صلیبی جنگ کا تیسرا دور

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
صلیبی جنگ کا تیسرا دور

حال ہی میں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی صاحب نے بڑے دکھ سے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں داعش کی مدد کررہا ہے۔اسے ہتھیار فراہم کررہا ہے۔ حامد کرزئی صاحب امریکہ ہی کی مدد سے اقتدار میں آئے اور دس سال تک اقتدار میں رہے۔ انکے امریکہ کے ساتھ بہت گہرے اور دوستانہ تعلقات رہے۔اس لحاظ سے بھلا امریکہ اور امریکی مقاصد کو کرزئی صاحب سے زیادہ کون جانتا ہوگا اور اب اگر کرزئی صاحب کہتے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ داعش کو پھلنے پھولنے میں مدد کررہا ہے تو یہ غلط نہیں ہو سکتا کیونکہ کرزئی صاحب کی حیثیت گھر کے بھیدی کی سی ہے۔ ویسے بھی اگر حالات پر نظر ڈالی جائے تو کرزئی صاحب کی رائے میں بہت وزن ہے۔ امریکہ 2001میں افغانستان میں داخل ہوا۔ امریکہ کا ظاہری مقصد افغانستان میں جاری خانہ جنگی ختم کرنا ۔افغانستان میں امن و امان قائم کرنا اور افغانستان کی تعمیر نو کرنا تھا۔ امریکہ کی یہ جنگ اب سترھویں سال میں جا رہی ہے اور ان میں سے کوئی بھی مقصد پورا نہیں ہوا۔جب امریکہ افغانستان میں داخل ہوا تھاتو واحد مخالف فورس طالبان ہی تھے۔پھر جیسے جیسے امریکہ کا قیام طویل ہوتا گیا تو طالبان کے مختلف گروپس میں کمی کی بجائے زیادتی آتی گئی۔ طالبان کیساتھ ساتھ سخت قسم کی تشدد پسند دہشتگرد تنظیم داعش بھی معرض وجود میں آگئی اور آرام سے افغانستان میں پنجے گاڑ لئے۔ آج داعش کی طاقت اور پہنچ طالبان سے کہیں زیادہ ہے۔ اس خطے میں داعش کی موجودگی وسط ایشیا چین،ایران اور پاکستان میں بھی محسوس کی جا رہی ہے کیونکہ داعش کی کاروائیاں ان علاقوں میں مسلسل طور پر جاری ہیں۔ تو جائز سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکی فوج کی موجودگی کے باوجود افغانستان میں داعش کہاں سے آگئی۔اسکے وسائل کیا ہیں اور یہ اتنی طاقتور کیسے بن گئی ؟یاد رہے کہ داعش امریکی صدر جارج بش اور ہیلری کلنٹن کی پیداکردہ ہے جس کی تمام تر تربیت اسرائیل نے کی اور اسکی پیدائش کا مقصد اسوقت مشرقِ وسطٰی کی کچھ اہم حکومتوں کو گرانا تھا جو پورا کر لیا گیا۔کچھ ایسے ہی مقصد کیلئے داعش کی افزائش افغانستان میں بھی کی گئی جو افغانستان کے علاوہ ارد گرد کے ممالک میں کامیابی سے استعمال کی جا رہی ہے جس کی تفصیل پھر کسی وقت۔لہٰذا حامد کرزئی سچ کہتا ہے کہ امریکہ وہاں داعش کی مدد کررہا ہے۔
ایک دور تھا کہ مسلمان دنیا میں ایک طاقتور قوم کے طور پر ابھرے۔ وہ علم و فضل اور جنگی مہارت میں بے مثل تھے۔ مسلمانوں کی تلوار کی چمک اور تلوار کی کاٹ سے قیصر و کسریٰ تک کانپتے تھے۔ بڑی بڑی سلطنتیں مسلمانوں سے مقابلہ کرنے سے گھبراتی تھیں۔ دنیا نے دیکھا کہ صحرائے عرب کے ان پڑھ بددوں نے آدھا ایشیا، افریقہ اوریورپ کے کچھ حصوں کو پائوں تلے روند ڈالا ۔اسوقت کی دنیا کی عظیم طاقتیں سرنگوں ہو گئیں لیکن افسوس کہ مسلمان نہ تو اپنی اصلی مسلمانیت قائم رکھ سکے اور نہ عسکری طاقت۔ وہ آپس کے بے مقصد جھگڑوں میں الجھ گئے۔ نتیجتاً مسلمان بہت کمزور ہوئے اور آہستہ آہستہ گزرتے زمانے کیساتھ وہ حاکموں سے محکوم بن گئے۔ حضور کریمؑ نے فرمایا تھا کہ :’’ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے کبھی دوست نہیں ہو سکتے ‘‘۔ہم نے حضور کریمؑ کا یہ پیغام بھلا دیا یہود و نصاریٰ سے دوستیاں لگائیں اور ان کی مدد سے اپنے بھائیوں کا خون بہایا۔ گو اسوقت مسلمانوںکے 57ممالک روئے زمیں پر موجود ہیں لگ بھگ ڈیڑھ ارب آبادی بھی ہے۔ جب ہم ان ممالک پر نظر ڈالتے ہیں تو چار چیزیں خصوصاً نظر آتی ہیں۔ اول معاشی پسماندگی اور علم و ہنر سے محرومیت۔اسوقت کوئی ایک بھی مسلمان ملک ایسا نہیں جہاں مغرب کے مقابلے میں تعلیمی ادارے ہوں یا جنگی ساز و سامان کی پیداوار میں خود کفیل ہو۔ یہ بد قسمتی نہیں تو اور کیا ہے۔ ہم تمام مسلمان ممالک کسی نہ کسی طور پر با لواسطہ یا بلا واسطہ اہل مغرب کے دستِ نگر ہیں۔ دوم یہ کہ تمام مسلمان ممالک کسی نہ کسی وجہ سے آپس میں الجھے ہوئے ہیں۔ بجائے ایک دوسرے کی مدد کرنے کے ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔مثلاً ایران اور عراق جو طویل عرصہ تک آپس میں لڑتے رہے اور اب ایران اور سعودی عرب ،عراق اور کویت ،پاکستان اور افغانستان ،عرب ممالک اور قطر، ترکی اور شام وغیرہ۔ تیسرا یہ کہ تقریباً تقریباً تمام مسلمان ممالک دہشتگردی کا شکار ہیں۔معلوم نہیں کیسے بہت سی مسلمان دہشتگرد تنظیمیں اسلام کے نام پر مسلمان ممالک میں پیدا ہو گئی ہیں اور یہ تنظیمیں تمام مسلمان ممالک میں مسلمانوں کا خون بہانے کو اسلام کی خدمت قرار دیتی ہیں۔ جیسا کہ ہم آج کل دہشت گردی کا شکار ہیں اور 70ہزار بے گناہ پاکستانیوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ یہی حال افغانستان کا ہے۔جہاں پر آئے روز خود کش دھماکے ہوتے ہیں ۔افریقہ میں الشباب اور بو کو حرام گروپس نے تباہی مچا رکھی ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ یہ لوگ کسی کی مانتے بھی نہیں۔اسلام کی بھی انکی ایک اپنی تشریح ہے اور غیر مسلم ممالک کے آلہ کار بن کر اپنے بھائیوں کاخون بہانے میں فخر محسوس کرتے ہیں جیسا کہ داعش اور تحریک طالبان ’’را‘‘ کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں اور اسکے کہنے پر پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیاں کرتے ہیں۔ ہماری چوتھی بد قسمتی یہ ہے کہ ہم نے مذہب کو فرقوں میں بانٹ دیا ہے اور کچھ فرقے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے ہیں۔ فرقے تو ویسے ہر مذہب میں ہوتے ہیں لیکن مسلمانوں کی طرح وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نہیں۔ان حالات میںکوئی مسلمان ملک ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی غیر مسلم طاقت کو کسی بھی میدان میں چیلنج کر سکتا ہے۔
معزز قارئین! اب ایک دفعہ پھر حامد کرزئی صاحب کے بیان کی طرف آئیں کہ امریکہ افغانستان میںداعش کی مدد کررہا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور مغربی طاقتیں مل کر نہ صرف داعش بلکہ تحریکِ طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی بھی مدد کررہے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ تنظیمیں انہی لوگوں کی پیدا کردہ ہیں۔اب ایک دفعہ پھر حضور کریمؑ کی اس نصیحت کو دہرائیں ’’یہود ونصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے‘‘۔مسلمان لاکھ دفعہ امریکہ یا ہندوستان کی کاسہ لیسی کر لیں۔دوستی کا دم بھر لیں مگر وہ ہماری خیر کبھی نہیں چاہیں گے نہ ہمیں بچانے کیلئے آئیں گے۔1971 میںبھارتی حملے کے خلاف امریکہ کا روانہ شدہ ساتواں بحری بیڑہ آج تک نہیں پہنچ سکا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔افغانستان، یمن ،لیبیا،شام اور عراق کا دشمنوں نے کیا حال کر دیا ہے۔آخر امریکہ یا اہل مغرب کسی غیر مسلم ملک پر ایسے حملے کیوں نہیں کرتے؟ امریکہ اور اہل مغرب نے مشرق وسطیٰ کے دل میں ’’ اسرائیل‘‘ تو بنا دیا غریب فلسطینیوں کا مسئلہ کیوں نہیں حل ہوتا ۔کشمیر میں بھارت بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے ۔معصوم بچوں اور خواتین کو پیلٹ گنوں سے چھلنی کیا جارہا ہے ۔کشمیر پچھلے ستر سالوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے۔ اس نا جائز ظلم و ستم کیخلاف اقوام متحدہ ،امریکہ یا اہل یورپ کیوں آواز نہیں اٹھاتے جبکہ امریکہ کو یہ دکھ ضرور ہے کہ ’’سی پیک ‘‘ متنازعہ علاقے سے گزررہا ہے۔ ان تمام سوالات کا صرف ایک ہی جواب ہے کہ مسلمانوں کا خون بہانا یہود و ہنود کیلئے مذہبی طور پر کارِ ثواب ہے۔اس مقصد کیلئے وہ سب ایک ہیں۔
دراصل یہود و نصاریٰ کیلئے مسلمان شروع سے قابلِ بر داشت نہیں۔ مسلمانوں کو ختم کرنے کی کوشش روز اول سے ہی شروع ہوئی مگر حضور کریمؑ اور بعد میں صحابہ کرام کی قیادت میں وہ اسلام کو شکست نہ دے سکے اور اسلام پھیلتا ہوا یورپ تک پہنچ گیا۔دورِ وسطٰی میں اہل مغرب نے مسلمانوں کو شکست دینے کیلئے انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈز کی قیادت میں صلاح الدین ایوبی سے ایک طویل عرصہ تک صلیبی جنگ کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔یہ صلیبی جنگ کا پہلا مرحلہ تھا ۔جب یورپ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعور کا دور شروع ہوا تو اہل مغرب نے وسائل اکٹھے کرنے کی غرض سے مسلمان ممالک کا رخ کیا اور مختلف چالوں اورسازشوں سے مسلمان ممالک کو محکوم بنا لیا۔یہ صلیبی جنگ کا دوسرا دور تھا ۔اب اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں کیخلاف ایک منظم سازش کام کررہی ہے جس میں مسلمان ممالک کو آپس میں لڑایا جا رہا ہے اور دونوں مخالف ممالک کو ہتھیار فراہم کر کے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اور دوسرا مسلمان ممالک میں بہت سی دہشتگرد تنظیمیں پیدا کر دی گئی ہیں جو مسلمانوں کو اندرونی طور پر تباہ کررہی ہیں اور یہ صلیبی جنگ کا تیسرا دور ہے۔ مقصد آج بھی وہی ہے جو پہلے دن تھا۔