پاکستانی عوام آج بھی کسی مسیحا کی تلاش میں ہیں

کالم نگار  |  سید نصیب اللہ گردیزی

قائداعظمؒ سے کسی نے سوال کیا کہ آپ سنی ہیں یا شیعہ تو انہوں نے برجستہ جواب دیا کہ مجھے بتا¶ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سنی تھے یا شیعہ۔ وہ شخص جواب سن کر خاموش ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ میرا دین‘ میرا مسلک وہی ہے جو آپ کا تھا اس شاطر اور سازشی شخص نے دوسرا سوال کیا کہ پاکستان کا آئین برطانوی طرز کا ہو گا‘ سکیولر ہو گا یا کوئی اور....؟ قائداعظمؒ نے فوراً جواب دیا کہ ہمارا آئین اور دستور وہی ہو گا جو چودہ سو سال قبل قرآن پاک آپ پر نازل فرمایا گیا۔ اوراس کو مکمل ضابطہ حیات قرار دیا ہے اور یہی سوچ اور فکر تحریک پاکستان میں بھی شامل تھی جس کا نعرہ تھا۔ پاکستان کا مطلب لاالہ الاللہ محمد رسول اللہ۔ قائداعظم نے کئی بار یہ بھی کہا تھا کہ ہم صرف زمین کے ٹکڑے کے لئے جدوجہد نہیں کر رہے بلکہ پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کیلئے حاصل کر رہے ہیں۔ دنیا کی پہلی نظریاتی مملکت ریاست مدینہ حضرت محمد کی قیادت میں قائم ہوئی۔ پاکستان دنیا کی دوسری نظریاتی ریاست ہے جو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوئی۔ پاکستان بننے کے فوراً بعد قائداعظمؒ رحلت فرما گئے اور ان کا خواب بھی ادھورا رہ گیا۔ انکے قریبی ساتھیوں کی زندگیوں نے بھی زیادہ دیر وفا نہ کی اور یکے بعد دیگرے اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ جس کی وجہ سے ابن الوقت اور طالع آزما لوگوں کو پاکستان کے مقدر سے کھیلنے کا موقع مل گیا۔ 1958ءمیں جنرل محمد ایوب خان نے ملک میں پہلا مارشل لاءنافذ کر دیا۔ اپنے 10 سالہ دور اقتدار میں ایوب خان سے بے شمار غلطیاں بھی ہوئیں اور بے شمار ترقیاتی کام بھی ہوئے۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی اور صنعتی ملک ہے۔ انہوں نے دونوں شعبوں کیلئے مضبوط منصوبہ بندی کیا اور پاکستان کا پہلا ڈیم (منگلا ڈیم) تعمیر کیا اور ایشیا کا دوسرا بڑا منصوبہ تربیلا ڈیم تعمیر کرایا۔ بہترین نہری نظام قائم کیا۔ زرعی یونیورسٹی اور زرعی ترقیاتی بنک قائم کیا۔ زرعی ریسرچ سنٹر بنائے۔ پاکستان کے ہر بڑے شہر کے قریب انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کیں۔ جس سے لاکھوں لوگوں کو روزگار میسر ہوا اور ملک ترقی کی راہ پر چل پڑا۔ انہوں نے یادگار قرارداد پاکستان کا مینار تعمیر کیا۔ بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ محمد علی جناح کا مقبرہ تعمیر کرایا اور ان کا سب سے بڑا کارنامہ راولپنڈی کے قریب ایک نیا و جدید شہر (اسلام آباد) تعمیر کرکے وفاقی دارالحکومت کو کراچی سے یہاں منتقل کرنا تھا۔ آج یہ سوچ کر روح کانپ اٹھتی ہے کہ اگر آج وفاقی دارالحکومت کراچی میں ہوتا تو کیا ہوتا۔۔۔؟ ان سب کارناموں کے باوجود فیلڈ مارشل ایوب خان کا یہ جرم کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے قائداعظمؒ کے اسلامی جمہوری پاکستان میں پہلا مارشل لاءلگایا۔ دوسرا بڑا جرم مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابات میں جیت کو دھاندلی کے ذریعے شکست میں تبدیل کیا۔ وہ مادر ملت جنہوں نے تحریک پاکستان میں اپنے عظیم بھائی کے شانہ بشانہ جدوجہد کی اور اپنی ذاتی زندگی کی ہر خوشی قربان کر دی۔ یہاں تک کہ انہوں نے شادی بھی نہ کی۔ دن رات کی تگ و دو کے بعد برصغیر کی خواتین کو منظم کیا تو تحریک پاکستان اپنی کامیابی کی منزل کے قریب پہنچی۔ ایوب خان کے چہیتے جو انہیں ڈیڈی کہہ کر پکارتے تھے اور ان کی کابینہ میں دس سال تک وزیر اور وزیر خارجہ کے قلم دان سنبھالنے والے ان کے قابل اعتماد‘ سیاہ اور سفید کے مالک ذوالفقار علی بھٹو نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان سے ناراض ہو گئے اور انہوں نے ایوب خان کے خلاف ایجی ٹیشن شروع کر دی۔ اپنی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور اس کے منشور میں روٹی‘ کپڑا اور مکان کا نعرہ یا اور عوام نے ان کو اپنا (مسیحا) سمجھ کر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں ایوب خان کی لگائی ہوئی صنعتوں‘ بینکوں اور دیگر اداروں کو نیشنلائز کر دیا اور دن بہ دن صنعتیں خسارے میں جانا شروع ہو گئیں بہت سارے یونٹ بند ہو گئے۔ بہت سارے یونٹ ہڑتالوں‘ جائز ناجائز مطالبات کی بھینٹ چڑھا دئیے گئے۔ اور اس طرح ملک کی ترقی کا پہیہ رک گیا۔ اور ایک ایسا وقت آیا کہ آٹا‘ چینی‘ مٹی کا تیل و دیگر اشیائے ضرورت پر راشن بندی کر دی گئی۔ ایک گھر میں اگر دو افراد کام کرتے تھے تو ایک سارا دن راشن ڈپو لائن میں لگا رہتا اور دوسرا مزدوری کرتا اس طرح گھر کے چولہے بھی ماند پڑ گئے۔ 1973ءکا آئین بنانے کا بہت کریڈٹ لیا گیا کہ ہم نے ملک کو آئین دیا لیکن اس آئین پر عمل درآمد کیلئے پارلیمنٹ کے اندر آواز بلند کرنیوالے معزز ممبران اسمبلی کو ایوان سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا اور آئین کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ صوبہ سرحد میں مفتی محمود کی منتخب حکومت کو غیر آئینی طور پر ختم کر دیا گیا اور بلوچستان میں بلوچ قوم کے جائز مطالبات ماننے کی بجائے ان پر فوج کشی شروع کر دی گئی۔ آزاد کشمیر کی منتخب حکومت کو بھی غیر آئینی طریقے س FSF کے ذریعے ختم کر دیا گیا۔ قومی انتخابات میں اتنی دھاندلی کی گئی جس کی نظیر پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ ان تمام خرابیوں کے وجہ سے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئیں اور انہوں نے 9 جماعتوں پر مشتمل قومی اتحاد کے نام سے ایک بڑی تحریک کا آغاز کر دیا جو بعد میں تحریک نظام مصطفی کے نام سے مشہور ہوئی۔ لوگوں نے ان کو اپنا (مسیحا) سمجھتے ہوئے ان کا بھرپور ساتھ دیا کئی کئی ماہ کاروباری ادارے بند رہتے‘ صنعتی کارکنوں نے‘ کاشتکار طبقے نے‘ علماءنے‘ وکلاءنے‘ غرضیکہ ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے اس تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ ہمارے خیال میں یہ تحریک پاکستان کے بعد پاکستان میں سب سے بڑی تحریکی جدوجہد تھی جس میں لوگوں نے اپنی جانیں بھی قربان کیں‘ قید و بند کی صعوبتیں اور بھوک ننگ بھی برداشت کی لیکن ان کی ان ساری قربانیوں کے بعد جنرل ضیاءالحق نے مارشل لاءلگا دیا۔ اور انہوں نے 10 سال تک اسلام کے نام کو استعمال کیا اور 1985ءمیں غیر جماعتی انتخابات کروا کر بے شمار خرابیوں کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اس طرح ملک سے جمہوریت کا وجود ختم ہوتا رہا۔ 1988ءمیں بے نظیر کی مخلوط حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے بھی 1973ءکے آئین کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ اقربا پروری‘ کرپشن‘ ذاتی پسند و ناپسند کے علاوہ ایسے معاہدات کئے جس سے پاکستان کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچا اور عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا۔ بھارت کے وزیراعظم راجیو گاندھی جب پاکستان کے دورے پر آئے تو انہیں خوش کرنے کیلئے کشمیر ہا¶س‘ کشمیر کونسل اور کشمیر نام کے تمام بورڈ اتار دئیے گئے۔ جس کی وجہ سے وہ سکیورٹی رسک قرار دے دی گئی۔ مسلم لیگ (ن) کے میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں تحریک نجات کا آغاز کیا جس میں عوام نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ بالآخر بے نظیر کی حکومت ختم ہوئی‘ نئے الیکشن میں میاں نواز شریف نے اکثریت حاصل کی اور وہ پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں موٹروے جیسے قومی منصوبے شروع کئے اور ملک بھر میں بے شمار ترقیاتی کام کروائے‘ تجارت کو فروغ دیا اور بھیک مانگنے والے کشکول کو توڑنے کا اعلان کیا ۔ دوسرے دور حکومت میں میاں محمد نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کی جغرافیائی‘ نظریاتی سرحدوں کو مضبوط سے مضبوط تر بنا دیا کہ پھر ان کی حکومت پر شب خون مار دیا گیا اور جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاءلگا دیا۔ عمران خان بھی ملک میں تبدیلی کا نعرہ لے کر نکلے تو پسی ہوئی قوم نے ان کو (مسیحا) سمجھتے ہوئے ان کی بھی بھرپور پذیرائی کی۔ انہوں نے تقریباً ہر جگہ چھوٹے بڑے جلسے کئے اور ایک مثالی جلسہ مینار پاکستان کے مقام پر کیا۔ اس کامیاب جلسہ کے بعد لوگ جوق در جوق ان کی جماعت میں شامل ہونا شروع ہو گئے۔ اس میں جاگیردار‘ وڈیرے‘ سرمایہ دار اور ہمیشہ اقتدار میں رہنے والے خاندانوں کے لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اس بڑھتی ہوئی قوت کو دیکھتے ہوئے انکے تیور ہی بدل گئے اور انہوں نے اپنے ان کارکنوں کو نظرانداز کرنا شروع کر دیا جو پارٹی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے جنہوں نے اپنا سب کچھ قربان کرکے عمران خان کو اس مقام تک پہنچایا تھا۔ اسی طرح طاہر القادری صاحب پانچ سال ملک سے باہر رہنے کے بعد کینیڈا سے ایک نیا نعرہ ”سیاست نہیں ریاست بچا¶“ لے کر ظاہر ہوئے۔ اور انہوں نے اسلام کے نام پر لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور ایک بڑا جلسہ مینار پاکستان میں کر ڈالا۔ جلسہ میں عوام نے ایک بار پھر بھرپور شرکت کی اور سمجھا کہ شاید یہ وہ (مسیحا) ہے جو پاکستان کی تقدیر بدل سکتا ہے‘ جو واقعی سیاست نہیں ریاست کا حامی ہے۔ لیکن انکے دھرنے کا ڈراپ سین بذات خود ایک سوالیہ نشان بن کر تاریخ اوراق میں لکھا جائے گا۔ یہ قوم ہر آزمائش میں پوری اتری ہے۔ دشمن ملک پر جنگ مسلط کر دے تو سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں۔ ملک میں زلزلہ آئے‘ سیلاب آئے یا کوئی اور آفت‘ تو اپنے مصیبت زدہ بہن‘ بھائیوں کیلئے اپنا سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔ اسلام دشمن قوتوں اور دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ ایسی محب وطن اور مخلص قوم شاید ہی دنیا کے کسی کونے میں پائی جاتی ہو۔ لیکن بدنصیبی سے 65 سال گزرنے کے باوجود وہ آج بھی کسی (مسیحا) کی تلاش میں ہیں۔ عوام ان سارے تجربات سے گزر چکی ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ تجزیہ کریں اور پاکستان کے وسیع تر مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آمدہ انتخابات میں ایسی محب وطن قیادت کو منتخب کریں جو واقعی ان کے لئے (مسیحا) ثابت ہوا۔ اور پاکستان کو بین الاقوامی برادری میں اپنا کھویا ہوا مقام واپس دلا سکے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔