اسلام آباد میں تصادم اور خدشات

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
اسلام آباد میں تصادم اور خدشات

ختم نبوت کے قانون میں کی جانے والی ترمیم واپس ہو چکی جناب نواز شریف نے اس ترمیم کے پس پردہ کردار بے نقاب کرنے کیلئے راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں نون لیگ کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی، جس کی تحقیقات پر دو دنوں میں فیصلہ ہونا تھا جو آج تک نہیں ہو سکا اور اب وزیرداخلہ احسن اقبال ایک ماہ بعد اس کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کرنے کا کہہ رہے ہیں جس کے وہ خود بھی رکن ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ جاری کردی جاتی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اس کالم نگار نے 9 اور 10 اکتوبر کو ’’بچہ بغل میں ڈھنڈورا شہر میں‘‘ واضح کردیا تھا کہ یہ رپورٹ کبھی منظر عام پر نہیں آسکے گی اور اب تک ایسا ہی ہوا ہے کہ وقت حاصل کرنے کیلئے ٹال مٹول سے کام لیا گیا ہے اس کالم ل نگارنے ٹھیک ایک ماہ قبل عرض کی تھی کہ"ماضی میں اس قسم کی قانون سازی کی راہ میں راجہ ظفرالحق رکاوٹ بنے رہے تھے۔ جہاں تک آپا نثار فاطمہ جیسی ولیہ کاملہ کے فرزند ارجمند جناب احسن اقبال اور مشاہد اللہ کاتعلق ہے، دونوں کے کسی مصلحت کا شکار ہونے کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا اور ایسا سوچنا بھی گناہ ہو گا اس لئے امکان غالب ہے کہ اس کمیٹی کی رپورٹ اور سفارشات شائد ہی منظر عام پر آسکیں گی۔ انتخابی اصلاحات کے آئینی بل کے مسودے کا کام اقتدار کے ایوانوں میں گذشتہ برس 2016 کے اوائل سے مکمل رازداری سے جاری تھا۔ جس کے بارے میں تفصیلی انکشافات 16 مارچ 2016 کو شائع ہونیوالے ایک کالم میں کر دئیے گئے تھے۔ آخر کار کامل ڈیڑھ برس بعد گزشتہ دنوں ان انکشافات کے مطابق حرف بہ حرف لفظ بہ لفظ مسودہ قانون سینٹ اور قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد قانون بن کر لاگو بھی ہو گیا جسے اب واپس لے لیا گیا۔ دسمبر2016 میں عین اس وقت وزارت قانون ختم نبوت کے دستوری آرٹیکل پر ضرب کاری لگانے کیلئے بھرپور تیاری کر رہی تھی سنٹر فار فزکس کو آنجہانی ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب کر کے اپنے اہداف تک پہنچنے کی راہیں کشادہ اور ہموار کی جا رہی تھیں"مسلسل تاخیر کی وجہ سے اب ٹانگوں سے معذور شیخ الحدیث مولانا خادم حسین رضوی کی قیادت میں عاشقان رسول یخ بستہ ہوائوں میں وفاقی دارالحکومت کو جوڑنے والی مرکزی شاہراہ فیض آباد سے ہٹنے کو تیار نہیں جس کے بعد عاشقان رسول کا ٹکراؤکے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ضدی اور انتہا پسند کون ہے؟ دوسری جانب عدلیہ کے غازی علم دین جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد سے دھرنا ختم کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ حکومت نے عدالت عالیہ کے حکم کی آڑ لینے میں پھرتی دکھانے میں ہی عافیت جانی۔ مارکٹائی اور خون خرابہ (خدانخواستہ) ہو تو ملبہ ہائی کورٹ پر گریگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ خاموشی کی حکمتوں سے آگاہ راجہ ظفرالحق کی سربراہی میںکمیٹی کی رپورٹ حمودالرحمن کمشن رپورٹ کیوں بنائی جا رہی ہے۔ ’چورسپاہی کا کھیل‘کھیلنے کے بجائے ذمہ داریا ذمہ داران کا سراغ لگانے اور ان کا نام بتانے میں کیا رکاوٹ ہے۔ ’کْھرا‘ پکڑنے میں کون حائل ہے۔ حضرت مولانا فضل الرحمن کے نزدیک پارلیمنٹ سے یہ اجتماعی گناہ سرزد ہوا۔ حضرت نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی شریعت میں اس کی سزا اورکفارہ کیا ہے۔ 1973کے آئین کے تناظرمیں اگر اس پر لب کشائی فرماتے تو اچھا ہے۔ اس پر لب کیوں سلے ہیں۔آخری اطلاعات آنے تک ان کا کچھ اتہ پتہ نہیں۔ شاید آپریشن کے بعد کہیں سے آن برآمد ہوں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ نیکی کا کام بھی غلط طریقے سے کیا جائے تو غلط ہوتا ہے۔ معاملہ عدالت میں ہوتو سڑکوںچوراہوں کو بند نہیں کیا جاتا۔ سٹرکیں بند ہونے سے لوگ تکلیف میں ہیں۔ جوش خطابت میں مولانا خادم حسین رضوی نے چیف جسٹس کی شان میں گستاخی کی۔ چیف جسٹس سے بھی معافی مانگیں۔ کسی مذہب میں جوش میں کسی کو گالی نہیں دی جاتی۔ رسول پاک نے لوگوں کے راستے سے کانٹے اٹھائے ہیں مگر تحریک لبیک والوں نے کانٹے بچھا کر راستوں کو بند کردیا ہے۔ رانا عبدالقیوم ایڈووکیٹ پر تشدد، نقدی چھیننے، دھمکیاں دینے اور دھرنے کے شرکا کو ڈیموکریسی پارک اینڈ اسپیچ کارنر منتقل کرنے کی درخواست کی سماعت بیس نومبر تک ملتوی کردی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کے لئے ضلعی انتظامیہ نے چابکدستی سے کام لیتے ہوئے تحریک لبیک کے سربراہ کو تحریری انتباہ جاری کیا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے مولانا خادم حسین رضوی کو خط میں کہاکہ دھرنا فوری ختم کیا جائے یا اسے فوری پریڈ گراؤنڈ شکر پڑیاں میں مختص جگہ منتقل کیا جائے۔ دھرنے سے 27 افراد گرفتارکرلینے کا مژدہ بھی سنایاگیا ہے۔ تحریک لبیک کی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی کا متفقہ طور پر سیون بی اور سی شقوں کو بحال کرنا ختم نبوت دھرنے کی پہلی عظیم کامیابی ہے۔ پیر افضل قادری نے فرمایا جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ تین چار لاشیں گریں گی یہ ان کی بھول ہے۔ یہاں ہزاروں لاشیں گریں گی۔ پوری دنیا میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری اس تنازعہ چرچا ہے۔ کوئی اسے انتظامیہ کی کمزوری گردان رہا ہے۔ تو کسی نے مولویوں کو نشانے پر لیا ہوا ہے۔ افسوس در افسوس کہ کسی سیاسی جماعت کے رہنما بشمول قریہ قریہ نگر نگر شورمچاتے سراج الحق'عمران کے دھرنے میں ان کو مصالحت یاد رہی اور یہاں؟؟؟پاکستانیوں کے اعصابی تناؤ کا امتحان جاری تھا۔ جینیوا یونیورسل پیریاڈک ریویو (یوپی آر) نامی فورم کے ذریعے امریکہ، برطانیہ اور بھارت کی آرزوئیں الفاظ کے رد و بدل سے سامنے آئیں۔ فورم میں امریکی نمائندہ جیسی برنسٹین نے توہین رسالت کا قانون منسوخ کرنے کی فرمائش کی۔ انسانی سمگلنگ کے قوانین بنانے کا لیکچردیتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںکا تمام ریکارڈ رکھنے کی بھی ہدایت جاری کی۔ بین الاقوامی این جی اوز کے کام پر پابندیوں کی دہائی بھی دی گئی۔ یہ ساری کہانی جہاں ہورہی تھی، وزیردفاع خواجہ آصف پاکستانی وفدکی قیادت فرما رہے تھے۔ برطانوی نمائندہ مریم چئیرمین نے مذہبی اقلیتوں کی آزادی کا رونا رویا اور اقلیتوں کے لئے قومی کمشن کی تشکیل کانسخہ تھمایا۔ اس فورم کی تجاویز کو قبول کرنے کا پاکستان قانونی طور پر پابند نہیں لیکن اس فورم پر ہونے والی گفتگو اس سوچ اور منصوبے کا پتہ دیتی ہے۔ جس پر مغرب کار بند ہے۔ ’’وایا بھٹنڈہ‘‘ ہوتے ہوئے ان کی تان آ کر ٹوٹتی ہے تو ان نکات پر جو ان کے مفادات، بھارت کے مفادات کی تکمیل کا باعث ہیں اور ان کے نتیجے میں پاکستان میں عدم استحکام کی ایسی آگ بھڑک اٹھے جس میں سب خاکستر ہوجائے۔

عوام کے سامنے خود کو بے قصور ثابت کرنے کی لیگی کاوشیں بھی عروج پر جاری ہیں اپنا صاف ستھرا چہرہ صاف لانے کے لئے خبر کی صورت تازہ صفائی کی کوشش سامنے آئی ہے جس میں ایک ن لیگی کے حوالے سے یہ اطلاع سامنے لائی گئی کہ وزیرقانون زاہد حامد کو غلط طور پر اس سارے قضیہ میں ملوث کیا جا رہا ہے ان کا قصور یہ سامنے آیا ہے کہ وہ متنازعہ رد و بدل کی مسودہ میں نشاندہی میں ناکام ہوئے تجربہ ہونے کے باوجود ان سے یہ غلطی ہوگئی اور وزیرقانون غلطی پر مبنی یہ مسودہ پارلیمانی کمیٹی کو پیش کر بیٹھے۔ عمومی طور پر نیک شہرت رکھنے والے راجہ ظفرالحق کی صدارت میں تحقیقات کرنے والی کمیٹی یہ سراغ لگانے میں ناکام رہی کہ توہین رسالت قوانین کے بارے میں تیار ہونے والے مسودہ میں قابل اعتراض تبدیلیاں غلطی سے شامل ہوئی تھیں یا اس میں سازش کے تانے بانے تھے۔
نوازشریف کے حق میںاخباری گواہی دی گئی ہے کہ قائد مسلم لیگ (ن) رپورٹ میں ذمہ دار قرار دئیے گئے شخص کو عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے لیکن اس شخص کی زندگی کو لاحق خطرات کی بنا پر ایسا نہ کیا گیا۔ راجہ ظفرالحق کمیٹی رپورٹ بتاتی ہے کہ مجلس قائمہ قانون و انصاف نے سینٹ میں مسودہ پیش کردیا جس کے بعد سینیٹر حافظ حمد اللہ نے حلف نامہ کی زبان میں تبدیلی پر اعتراض اٹھایا۔ رپورٹ میں مولانا فضل الرحمن کا بیان بھی شامل ہے کہ بنیادی طور پر ہم سب ارکان پارلیمان حلف نامے پر بحث کے دوران اپنے فرائض انجام نہ دینے کے ذمہ دار ہیں۔ لبیک یارسول اللہ کی صداؤں میں ہر مسلمان شریک ہے۔ ہم کچھ بھی ہوں سب سے پہلے خادم رسول ہیں۔ ان کی جوتیوں کی خاک ہمارے خون سے افضل ہے۔ اس پر کوئی سمجھوتہ ہے نہ ہوگا۔ دنیاوی خواہ کتنا ہی بڑا عہدہ ہو، وہ عاشق رسول کے سامنے ہیچ ہے۔ لاٹھی، گولی اور آنسو گیس وہ ہتھیار ہیں جو کافروں کے ہاتھ میں ہوں تو سمجھ میں آتے ہیں لیکن دانش سوال کرتی ہے کہ جو خود جان قربان کرنے کی آرزو لے کر بیٹھے ہوں، ان کا مقابلہ مسلمان ہاتھ میں تھامے یہ ہتھیار کیونکر کرسکتے ہیں ہر مسلمان خواہ وہ کسی مرتبے اور نظم وضبط کی زنجیر میں جکڑا ہو، یہ معاملہ بہت نازک ہے اس پر سیاست نہ کی جائے۔ نیک نیتی اول شرط ہے جس سے یہ مسئلہ حل ہوسکتاہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک دن ہم نے اس پاک ہستی کی شفاعت کا بھکاری ہونا ہے۔ ہیرا پھیریاں اور سیاسی چالاکیاں کرتے کرتے کسی اور دروازے پر نہ جا بھٹکیں۔ تقریریں، بیانات، کالم اوردانشوریاں یہیں رہ جانی ہیں ۔ عدلیہ کے علم دین سے بھی استدعا ہے کہ اگر قصور وار کو کٹہرے میں طلب کیا جاتا تو فیض آباد ویسے ہی خالی ہو جاتا۔ علامہ خادم حسین رضوی صاحب سے بھی عرض ہے کہ حضور دوسری جانب بھی عاشق رسول ہیں، آپ کو بھی احتیاط لازم ہے۔آخری خبروں کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں اور دھرنا دینے والوں میں ٹکرائو کی اطلاعات ہیں… اللہ خیر کرے!۔