ضرب عضب… YES WE CAN DO IT

ضرب عضب… YES   WE  CAN   DO  IT

آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کے نام سے لے کر اس کے پس منظر، افادیت اور محرکات تک کو پرنٹ میڈیا کے صحافیوں الیکٹرانک میڈیا کے اینکروں اور ملکی حالات پر نظر رکھنے والے اکثر پاکستانیوں نے موضوع بحث بنایا ۔
عضب نبی کریمؐ کی تلوار کا نام ہے جس کا آپؐ نے جنگ بدر اور احد میں استعمال کیا اور بعد میں یہ تلوار چند صحابہؓ کے استعمال میں بھی رہی ’’ضرب عضب‘‘ آپریشن کا مطلب یہ ہے کہ بے گناہ لوگوں کے قاتلوں، اسلامک ریپبلک آف پاکستان پر حملہ آور دہشت گردوں اور انسانیت کا خون بہانے والے بیرونی ایجنٹوں پر حق کا پرچار کرنے والے آخری نبیؐ کی تلوار سے ضرب لگائی جائے گی کہ وہ اٹھ نہ پائیں گے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ موجودہ آپریشن صرف شمالی وزیرستان میں موجود بیرونی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف نہیں یہ پورے ملک میں دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ ہے یہی وجہ ہے کہ سارے گورنروں سے کور کمانڈرز ملے ہیں ہر صوبے میں ہائی الرٹ ہے سلیپر سیلز کی چھان بین ہو رہی ہے۔ صرف وزیرستان میں KINETIC آپریشن ہے لیکن پورے پاکستان میں کاؤنٹر ٹیررازم کا آپریشن حکومت اور افواج پاکستان کی قیادت نے زبردست اندرونی اور بیرونی دبائو کو رد کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ کو ریاست کے لئے بہتر سمجھا تھا۔ آج بھی حکومت اس پر قائم ہے لیکن حکومت اور پوری پاکستانی قوم کے صبر کا پیمانہ اس وقت لبریز ہو گیا جب ازبکستان سے آئے ہوئے دس دہشت گردوں نے کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پاکستان کو بدنام کرنے، جہاز تباہ کرنے اور لوگوںکو یرغمال بنانے کی مذموم کوشش کی۔ اب اگرچہ وزیرستان کی حد تک معاملات مکمل فوج کے حوالے ہیں لیکن مجھے قوی یقین ہے کہ اب بھی اگر دہشت گرد ہتھیار رکھ کر اپنے آپ کو فوجی حکام کے حوالے کر دیں تو ان کی بات سنی جائے گی چونکہ مقصد امن کا قیام ہے، کراچی کاآپریشن زوروشور سے جاری ہے اور رہے گا۔ بلوچستان میں حکومت اور فرنٹیئر کور ایکٹیو ہیں اور پنجاب میں ہر سطح پر ہائی الرٹ ہے۔ خیبرپی کے حکومت آپریشن کی وجہ سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی دیکھ بھال کے لئے فوج سے مکمل تعاون کر رہی ہے لیکن ابھی تک گرائونڈ آپریشن نہیں ہوا۔ سراغ رسانی کا کام لگاتار جاری ہے اور جاری رہے گا۔ بڑی آبادی سے ہٹ کر چند چنے ہوئے ایسے اہداف پر ہوائی حملے کئے گئے ہیں جس میں اب تک تقریباً 200 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ میران شاہ، میرعلی اور دتہ خیل کی تکون فوج کی مکمل گرفت میں ہے۔ ڈیورنڈ لائن کی کڑی نگرانی ہو رہی ہے۔ شمالی وزیرستان سے تقریباً 2 لاکھ لوگوں کے بے دخل ہونے کا خدشہ ہے ۔ان میں پہلے 75 فیصدی کا اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ہاںشفٹ ہو جانے کا امکان ہے۔ 25 فیصد لوگ فوجی یا حکومتی کیمپوں میں آئیں گے جن کے لئے تسلی بخش انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ میری اطلاعات کے مطابق فوجی چیک پوسٹوں پر خیموں اور پانی کا بہترین انتظام ہے حتٰی کہ ان چیک پوسٹوں پر میڈیکل سٹاف بشمول گائنوکالوجسٹ تک مامور ہیں۔ چونکہ قبائلی پٹی کسی صوبے کے ماتحت نہیں اس میں بے گھر ہونے والوں کے لئے سارے انتظامات خیبر پی کے کی حکومت کے تعاون سے افواج پاکستان نے بطریق احسن کر رکھے ہیں۔ اگر نقل مکانی کرنے والوں کی رجسٹریشن تین دن میں مکمل نہ ہو سکی تو وقت بڑھایا جا سکتا ہے۔ آپریشن کے پہلے فیز میں اطلاعات اور انٹیلی جنس اکٹھا کرنا تھا دوسرے فیز میںبارڈر کو سیل کرکے جنوبی وزیرستان کے کرائم گھوسٹوں کو گھیرے میں لیا گیا۔ تیسرے فیز میں مخصوص دہشت گردی کے اڈوں پر ہوائی حملے ہوئے۔ چوتھے فیز میں لوگوں کی نقل مکانی ایسی چیک پوسٹوں کے ذریعے کروائی جا رہی ہے جہاں شہریوں کی پہچان ہو سکے۔ پانچویں فیز میں سارے علاقے پر زمینی حملے کرکے ان کو دہشت گردوں سے پاک کرنا شامل ہے۔ چھٹے فیز میں لوگوں کی واپسی ہو گی اور آخری مرحلے میں علاقہ سول انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا یا فوجی چھائونی بنے گی۔ یہ سارے مراحل انشااللہ چند ہفتوں میں مکمل کئے جانے کا قوی امکان ہے۔ اس وقت ایک اطلاع کے مطابق افغانستان کے صوبہ کھوسٹ میں تقریباً تین ہزار کنبے نقل مکانی کر گئے ہیں یہ اطلاعات مصدقہ نہیں چونکہ ان سرحدی صوبوں میں افغانستان کی حکومت کی کوئی رٹ نہیں لیکن پاکستانی وزیراعظم نے افغان صدر کرزئی سے تعاون کے لئے درخواست کی اس کے بعد افغان سفیر چیف آف آرمی سٹاف سے ملے۔ ساتھ ہی نیٹو افواج کے افغانستان میں کمانڈر نے بھی یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ ڈیورنڈ لائن پر اپنی گرفت مضبوط کریں گے۔ یہ ایک اچھی بات ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ صدر کرزئی کی بات امریکہ اور نہ ہی افغان فوجی کمانڈر یا گورنر سننے کو تیار ہیں اور شکست خوردہ امریکن فوج اپنے اڈوں میں ہی محصور ہے اور اس کا انگور اڈا کے علاقے یا نورستان، کنڑ، ننگرہار، پکتیا، کھوسٹ یا پکتیکا جیسے سرحدی صوبوں میں گھسنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ مکمل نوگو علاقے ہیں جو دہشت گردوں کی آماجگاہیں بن چکی ہیں۔ اس لئے کرزئی کی تسلیوں پر اعتماد کرنا بے سود ہو گا۔ افواج پاکستان اور فرنٹیئر کور خیبرپی کے اور بلوچستان کو خود ہمت کرکے ڈیورنڈ لائن یا اپنی مغربی سرحد کے دروں کو بند کرنا ہو گا۔ ہماری مغربی سرحد پر 16 سرکاری گزرگاہیں ہیں جن میں خیبر، چمن اور انگور اڈے والے علاقے بڑی گاڑیوں اور ٹرکوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں باقی 13 راستے بھی کھلے ہیں اور ان کے ذریعے آمدورفت پر روک ٹوک نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 125 گزرگاہیں ایسی ہیں جن پر ہر وقت خچر کانوائے اور پیدل قبائلی لوگ ہزاروں کی تعداد میں میں آتے جاتے ہیں۔ پہاڑی بارڈر کو سیل کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ بہرحال اگر تین ہزار قبائلی خاندان کھوسٹ پہنچ بھی گئے تو کوئی ہرج نہیں ہمارے صوبے خیبر پی کے اور بلوچستان میں آج بھی تیس لاکھ افغان مہاجرین بیٹھے ہیں جو پاکستانی معیشت پر بوجھ ہیں۔
آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ میں افواج پاکستان سرخرو ہوں گی اس کی پیشہ وارانہ مہارت کے علاوہ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ’’عوام کا اعتماد افواج پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے‘‘ یہ الفاظ میرے نہیں بلکہ یہ فقرہ افواج پاکستان کے سالار جنرل راحیل شریف نے یوم شہدا پر شہدا کے لواحقین کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا۔ پوری قوم کی تائید سے دہتشگردوں کی جڑیں پورے ملک کے کونے سے کونے اکھیڑیں گے۔ (انشااللہ)
 YES   WE   CAN   DO  IT.