پانامہ لیکس : تاریخی فیصلہ…کون اور کیا جیتا؟

کالم نگار  |  نعیم مسعود
پانامہ لیکس : تاریخی فیصلہ…کون اور کیا جیتا؟

ایک تاریخی فیصلے نے پاکستانی عوام کیلئے ہر حال فکر وعمل کیلئے دریچے کھولے ہیں!
اقوام کی زندگی میں جب نشیب وفراز آتے ہیں تو سفر جاری رہتے ہیں، منزل کی طرف بڑھنے کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔ اقوام کے اپنے اندر پائے جانے والے اختلاف رائے ریاستی امور کو روکتے نہیں، حقیقت میں یہ اختلاف رائے آگے جاکر توازن مہیا کرتے ہیں۔ ان مواقع پر عدالتوں کے دروازوں پر دستک دی جاتی ہے۔ بحث وتمحیص کے دریچے بھی کھلے رہتے ہیں۔ عوام الناس کو معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور خواص وعام ان تناظر کی روشنی میں اپنے فکر میں تبدیلی یا استحکام لاتے ہیں۔ مجموعی طورپر سارا عمل جہاں بنائو کے لئے ہوتا ہے وہاں اقوام ترقی یافتہ بن جایا کرتی ہیں۔
جب57دن پہ فیصلہ محفوظ رہا تب نجومیوں، سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور سیاسی پنڈتوں نے اپنے اپنے انداز میں متعدد فیصلے سنائے۔ 20اپریل کو جب 2بجے عدالت عظمی نے فیصلہ سنایا تو اس سے چند لمحے پہلے ہی قیاس آرائیوں کی گونج رہی۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بنیادی طور پر دوسیاسی جماعتیں اور ایک شخصیت پٹشنرز تھے۔ تحریک انصاف نے کرپشن کے خلاف اور (ن) لیگ کی حکومت کے خاتمے کیلئے علم اٹھارکھا تھا۔ جماعت اسلامی علم اٹھانے میں معاون تھی اور شیخ رشید احمد گوایک پارٹی رکھتے ہیں لیکن ان کا معاملہ ’’جمعہ جنج نال‘‘ والا تھا۔اب اگر پارلیمانی اپوزیشن یعنی پی پی پی کی طرف دیکھیں تو اس کا موقف تھا کہ پنجاب کے وزیراعظم کے خلاف فیصلہ نہیں آسکتا۔ پیپلزپارٹی کی سنجیدہ قیادت یہ بات بار بار کرتی تھی کہ ثبوت فراہم کرنا مشکل امر ہے اور میاں نوازشریف براہ راست اس کی زد میں نہیں آتے۔ راقم متعدد وکلاء کی مشاورت اور سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہمحروم کو چند ماہ قبل سننے سے یہ رائے قائم کرچکا تھا جو پی پی پی کے قانون دان اور سیاستدان کہتے تھے۔ 3:2شرح کی ججمنٹ نے حیران کردیا۔ گویا وہ لوگ جو میری طرح وزیراعظم کو برا ہ راست نشانے پر نہیں سمجھ رہے تھے کہ،وزیراعظم میاں نوازشریف کا اس میں نام ہی شامل نہیں، او رخود مسلم لیگ(ن) بھی اس بات پر شاداں وفرحاؒ ں تھی کہ میاں نوازشریف براہ راست نشانے پر نہیں ہیں۔ وہ ججمنٹ کی شرح اور بالخصوص عزت ماب جسٹس آصف سعید کھوسہ اور عزت ماب جسٹس گلزار کے اختلافی نوٹ نے وزیراعظم میاں نوازشریف کے نہ صرف نشانے پر ہونے کو ثابت کیا بلکہ ان کی کریڈ یبلٹی پر /نشان اور سوالیہ نشان لگادیا۔ اگر ایک اور جج متذکرہ ججز کی طرف آجاتا تو یقینا سیاسی بساط کو دھچکا لگ گیا ہوتا۔ جبکہ دھچکا تو لگ چکا تاہم حکومتی بساط بھی لپٹ جاتی۔ کچھ بھی کہہ لیں اس فیصلے کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ33فیصد کالی ہے۔ اس فیصد کو تھوڑا بہت اوپر نیچے کہا اور کیا جاسکتا ہے۔ 3ججز عزت ماب جسٹس اعجاز افضل خان‘ جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن کا فیصلہ بھی انصاف او رریاست کے لئے خیر کے پہلو رکھتا ہے۔
یہ وزیراعظم اور ان کے خاندان کیلئے بالخصوص چھوٹی بات نہیں ہے کہ قطری شہزادے کے خط کو ردی کی ٹوکری کی پراپرٹی بنادیا گیا۔ بھاری رقم کی ’’ترسیل‘‘ اور منتقلی ثابت نہیں ہوئی اور بالعموم پوری ن لیگ میں جتنی بھی ’’قوت مدافعت برائے منی‘‘ ہے اس کو بھی دھچکا لگا۔ کیا یہ چھوٹی بات ہے کہ ایک شخص جو تیسری دفعہ وزیراعظم بنا، اس سے قبل دو دفعہ کرپشن کے ’’بہانے‘‘ یا من مانی کی بدولت یا پھر بھاری مینڈیٹ کا گھٹنوں کیلئے وزن سہنا مشکل ہونے کے سبب حکومت گئی۔ تیسری دفعہ وزیراعظم بنے تو داخلی سیاست یا پاکستانی جماعتیں دھرنوں یا پراپیگنڈوں سے انہیں ختم نہ کرسکے مگر بین الاقوامی معاملے اور ایک عالمی سیکنڈل یعنی پاناما لیکس نے بہرحال رسوا کیا اور اس دفعہ’’پاناما گیٹ‘‘ میاں صاحب محترم کو کسی تحفے میں نہیںملا تھا بلکہ وہ ’’جہیز‘‘ میں لے کر آئے تھے۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اورجماعت اسلامی کے امیر سراج الحق یا شیخ رشید کو ناکام یا شکست خوردہ قرار دینا کم ازکم مجھے تھوڑا سا عجیب لگتا ہے کیونکہ انہوںنے کرپشن یا کرپشن نما کتاب کے صفحات کے مطالعہ کو ترجیح دی اور اس پڑھائی میں کھویا کچھ بھی نہیں بلکہ اعلیٰ علوم ضرور پائے ہیں۔ کھونے کے لیے ان کے پاس تھاہی کیا اگر دیکھا جائے تو وزیراعظم صاحب کو ’’ایکسٹشن ملی ہے۔ یہ ایکسٹشن اگلے الیکشن تک بھی جاسکتی ہے یاپھر چند دن تک بھی۔ ایک ناقابل فراموش اور انتہائی قابل غور باتیں یہ ہے کہ (1)جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ مرتب دن کے اندر مکمل کرنی ہے۔(2)اس ٹیم میں آئی ایس آئی، ایف آئی اے، ایم آئی، نیب اور شامل ہیں(3) میاں صاحب محترم اور ان کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کیلئے یہ لازم قرار پایا ہے کہ وہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوا کریں گے۔ وزیراعظم کی یہ ’’ریگولرپیشی‘‘ کیا بین الاقوامی اور اخلاقی معنوں میں جھوٹی رسوائی ہے؟ (4) پھر ہر دو ہفتے بعد اس جے آئی ٹی نے عدالت عظمی کے مذکرہ بنچ کو باقاعدہ رپورٹ پیش کرنی ہے۔(5) نیب اور اس کے چیئرمین کی رسوائی یعنی ان پر عدالت عظمیٰ کا کوئی چھوٹا اعتراض نہیں۔ نیب کو تو سرے سے فیل قرار دیا گیا ے۔(6)ایک طرف وزیراعظم اور اس کا خاندان کھڑا ہے اور دوسری طرف اداروں کے سربراہ ان کی تفتیش کررہے ہیں۔ اسے کیا سمجھا جائے۔ بہت بڑی’’فتح‘‘؟(7) وہ جو حکومتی وزراء رکھتے تھے کہ تین نسلوں کے کھاتے پیش کردئیے۔ منی ٹریل بتادی۔ کیا ہم عوام یہ سمجھیں کہ وزراء پہلے درت کہہ رہے تھے اور اب زمانہ ایکسٹنشن میں بھی درست کہیں گے؟
فیصلے کی تفصیلات540صفحات پر مشتمل ہیں۔ ان سب صفحات کو ابھی پڑلیں گے۔ پھر کئی راز کھلیں گے۔ لیکن فی الحال لگتا نہیں ہے کہ معاملہ کسی محمود الرحمن کمیشن رپورٹ، اصغر خان کیس یا نظریہ ضرورت کا لباس پہنے معاملہ کسی سرد خانے میں چلا جائے گا۔ ایک دفعہ تو پھر یوں لگا کہ جیسے’’ابھی تو پارٹی شرع ہوئی ہے‘‘! پی پی پی شکر کرے ان کی تیاری نہیں تھی ابھی الیکشن کی۔ سرکار فکر کرے کہ لوڈشیڈنگ مزید جھوٹے اور فریبی قرار دینے کے درپے ہے۔ آکسیجن ملی ہے پوری زندگی ابھی نہیں ملی۔ سنجیدہ لوگ ہی سہی، چلو کچھ ہی سہی چند ن لیگی شکرانے کے نوافل ادا کریں تکبر اور بھڑکوں کو فروغ نہ دیں۔ فتح تو تحریک انصاف کی بھی نہیں ہوئی۔ اگر واقعی ا نکا مشن روایات بدلنا ہے۔ سٹیٹس کو توڑنا ہے تو مزید محنت اور انتظار کرنا ہوگا۔ اگر حکومت’’شہید‘‘ ہوجاتی تو الیکشن کیلئے تیار وہ بھی نہیں ہیں اور آخری دھرنے کی ناکامی کے بعد دھرنا پوزیشن میں بھی نہیں ہیں۔ یاد یہ بھی رکھنے کی ضرورت ہے جے آئی ٹی کے ٹی او آر ز عدالت عظمی نے مہیا کرنے ہیں۔ وفاقی وزراء کا جوس اور جشن فیصلے کے فوراً بعد دیدنی تھا، سنجیدہ وزراء بھی جانے کیوں آپے سے باہر تھے اور بات بات پر منہ کی کھانی کہہ رہے تھے!
فرض کریں! معاملہ ادھر ہی ختم کردیں۔ فرض کریں، اب کیس ختم، فرض کریں حکومت مخالف باتیں ختم … پھر بھی بہت کچھ ہوچکا۔ بہت کچھ سامنے آچکا، عدالت عظمیٰ کے لارجر بنچ کے ہرہر عزت ماب جسٹس نے حق ادا کردیا، عدلیہ کو سرخرو کردیا ریاست کو امتحانات سے بچالیا اداروں کو باہمی احتساب اورخود احتسابی کا موقع فراہم کردیا۔ پی پی پی کے قبل از فیصلہ تبصرے کوئی زیادہ غلط نہ تھے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ویسے تو اگلے دنوں میں لوڈشیڈنگ ، برا صحت کا نظام، بیہوش تعلیمی نظام، صوبوں سے تصادم اور تکبر بڑے فیصلے دینے والے ہیں۔ عوام کے بعد فکروعمل سے کام لے۔