امن کی جنگ‘ خطرات و خدشات

امن کی جنگ‘ خطرات و خدشات

اپریشن ضرب عضب جو حقیقتاً دس سال پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔اسوقت شاید ایک بٹالین فوج کی ضرورت بھی نہ پڑتی اور اب مختلف انداز میں پوری فوج یہ جنگ لڑ رہی ہے کسی بھی اٹھنے والے خطرے کو چینی سانپ کے بچے سے تشبیہ دیتے ہیں ۔انکے مطابق اگر سانپ کے بچے کو پیدا ہوتے ہی ختم کردیا جائے تو یہ ایک عام سی بات ہے لیکن جب سانپ جوان ہو کر بچے دینا شروع کردے اوراسکے بچے مختلف مقامات پر پھیل بھی جائیں تو پھر اسے مارنا بہت مشکل اور نا ممکن ہو جاتا ہے۔یہی حالت اس وقت دہشتگردی کی ہے جو ناصرف بہت مضبوط اور طاقتور ہو چکی ہے بلکہ وطن عزیز کے طول و عرض میں پھیل چکی ہے ۔صرف یہی نہیں بلکہ مختلف اہم اداروں میں بھی سرایت کر چکی ہے۔ اسوقت اسے ختم کرنے کیلئے ایک نہیں بلکہ کئی اپریشن کرنے پڑیں گے اور نتائج بھی بھگتنے پڑیں گے جو ( خدانخواستہ) کافی بھیانک بھی ہو سکتے ہیں۔اس فوجی کاروائی کا انتظار تو کافی عرصے سے تھا لیکن نہ جانے کیوں ہمارے حکمران دلیرانہ فیصلہ کرنے سے قاصر رہے اور اب شدید نقصان اٹھانے کے بعد جب یہ کاروائی شروع ہوئی تو وہ بھی نیم دلانہ اور غیر روایتی انداز میں ہوئی۔ایسی کاروائی کا اعلان ہمیشہ حکومت ِوقت کی طرف سے ہوتا ہے نہ کہ ISPRکی طرف سے جو پندرہ جون کو ہوا۔ اس کاروائی کی اجازت قومی اسمبلی سے لی گئی اور نہ ہی قوم کو اس کیلئے تیار کیا گیا۔ حتیٰ کہ بقول  KPKحکومت جس نے اس کاروائی کا سب سے بڑا زخم برداشت کرنا ہے سے مشورہ تک بھی نہیں کیا گیا ۔ جس انداز میں یہ کاروائی شروع ہوئی اس سے یہی تاثر ابھرا کہ شاید فوج نے مجبوراً یہ کاروائی شروع کی ہے اور حکومت تذبذب کا شکار ہے لیکن خوش قسمتی یہ ہے کہ جیسے ہی اس کاروائی کی خبر ٹی وی پر نشر ہوئی تقریباً تقریباً تمام اہم سیاسی پارٹیاں اور پوری قوم فوج کی پشت پر کھڑی ہو گئی۔دوسرے دن 24گھنٹے گزرنے کے بعد جناب وزیر اعظم نے بھی اسمبلی میں خطاب کیالیکن انکے خطا ب میں وہ چمک اور عزم نہیں تھا جو ایک مدبر اور پر اعتماد رہنما میں ہوتا ہے۔سانحہ کراچی کے بعد قوم مایوسی اور انجانے خطرات سے خوفزدہ تھی۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ جناب وزیر اعظم صاحب قوم سے خطاب کر کے قوم میں حوصلہ اور خود اعتمادی پیدا کر تے لیکن افسوس کہ بجائے قوم کی رہنمائی کرنے کے وزیر اعظم تاجکستان دورے پر تشریف لے گئے جو سنجیدہ حالات سے رد گردانی کے مترادف ہے۔مزید بد قسمتی یہ کہ حالیہ ماڈل ٹائون لاہور کے المناک واقعہ نے حالات کو نیا رخ دے دیا ہے۔ جس سے قوم میں انتشار اور انارکی پھیلنے کا سخت خدشہ ہے۔ ایسے بیانات بھی آرہے ہیں کہ حکومت فوجی کاروائی چاہتی ہی نہیں۔ان حالات کا با لواسطہ منفی اثر فوجی کاروائی پر ہوگا۔ مزید افسوس یہ ہے کہ حکمران اس نازک وقت پر بھی جھوٹے ترقیاتی اشتہارات پر اپنی مسکراتی تصاویر لگوانے سے باز نہیں آرہے جو عوام سے مذاق کے مترادف ہے۔
فوجی کاروائی ابھی ابتدائی مرا حل میں ہے ۔ابتدائی طور پر فوج نے کافی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ دہشتگردی مکمل طور پر ختم کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے اورخدا کرے وہ کامیا ب ہوں لیکن یہ کاروائی کیا رخ اختیار کرتی ہے اسکے متعلق کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔یہ محدود کاروائی یقیناً جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جب مشرقی پاکستان میں فوجی کاروائی شروع کی گئی تو مغربی پاکستانی لیڈروں نے بیان دیا تھا: ’’شکر ہے پاکستان بچا لیا گیا ہے۔ ‘‘پاکستان فوج نے وہاں شاندار کامیابیاں حاصل کیں اور اگست71تک حکومتی رٹ بھی بحال کر دی لیکن پھر سول حکومت اپنا کردار ادا نہ کرسکی اور وہ انہونی ہو گئی جس کے متعلق سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ جب تک سول حکومت اور خصوصاً ہماری وزارت داخلہ اور خارجہ پر عزم نہ ہوں فوجی کامیابیاں بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں یہاں بھی یہی صورت حال ہے ۔سوات اور جنوبی وزیرستان کے علاقے فوج نے بہت محنت اور بہت قربانیوں سے دہشتگردی سے پاک کرائے لیکن بد قسمتی کہ آج تک سول انتظامیہ اپنی رٹ قائم نہیں کر سکی اور نہ ہی وہاں سے نکلنے والی آبادی کو تا حال واپس لے جا کر مکمل طور پر آباد کیا جاسکا ہے۔یاد رہے کہ کوئی بھی فوجی کاروائی مقامی آبادی کے تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی اور ہماری کرپشن ،بد انتظامی اور نا اہلی اس سلسلے میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فوجی کاروائی شروع کرنے سے پہلے وہاں کے عوام کیلئے متبادل رہائش یا مناسب کیمپ کا بندوبست کیا جاتاجو با لکل نہیں ہوا ۔ بہت سے لوگ تو کرفیو کی وجہ سے وہاں سے نکل ہی نہیں سکے۔ انہیں فوج اور طالبان دونوں کی طرف سے گولیوں کا سامنا ہے۔ جو خوش قسمت لوگ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے وہ بھی تا حال بے سہارا اور دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ حکومت کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے۔اپنے محب وطن شہیدوں کو کیوں اتنا بے توقیر کر رہی ہے۔ اس لاپرواہی کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ تقریباً دس ہزار قبائلی افغانستان جا چکے ہیں جہاں تمام سہولتو ں سمیت انکی مکمل دیکھ بھال ہو رہی ہے۔ شرم کی بات ہے کہ ہم نے کئی لاکھ افغانیوں کو تو پناہ دے رکھی ہے لیکن اپنے لوگوں کیلئے ہمارے پاس نہ وسائل ہیں نہ ہمدردی۔
کچھ اطلاعات کے مطابق طالبان کو ایک ہفتہ پہلے ہی اس کاروائی کا اندازہ ہو گیا تھا اسلئے وہ محفوظ پناگاہوں میں چلے گئے جہاں سے وہ پاکستان کیخلاف کاروائیاں کرینگے۔اسی لئے اب تک نہ کوئی اہم طالبان کمانڈر پکڑا گیا ہے نہ مارا گیا ہے۔ کاروائی کے دوسرے ہی دن شاہد اللہ شاہد کا پاکستان کیخلاف عبرتناک کاروائی کا بیان بھی سامنے آ چکا ہے ۔مزید یہ کہ وہ اس حد تک دلیر اور بے خوف ہیںکہ 16جون کو ملتان کے پوش علاقے گارڈن ٹائون سے حساس ادارے کے انسپکٹر سابق وزیر اعظم کے عزیز اور موجودہ چیف جسٹس کے بھتیجے عمر جیلانی کو صبح ساڑھے آٹھ بجے کئی لوگوں کے سامنے اٹھا کر لے گئے اور کسی کو روکنے کی جراٗٔت نہ ہوئی۔ حکو متی انتظامیہ کی کارکردگی بہت ہی افسوسناک ہے حکومت نے انسداد دہشتگردی کے نام پر کئی ادارے بنا ئے ۔ٹاپ ہیوی پولیس کے علاوہ ایلیٹ فورس، انٹی ٹیرورسٹ فورس اور چند ماہ پہلے ایک خصوصی کمانڈو فورس۔ اس پر اربوں روپے کا بجٹ خرچ ہورہا ہے لیکن جونہی دہشتگردی کا خطرہ ہوا تو یہ سب وی آئی پی فیملیز کی حفاظت پر مامور ہو گئے اور اہم شہر فوج کے حوالے ۔یہ سراسر غیر ذمہ دارانہ اور انتظامیہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
معزز قارئین ! 14 جون کو بھارتی وزیر دفاع اور افغانستان آرمی چیف کی طرف سے پاکستان کے خلاف سخت کاروائی کی دھمکیاں ملیں جو بے مقصد نہیں ہو سکتیں۔ان دونوں ممالک کی عرصہ دراز سے یہی کوشش رہی ہے کہ کسی طرح پاکستان فوج کو شمالی وزیرستان میں انوالو کر کے Bog downکر دیا جائے جہاں اسے بہت زیادہ نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ امید ہے ہماری فوج نے اپنی منصوبہ بندی میں اس خدشے سے نبٹنے کا ضرور سوچا ہوگالیکن اہم طالبان کمانڈز کا وہاں سے بھاگ کر حفاظتی پناہگاہوں میں چلے جانا، ہمارے اپنے لوگوں کا افغانستان میں پناہ لینا، افغان صدر کی کھلی پاکستان مخالفت، بھارت افغان گٹھ جوڑ، ہماری سرحدوں کے ساتھ ساتھ بھارتی قونصل خانے اور افغانستان میں پاکستان مخالف بھارتی تربیتی کیمپس بہت زیادہ احتیاط اور پیشگی منصوبہ بندی کے متقاضی ہیں۔ خدا پاکستان اور پاکستان فوج کی حفاظت کرے ۔ آمین!