ضرب عضب اور سانحہ لاہور

ضرب عضب اور سانحہ لاہور

 ریاست کے نان سٹیٹ ایکٹرز کی عسکریت پسندانہ کارروائیوں کی شدت سے مجبور ہو کر پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کی مکمل طور پر بیخ کنی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ مقاصد کے حصول تک آپریشن جاری رہے گا لہٰذا پوری قوم کو مسلح افواج کا ساتھ دینا ہو گا جب کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھرپور عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن ضرب عضب جاری رہے گا کیونکہ ملک میں دہشت گردی کا بیس کیمپ شمالی وزیرستان ہے اور غیر ملکی جنگجوئوں سمیت شمالی وزیرستان دہشت گردوں کی محفوظ آماجگاہ ہے اور ملک بھر میں ہونیوالی دہشت گرد کارروائیوں کے ٹریننگ سنٹرز، منصوبے بندی اور کارروائیوں کے احکامات بھی یہیں سے جاری کئے جاتے ہیں گزشتہ روز شروع کئے گئے آپریشن میں پیر کی رات تک مجموعی طور پر 184دہشت گرد ہلاک ہو گئے جن میں اکثریت ازبک عسکریت پسندوں کی ہے۔ تاہم فورسز کی شر پسندوں کیخلاف کارروائیوں میں حصہ لینے والے پاک فوج کے آٹھ اہلکار ریموٹ کنٹرول بم حملے میں شہید ہو گئے وزیر اعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ میں ضرب عضب آپریشن شروع کرنے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت نے 4 ماہ قبل 23 جنوری کو امن کا موقع دینے کیلئے تحریک طالبان سے بامعنی مذاکرات کا آغاز کیا مگر افسوس ہے مذاکرات 4 ماہ کی بھرپور کوششوں کے باوجود ناکام ہو گئے؟ کراچی ائیر پورٹ پر حملے کے بعد مکمل مشاورت اور ہم آہنگی کے ساتھ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے دکھ کی بات ہے کہ ہماری مساجد، امام بارگاہیں، بچے، بوڑھے، عورتیں محفوظ نہیں ہیں دہشت گردی نے ہمارے وقار کو مکمل طور پر مجروح کر کے رکھ دیا ہے اور ہماری معیشت کو 103 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچا ہے لہٰذا ہمارا یہ آپریشن امن کے دور کا پیش خیمہ ثابت ہو گا اس سے پہلے پاکستان کی فوج آٹھ سے زائد آپریشن دہشت گردوں کیخلاف کر چکی ہے جن میں آپریشن راہ حق 2007ء میں سوات اور مینگورہ کے علاقوں سے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کر کے وہاں زندگی کو رواں دواں کیا گیا۔ ستمبر 2009ء میں جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات میں پاک فوج کے 28 ہزار اہلکاروں نے حصہ لیا اور ایک ماہ کے دوران جنوبی وزیرستان کے 80 فیصد علاقے پر فوج نے اپنا کنٹرول قائم کر لیا جب کہ شمالی وزیرستان میں حکومت نے 2006ء میں حافظ گل بہادر اور 2008ء میں جنوبی وزیرستان کے مولوی نذیر اور سراج الدین حقانی کے ملٹری جنگجوئوں کے گروپس کے ساتھ معاہدے کئے۔ جنہیں اسٹیبلشمنٹ کی زبان میں اچھے طالبان کا نام دیا جاتا ہے مگر غیر ملکی جنگجوئوں کے بہت سارے گروہ جو شمالی وزیرستان میں موجود ہیں اور جنہیں پاکستان کی دفاعی تنصیبات پر حملوں کیلئے ہندوستان، افغانستان اور دیگر ممالک کی انٹیلی جنس اداروں سے مالی اور عسکری معاونت ملتی ہے ان پر سراج الدین حقانی، گل بہادر، اور مولوی نذیر کا کنٹرول نہیں ہے جس پر پاکستان کی آرمی نے فیصلہ کیا کہ اب کی بار ’’ضرب عضب‘‘ میں بلا امتیاز تمام جنگجوئوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور اچھے طالبان صرف وہی ہیں جو فوجی حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دینگے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس آپریشن سے ملک میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائیگا۔ شاید یہ بات درست نہ ہو کیونکہ مذہبی انتہا پسندی کے پیچھے جو مائنڈ سٹیٹ اور نظریہ کام کر رہا ہے وہ پاکستان میں سماجی اور معاشی تفاوت کی وجہ سے پاکستان کیخلاف کارروائیاں کرتا رہے گا اور لاکھوں قبائلی لوگ جو اس آپریشن کے دوران دربدر ہو رہے ہیں انکی معاشی مشکلات کا حکومت نے ازالہ نہ کیا تو انکے تو جوانوں میں بھی ’’جذبہ انتقام‘‘ کا ابھرنا ایک فطری امر ہو گا اور وہ بھی دہشت گردی کے نظریات کو عقلی توجیہہ فراہم کرنیوالوں کے پراپیگنڈہ کا شکار ہو کر ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھا سکتے ہیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں جنگجو شمالی وزیرستان سے نکل چکے ہیں اور وہ افغانستان کے علاقوں میں اپنے آپ کو دوبارہ منظم کر کے پاکستان کیخلا ف دہشت گردی کی کارروائیوں کو جاری رکھیں گے تاہم اس آپریشن سے پاکستان میں وزیرستان کے علاقے میں دہشت گردوں کی نرسری ختم ہونے سے کچھ عرصے تک عسکریت پسندانہ کارروائیوں میں کمی ضرور آئیگی جہاں آپریشن ضرب عضب کی تمام قوم حمایت کر رہی تھی اور پاک فوج کی حمایت میں عمران خان، الطاف حسین، آصف زرداری کی سیاسی پارٹیاں مکمل طور پر فوج کے ساتھ کھڑی ہیں مگر اچانک طاہر القادری کے سیاسی دبائو کا شکار ہو کر پنجاب حکومت کی لاہور کی انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے پاکستان عوامی تحریک کے بے گناہ آٹھ کارکنوں کو شہید کر دیا گیا جس میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ اگر قانون کیمطابق طاہر القادری کے ادارہ منہاج القرآن کے راستوں سے تجاوزات کو ختم کرنا ضروری ہے تو پھر وزیر اعلیٰ کے پرائیویٹ گھروں کے باہر کس قانون کے تحت رکاوٹیں برقرار ہیں یا تمام بڑے شہروں میں اعلیٰ افسران اور بیوروکریٹس کے دفتروں اور گھروں کے راستوں پر پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں سکیورٹی افسران عوام کی حفاظت کیلئے عوام کی کمائیوں سے تنخواہوں اور اعلیٰ مراعات لیتے ہیں مگر وہ ہر وقت عسکریت پسندی کے خوف سے قلعہ نما گھروں اور بلٹ پروف گاڑیوں اور اپنی رہائش گاہوں کے ارد گرد بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کر کے اپنے آپ کو ’’موت‘‘ سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں یا تو حکمران تمام عوام کو سکیورٹی فراہم کریں یا وہ بھی اللہ کے آسرے پر زندہ رہیں تو پھر طاہر القادری کے انقلاب کی آواز پر لوگ کان نہیں دھریں گے لیکن اگر حکمرانوں کو اپنی حفاظت کیلئے سڑکیں بند کرنے کا اختیار حاصل ہے تو پھر کیسے طاہر القادری کو منع کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں بلاول ہائوس، رائے ونڈ ہائوس، کور کمانڈر ہائوس، گورنر ہائوس، وزرائے اعلیٰ کے چار چار گھروں کے راستوں کو نوگو ایریا بنا دیا گیا ہے تو پھر پاکستان میں طالبان کا بھی نو گو ایریا لیاری گینگ کا بھی نو گو ایریا بنے گا حتی کہ سنی تحریک اور ایم کیو ایم کے بھی اپنے ممنوعہ علاقے قائم ہونگے اور پنجاب یونیورسٹی بھی کسی طلبہ تنظیم کے زیر کنٹرول ہو گی۔ قانون، انصاف، مساوات اور عدل کا تقاضا تو یہ ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں کو بھی عام عوام کی طرح زندگی گزارنا ہو گی۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف تو ویسے بھی اپنے آپ کو خادم اعلیٰ کہتے ہیں اگر وہ سب سے پہلے اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پروٹوکول ختم کرتے اور اپنے گھروں کے باہر سے راستے کھول دیتے تو شاید ڈاکٹر طاہر القادری کے ارادت مند اپنے لیڈر کے گھر کے باہر سے سکیورٹی بیئرز ہٹانے پر مشتعل نہ ہوتے اور پولیس اور گلو بٹ کی دہشت اور وحشت کا شکار ہو کر بے گناہ پاکستانی مرد اور خواتین کو اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ نہ دھونا پڑتا اور نہ ہی سینکڑوں افراد کو زخمی ہونا پڑتا بہرحال ایسے واقعات میں انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے زیادہ حکومت کی نیک نامی کو تباہ کرنے کیلئے بیورو کریسی کے کل پرزے اور عقابت نا اندیش خوشامدی مشیروں کا اہم کردار ہوتا ہے لہٰذا میاں شہباز شریف صاحب کو اپنے درباری وزراء پاکستان سے زیادہ حکمرانوں کے ساتھ وفاداری کا دم بھرنے والی بیوروکریسی سے نجات حاصل کرنا ہو گی وگرنہ ایسا نہ ہو جس حبیب جالب کے اشعار پڑھ کر وہ زرداری کی حکومت سے نجات کیلئے عوام کو جوش و ولولہ سے ہمکنار کرتے تھے ویسا ہی سلسلہ اب ان کے حریف شروع کر کے اس ملک سے جمہوریت کا بوریا بستر ہمیشہ کیلئے گول کر دیں۔