جمہوریت کی آڑ میں بد سے بھی بدتر آمریت

کالم نگار  |  رحمت خان وردگ....
جمہوریت کی آڑ میں بد سے بھی بدتر آمریت

 میں یہ سمجھتا ہوں کہ موجودہ انتخابی نظام سے اگلے 100 سال تک بھی ملک میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آسکتی بلکہ ہر گزرتے دن کیساتھ ملک میں حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جائینگے۔ الیکشن کمیشن نے متناسب نمائندگی کے تحت انتخابات نہ کراکر پاکستان کو مزید اگلے 5 سال کیلئے سیاسی مافیا کے سپرد کردیا اور ایک ایسے نظام کوتقویت دی گئی جو مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔ موجودہ نظام جمہوریت کے نام پر آمریت کی بد سے بدتر شکل ہے۔ اس نظام میں کیا کوئی عام آدمی میاں نوازشریف‘ آصف زرداری‘ اسفندیار ولی یا کسی ایسے سیاسی لیڈر کے مدمقابل الیکشن میں فتح حاصل کرسکتا ہے جو اربوں روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں؟ یقینا اس بارے میں ملک کی 100% عوام کی ایک ہی رائے ہوگی کہ ’’ناممکن‘‘۔
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے حیران کن طور پر یہ کہہ ڈالا کہ ہم اس ’’گلے سڑے نظام‘‘ کو تبدیل کرینگے۔ خادم اعلٰی کو اقتدار میں آئے دوسری مدت چل رہی ہے یعنی کم و بیش 6 سال سے مسلسل پنجاب میں ان کی حکومت ہے ۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اب موجودہ گلے سڑے نظام کا فائدہ لیکر ساری زندگی اقتدار میں گزارنے والے خود اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ موجودہ نظام گل سڑ چکا ہے۔ یہ اعترافی بیان خوش آئند ہے لیکن یہاں یہ بات سوچنے کی ہے کہ اس گلے سڑے نظام سے چھٹکارے کیلئے کیا ساری زندگی کا اقتدار بھی کم تھا؟ کم از کم گزشتہ 6 سال میں کونسا ایسا اقدام تھا جس پر یہ دعوٰی کیا جاسکے کہ یہ فیصلہ فرسودہ نظام سے چھٹکارے کیلئے اٹھایا گیا ہے؟ میرے خیال میں تو موجودہ حکمرانوں کیلئے گلے سڑے نظام سے چھٹکارے کیلئے خلوص نیت سے اقدامات کا یہ آخری موقع رہ گیا ہے اور اگر نیت ٹھیک ہو تو چند ماہ کے فیصلوں سے ہی سرمایہ دارانہ اور کرپٹ سیاسی کلچر سے ہمیشہ کیلئے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اقتدار پر قابض موجودہ سیاسی مافیا سے یہ امید کربیٹھنا کہ یہ اس کرپٹ سیاسی نظام کے خاتمے کیلئے کچھ کرینگے‘ سراسر خام خیالی ہی ہوگی کیونکہ اگر ایسا ہوگیا تو یہ لوگ پھر آخر کس طرح اقتدار میں آسکیں گے؟ کس طرح پارلیمنٹ لاجز میں عیاشیاں کی جاسکیں گی؟ کس طرح سینکڑوں گاڑیوں کے قافلوں میں سفر کیا جاسکے گا؟ کس طرح سگنل بند کرکے ایمبولینس میں ہی غریب عوام کو تلخ زندگی سے نجات دلائی جاسکے گی؟ کس طرح ایک ماں اپنے شیرخواروں کو بھوک سے نجات دلانے کیلئے اپنی مامتا کا قتل کریگی؟ کس طرح آمنہ بی بی اپنی جان دیکر احتجاج ریکارڈ کرائے گی؟ کس طرح ثقافتی فیسٹیول کے شور میں تھر کے معصوم بچے اس ظالمانہ نظام سے چھٹکارا حاصل کرسکیں گے؟ پھر آخر یہ سب عیش و عشرت اور بیرون ملک اثاثوں میں اضافہ کون قربان کرسکے گا؟ پھر تو ٹیکس بھی پورا دینا پڑے گا اور واقعی پڑھ لکھ کر ڈگریاں ملا کریں گی اور خدانخواستہ میرٹ رائج ہوجائیگی جس سے ایک عام غریب آدمی کا بیٹا ان کے سامنے افسر کی سیٹ پر براجمان ہوجائیگا۔ آخر یہ سب کچھ کس طرح قبول کیا جاسکتا ہے جب انکی تمام آمریت کو مکمل ’’آئینی تحفظ‘‘ بھی حاصل ہو۔اقتدار کے نشے میں ان لوگوں کو عوام کا کوئی احساس نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ بیان ‘ عملدرآمد کرنے کیلئے دیتے ہیں بلکہ صرف عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے وقتی بڑھکیں ماری جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر نوجوان حقائق کی درست ترجمانی کرکے ان لوگوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ڈالر کی قیمت میں کمی کے بعد یہ پوسٹ دیکھنے میں آئی کہ ’’ شیخ رشید نے کہا ہے کہ میرا استعفیٰ اسی سڑک پر پڑا ہے جہاں شہباز شریف نے آصف زرداری کو گھسیٹا ہے‘‘۔ یہ سب تحریر کرنے کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ شہباز شریف کا بیان صرف ’’بیان‘‘ کی حد تک لیا جائے اور ان سے حقیقی تبدیلی کی امید کرنا سراسر بیوقوفی ہی ہوگی۔