رابرٹ گیٹس کے اعترافات اور انکشافات

کالم نگار  |  قیوم نظامی

امریکہ کے سابق سیکریٹری ڈیفنس واحد شخصیت ہیں جنہوں نے مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے صدور (جارج بش ری پبلکن براک اوبامہ ڈیموکریٹ) کے ساتھ کام کیا۔ انہوں نے اپنی یاد داشتوں پر مشتمل دوسری کتاب (Duty: Memoirs of a Secretary at War) تحریر کی ہے جس نے امریکہ میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ رابرٹ گیٹس کی نئی کتاب کو بے تکلف تجزیہ، دھماکہ خیز اور وائٹ ہائوس کے راز افشاء کرنے والی کتاب قراردیا جارہا ہے۔ جنرل (ر) زینی کہتے ہیں کہ رابرٹ گیٹس اگر کچھ اور تاخیر کرلیتے تو بہتر تھا یا پھر جب منصب پر تھے اس وقت لکھتے۔ اگر وائٹ ہائوس اپنی حدود سے تجاوز کررہا تھا تو گیٹس اس وقت آواز اُٹھاتے مگر اس وقت وہ خاموش رہے اور خود بات کرنے کی بجائے سرکاری راز تجزیہ نگار باب وڈپر افشاء کرتے رہے۔ باب وڈ نے واشنگٹن پوسٹ میں تحریر کیا ہے کہ رابرٹ گیٹس کی کتاب ’’ڈیوٹی‘‘ اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے جس میں موجودہ صدر کی معاندانہ تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس کتاب کو تاریخ میں غصیلے جذبات والی کتاب کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ مصنف نے کتاب میں عیب جوئی کی ہے۔
رابرٹ گیٹس لکھتے ہیں کہ امریکی صدر اوبامہ کے دور میں قومی مفاد نے امریکی سیاست پر منفی اثرات مرتب کیے۔ گیٹس انکشاف کرتے ہیں کہ صدر اوبامہ کو افغانستان میں فوجی اضافے کے بارے میں خدشات تھے اور وہ اس سلسلے میں یکسو نہیں تھے۔ مصنف نے کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ ایبٹ آباد میں اُسامہ آپریشن کی تیاری کے دوران امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو اعتماد میں لینے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا کیونکہ امریکہ کو ڈر تھا کہ آئی ایس آئی اُسامہ کی نگرانی کررہی تھی اور اعتماد میں لینے کی صورت میں آپریشن ناکام بھی ہوسکتا تھا۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) ضیاء الدین خواجہ کے مطابق اُسامہ آئی ایس آئی نہیں بلکہ آئی بی کی نگرانی میں تھا۔ گیٹس کے مطابق امریکہ کو یہ خوف بھی تھا کہ ایبٹ آباد کمپائونڈ آئی ایس آئی کے حصار میں ہوگا اور بدترین صورت یہ ہوسکتی تھی کہ پاکستانی فورسز کمپائونڈ کو گھیرے میں لے لیں اور اُسامہ کی ڈھال بن جائیں اور امریکی فورسز کو قیدی بنا لیں۔ آپریشن انچارج ولیم میکارون نے مصنف کو بتایا کہ اگر ایسی صورت پیدا ہوتی تو امریکی کمانڈوز کمپائونڈ کے اندر قابض رہتے اور پاکستانی فورسز پر گولی نہ چلاتے بلکہ سفارتی دبائو استعمال کرکے اُسامہ کو لے جانے میں کامیاب ہوجاتے۔
مصنف نے آپریشن انچارج سے سوال کیا کہ اگر پاکستانی فورسز کمپائونڈ کی دیوار توڑ کر اندر داخل ہوجاتیں تو کیا امریکی کمانڈوز سرینڈر کردیتے یا گولی چلاتے۔ انچارج نے جواب دیا کہ اس صورت میں امریکی کمانڈوز فرار ہونے کے لیے ہر ممکن کاروائی کرتے۔ رابرٹ لکھتے ہیں کہ اس آپریشن کے لیے جتنے اجلاس ہوئے ان میں کسی ایک اہل کار نے بھی پاکستان کو اعتماد میں لینے کے بارے میں رائے نہ دی۔ رابرٹ کے مطابق کامیاب امریکی آپریشن سے پاک فوج کی توہین ہوئی۔ رابرٹ اعتراف کرتے ہیں کہ امریکہ نے 2009ء کے انتخابات میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو اقتدار سے نکالنے کی کوشش کی تھی۔ مصنف نے اپنی کتاب میں اعتراف کیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان کبھی اعتماد کا رشتہ قائم نہیں رہا اور امریکہ کو یقین تھا کہ پاکستان اس کا اتحادی نہیں ہے۔ امریکہ دہشت گردوں کا تعاقب کررہا تھا جبکہ پاکستان ہر قیمت پر افغانستان میں اپنا اثرو رسوخ قائم رکھنا چاہتا تھا۔ زمینی حقائق کے باوجود رابرٹ گیٹس امریکی کانگرس اور میڈیا کے سامنے پاکستان کا دفاع کرتے تھے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات قائم رہیں اور کراچی سے کابل تک نیٹو سپلائی جاری رہے۔
گیٹس لکھتے ہیں کہ انہوں نے 2010ء میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد ان کا یقین مزید پختہ ہوگیا کہ پاکستان طالبان سے اپنے تعلقات منقطع نہیں کرے گا۔ امریکن مخالف جذبات، امریکی شہریوں کو ہراساں کرنے اور فوج کے ماورائے عدالت شہریوں کو قتل کرنے کی وجہ سے پاک امریکہ تعلقات کشیدہ ہوئے۔ گیٹس لکھتے ہیں کہ ان کو یقین تھا کہ پاکستان نیٹو سپلائی بحال رکھے گا کیونکہ پاکستان کو اس سپلائی کا بھاری معاوضہ مل رہا تھا۔ گیٹس کے مطابق امریکہ کی کسی حکومت نے پاکستان کے معاملات میں اتنی دلچسپی نہیں لی جتنی اُوبامہ انتظامیہ نے لی۔ اوبامہ نے اقتدار سنبھالنے سے قبل ہیلری کلنٹن ، جوبڈن اور دوسرے سینئر اہل کاروں کے ساتھ پاکستان، افغانستان اور بھارت کے بارے میں ایک گھنٹہ تبادلۂ خیال کیا اور پاکستان کو سب سے خطرناک ملک قراردیا گیا۔ اوبامہ نے 2009ء میں بروس ریڈل کے ڈرافٹ پر کئی بار مشاورت کی جس میں افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردوں کے اڈوں کو تباہ کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
گیٹس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے دہشت گردوں سے پاکستان کی حمایت ختم کرنے کے لیے سویلین کنٹرول مستحکم کرنے اور پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عسکری اور سویلین ذرائع کو استعمال کیا۔ جب طالبان اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تو پاک فوج نے ان کا سوات اور وزیرستان میں تعاقب کیا۔ پاکستان کو چونکہ امریکہ پر اعتماد نہیں تھا اس لیے اس نے افغان طالبان سے تعلقات استوار رکھے اور ان کے لیڈروں کو کوئٹہ میں پناہ دی۔ پاکستان چاہتا ہے کہ اس کا افغانستان میں اثرورسوخ ہر حال میں قائم رہے۔ گیٹس کی کتاب پاکستان کے مقتدر حلقوں کے لیے آئینے کی حیثیت رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے کبھی عوام کو اعتماد میں نہیں لیا بلکہ ہمیشہ عوام سے جھوٹ بولا ہے جبکہ سچ امریکہ اور برطانیہ کے پریس میں شائع ہوجاتا ہے۔ گیٹس کی کتاب شاہد ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی خارجہ پالیسی بری طرح ناکام ہوئی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پچاس ہزار سے زائد شہری شہید کرالیے اور 100ارب ڈالر کا مالی نقصان برداشت کیا جبکہ گیٹس کے مطابق امریکہ پاکستان کو اپنا اتحادی ہی نہیں سمجھتا تھا۔ عسکری تھنک ٹینک کا قومی فرض ہے کہ وہ امریکی مصنفین کی کتاب کی روشنی میں ایسی جامع خارجہ پالیسی تشکیل دیں جو قومی مفادات کے تابع ہو۔
راقم نے اپنی زندگی میں محب الوطن پاکستانیوں کو پاکستان کے مستقبل کے بارے میں اس قدر بے چین اور مضطرب نہیں دیکھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عوام کا سیاستدانوں سے اعتماد ہی اُٹھ چکا ہے۔ چند روز قبل جنرل (ر) حمید گل کا فون آیا پاکستان کے بارے میں بڑے فکر مند تھے۔ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان کے دانشور ہر قسم کے اختلافات ختم کرکے اور تعصبات سے اوپر اُٹھ کر متحدہ محاذ بنائیں اور پاکستان کو بچانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔ راقم نے ان سے گزارش کی متحدہ محاذ شخصیات کی بجائے قومی ایجنڈے کی بنیاد پر تشکیل دیا جائے اور قومی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے پوری قوم کو متحد کیا جائے۔ پاکستان کے نیک نام اور اہل افراد اپنی مشترکہ کوششوں سے پاکستان کو بحران سے نکال سکتے ہیں۔ پاکستان کے جو افراد اور گروپ پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے کام کررہے ہیں ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ضرورت ہے۔