معاشی حکمت عملی

کالم نگار  |  شیخ منظر عالم
معاشی حکمت عملی

 یہ بات کسی المیہ سے کم نہیں کہ ہمارا ملک گذشتہ اڑسٹھ سالوں سے اسٹیٹس کو کی صورتحال سے گزر رہا ہے اور اس کو قائم رکھنے کے لئے ہماری سرکاری بیوروکریسی اور ارباب اختیار پوری یکسوئی سے مصروف عمل ہیں یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چھ سات سالوں سے پاکستان کے داخلی و بیرونی قرضوں اور ذمہ داریوں کے حجم میں تقریباً تیرہ سو ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ اس دوران سعودی عرب سے پندرہ ملین ڈالرزکی اضافی گرانٹ بھی ملی ہے اور ساتھ ساتھ میاں برادران کی حکومت کے پسندیدہ اور سہل مشغلہ یعنی سرکاری اداروں کے حصص کو بیچا جا رہا ہے جبکہ اس حاصل شدہ رقم کو انتظامی اخراجات پورا کرنے اور قرضوں کے سود ادا کرنے میں استعمال کیا جارہا ہے اوریہ بھی وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارکی انوکھی حکمت عملی ہے ۔حالانکہ اگر قومیں بحالت مجبوری قرضے لیتی بھی ہیں تو انہیں ترقیاتی کاموں اور معاشی منصوبوں میں استعمال کیا جاتاہے جبکہ ہمارے ارباب اختیار نااہلیوں اور ناعاقبت اندیش پالیسیوں کی وجہ سے قرضوں کے علاوہ پچھلے چھ سات سال میں اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات کے ذریعے حاصل ہونیوالے تقریباً اسی ارب ڈالرز سے بھی کوئی فائدہ نہ اٹھاسکے۔ اگر موجودہ حکومت کے اکیس مہینوں کا جائزہ ہی لیا جائے تو ہمیں کہیں بڑے صنعتی پیداواری یونٹ یا اس کی کوئی منصوبہ بندی کرتے ہوئے بھی نظر نہیں آیا ہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے توانائی کے شعبہ میں چند منصوبے، کچھ موٹر وے کے منصوبے ، کہیںمیٹرو بس منصوبے اور چند ائیر پورٹ بنانے کی طرف توجہ دی ہے مگر ان شاہراہوں پر کوئی پیداواری منصوبہ قائم نہ ہوا تو کیا یہ شاہراہیں اور موٹر ویز صرف سیروتفریح کیلئے آنے جانے کیلئے استعمال ہوں گی؟ کیونکہ کسی ملک کی بھی معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس ملک میں چھوٹے چھوٹے صنعتی ادارے قائم کرنے پر توجہ دی جائے پھر بڑے بڑے صنعتی اداروں اور مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کے ساتھ منصوبوں کا آغاز کیا جائے مگر پاکستان میں آج تک کسی شعبہ میں بھی اس ضرورت کو محسوس نہیں کیا گیا ۔ اسی وجہ سے ہمارے ملک میںآٹو انجینئرنگ کا شعبہ صرف اسمبلنگ پلانٹ کے طور پر ہی استعمال ہورہا ہے حالانکہ اس وقت ہمارے خطے میں ملائشیائ، سری لنکا، تھائی لینڈ کے بعد اب بنگلہ دیش میں بھی آٹو انجینئرنگ کا شعبہ ٹیکنالوجی کے ساتھ کاروں اور ٹرکوں کی پیداوار کررہا ہے۔ اسکے علاوہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کیلئے اصل بیرو میٹر اس ملک کا پیداواری شعبہ ہوتا ہے اور پیداواری صلاحیت سے ہی اس ملک کی معاشی ترقی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ ہمارے ہاں آج تک ارباب اختیاردنیا کی پانچ فیصد طاقت کے ہاتھوں یرغمال بن کراپنے ذاتی مفادات کی خاطر قوم کو اعدادوشمار کے جھوٹے گورکھ دھندوں میں الجھا کربے وقوف بنانے کی ناکام کوشش کرتے رہے ہیںحالانکہ جب ہمارے معاشی ذمہ داران عالمی اداروں کے عہدیداروں کے ساتھ بیٹھ کر بلند بانگ دعوے کررہے ہوتے ہیں تو اس وقت بھی انکی زبان اور باڈی صاف چغلی کھا رہی ہوتی ہے کہ وہ سراسر جھوٹ بول رہے ہیںکیونکہ پاکستان کی معیشت اس وقت مجموعی طور پر اندرونی و بیرونی قرضوں اور اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر کے بل پر ہی چل رہی ہے کیونکہ پچھلے چھ سات سالوں میں ان دو شعبوں کے ذریعے پاکستان کوتقریباً 235کھرب روپے وصول ہوئے ہیں اس لئے ہماری معاشی ترقی کیلئے سب سے بڑا سوالیہ نشان یہ ہے کہ ہم کب تک ان کاغذ کے ٹکڑوں، مٹی کی فائلوں اور اس پانچ فیصد یہودی لابی کے زیر قبضہ عالمی معیشت کے ہاتھوں میں جکڑے رہیں گے اور کب ہمارے حکمرانوں کی آنکھیں خواب غفلت سے بیدار ہوںگی ؟ اور کون یہ حقیقت سمجھے گا کہ عملی طور پر قدرتی وسائل نہ رکھنے ،زیر زمین خزانوں سے محروم اور مختصر سی طاقت کی حامل مٹھی بھر تعداد اس تمام اکثریت پر قابض بیٹھی ہے جو قدرتی وسائل سے مالامال اورزیر زمین و زمینی خزانوں سے بھرپورہے مگر اپنے ارباب اختیار کی کمزور پالیسیوں کی وجہ سے کمتر، کمزور اور مظلوم بنے بیٹھے ہیں۔
 یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں گذشتہ چالیس سال سے نہ کوئی ڈیم بنا نے پر توجہ دی گئی ہے اور نہ ہی کوئی بڑے صنعتی منصوبے پر عملدرآمد شروع ہوا ہے۔ اب بھی اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور اپنے معاشی تضادات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پاکستان کے زمینی حقائق کے مطابق فیصلے اور اقدامات نہ کئے تو پھر کوئی طاقت ہمیں صومالیہ جیسے ملک سے بھی بدتر ترین ملک بننے سے نہیں روک سکتی کیونکہ کوئی بھی ملک قرضوں، بھیک ، امداد اور صرف بیرونی ترسیلات کی آس پر قائم و دائم نہیں رہ سکتا ۔ اگر حقیقتاً چاہیں تو آج بھی یہ پاک سرزمین سونا اگل سکتی ہے ، تیل اتنا پیدا کرسکتی ہے کہ ہم اس کو برآمدکرسکیں اور معدنیات کی صورت میں بھی بے شمار خزانے موجود ہیں لیکن اس وقت ضرورت صرف ایک ایسے لیڈر کی ہے جس کا یقین پاکستان، نظریہ پاکستان اور پاکستان کے مستقبل پر مرحوم ڈاکٹر مجید نظامی کی طرح ہو۔ اسی طرح کے غیر متزلزل یقین رکھنے والی شخصیت کی آج ہمیں شدت سے ضرورت ہے ۔ جہاں تک پاکستان کو حاصل ہونے والی اوورسیز پاکستانیوں کے ذریعے ترسیلات زر کا تعلق ہے اسکے بارے میں گذشتہ ماہ اوورسیز پاکستان سالیڈرٹی کے صدر جاوید ملک نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں منعقدہ پریس کانفرنسز میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آج تک جو پاکستانی ترسیلات زر بھیج رہے ہیںوہ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے اور یہیں جوان ہوکر بیرون ملک چلے گئے تھے لیکن اب جو جوان نسل کی اکثریت وہاں ہے وہ نہ تو پاکستان میں پیدا ہوئی ہے اور شائد ہی انہوں نے پاکستان کو دیکھا بھی ہے اس لئے اگر ہم اس وقت اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو نہیں دیکھیں گے تو آپکو ان ترسیلات زر کی شکل میں مستقبل میں بہت نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ اس وقت تو جاوید ملک صاحب اپنے مسائل بتارہے تھے مگر میں سوچوں میں گم ہوگیا تھا کہ اگر واقعی ایسا ہوگیا تو ہم پھر کہاں کھڑے ہونگے؟ یہی وجہ ہے کہ اب ہمیں بحیثیت پاکستانی سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی معاشی بہتری، صنعتی ترقی ، تعلیمی نشوونما اور زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے کیا اقدامات کرسکتے ہیں کیونکہ ہمارے اربا ب اختیار کی عقل دانی تو اتنی عمدہ ہے کہ وہ آج بھی اپنے قرضوں، بھیک ، امداد اور ترسیلات زر کی متوقع آمدنی کی بنیاد پر رکھے ہوئے بجٹ میں سے بھی دوران سال تعلیم، صحت اور بنیادی ضرورتوں کی مد میں رکھے گئے ایک دو فیصد حصوں کو اپنے انتظامی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے کٹوتیاں کرتے رہتے ہیں اور المیہ کی بات بھی یہ ہے کہ کٹوتیاں بھی انہیں ان ہی شعبوں میں نظر آتی ہیںجن کا تعلق براہ راست عوام کیساتھ ہوتا ہے۔