سرسبز و شاداب پاکستان چین دوستی

کالم نگار  |  رانا عبدالباقی
سرسبز و شاداب پاکستان چین دوستی

چین کے صدر شی چن پنگ کی پاکستان آمد پر پاکستان چین دوستی زمانے کے اُترائو چڑھائو کے باوجود روز اوّل کی طرح ہی سرسبز و شاداب نظر آتی ہے۔ تاریخ کی کسوٹی پر بھی اگر آپ پاکستان چین دوستی کو پرکھنے کی کوشش کرینگے تو یہی محسوس ہوگا کہ یہ دوستی کے ٹو اور ہمالیہ کی چوٹیوں سے اونچی اور بحیرہ عرب کی گہرائیوں سے زیادہ گہری ہے ۔ اِس تاریخی دوستی کی ابتدا سابق وزیر خارجہ اور پھر وزیراعظم پاکستان ذولفقار علی بھٹو اورچین کے عظیم قائدین ، چیئرمین ماوزے تنگ اور وزیراعظم چو این لائی کی سیاسی سوجھ بوجھ کی مرہون منت تھی جن کا تذکرہ تاریخ میں پاکستان چین دوستی کو مستحکم بنیادوں پر قائم کرنے کے حوالے سے سنہری حروف میں لکھا جاتا رہیگا۔ 2 مارچ 1963کو وزیر خارجہ ذولفقار علی بھٹو نے چین کے گریٹ ہال میں چیئرمین ماوزے تنگ اور وزیراعظم چو این لائی کی موجودگی میں دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی بائونڈری معاہدے پر دستخط کئے ۔ پاک چین سرحدی معاہدے سے شروع ہونے والی دوستی کا یہ سفر شاہراہ ریشم سے اب ساحلِ گوادر کے گرم پانیوں تک پہنچ چکا ہے جس کیلئے موجودہ دور میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی کوششیں قابل ذکر ہیں چنانچہ اِس سرسبز و شاداب دوستی کے سفر کی تجدید عہد کیلئے چین کے صدر شی چن پنگ پاکستان تشریف لائے ہیں جسے پاکستان چین دوستی میں ایک نئے سنگ میل سے تعبیر کیا جا ئیگا ۔ اِس دورے سے قبل پاکستانی اور چینی رہنمائوں کے درمیان معاشی اور اسٹرٹیجک پارٹنر شپ کے حوالے سے تعلقات کو مربوط اور مضبوط بنانے کیلئے سیاسی جماعتوں ، ارکان پارلیمنٹ ، مسلح افواج اور حکومتی سطح پر رابطوں کو مستحکم بنانے کیلئے سفارتی اور سیاسی سطح پر سنجیدہ نوعیت کا کام کیا گیا ہے۔ چنانچہ صدر شی کا موجودہ دورہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستانہ تعلقات میں مزید گرم جوشی کے جذبات پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔ پاکستان چین دوستی اِس لئے بھی عظیم تر ہے کہ یہ دوستی مصلحت آمیزڈپلومیسی سے پاک اور وقت کی کسوٹی پر ہمیشہ ہی پوری اُتری ہے ۔
خطے میں پاکستان چین دوستی اِس لئے بھی اسٹرٹیجک اہمیت رکھتی ہے کیونکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے شمالی علاقہ جات کی آزادی کو مستحکم بنانے میں پاکستان چین سرحدی معاہدے کو کلیدی اہمیت حاصل ہے ۔ تاریخی طور پر گلگت۔ بلتستان کے علاقوں کا شمار مہاراجہ جموں و کشمیر کے مقبوضہ مسلم علاقوں میں ہوتا تھا چنانچہ اکتوبر 1947 میں مہاراجہ کی جانب سے جموں و کشمیر کی مسلمان آبادی سے بدعہدی کو مدنظر رکھتے ہوئے شمالی علاقوں کے مسلمان فوجی دستوں نے بغاوت کی اور یکم نومبر 1947 کو گلگت میں عبوری حکومت کے قیام اور پاکستان سے الحاق کیساتھ ہی شمالی علاقہ جات نے پاکستان چین مشترکہ سرحدوں کے حوالے سے اہمیت اختیار کرلی۔
 بھارت اور چین کے درمیان نیفا کی جنگ ہوئی تو پاکستان چین سرحد بھی بین الاقوامی اہمیت اختیار کر گئی چنانچہ اکتوبر 1962 میں ذوالفقار علی بھٹو جب صنعتوں اور قدرتی وسائل کے مرکزی وزیر تھے ، تو انکی فکری کوششوں کے باعث چین کے صوبہ سنکیانگ سے ملحقہ پاکستانی سرحدوں کے تعین کی ضرورت کا احساس پیدا ہوا جسکے تعین کیلئے گرائونڈ ورک مکمل کرنے کیلئے جوائنٹ بائونڈری ڈیمارکیشن کمیشن قائم کیا گیا اور بالآخر ذولفقار علی بھٹو نے مارچ 1963 میں جب وہ پاکستان کے وزیر خارجہ تھے، چھبیس فروری سے چار مارچ تک چین کا دورہ کیا جہاں 2 مارچ 1963 میں چین کے گریٹ پیپلز ہال میں چین کے وزراء خارجہ کے ہمراہ پاک چین سرحدی معاہدے پر دستخط کئے ۔ اِس دورے میں چین نے مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کیلئے پاکستانی موقف کو سراہتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کی جانیوالی کوششوں کی تعریف کی ۔ مسئلہ کشمیر پر چین کی حمایت پاکستان کیلئے کسی طرح بھی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں تھی ۔ دونوں ملکوں کے درمیان بائونڈری معاہدے کے بعد چین کے وزیراعظم چو این لائی نے 23 فروری 1964 میں پاکستان کا دورہ کیا ۔ دورے کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ میں اِس امید کا اظہار کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق جلد حل کر لیا جائیگا جس کا دونوں ممالک نے اقوام متحدہ سے وعدہ کیا ہے ۔31 مارچ 1966 میں صدر لیو شائو چی نے پاکستان کے دورے میں چینی حکومت و عوام کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر حکومت پاکستان کے جائز موقف اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی بھر پور حمایت کا اعادہ کیا ۔ اِسی طرح چیئرمین ماوزے تنگ اور وزیراعظم چو این لائی نے 1971 کی جنگ میں بھارت سے مغربی پاکستان کے مقبوضہ علاقے خالی کرنے اور جنیوا کنونشن کیمطابق پاکستانی جنگی قیدیوں کو چھوڑنے کا پُرزور مطالبہ کیا تھا ۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان چین دوستی پاکستانی عوام کی اُمنگوں کی ترجمان ہے چنانچہ ماضی کی تمام حکومتوں کے دوران پاکستان چین تعلقات بدستور بہتری کی جانب گامزن رہے۔
 ایک ایسے موقع پر جب آرمی چیف دہشت گردوں کیخلاف آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کیلئے متحرک ہیں یقینا پاکستان کو خطے میں دہشت گردی کے حوالے سے درپیش موجودہ سنگین مسائل کی روشنی میں چین کے صدر کا موجودہ دورہ سرسبز و شاداب پاکستان چین دوستی کو عظیم سے عظیم تر بنانے میں ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگا ۔