اقبال اور امت مسلمہ کا اتحاد

کالم نگار  |  قیوم نظامی
اقبال اور امت مسلمہ کا اتحاد

علامہ اقبال کو مفکر اسلام کے نام سے یاد کیاجاتا ہے انہوں نے اسلام اور مسلمان کو اپنی شاعری اور فلسفے کا موضوع بنایا۔ اقبال مسلمانوں کے زوال سے بہت متفکر تھے ۔ انکی دلی خواہش تھی کہ مسلمان ایک بار پھر دنیا کی عظیم قوم بن جائیں۔ آخری عمر میں وہ بڑی بے تابی کے ساتھ مسلمانوں کو متحد ہونے کا پیغام دیتے رہے۔ اقبال ایک دیانتدار مفکر تھے ان کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں تھا نہ ہی وہ ذاتی شہرت کے اسیر تھے۔ وہ سچے اور کھرے مفکر کی طرح ارتقائی منازل طے کرتے رہے اور ان کی فکر میں بلوغت آتی رہی۔ ابتداء میں وہ وطن پرست تھے انکی ابتدائی نظمیں ہمالیہ، تصویر درد، نیا شوالہ اور ترانہ ہندی وطن پرستی پر مبنی ہیں۔ جب اقبال کی فکر کا کینوس وسیع ہوا تو وہ وطنیت سے ملیت کی منزل تک پہنچ گئے اور امت مسلمہ کو اپنا موضوع بنالیا۔ انہوں نے تحریر کیا ’’مسلمانوں اور دنیا کی دوسری قوموں میں اصولی فرق یہ ہے کہ قومیت کا اسلامی تصور مختلف ہے۔ ہماری قومیت کا اصل اصول نہ اشتراک زبان ہے نہ اشتراک وطن اور نہ اشتراک اغراض اقتصادی بلکہ ہم لوگ اس برادری سے تعلق رکھتے ہیں‘ جو جناب رسالت مآبﷺ نے قائم فرمائی تھی اس لیے شریک ہیں کہ مظاہر کائنات کے متعلق ہم سب کے عقائد کا سرچشمہ ایک ہے‘‘۔ [عروج اقبال صفحہ 24]
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمی
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تیری
اقبال نے امت مسلمہ کے اتحاد، یگانگت اور یکجہتی پر بڑا زور دیا۔ انہوں نے اپنی نظم ’’بزم انجم‘‘ میں ستاروں سے تشبیہ دیتے ہوئے امت مسلمہ کو اتحاد کا پیغام دیا۔ …؎
اک عمر میں نہ سمجھے اس کو زمین والے
جو بات پاگئے ہم تھوڑی سی زندگی میں
ہیں جذب باہمی سے قائم نظام سارے
پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی میں
اقبال مسلمانوں کو ایک ملت میں گم ہوجانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں مسلمانوں کا خدا ایک قرآن ایک ، رسولﷺ ایک، کعبہ ایک اور دین ایک ہے۔ وہ فرقوں اور گروہوں میں کیوں تقسیم ہوگئے ۔ اقبال کہتے ہیں۔
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیﷺ، دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
اقبال نے مغرب میں تعلیم حاصل کی اور مغربی علوم و فنون کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ مغرب نے مختلف حوالوں سے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی تاکہ یہ متحد ہوکر پھر سے عظیم قوم نہ بن سکیں۔ وہ لکھتے ہیں۔
’’یورپی مصنفین کی تحریروںسے مجھ پر ظاہر ہوگیا تھا کہ مغرب کے ملکوں میں اسلام کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے لیے ہتھیار کے طور پر تقسیم کیا جارہا تھا۔ نہ صرف مغربی تعلیم یافتہ نوجوان بلکہ علماء بھی اس جال میں پھنس گئے۔ وطن سے محبت ایک قدرتی جذبہ ہوتا ہے مگر اسلام کے فلسفہ میں ملک اور وطن زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ اسلام صرف فرد کی اخلاقی تربیت پر زور نہیں دیتا بلکہ یہ بتدریج پوری انسانیت میں بنیادی انقلابی تبدیلی پر زور دیتا ہے۔ پوری انسانیت کو اپنا نسلی اور قومی رویہ تبدیل کرلینا چاہیئے اور اسکی بجائے خالص انسانی شعور سے لیس ہونا چاہیے۔ اسلام ہی نے سب سے پہلے یہ پیغام دیا کہ مذہب قومی و نسلی نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ نجی اور انفرادی ہوگا۔ مذہب خالصتاََ انسانی ہوتا ہے۔ اس کا مقصد انسانوں کو قدرتی امتیازات کے باوجود متحد اور منظم کرنا ہے۔ یہی ایک طریقہ ہے جس سے انسانوں میں مفاہمت اور اتحاد پیدا کیاجاسکتا ہے۔ یہ تصور درست نہیں کہ مذہب اور قومیت سیاسی نقطہ نظر سے اکٹھے چل سکتے ہیں۔ یہ تصور لادینیت کا سبب بنے گا۔ اسلام ایک اخلاقی تصور تک محدود ہوکر رہ جائے گا اور اس کا سماجی ڈھانچہ تباہ ہوجائیگا‘‘۔
[محمد اقبال:Islam as a moral and political ideal]
یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمز مسلمانی
اخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی
تبان رنگ و خون کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا
نہ تو رانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی
ہوس نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہوجا
علامہ اقبال نے عالم اسلام کے اتحاد کے بارے میں اپنے تصورات کو مختلف تحریروں میںبھی بیان کیا۔ چند اقتباسات نذر قارئین ہیں تاکہ انکے فلسفہ اتحاد کو انکی زبان میں سمجھا جاسکے۔
’’اگر عالم بشریت کا مقصد اقوام انسانی کا امن، سلامتی اور انکی موجودہ اجتماعی حیثیتوں کو بدل کر ایک واحد اجتماعی نظام بنانا قرار دیا جائے تو سوائے نظامِ اسلام کے اور کوئی اجتماعی نظام ذہن میں نہیں آسکتا کیونکہ جو کچھ قرآن سے میری سمجھ میں آیا ہے اسکی رو سے اسلام محض انسان کی اخلاقی اصلاح ہی کا داعی نہیں بلکہ عالم بشریت کی اجتماعی زندگی میں ایک تدریجی مگر اساسی انقلاب بھی چاہتا ہے جو اسکے قومی اور نسلی نقطۂ نگاہ کو یکسر بدل کر اس میں خالص انسانی ضمیر تخلیق کرے‘‘۔ [ڈاکٹر سید اکرم اکرام: اقبال اور ملی تشخص صفحہ 277]
’’کیا ہم مسلمان اپنی سوشل اکانومی میں ان اصول و اقدار پر صدقِ دل کے ساتھ عمل پیرا ہیں کیا اس سرزمین پر اسلام کا بنیادی اتحاد قائم ہے۔ مذہبی طالع آزمائوں نے مختلف فرقے اور برادریاں قائم کرلی ہیں جو ہر وقت ایک دوسرے سے برسرِ پیکار رہتی ہیں۔ پھر ہندوئوں کی دیکھا دیکھی ہم نے خود کو چھوٹی اور بڑی ذات برادریوں میں تقسیم کررکھا ہے۔ یقینا ہم نے اس معاملہ میں ہندوئوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ہم تو ذات پات کے دہرے نظام کی پیروی کرنے لگے ہیں۔ معاشرتی ذات پات کے نظام کیساتھ ساتھ ہم نے مذہبی ذات پات اور چھوت چھات کا نظام بھی وضع کرلیا ہے جو ہم نے یا تو ہندوئوں سے ورثہ میں لیا ہے یا ان سے سیکھ لیا ہے۔ میں مذہبی اور معاشرتی فرقہ واریت کے لعنتی نظام کی مذمت کرتا ہوں۔ میں خدا کے نام پر اسکی مذمت کرتا ہوں۔ خدا کا آخری پیغام انسانیت کی آزادی اور مساوات کا پیغام ہے۔ اسلام ایک ہے، اسلام ناقابل تقسیم ہے، اسلام میں وہابی، شیعہ ، سنی وغیر ہ کے الگ الگ وجود کا کوئی جواز نہیں ہے‘‘۔
’’اسلام قید وطن سے آزاد ہے۔ اس کا مقصد ہے ایک انسانی معاشرے کی تشکیل جو مختلف نسلوں اور قوموں کو باہم جمع کرتے ہوئے ایک ایسی اُمت تیار کرے جس کا اپنا ایک مخصوص شعور ذات ہو‘‘۔[اقبال کے حضور صفحہ 15] عالم اسلام آج بھی فرقہ واریت، برادری ازم، عرب و عجم کی تفریق کا شکار ہے۔ غیر مسلموں کی سازشوں کی وجہ سے تقسیم در تقسیم ہورہا ہے۔ یمن میں مسلمان ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں۔ عالم اسلام اگر علامہ اقبال کے پیغام کے مطابق متحد ہو جائے تو دنیا کی بڑی طاقت بن سکتا ہے۔