بلدیاتی نظام کا نفاذ…ایک اہم بنیادی ضرورت

کالم نگار  |  سردار عتیق احمد خان
بلدیاتی نظام کا نفاذ…ایک اہم بنیادی ضرورت

نظام کی موجودگی۔۔۔اسکی اصلاح۔۔۔ اسے پاکستانی مزاج اور ضروریات کے مطابق ڈھالناتو ایک پہلوہے لیکن بلدیاتی نظام کی مسلسل عدم موجودگی نے بڑا خلا پیداکر دیاہے۔عام آدمی کا مسئلہ انڈرپاس، فلائی اور اور میڑوبس نہیں بلکہ تھانہ ،کچہری، ہسپتال، سکول کالج ہے۔فیلڈمارشل ایوب خان اور جنرل ضیاء الحق کے بلدیاتی نظام سے لے کر جنرل پرویز مشرف کے ناظمین کے دور میں عام آدمی کو سرکاری دفاتر تک رسائی حاصل رہی ہے اور کسی حد تک شنوائی کا احساس بھی ۔ہر نئے نظام میں کچھ نقائص بھی ہوتے ہیں جنہیں وقت کیساتھ دورکیا جاسکتاہے۔پرویز مشرف کے دورمیںبنیادی سطح پر ہونے والی تعمیر وترقی بلا شبہ ماضی کے سالہا سال پر بھاری ہے۔تا ہم انتظامیہ اور سرکاری آفیسران کو عوامی مینڈیٹ کے زور پر بلڈوز کرنے کا رویہ ہر دور میں نظر ثانی کا محتاج رہا ہے ۔ ہمارے قومی مزاج میں تابعداری کو فوقیت حاصل رہتی ہے جبکہ دوران حکومت اچھی کارکردگی کیلئے آفیسران کا تعاون مدد گار ثابت ہو سکتا ہے البتہ تعاون کرنیوالا اپنی رائے کا اظہار بھی کریگا جسے برداشت کرنے کی صلاحیت قیادت میں موجود ہونی چاہیے ۔ غیر مشروط تابعداری کرنیوالی انتظامیہ ہمیشہ حکومتوں کی تباہی کا باعث بنی ہے۔ قیادت کے بنیادی فرائض میں شامل ہے کہ وہ انتظامیہ کو ذاتی یا جماعتی ملازم سمجھنے اور وفادار بنانے کے بجائے انھیں ریاستی کارندہ ہونے کا اعتماد دلائیں۔
گزشتہ روزسیالکوٹ بارایسوسی ایشن ،پریس کلب اور دیگرسیاسی سماجی تقاریب میںشرکت کے دوران میری سابق ناظم سیالکوٹ میاںنعیم ،حافظ حامد رضا ، حافظ محمد رضا ،چوہدری خیرات حسین، اعجاز نوری اور دیگراحباب کیساتھ سیالکوٹ کی تعمیر و ترقی اور پرویزمشرف کے دور میںبننے والے کامیاب پرائیویٹ ائیر پورٹ پر گفتگورہی جہاں ہر ماہ پچاس سے زائد بین الااقوامی پروازیں چل رہی ہیں۔سیالکوٹ کا پرائیویٹ ائیر پورٹ مقامی چیمبر آف کامرس، کاروباری و سماجی شخصیات اور اہل سیالکوٹ کا مشترکہ شاندارکارنامہ ہے لیکن اس کارنامے کی انجام دہی کیلئے جنرل پرویزمشرف جیسے شخص کی حکومت اور موثر بلدیاتی نظام کی موجودگی کو کبھی نظر انداز نہیںکیا جاسکتا۔
ریاست کی بنیادی ذمہ داری میںعوام کیلئے رسائی، شرکت کا احساس اور جس حد تک ممکن ہو اطمینان ضروری ہے۔ملک میںمردم شماری کا کام چھوٹے انتظامی یونٹس کی بنیادپر شروع کرکے جہاں جہاں فضا سازگار ہو وہاں بلدیاتی نظام کومتعارف کرواناشروع کیا جائے۔ وسائل کی تقسیم آبادی،رقبے اور ضروریات کی بنیاد پر کی جائے۔جن لوگوں کو انکی مائوں نے آزاد جناہے انہیں کبھی ایک اور کبھی دوسرے کا محتاج بنا کر زندہ رہنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ہر چھو ٹے یونٹ میںانتظامیہ اور عوامی نمائندوں کو غیر ضروری دخل اندازی کے بغیر کام کرنے کا موقع دیکر ملک میںایک بھر پور انتظامی، معاشی ، سیاسی اورمعاشرتی ترقی کا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں بلدیاتی سطح پر کام کے خواہش منداپنے جماعتی کارکنان کی راہنمائی اور سرپرستی کریں تاکہ ملک میںنچلی سطح پر مقامی قیادت کی تیاری اور شرکت و مشاورت کا ماحول بن سکے ۔ اسی بنیادی سطح سے کسی ایک ڈویژن ،ضلع یا اسکی چند تحصیلوں میں ایک بارشفاف اورقابل اعتماد انتخابی نظام متعارف ہو جائے تو سارے ملک پر اسکے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ سارے ملک کواکٹھے درست کر نے کا عمل خاصا مشکل ہے۔جہاں مقامی آبادی ہر طرح کے تعاون کیلئے تیارہے انہیں دوسروں کے عدم تعاون کی سزا دینے کی بجائے انہیںلیڈ رول کا موقع فراہم کرنا چاہیے ۔
یکے بعد دیگرے ملک کے تما م انتظامی اور صوبائی یونٹس کو اس راستے پر آسانی سے چلایا جا سکتا ہے۔
ہمیں اچھی بری ہر بات سے لاتعلقی والے شخص کو اس مایوسی کے اندھیروں سے نکال کرملک و ملت سے وابستہ کرناہے۔بلدیاتی نظام ہو یا دیگر انتظامی اور ترقیاتی اموراس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا ملک کے مختلف حصوں اور ضروریات کیمطابق چھوٹے یونٹس قائم کیے جانے چاہیے ہیں؟جن کے ذریعے عوامی ضروریات کا گائوں اور محلے کی سطح پر جائزہ لیا جائے اور مقامی مشاورت سے ترجیحات کا تعین کیا جائے۔ پاکستان اور کشمیر ی تارکین وطن ہمارا انمول سر مایہ ہیں جن کا ہم نے کو ئی قابل ذکر استفادہ نہیں کیا۔پاکستانی سفارت خانوں کے ویلفیئر اتاشی صاحبان کو پاکستانی کمیونٹی سے رابطہ کر کے انہیں بر وقت اطلاعات اور معلومات کی فراہمی کے علاوہ راہنمائی بھی مہیا کرنی چاہیے۔وہ رہنمائی کریں کہ اپنے ہی گائوں ،علاقے کے کسی سکول ،کالج ، فنی ادارے، ہسپتال یا واٹر سپلائی کے قیام یابہتری کیلئے لوگ کس طرح موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔میرا یقین ہے کہ اس طرح چند سالوں میںکسی باقاعدہ نظام کے ذریعے مقامی مسائل تیزی سے حل ہو سکتے ہیں۔ کسی باقاعدہ نظام کی عدم موجودگی کے باوجود بیرون ملک ہمارے لوگ پہلے سے رضاکارانہ طور پر اپنی علاقائی تنظیموں کے ذریعے اپنے علاقوں میں بڑی خدمات سرانجام دے رہے ہیںجنہیں ایک مستقل اور با اعتماد نظام سے منسلک کیا جا سکتا ہے ۔اس طرح ایک طرف مسائل میں کمی اور ساتھ ہی عوامی شرکت اور ملکیت Owner shipکے ماحول میں ان منصوبوں کی رضاکارانہ حفاظت اور مرمت و بہتری کی فضاساز گار ہو سکتی ہے۔
سرکاری انتظامیہ سے طاقت کے زور پر استعداد سے زیادہ کام لینے کی روش مناسب نہیں۔ انتظامیہ کومقامی آبادیوں میں پرانے لوگوں کی مشاورت کے ذریعے اُن کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے ۔ رہنمائی کا احساس اور سر پرستی کا یقین ہی اُن کی شرکت کا جذبہ بیدار کر کے اسے مضبوط کر سکتی ہے۔اسی طرح دیہی اور شہری معاشی نظام کے الگ الگ ماڈل بنانے پر غور کرنا چاہیے ۔ چھوٹے یونٹس میں معیاری مصنوعات کی تیاری کے حوالے سے ماڈل ولیجزقائم کیے جا سکتے ہیں ۔جن کو خام مال کی فراہمی، واپس خریداری کی ضمانت اورمارکیٹنگ کے پروگرام کے ذریعے رفتہ رفتہ ان چھوٹے یونٹس اور ان کے کارکنان کو خود کفالت کے راستے پر ڈالنا کوئی ناممکن کام نہیں ۔ ہنر مندی کو ہائی سکولوں اور دینی مدارس کی بنیاد پر متعارف کروانا چاہیے۔ سکولوں سے لیکر جیل خانہ جات تک ہنر مندی کا یہ پروگرام یکساں طور پرقابل عمل ہے ۔
 ہمارے نظام میں اصلاح نہ ہو نے کے باعث عالمی برادری بھی تھک ہار کر ہماری بعض خرابیوں میں شرکت میں ہی بھی عافیت سمجھتی ہے ۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں زلزلہ کے متاثرین کیلئے ملنے والی امداد میں سے پچپن ارب روپے سے زائدرقم کوپیپلز پارٹی کی حکومت نے کتنی آسانی سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں منتقل کرکے اس رقم کو متاثرین کی بحالی کے بجائے جیالہ نوازی اور سیاسی خرد برد کیلئے استعمال کیا۔
پاکستان اور کشمیر کیلئے مختص اربوں روپے ورلڈ بنک کو ایک جماعت یا لیڈر کے نام پر منتقل کرنے کی تجویز سے کبھی اتفاق نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ایک طرف متاثرین زلزلہ کے سکولوں ، ہسپتالوں ، انتظامی اداروں کے ادھورے اور نا مکمل منصوبہ جات اور دوسری جانب اربوں روپے کا جماعتی اور شخصی آمریت کیلئے استعمال کیا جانااس ملک کیساتھ کتنی زیادتی اوربے انصافی ہے ۔
اس لوٹ مار کو میثاق جمہوریت کے نام پر تحفظ کی فراہمی بھی غالباً اسی منصوبے کا حصہ ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں عوامی مفادات کے تحفظ کے بجائے ایک دوسرے کی شخصی، صنعتی اور کاروباری مفادات پر پہرے داری کیلئے یکجا ہیں۔ مزید یہ کہ عالمی برادری اور مالیاتی اداروں کی جانب سے پاکستان پر کرپشن اور بددیانتی کے الزامات اور پھر احتساب کے نام پر مہنگے قرضوں کی فراہمی ایک عجیب دو عملی کا مظاہرہ ہے  افراد اور جماعتوں کے نام پر استعمال ہونیوالے عالمی قرضوں کی ادائیگی بلاول ہائوس اور رائیونڈ ایمپائر فروخت کر کے کی جانی چاہیے نہ کہ دن کو ریڑھا اور رکشہ چلانے والا مزدور ان مجرمانہ اقدامات کی سزا بھگتے۔ اقتصادی ،معاشی اور مالی معاونت کے معروف اصولوں کی پامالی کا کوئی جواز نہیں۔مناسب ہو گا کہ حکومت الیکشن کمیشن کو مزید وقت ضائع کیے بغیر شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے مردم شماری ، بلدیاتی ووٹر لسٹوں و پولنگ سکیم ہا کی تیاری اور انتخابی عملے کی تربیت پر مامور کر دے ۔