ملائیشیا : دوسرا رخ

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
ملائیشیا : دوسرا رخ

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملائیشیا بہت خوبیوں والا ملک ہے ۔حقیقتاً وہاں گھوم پھر کر بڑا لطف آیا لیکن اسکے ساتھ ساتھ کچھ تلخ تجربات بھی ہوئے۔پہلا تجربہ تو شاید میری اپنی بیوقوفی تھی جسکا مجھے آج تک بہت افسوس ہے۔ یہ تجربہ اپنے قارئین کو بتانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ملک سے باہر جا کر میری طرح بیوقوف بن کر نقصان نہ اٹھائیں۔ ہمارا وہاں پہلا دن تھا کہ ہم لوگ گھومنے پھرنے کیلئے نزدیکی مال میں گئے۔ میرے ساتھ میری فیملی بھی تھی ۔ہم گارمنٹ کی ایک دوکان پر کھڑے تھے کہ ایک نوجوان جوڑا وہاں آیا۔شکل و صورت سے سو فیصد پاکستانی لگتا تھا ۔نوجوان نے اپنا تعارف کرایا کہ اسکا تعلق کشمیر سے ہے۔میں کشمیر کا نام سن کر بہت متاثر ہوا کہ یہ لوگ کس قدر ظلم و بر بریت کا مقابلہ کررہے ہیں۔ میرے دل میں اس کیلئے بڑی ہمدردی پیدا ہوئی اور میرا رویہ قدرتی طور پر بہت نرم اور مشفقانہ ہو گیا ۔مقبوضہ کشمیر میں اسوقت کشمیریوں پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ۔جو ظلم و ستم وہ برداشت کررہے ہیں تمام پاکستانیوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ تمام پاکستانیوں کی دلی ہمدردیاں کشمیریوں کےساتھ ہیں ۔جہاں کہیں موقع ملتا ہے ہم پاکستانی کشمیریوں کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔یہی حالت اسوقت میری تھی۔میں نے اسے اپنی طرف سے بہت زیادہ عزت دی۔
یوں بات چیت کرتے کرتے اس نے مجھ سے پوچھا کہ پاکستانی کرنسی میں ہزار روپے کے نوٹ کا رنگ کیا ہے؟ میں نے اپنا پرس کھولا اور ہزار روپے کا نوٹ اسکے ہاتھ میں دے دیا کہ وہ دیکھ لے۔اسوقت میرے پرس میں چند ہزار پاکستانی نوٹ، چند ہزار ملیشیائی رنگٹ اور درمیان میں 8سو ڈالرز تھے۔ جونہی میں نے پرس کھولا اور اسے نوٹ نظر آئے تو اس نے تیزی سے تمام نوٹ نکال لئے ۔میرا خیال تھا کہ شایدپاکستانی کرنسی دیکھنا چاہتا ہے اس لئے میں خاموشی سے اسکے ہاتھوں کی طرف دیکھتا رہا کہ کوئی گڑ بڑ نہ کرے۔ اس نے چند سیکنڈ نوٹس الٹ پلٹ کئے اور پھر میرے پرس میں رکھ دئیے ۔میںنے اسے ظاہری طور پر کسی قسم کی ہیری پھیری کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ویسے بھی اسے کشمیری سمجھتے ہوئے اسکی ذات پر کسی قسم کا شک کرنا بھی میں نے مناسب نہ سمجھا۔ میں نے خاموشی سے اپنا پرس جیب میں رکھ لیا۔یہ بات میرے ذہن میں ہی نہ گئی کہ یہ شخص کوئی گڑ بڑ بھی کر سکتا ہے۔ ٹھگ یا فراڈیا بھی ہو سکتا ہے۔تھوڑی دیر بعد وہ تو موقع سے کھسک گئے۔ مجھے بھی فوری طور پر پیسوں کی ضرورت پیش نہ آئی اس لئے پرس کھولنے کی نوبت پیش نہ آئی۔ دوسرے دن عید تھی تمام دفاتر اور بنک بند تھے تو شام کو میں ڈالرز تبدیل کرانے کیلئے مال کے ایک کرنسی ڈیلر کے پاس گیا۔ جب پرس کھولا تو سات سو ڈالرز غائب تھے۔اپنی بیوقوفی اور کشمیر کے نام پر ایک شخص پر اندھا اعتماد کرنے پربہت افسوس ہوا ۔جس دوکان پر یہ واقعہ ہوا تھا ان سے رابطہ کیا کیونکہ وہاں کیمرے لگے تھے لیکن انہوں نے اپنی مجبوری ظاہر کی۔ پولیس سے بات کی تو پولیس کے مطابق ملیشین تو ایسا کام نہیں کرتے۔ ایسا کام صرف پاکستانی یا کبھی کبھار بھارتی کرتے ہیں ۔بہر حال پولیس کیمطابق بھی فراڈ کرنے والے شخص کو ڈھونڈھنا ممکن نہ تھا۔ لہٰذا صبر کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ پولیس نے مزید وارننگ دی کہ وہاں فراڈ ئیے بہت ہیں جو معصوم سیاحوں کو لوٹتے ہیں۔ اکثر جیب سے پرس اڑا لیتے ہیں۔ رش میں خواتین کے پرس بھی خالی کر دیتے ہیں لہٰذا محتاط رہیں۔
بد مزگی کا دوسرا واقعہ ہمیں آخری دن ائیر پورٹ پر پیش آیا۔ ہم نے واپسی کیلئے یکم جولائی کی سیٹیں بک کرا رکھی تھیں۔یہ سفر ہم نے ملائیشیا کی ”ملنڈو“ ائیر لائن کے ذریعے کوالالمپور سے لاہور تک کرنا تھا۔ فلائیٹ کا وقت شام ساڑھے پانچ بجے تھا۔ انٹر نیشنل پروازوں کے قانون کیمطابق ہوائی سفر کے مسافروں کو فلائیٹ ٹائم سے کم از کم تین گھنٹے پہلے پہنچنا ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم ٹھیک اڑھائی بجے ائیر پورٹ پر پہنچے اور سامان جمع کرا کر بورڈنگ پاس لے لئے۔اسی دوران پتہ چلا کہ فلائیٹ لیٹ ہے اور یہ ساڑھے پانچ کی بجائے ساڑھے نو بجے روانہ ہو گی۔
ائیر لائن نے ہمیں 20-20 رنگٹ کے کوپن دئیے کہ ائیر پورٹ پر واقع میکڈونلڈ ہوٹل سے 20 رنگٹ تک کھانا کھا لیں۔کھانے کا تو اتنا بڑا مسئلہ نہ تھاجتنا طویل انتظار کا تھا۔7گھنٹے لگاتار انتظار مجبوراً کرنا پڑا۔ کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر 9بجے ہم مقررہ گیٹ پر پہنچے جہاں سے ہم نے جہاز میں سوار ہونا تھا۔ وہاں اور بھی بہت سے پاکستانی اکٹھے تھے۔ان میں خواتین ،بچے اور کچھ بزرگ قسم کے لوگ بھی شامل تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ ابھی ہمیں بلا کر سوار ہونے کیلئے کہا جائیگا ۔اسی انتظار میں ساڑھے نو ہو گئے لیکن بلاوا نہ آیا ۔اب گیٹ پر گئے۔ فلائیٹ انفارمیشن بورڈ پر نظر پڑی تو فلائیٹ کا وقت ساڑھے نو سے رات کے 12بجے کردیا گیا تھا۔ ٹائم کی تبدیلی کا پڑھ کر سخت مایوسی ہوئی سب پاکستانیوں کے چہرے لٹک گئے۔ایکدفعہ پھر انتظار کرنا مقدر ٹھہرا۔سوتے جاگتے پھر بیٹھ گئے۔
رات کے ساڑھے گیارہ بجے اعلان ہوا کہ سب لوگ اپنی اپنی سیکورٹی کلیر کرا کر بورڈنگ لاﺅنج میں پہنچیں۔ لہٰذا وہاں چلے گئے۔ امید بندھی کہ اب کی دفعہ وقت تبدیل نہیں ہوگا فلائیٹ روانہ ہو گی۔بیٹھے بیٹھے رات کے 12بج گئے لیکن جہاز میں سوار ہونے کا اعلان نہ ہوا۔ مسافروں میں سخت بے چینی پھیل گئی ۔کچھ مسافر ایسے بھی تھے جنہوں نے گذشتہ دوپہر سے کچھ نہیں کھایا پیا تھا۔کچھ بچوں نے پانی کی ڈیمانڈ کی۔وہاں کوئی دکان نہیں تھی جہاں سے پانی خریدا جا سکے۔ائیر پورٹ کے ڈیوٹی سٹاف کو پانی کیلئے گزارش کی مگر انہوں نے جواب دینا بھی مناسب نہ سمجھا۔انفارمیشن بورڈ کی طرف دیکھا تو وہاں اب روانگی کا وقت تبدیل کر کے اڑھائی بجے کر دیا گیا تھا۔ اسی دوران بھارت اور نیپال کی فلائٹس وقت پر روانہ ہوئیںتو تمام مسافروں میں مایوسی تو تھی ہی اب غصہ بھی بڑھ گیا۔ ایک خاتون نے کھڑے ہو کر تمام مسافروں کو شرم دلائی کہ بھارت اور نیپال کی فلائٹس جا رہی ہیں جبکہ یہ لوگ ہم پاکستانیوں کو کل سے بیوقوف بنا رہے ہیں۔
ہر تھوڑی دیر بعد فلائیٹ کا وقت اڑھائی گھنٹے بڑھا دیتے ہیں۔ رات کے اسوقت وہاں کوئی سٹاف موجود نہ تھا سوائے سیکورٹی سٹاف کے ۔لہٰذا ہم تمام مرد اکٹھے ہو کر انکے پاس گئے۔ ان سے منیجر سے ملوانے کی درخواست کی ۔دوسرا لاﺅنج میں کافی ٹھنڈ تھی بیٹھنا نا ممکن تھا۔ لہٰذا کمبلوں کی بھی درخواست کی۔ائیر پورٹ کے قانون کےمطابق اگر فلائیٹ8 گھنٹے یا اس سے زیادہ لیٹ ہو تو انتظامیہ مسافروں کو ہوٹل دینے کی پابند ہے۔ تمام گزارشات سٹاف کے گوش گزار کر کے ائیر پورٹ منیجر سے ملنے کی درخواست کی مگر سیکورٹی سٹاف کا رویہ کافی تحقیر آمیز تھا۔ خواتین سٹاف سے ہم نے دو گھنٹے مغز ماری کی مگر انکی طرف سے کوئی ردِ عمل بھی سامنے نہ آیا۔ مرد سیکورٹی حضرات نے الٹا ہمارا مذاق بنا لیا ۔بجائے ہمیں منیجر سے ملوانے یا ہماری شکایات دور کرنے کے وہ ساتھ کھڑے کسٹم سٹاف سے گپ لگاتے اور ہنستے۔ ہم نے انہیں بہت شرم دلائی کہ ہم آپ کے مہمان ہیں۔ آپکی ائیر لائن کی عزت کا سوال ہے لیکن زمیں حنبد نہ جنبد گل محمد۔ تنگ آکر مردوں نے ”ملنڈو“ ائیر لائن کیخلاف نعرے لگانے شروع کر دئیے لیکن اسکا بھی ان پر کوئی اثر نہ پڑا ۔مسافروں میں ایک نوجوان پٹھان تھا جو غالبا وہاں مزدوری وغیرہ کرتا تھا۔ مقامی زبان سے بھی واقف تھا۔اسکی والدہ کا صبح نو بجے جنازہ تھا جس کیلئے وہ چھٹی جا رہا تھا۔اس نے بہت منت سماجت کی لیکن مسئلہ حل نہ ہوا۔غصے میں آکر اس نے زور زور سے چلانا شروع کر دیا۔”یہ لوگ بے غیرت ہیں“۔ ایک صاحب کی بہن کی شادی تھی اور گیارہ بجے بارات آنی تھی۔ اسی طرح اور بھی لوگوں کے مسائل تھے۔سب نے اپنی اپنی کوشش کی لیکن شنوائی کسی کی بھی نہ ہوئی۔ اڑھائی بجنے پر انہوں نے پھر وقت تبدیل کر کے ساڑھے پانچ بجے لکھ دیا۔اتنی دیر میں کچھ بیکار قسم کے کمبل تو انہوں نے مہیا کئے لیکن یہ اتنے چھوٹے اور بیکار تھے جن سے سردی نہ رکتی تھی۔ نعرے لگا لگا کر بھی اب ہم تنگ آچکے تھے۔سٹاف کا رویہ کسی حد تک تحقیر آمیز اور غیر مہذب ہی رہا جس سے ہم سب مایوسی کا شکار ہو گئے کہ نجانے فلائیٹ چلتی بھی ہے کہ نہیں ۔ہمیں اس بات کا بھی بہت دکھ تھا کہ بھارت اور نیپال کی فلائٹس تو چلی گئیں پاکستان کیساتھ ایسا رویہ کیوں؟باقی وقت ہم نے دعائیں مانگ مانگ کر گزارا۔ سردی سے تنگ آئے ہوئے لوگ لاﺅنج سے باہر آکر بیٹھ گئے۔ ائیر پورٹ سٹاف نے ہمارے رویہ سے گھبرا کر مزید سیکورٹی سٹاف اور پولیس بلالی جو ہماری روانگی تک وہاں رہی۔ خدا خدا کر کے صبح کے ساڑھے چھ بجے فلائیٹ وہاں سے روانہ ہوئی۔یوں ہم نے سولہ گھنٹے بھوکے پیاسے رہ کر با امر مجبوری اور بے بسی ملائشین ائیر لائن کی میزبانی کا لطف اٹھایا۔
کسی نے ٹھیک کہا ہے کہ:
All is not well that does not end well.
........ ........................ (ختم شد)