سامان مستزاد۔
گاڑی شاہ صاحب کی طرح عمر کے اس مقام پر پہنچ چکی تھی جہاں انشااللہ خاں کا وہ شعر....
نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
پڑھنا پڑتا ہے۔ جب تک گاڑی کھڑی رہی، میرے اور اشیائے متذکرہ کے درمیان ایک قسم کا شریفانہ سمجھوتہ رہا یعنی دونوں عدم تشدد کی پالیسی پر گامزن رہے، لیکن جونہی گاڑی نے پھٹ پھٹا کر ریت پر پھسلنا شروع کیا تو معاہدہ کی دھجیاں بکھرنا شروع ہو گئیں۔ جیسا کہ اگر جنگ میں ہوتاہے، پہلے انفرادی طور پر بہادری کے جوہر دکھائے جاتے ہیں اور پھر گھمسان کا رن پڑتا ہے، یہاں بھی ابتدا کچھ اسی طرح ہوئی۔ سب سے پہلے مراد آبادی پان دان نے پاﺅں پر اچھل کر میری غیرت کو للکارا۔ میں نے اس نازیبا حرکت کو اس کی ظرافت طبع پر محمول کیا اور کوئی راست اقدام نہ کیا۔ اب جو ایک جھٹکا اور لگا تو خاص دان اچھل کر مجھ سے بغل گیر ہو گیا۔ ہر چند کہ یہ حرکت خاصی اوچھی تھی اور میری قمیض پر گُل کاری کے کئی منطقے ابھر آئے تھے۔ ساتھ ہی صندوق میری بغل میں انگلیاں چبھوئے دن کو تارے دکھا رہا ہے توکوئی بستر سر پر مگدر برسا رہا ہے۔ میں کہاں تک مدافعت کرتا؟ اگر ایک طرف سے صندوقوں کو تھامتا تو دوسری طرف سے بستر بند یلغار شروع کر دیتے اور جو بستروں کے آگے ہاتھ جوڑتا تو صندوق برسرپیکار ہو جاتے۔ میں بھی ہمت ہارنے والا نہ تھا، برابر مدافعت کر رہا تھا لیکن میری ہمت اس وقت جواب دے گئی، جب پیچھے سے ملک صاحب کے سامان نے میری گردن کے کس بل نکالنے شروع کر دیئے۔ میں نے بڑی بے بسی سے پیچھے مڑ کر دیکھا اور بے اختیار میری زبان سے نکلا....
جن پر تکیہ تھا، وہی پتے ہوا دینے لگے
فریاد کی لے غالباً کچھ اونچے سروں میں نکلی تھی۔ شاہ صاحب نے پیچھے مڑ کر دیکھا، کہنے لگے: ”شعر پڑھنے کا یہ کون سا موقع ہے؟“ اتنے میں ملک صاحب بھی اپنی گردن پھیر چکے تھے۔ ہنس کر کہنے لگے: ”آپ نہیں سمجھ پائیں گے۔ یہ اپنے خوابوں کے جزیزے گوادر جا رہا ہے، اس لئے ابھی سے من میں لڈو پھوٹ رہے ہیں“۔ اس پر ایک زوردار قہقہ بلند ہوا۔ ظاہر ہے کہ مجھے بھی بادل نخواستہ اس میں شرکت کرنا پڑی۔ بعض قہقہے کتنے اضطراری ہوتے ہیں، بعض ہنسیاں کتنی کھوکھلی ہوتی ہیں، اس حقیقت کو سمجھنے کےلئے کسی علم افلاطون کی ضرورت نہیں ہوتی، تجربات اور حوادث کے جہنم زار سے گزرنا پڑتا ہے۔
سفر کسی طور کٹنا تھا، کٹ گیا۔ شاہ صاحب کی ہم عمر گاڑی نے، جو پہلے ہی پتھریلے راستوں پر چل چل کر ہلکان ہو رہی تھی، جب ریت پر گھسٹنا شروع کر دیا تو ملک صاحب نے مجھے گوادر پہنچنے کی مبارکباد دی۔ کہنے لگے: ”باہر دیکھو، کیا سماں ہے! ہم گوادر کے مضافات میں پہنچ چکے ہیں“۔ میں باہر کیسے دیکھتا، ہر طرف سامان کے حصار کھڑے تھے جن میں گھرے ہوئے باہر دیکھنا تو درکنار، سانس لینا بھی دشوار تھا۔ میں نے کہا: ”آپ کے سامان سے نظر نہیں ہٹتی، نظارے ہم کیا دیکھیں“۔ شاہ صاحب نے اپنی ملائم اور لچکدار گردن ایک دفعہ پھر حسب ضرورت میری طرف پھیری اور کہنے لگے: عزیز من! تمہارا شعری ذوق قابل رشک ہے۔ آخر گاڑی ناظم صاحب کے مکان کے سامنے جا کر رک گئی، اب مزید صبر کا یارانہ تھا۔ جذبہ بے اختیار شوق نے ہر سانس کو دم شمشیر بنا ڈالا تھا۔ لہٰذا جیپ کے سینے سے باہر نکلنے کےلئے ایک ہی جست کافی تھی۔ میں سامان کے کوہستان کو پھلانگتا، مراد آبادی ظروف کو فٹ بال بناتا اور ملک صاحب کے کندھوں سے پھسلتا، باہر لڑھک گیا۔ آنکھیں ٹپٹپا کے میں نے اپنے چارسو دیکھا۔ کیا ہم واقعی گوادر پہنچ گئے ہیں؟ کیا یہی تھا، میرے سپنوں کا جزیرہ؟ کیا یہی تھی وہ چاند کی سرزمین؟ کہاں گئے وہ ناریل کے جھنڈ جن کی کچی سوندھی خوشبو سونگھنے کے لئے میرے نتھنے پھڑک رہے تھے؟ کدھر گئے وہ غزالان چمن جنہیں ایک نظر دیکھنے کےلئے ہزاروں دل دھڑک رہے تھے؟ یہ کیسا فریب ہستی ہے؟ یہ کیسی مجبور سی بستی ہے؟ کہاں گئیں میری نیندیں، کدھر گئے میرے خواب؟ یہ ٹھوکر میں نے پہلی دفعہ نہیں کھائی تھی۔ جذبات کو یہ دھچکا بھی آخری بار نہیں لگا تھا۔ کوئی ویرانی سی ویرانی تھی۔ تمام فضا میں مچھلی کی ناگوار بدبو پھیلی ہوئی تھی جس سے جی متلانے لگا اور دماغ کی رگیں پھٹی ہوئی محسوس ہوئیں۔ حبس سے ہر وقت جسم سے پسینہ پھوٹتا رہتا اور جب نم آلود ہوا چلتی تو لباس چپچپا ہو کر جسم سے چپک جاتا۔ پسنی کی طرح یہاں بھی ریت کے حصار کھڑے تھے۔ میلوں تک ہریالی کا نام و نشان نہ تھا۔ سمندر سے اٹھتی ہوئی دھند مجھے اپنے ذہن پر برستی ہوئی محسوس ہوئی تو میں لڑکھڑاتے قدموں سے مکان میں داخل ہو گیا۔