دولت کے انبار، جرائم اور سپریم کورٹ کا فیصلہ

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
دولت کے انبار، جرائم اور سپریم کورٹ کا فیصلہ

وزیر اعظم نواز شریف کو عارضی مہلت مل گئی ہے صرف 67 دن کی عارضی مہلت' اصل فیصلہ اسکے بعد ہو گا۔ وزیراعظم نواز شریف کی اہلیت کے بارے میں اکثریتی فیصلہ، وہ بھی ایک ووٹ سے ان کے حق میں آیا ہے لیکن دیگر معاملات پر تمام جج صاحبان متفق ہیں کہ اعلی اختیاراتی تحقیقاتی ٹیم بنائی جائیگی جس میں فوج کے دو سینئر افسران بھی شریک ہونگے اور جناب وزیراعظم اپنے بھولے بھالے بچوں سمیت بطور ملزم اس تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے پابند ہوں گے جو رواں مہینے کے آخری ہفتے میں تحقیقات کیلئے بروئے کار ہو گی۔جون 2017 کے آخری ھوتے عدالت دوبارہ لگے گی اور اصل متفقہ فیصلہ کیا جائے گا۔
آج کا فیصلہ مشہور زمانہ انگریزی ناول 'گارڈ فادر 'کے ہیرو کے قول سے شروع ہوتا ہے کہ"دولت کے ہر انبار کے پیچھے جرم ہوتا ہے"اس کا مطلب کیا ہے؟؟
رہا اخلاقیات کا معاملہ تو یہ حکمران خاندان سمیت ہمارے سیاستدانوں کیلئے کبھی بھی اہم نہیں رہا۔ اس وقت تک دستیاب تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر قطری شہزادے کے بدنام زمانہ خط کو یکسر شہادت تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اصل میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے تشنہ سوالات کے جواب تلاش کرنے کیلئے اپنی براہ راست نگرانی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ پانامہ لیکس مقدمے کو سماعت مکمل ہونے کے بعد قوم کو فیصلے کے انتظار میں اعصاب شکن انتظار کرنا پڑا تھا لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے نے قوم کی غالب اکثریت کو مایوس نہیں کیا ہے۔ جوں جوں 500 سے زائد صفحات پر مشتمل فیصلے کی تفصیلات سامنے آتی جائیں گی حکمران خان کی اخلاقی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی جائے گی ویسے یہ ہے کہ اگلے 90 دنوں کیلئے قوم کی دلچسپی کیلئے گرمی بازار کا اچھا خاصا سامان ہو گیا۔اس مقدمے میں بنیادی سوالات یہ تھے کہ پاکستان سے سرمایہ قطر کس طرح گیا اس کا کوئی ریکارڈ موجود ہے دوسرے یہ کہ لندن کی تمام جائیدادیں کس کی ملکیت ہیں اس کے حقیقی مالکان کون ہیں سماعت کے دوران حکمران خاندان کے وکلاء نے بتایا کہ مریم نواز شریف شادی کے بعد اپنے والد کے ہمراہ رہ رہی ہیں لیکن اس کا قطعاً مطلب نہیں ہے کہ وہ اپنے والد نوازشریف کی زیر کفالت ہیں۔سپریم کورٹ 5 رکنی بنچ صرف وزیر اعظم نواز شریف کی نا اہلیت کے معاملے میں تقسیم ہوا ہے لیکن مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے قیام اور دیگر قانونی معاملات پر تمام جج صاحبان میں مکمل اتفاق پایا جاتا تھا اب کہا یہ جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے دوران سماعت تحقیقاتی کمشن بنانے کی تجویز دی تھی جس پر ان کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا لیکن اب سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر اعلیٰ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیا ہے جو براہ راست سپریم کورٹ کے بنچ کی نگرانی میں کام کرے گی۔ جس میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے دو سینئر افسران بھی شریک ہوں گے3 جج صاحبان کا اکثریتی فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے وزیر اعظم کی نااہلیت کے بارے میں اپنے اختلاقی نوٹ الگ الگ تحریر کئے ہیں جس کے بعد صورتحال کچھ یوں ہے بنچ کے سینئر جج آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے فیصلہ دیا ہے کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے اس لئے وہ اپنے عہدے کیلئے نااہل ہو گئے جبکہ اکثریتی فیصلہ کرنے وال تینوں جج صاحبان نے انہیں نااہل قرار دینے کی بجائے بے نامی جائیدادوں رقوم کی پاکستان سے قطر منتقلی اور دیگر متنازعہ معاملات کی تحقیقات کرانیکا حکم جاری کیا ہے سپریم کورٹ کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری اور عمران خان نے وزیراعظم نواز شریف کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ جو کام سپریم کورٹ نہ کر سکی وہ کام گریڈ 19 کا افسر کیسے کر سکے گا۔
عمران خان فیصلے سے پر امید ہیں 'آج تاریخ بنی ہے اور ایسا فیصلہ کسی وزیراعظم کے خلاف نہیں آیا جب کہ دو ججوں نے کہا ہے کہ آپ نے جھوٹ بولا ہے' " نواز شریف کے پاس وزارتِ عظمیٰ پر فائز رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات مکمل ہونے تک نواز شریف اپنا عہدہ چھوڑ دیں اور اگر وہ 60 دن بعد بری ہو جاتے ہیں تو دوبارہ اپنے عہدے پر آ جائیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ خود نواز شریف نے بھی یوسف رضا گیلانی کو ایسا ہی مشورہ دیا تھا۔ وزیراعظم سے جے آئی ٹی کی تحقیقات ایسے ہی ہیں جیسے عزیر بلوچ سے تفتیش کی گئی تھی۔اور ’مٹھائیاں کس چیز کی بانٹیں جا رہی ہیں کہ سپریم کورٹ کے دو ججوں نے انھیں نااہل قرار دیا ہے اور تین ججوں نے ان کے خلاف تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔‘مصنف اور بدلہ سنج سیاستدان مولابخش چانڈیو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف جے آئی ٹی بنانے کا حکم ان پر عدم اعتماد کا اظہار ہے 'پگڑی گر گئی پر عزت بچ گئی والی بات ہوئی ہے اور اب ملک کے وزیر اعظم اب ماتحت اداروں کے نمائندوں کے" سامنے پیش ہوں گے۔ 'اعتزازاحسن کہتے ہیں دو ججز کی رائے سپریم کورٹ کی رائے سمجھی جا سکتی ہے جبکہ تین ججوں نے مایوس کیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا جے آئی ٹی بنانا نواز شریف کو راہِ فرار دینے کے مترادف ہے اور فیصلے سے نظریہ ضرورت کی بو آتی ہے۔سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے سے پہلے پانامہ بارے کوئی تصدیق شدہ دستاویزات ہمارے تماشائیوں کو میسر نہیں تھیں لیکن اس فیصلے کے بعد ہر قسم کی مصدقہ دستاویزات گھر گھر پہنچ چکی ہیں جس کے بعد کوچہ و بازار میں روز نت نئے تماشے ہوں گے۔ جون کے آخری ہفتے میں عدالت دوبارہ لگے گی اس وقت تک پاناما کا بھوت ہمارے تعاقب میں رہے گا۔
حرف آخر یہ کہ جناب احسن اقبال نے آج دوبارہ اس کالم نگار کو فون کیا وہ حکمرانوں کے لہجے میں گفتگو کر رہے تھے کہنے لگے اسلم صاحب آپ نے مجھ پر غلط الزامات لگائے ہیں کہ میرا داخلہ سفارش پر ہوا تھا جبکہ میرا داخلہ میرٹ پر ہوا تھا انہیں بتایا اور یاد دلایا گیا کہ ان کا داخلہ لاہور نہیں انجینئرنگ کالج ٹیکسلا میںہوا تھا مگر ان کی مائیگریشن جنرل ضیا کی سفارش پر ہوئی تھی انہیں دوبارہ پیشکش کی کہ وہ اپنا جواب بھجوائیں وہ شائع کردیا جائے گا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنا مقدمہ خدا کی عدالت میں درج کرایا دیا ہے اس کالم نگار نے عرض کی کہ مالک کائنات سے انصاف نہیں رحم مانگنا چاہئے …؎
عدل کریں تے تھر تھر کنبن 'اْچیاں شاناں والے
فضل کریں تے بخشے جاون میں ورگے منہ کالے