زندگی پر مسلط درندگی

کالم نگار  |  ڈاکٹر علی اکبر الازہری

انسان اور حیوان کی زندگی میں بنیادی فرق یہی ہے کہ انسان منظم معاشرتی زندگی گزارتا ہے جبکہ حیوانات کسی نظم و ضبط اور قانون کے پابند نہیں ہوتے۔ منظم معاشرے وجود میں لانے کیلئے تاریخ نے طویل سفر طے کیا ہے۔ اس نظم اجتماعی میں تعلیم و شعور کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا ہے۔ علاوہ ازیں تحمل، برداشت، احترام آدمیت اور کچھ اخلاقی اقدار ہوتی ہیں جو تشکیل معاشرہ میں بنیادی رول ادا کرتی ہیں۔ مذہب کی ضرورت بھی اسی لئے پڑتی ہے کہ وہ انسان کو کچھ نہ کچھ اخلاق حسنہ کا پابند بناتا ہے۔ جہاں تک اسلام کی مذہبی تعلیمات کا تعلق ہے وہ تو از اول تا آخر پرامن، باوقار اور نفع بخش معاشرتی اقدار کا مجموعہ ہے۔ اسلامی شرعی ضابطے ہوں یا اسکی عبادات و معاملات ہر کہیں توازن اعتدال اور انسانی نفسیات کا لحاظ رکھا گیا ہے اس لئے کہ یہ قوانین اور ضابطے اسی ذات نے آخری دین کے طور پر اپنی مخلوق کیلئے ارسال فرمائے ہیں جو انسانوں کے وجود اور ان کی روحانی و مادی ضرورتوں کا خالق ہے۔ لہذا ہر دور کے سلیم الفطرت انسانوں نے اسلام کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں کو اسکے سپرد کرنے میں تامل نہیں کیا۔ بات انسانی اور حیوانی معاشروں کے فرق کی ہورہی ہے اس فرق میں ایک نمایاں عنصر عداوت اور دشمنی بھی ہے۔ عداوت اور دشمنی وہاں ہوتی ہے جہاں اغراض و مقاصد کا ٹکراﺅ ہوتا ہے۔ انسانی خواہشات لامحدود ہیں۔ تاریخ کی بڑی خونی جنگیں انسان کی اسی نفسیاتی مسئلے کی وجہ سے لڑی گئیں اور تاقیام قیامت لڑی جاتی رہیں گی۔ مذہب، قانون، تہذیب اور ثقافت نے بتدریج انسانوں کو اسی لئے پرامن بقائے باہمی کی طرف لانے کی کوشش کی ہے۔ انبیائے کرام نے اپنے اپنے ادوار میں جتنی کاوشیں فرمائیں ان کا مقصد انسان کی حسن تربیت رہا۔ حتی کہ حضور تاجدار کائنات جس دین متین کو لے کر مبعوث ہوئے وہ دین بھی انسانوں کی بہتر سماجی حیثیت قائم کرنے اور انہیں حقیقی کامیابی سے ہمکنار کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ دشمنیاں اور عداوتیں تو پہلے دن سے انسانوں کی ہم رکاب رہیں۔ ہابیل اور قابیل ابوالبشر سیدنا آدم ہی کے دو بیٹے تھے جن کے درمیان پہلی جنگ ہوئی مگر انسانیت کا قافلہ رکا نہیں چلتا رہا اور اسی قافلے میں انبیاءو رسل بھی پیدا ہوتے رہے۔ نبی آخرالزماں نے مدینہ منورہ کا جو معاشرہ تشکیل فرمایا اس کے قیام میں بھی جنگیں اور مخالفیں پیش آئیں مگر مقصد چونکہ فلاح انسانیت اور قیام امن تھا اس لئے یہ عداوتیں محبتوں میں ڈھلتی گئیں اور جنگیں بھائی چاروں میں بدلتی گئیں۔ قرآن نے خصوصی طور پر اس معاشرہ کی منظر کشی کی ہے جہاں حضور کے اسوہ حسنہ نے تباہی کے گڑھے میں گرتی ہوئی انسانیت کو پکڑ کر شاہراہ حیات پر گامزن کیا۔ ایمان کی نعمت سے سیراب وفا کو کالے اور گورے عربی اور عجمی کا فرق مٹاڈالا۔ اس پس منظر میں وطن عزیز کی خوں آلودہ فضائیں ہم سے سوال کررہی ہیں کہ یہ معاشرہ انسانوں کا مسکن ہے یا خونی درندوں کا؟ ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے پر نظر دوڑائیں ہر طرف ٹارگٹ کلنگ اور خودکش بم حملے جارہی ہیں۔ کوئٹہ بلوچستان کا دل ہے جہاں صدیوں سے پختون، بلوچ، ہزارہ برادری اور دیگر قبائل پرامن طور پر آباد ہیں۔ اسلام نے تو ان نسلی بتوں کو توڑ کر انہیں بھائی بھائی بنادیا تھا مگر اب اچانک یہ نسلی، لسانی اور مسلکی زہر کہاں سے امڈ پڑا؟ یہ کونسی ابلیسی تحریک ہے جس نے باہم شیر و شکر لوگوں کو ایک دوسرے کا خون بہانے میں لگادیا ہے۔دنیا بھر میں مذاہب و مسالک ہمیشہ سے موجود رہے ہیں مگر انسانی معاشروں کی خوبی رہی ہے کہ وہ اختلافات کو دلائل اور منطق سے حل کرتے ہیں۔ فرض کریں شیعہ، سنی اعتقادی جھگڑے صدیوں پرانے ہیں مگر ایسا کب ہوا کہ ایک گروہ نے اپنی ”سپاہ“ بنالی ہو اور دوسرے نے اپنا لشکر۔آخر ایسی کیا آفت آن پڑی ہے کہ ہر گروہ کے دفاع کیلئے مسلح سپاہ کی ضرورت پڑ گئی ہے۔  مسلمانوں کے درمیان تکفیری مہمات سمجھنے اور ان کی حتی المقدور بیخ کنی کی ضرورت ہے۔ فساد فی الارض کی ہر شکل کو جب اسلام منع کرتا ہے اور فسادی افراد اور گروہوں کو قابل گردن زدنی سمجھتا ہے تو ہماری حکومتیں انہیں کیوں تحفظ دیتی ہیں۔ قصور فسادیوں کا بھی ہے مگر اس سے زیادہ قصور وار ہماری سیاسی اور مذہبی قیادتیں ہیں۔ ہمارا ڈھیلا ڈھالا تعلیمی اور تدریسی نظام بھی ان خون آشامیوں کا سبب ہے۔ زہریلے پھل جن درختوں پر لگ رہے ہیں انہیں دراصل ہمارے فوجی حکمرانوں نے بھی پانی دیا ہوا ہے۔ انہیں اپنے اقتدار کو طوالت و استحکام دینے کیلئے ایسے لوگوں کی ضرورت تھی جو آنکھیں بند کرکے ان کا ساتھ دیں چنانچہ سیاستدان ہوں یا مولوی گدی نشین ہوں یا بیوروکریٹ سب اقتدار کے دستر خوان پر زیادہ سے زیادہ حصہ وصول کرنے کی جدوجہد میں قوم کے اجتماعی وجود میں ناسور بھرتے رہے۔ نیم خواندہ جاہ پسند لوگوں نے علماءکا حلیہ اختیار کرلیا۔ اختیار اور بیت المال کی رقمیں وصول کرکے انہوں نے اپنے اپنے اڈے بھی قائم کرلئے، یہ اڈے بظاہر دینی مدارس ہیں مگر ان کے اندر قرآن و حدیث اور علوم دینیہ کی وہ تعلیم نہیں دی جاتی جسے حاصل کرکے انسان کے اندر، عجز، عرفان اور خدا خوفی کا جوہر پیدا ہوتا ہے۔ اسلام باطنی تبدیلی کے بعد مکمل نظام حیات اختیار کرنے کا نام ہے محض شکل و صورت اور لباس میں تبدیلی سے معاملہ حل نہیں ہوتا۔ ان فسادات اور خون ریزیوں کے پیچھے جو بھی ہاتھ ہو‘ مگر ریاست، سیکورٹی ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی صلاحیتوں پر کیا موت طاری ہوچکی ہے کہ آج تک ہزاروں واقعات ہوچکے ہیں مگر کوئی خون خوار کیفر کردار کو نہیں پہنچ سکا۔ زمین کی تہہ اور سمندر کی گہرائیوں میں پیدا ہونیوالی تبدیلیوں کو لمحہ بہ لمحہ نظر میں رکھنے والی ٹیکنالوجی کے دور میں بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ہزاروں ٹن بارود سے بھرے ٹرک عمارتوں سے جاٹکرائیں اور ان اداروں کو خبر تک نہ ہو۔ اسکی صرف دو وجوہات ہوسکتی ہیں یا تو یہ فورسز اور ادارے بک چکے ہیں یا پھر انکی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ دونوں صورتوں میں حکومت اور ریاست اس کی ذمہ دار ہے۔ بلوچستان، کراچی اور فاٹا کے علاقوں میں پھیلا ہوا دہشت گردی کا جال ہمارے وجود کو ختم کرنے کیلئے ایک نسخہ ہے۔ اس کھلی جنگ کا مقابلہ تنہا نہ حکومت کرسکتی ہے اور نہ فوج۔ اس کیلئے معاشرے کا ہر فرد ذمہ داری قبول کرے تو مقابلہ ممکن ہے اور یہ مقابلہ پاکستانی قوم کو خود کرنا ہے۔ بے ضمیر حکمرانوں سے اس مقابلے کی کوئی امید نہیں۔