مسلم امّہ اور مذہبی دہشت گردی

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
     مسلم امّہ اور مذہبی دہشت گردی

مذہبی دہشتگردی وہ کینسر ہے جو معاشروں کو تباہ کر دیتا ہے لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ اس سے بچا بھی نہیں جا سکتا۔ یہ لعنت اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسانی تاریخ۔ ویسے تو اسکی کئی شکلیں ہیں لیکن عموماً دو طریقوں سے یہ تباہی کا موجب بنتی ہے۔ اول مذہب بمقابلہ دوسرا مذہب جیسے سکھ اور ہندو بمقابلہ مسلمان۔میانمار کے بدھ مذہب بمقابلہ روہنگیا مسلما ن یا سنٹرل افریقہ کے افریقی قبائل بمقابلہ مسلمان اور عیسائی۔1947میں دس لاکھ مسلمان ہندو اور سکھ مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھ گئے۔میانمار میں اب تک تقریباً چار ہزار مسلمان بدھ مذہب کے شدت پسندوں کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔اسی طرح سنٹرل افریقن ریپبلک میں 2013-14کے دوران تقریباً ایک ہزار مسلمانوں اور عیسائیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا اور دس لاکھ لوگوں کو گھر بار چھوڑ کر تارکِ وطن ہونا پڑا۔مذہبی دہشت گردی کی دوسری شکل فرقہ واریت ہے ۔ایک ہی مذہب کے پیروکار مختلف فرقوں کو برداشت نہیں کرتے اور یہ نحوست ہر مذہب میں موجود ہے۔1631 میں Madgeburgیورپ میں کیتھولک عیسائیوں نے پروٹسٹنٹ عیسائیوں کیخلاف جنگ کی۔ 30,000 پروٹسٹنٹس میں سے صرف پانچ ہزار زندہ بچے۔ 1680 میں فرانس میں کیتھولک عیسائیوں نے تقریباً 30 ہزار پروٹسٹنٹس مار دئیے جس پر پوپ نے فرانس کے بادشاہ کو خصوصی مبارکباد دی۔کیتھولک آئرلینڈ میں 1829 تک پروٹسٹسٹنٹس کو الیکشن لڑنے ،ووٹ دینے یا جائیداد خریدنے تک کی اجازت نہ تھی۔
اسلام میں بھی یہ قباحت ابتدا ہی سے موجود ہے۔ بہت سے لوگوں کی رائے میں باغ فدک ، جنگ جمل اور جنگ صفین وغیرہ فرقہ واریت کا ہی نتیجہ تھیں۔ عباسی اور اموی خلفاء کی جنگیں بھی مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر تھیں۔ یہ رائے درست ہے یا غلط اس کا فیصلہ تو عالم دین ہی کر سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ جنگیں مسلمانوں ہی کے درمیان لڑی گئیں اور ہزاروں جلیل القدر صحابہ ان جنگوں میں شہید ہوئے۔ کچھ تاریخی حوالوں کیمطابق ترکی کے عثمانی خلیفہ سلطان سلیم نے Suhkuluبغاوت میں کچھ فرقوں کے خلاف فوجی کاروائی کی جس میں چالیس ہزار لوگ مارے گئے۔ اکثریت اہل تشیع تھی۔ یہ نفرت اس حد تک بڑھی کہ 1514 میں اہل سنت عثمانی خلیفہ اور اہل تشیع ایران کے صفوی شہنشاہ کے درمیان باقاعدہ جنگ ہوئی جسے جنگِ شیلڈیران Chaldiran کا نام دیا جاتا ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق یہ جنگ خالصتاً فرقہ وارانہ منافرت کی بنیاد پر لڑی گئی اور دونوں طرف ہزاروں مسلمان شہید ہوئے۔     
پاکستان روز اول سے ہی مذہبی دہشتگردی کا شکار ہے۔ 1947میں ہندو اور سکھ بلوائیوں نے مل کر مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ لاکھوںبے قصور لوگ مارے گئے۔مرنے والوں کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ مسلمان تھے اور حالات کے ہاتھوں مجبور تھے۔ابھی اس مذہبی دہشتگردی کا خون خشک بھی نہیں ہوا تھا کہ پاکستان فرقہ وارانہ دہشتگردی کے چنگل میں پھنس گیا۔مولانا ابوالا علیٰ مودودی صاحب اور مولانا کوثر نیازی صاحب کو سزائے موت سنائی گئی جو بعد میں سعودی عرب کی سفارش پر معاف کر دی گئی۔ اس دن سے لیکر آج تک پاکستان فرقہ وارانہ دہشت گردی سے نجات حاصل نہیں کر سکا۔
اسوقت پوری ملت اسلامیہ دوہری قسم کی مذہبی دہشتگردی کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔ افغانستان سے لیکر صومالیہ تک ایک جیسے حالات ہیں۔ایک طرف مذہبی دہشتگرد تنظیمیں ہیں جنہوں نے مسلمان ممالک کو لہولہان کر رکھا ہے۔ ان میں چند ایک مشہور تنظیمیں تحریک طالبان، جند اللہ،داعش،یمن کا شیعہ ملیشیا، الشباب اور بوکو حرام وغیرہ  سر فہرست ہیں۔ پھر ان میں ہر تنظیم کے ساتھ ذیلی تنظیمیں بھی ہیں۔صرف پاکستان کی مثال ہی لے لیں تحریک طالبان کی چھتری تلے لگ بھگ چالیس کے قریب چھوٹے بڑے دہشتگردی کے ایسے گروپس ہیں جن کا کام ہی خون بہانا ہے۔یہ تمام تنظیمیں مسلمان ہیں ۔مرنے والے بھی مسلمان ہیں ۔ پریشان کن امر یہ ہے کہ یہ قتل و غارت اور خونیں کھیل اسلام کے نام پر ہی کھیلا جا رہا ہے۔معلوم نہیں کہ یہ کونسا اسلام ہے جس کی پیروی یہ گرو پس کر رہے ہیں۔انکے بقول یہ لوگ بے گناہ لوگوں کا خون بہا کر جنت خرید رہے ہیں۔مزید افسوس یہ ہے کہ یہ دہشتگردی روز بروز بڑھ رہی ہے کم نہیں ہو رہی اور اب تو پڑھے لکھے لوگ بھی اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ صرف داعش میں80ممالک کے نوجوان شامل ہیں۔
فرقہ واریت کی بیماری تمام مسلمان ممالک میں موجود ہے۔افغانستان میں ہزارہ برادری کے علاوہ شمالی افغانستان تقریباً تقریباً سارا اہل تشیع آبادی پر مشتمل ہے۔ ایران میں شیعہ ازم سرکاری مذہب ہے لیکن زیادہ تر بلوچ آبادی اہل سنت ہے۔اسی لئے ایران میں شدت پسند سنی تنظیم جنداللہ بہت زیادہ سرگرم ہے۔یمن کا جنوبی حصہ زیادہ تر اہل تشیع ہیں وہاں شیعہ ملیشیا سرگرم ہے ۔سعودی عرب اور بحرین میں کئی شیعہ فرقے بہت سرگرم ہیں جنہیں فی الحال تو طاقت کے زور پردبایا ہوا ہے لیکن کسی بھی وقت خطرہ بن سکتے ہیں۔ شام میں زیادہ تر اہل تشیع ہیں جو اسوقت حالت جنگ میں ہیں۔2لاکھ سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔ شام کے ملحق عراق ہے وہاں اسوقت شیعہ حکمرانی ہے۔ اس علاقے میں اہل تشیع کی طرف سے الاسد اور حزب اللہ سرگرم ہیں جن کی مدد ایران کررہا ہے جبکہ اہل سنت جماعت کی طرف سے داعش بہت مضبوط انداز میں لڑ رہی ہے ۔یہ خالصتاً وہابی تنظیم ہے جس نے سعودی عرب کی طرز پر تمام پرانے مزارات مقدسہ اور قدیم تاریخی مساجد کو بھی گرا دیا ہے۔بہر حال اب ایک امید کی کرن نمودار ہوئی ہے اور خدا کرے کہ یہ کامیاب بھی ہو ۔ وہ یہ ہے کہ عراق میں اہل سنت جماعت اور شیعہ حضرات نے مل کر داعش کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے سنی گروہ ’’العلم‘‘ کے250نوجوان شیعہ گروپ ’’عصائب اہل الحق‘‘ میں شامل ہو گئے ہیں اور نئے یونٹ کا نام ’’عصائب العلم‘‘ ہے۔ اس اتحاد سے باقی مسلمان امّہ کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔متحد ہو کر ہی دہشتگردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
یورپ میں جب فرقہ واریت  حد سے بڑھی تو انہوں نے مذہب کو سیاست سے الگ کر دیا جس سے Liberalism   Modernism,  اور  Pluralism نے جنم لیا۔مسلمان اسلام کو سیاست سے خارج تو نہیں کر سکتے لیکن اسلام کے نام پر جنم لینے والی دہشتگردی پر قابو ضرور پایا جا سکتا ہے ورنہ اسلام کا دنیا  میںبھیانک تصور پختہ ہو جائیگا۔