کالا باغ ڈیم اور ایم کیو ایم

گذشتہ 65 برسوں سے پاکستان کی داخلی سیاست ایک ہی انداز سے ہوتی رہی ہے اور ابھی تک وہ ہی سلسلہ جاری ہے۔ ملک کی سیاسی جماعتیں اپنی پارٹی میں وڈیرے‘ پیر‘ سید‘ دولت مند افراد اور سرداروں کو سیاسی  عہدے دے دیتے ہیں۔ معاشرے کا یہ بااثر اور اونچا طبقہ عوام کو امیدوں کے سنہرے خواب دکھاتے ہیں‘ غریب ہاریوں (مزارعوں) اپنے زیر دست قبیلے کے لوگوں‘ مریدوں اور معتقدوں سے زور‘ زبردستی جذباتی اور مذہبی لگاؤ اور عقیدت کا استحصال کرکے ووٹ حاصل کرتے ہیں اور حکمرانی کے مزے لوٹتے رہتے ہیں۔ جب بھی غریب عوام اور ہاریوں کی معیار زندگی کو بلند کرنے اور انہیں باعزت مستقل روزگار مہیا کرنے کے منصوبے بنتے ہیں تو ان کو رد کرکے ختم کرتے ہیں۔
ملک کے چاروں صوبوں کے تقریباً ساڑھے سات لاکھ بے زمین ہاری اور مزارع خاندانوں کو جنہیں ڈیم بننے کی صورت میں ساڑھے بارہ  ایکڑ فی خاندان کے حساب سے مالکانہ حقوق کے ساتھ زمین ملنی تھی اس سے محروم کر دیا اور ان کے لئے باوقار روزگار کا ذریعہ ختم کر دیا۔ ایسا ہی ہاری‘  مزارع دشمن رویہ صوبہ خیبر پی کے میں حکمران عوام نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی رہنماؤں نے اختیار کئے رکھا۔ صوبہ سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی سخت مخالفت کی اور صوبہ بلوچستان کی حکومت نے رعونت میں آکر یوں ہی عوام کی مفاد کا منصوبہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو رد کیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر ملک میں دانشوروں نے غریب عوام‘ بے زمین اور کاشتکاری کے ہنر میں ہنر مند ہاریوں / مزارعوں کی حق تلفی کے درد کو محسوس کیا۔ دانشوروں کو شدید صدمہ ہوا کہ پاکستان کے وڈیرے‘ پیر‘ سید‘ امراء اور سردار کب تک صوبہ خیبر پی کے کے ٹانک‘ کرس اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع‘ پنجاب کے راجن پور‘ میانوالی‘ بھکر‘ ڈیرہ غازی خان‘ بہاولپور اور رحیم یار خان کے مشرقی صحرا‘ چولستان بلوچستان کے جھٹ پٹ‘ بیلپٹ‘ ڈیرہ بگٹی‘ جھل مگسی اضلاع اور مشرقی سندھ کے گھوٹکی سے لیکر کارونجھ تک کے ریگستانی علاقہ کے غریب مکینوں کو ان کے جائز حق سے محروم رکھ کر ابدی غربت کے غار میں دھکیلتے رہیں  گے اور ان کو غلام بنائے رکھیں گے اور خود ان کی ووٹوں کی قوت کو استعمال کرکے حکمرانی کرتے رہیں گے۔
دانشوروں نے گذشتہ پانچ برسوں میں اخبارات اور ٹیلی ویژن کی وساطت سے عوام میں آگاہی لانے کی جدوجہد کی اور کئی فورمز پر سیمینارکرکے حکمرانوں کی لاپروائی۔ خود غرضی کو عوام کے سامنے بے پردہ کیا جس کے نتیجہ میں 11 مئی 2013ء کو عوام نے اپنی ووٹوں کی قوت سے سیاسی جماعتوں کو سزا دے دی۔ سندھ کے اخبارات اور سندھی ٹیلی ویژن چینلز میں دانشوروں کی طرف سے رکھی گئی غریب ہاریوں کے حقوق اور بھلائی کے منصوبوں سے انہیں محروم کرنے کے متعلق آگاہی کے معاملات کو چھاپنے اور نشر کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ سندھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے مالکان اور اہلکار طاقتور وڈیروں‘ پیروں‘ سیدوں اور سرداروں سے خوفزدہ ہیں اور پرنٹ/ الیکٹرانک میڈیا کو فقط اپنے مفاد کی فکر رہتی ہے۔ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی ڈیم مخالف ہیں اور غریب بے زمین ہاری/ مزارع کو زمین دینے کے مخالف ہیں۔ پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی عوام کے ہاتھوں بربادی کے معاملہ پر ایم کیو ایم کی قیادت نے غور کیا اور محسوس کیا کہ آنے والے وقتوں میں سندھ کے عوام میں آگاہی ہوئی تو سندھ میں بھی عوام پیپلز پارٹی کو رد کر دیں گے۔ اسی صورت میں سیاسی خلا کو پر کرنے کے لئے ایم کیو ایم کو چاہئے کہ غریب بے زمین ہاریوں کو سینے سے لگائے اور دانشوروں کی جدوجہد میں شامل  ہو کر کالا باغ ڈیم بنوائے تاکہ عوام اپنی ووٹ کی طاقت سے ایم کیو ایم کی پذیرائی کریں۔ اب یہ بات یقینی ہے ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت کسی بھی وقت کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وزیراعظم محمد نواز شریف سے کالا باغ ڈیم کی جلد از جلد تعمیر کرنے کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ ایم کیو ایم کی قیادت میں اتنی قوت اور ذہانت ہے کہ وہ کالا باغ ڈیم کے معاملہ میں سندھ کے عوام میں آگاہی لا سکتی ہیں اور ڈیم کی تعمیر میں معاون ہو سکتے ہیں۔ سندھ کے غریب مزارع/ ہاری وڈیروں کی جبر اور استحصال کا شکار طبقہ ہے اور ان کو مالکانہ حقوق کے ساتھ زمین ملنے کی صورت میں صوبہ سندھ کے مشرقی ریگستانی علاقہ اور جنوب سندھ میں ایم کیو ایم کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا اور 2018ء کے انتخابات اور اس سے پہلے بلدیاتی انتخابات میں پذیرائی ہو سکتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں ایم کیو ایم سندھ میں اکثریتی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آجائے۔ بے شک ایم کیو ایم والے اپنی پارٹی میں سے سندھی بولنے والے نمائندے کو وزیراعلیٰ بنا کر سکون کے ساتھ حق حکمرانی کو استعمال کرتے رہیں اور Good Governance میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم کو صوبہ بلوچستان‘ صوبہ خیبر پی کے اور پنجاب کے ان علاقہ جات میں پذیرائی مل سکتی ہے جہاں پر کالا باغ ڈیم کی پانیوں سے بنجر زمین زیر کاشت آئے گی اور عوام کی خوشحالی کا سبب بنے گی۔ یوں ایم کیو ایم کی جماعت پورے پاکستان میں قومی جماعت کے طور پر ابھر سکتی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اور صوبہ خیبر پی کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی شدید مخالفت کرکے عوامی نیشنل پارٹی کی راہ اپنا لی ہے۔ سندھ میں عمران خان عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں لہٰذا جوں جوں دانشوروں کی کوشش سے عوام میں آگاہی آتی رہے گی تو پاکستان تحریک انصاف کی کالا باغ ڈیم مخالف سیاست سے پردہ اٹھتا رہے گا اور پی ٹی آئی کا حشر بھی پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی جیسا ہو گا پاکستان مسلم لیگ (نون) کی قیادت کالا باغ ڈیم‘ دیگر ڈیمز اور ہائیڈرو پاور پراجیکٹز کی تعمیر میں دلچسپی رکھتی ہے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کالاباغ ڈیم تعمیر کر جاتی ہے تو 2018ء کے انتخابات میں واضح اکثریت کے ساتھ حق حکمرانی حاصل کر سکتے ہیں۔ غریب‘ بے زمین ہاری/ مزارع‘ پاکستان کے سیاسی رہنماؤں سے توقع کرتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر شروع کی جائے تاکہ ان کی خوشحالی اور خوشبختی کا بندوبست ہو سکے بصورت دیگر فیصلہ تو عوام نے ہی کرنا ہے اور انتخابات میں ووٹ کے ذریعے عوام نے کڑا احتساب کرنا ہے۔