دوسری محبت !

کالم نگار  |  نعیم مسعود

اپنی دوسری محبت کی بات بعد میں، پہلے قائداعظم محمد علی جناح کی نوجوانوں اور طلبہ سے محبت کا ایک اہم تذکرہ :
’’میں خاص طور پر مسلمان طلبہ اور ذہین طبقہ سے مستعد اور باعمل ہونے کی اپیل کروں گا۔ کسی قوم کی خوشحالی اور ترقی کا دار و مدار اس کے ذہین افراد پر ہوا کرتا ہے۔‘‘ (29 دسمبر 1940ئ)
’’جب میں تم سے کہتا ہوں کہ تم سیاست میں عملی حصہ نہ لو تو میں نہیں چاہتا کہ تمہیں میرے بارے میں کوئی غلط فہمی ہو، میں چاہتا ہوں کہ (پہلے) تم اچھی طرح تیار کر کے اپنے آپ کو اس قابل بنائو۔ اس لئے تمہاری اولین ضرورت تعلیم، تعلیم اور تعلیم ہے۔‘‘ (15 نومبر 1942ئ)
جس طرح قائداعظم نے ’’کام، کام اور صرف کام‘‘ کی تاریخی ہدایت کی وہاں ’’تعلیم، تعلیم اور تعلیم‘‘ پر بھی زور ڈالا۔ تعلیم سے یاد آیا کہ، ملک بھر میں جو پہلی تعلیم کے شعبہ میں پیشہ ورانہ یونیورسٹی 2002ء میں قائم ہوئی وہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور ہے۔ جہاں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے ناک تلے میرٹ کی دھجیاں اڑانا بھی اپنی جگہ ایک ’’منفرد قیام‘‘ ہے۔ اس کی بات بھی کرنا مقصود ہے لیکن پہلے تھوڑی سی بات دوسری محبت کی۔
چند دن قبل یونیورسٹی آف سرگودہا میں ’’قائداعظم کا پاکستان اور نوجوان‘‘ کے حوالے سے ایک سیمینار ہوا۔ ملک بھر کے صفِ اول کے دانشور حضرات کے علاوہ اس ناچیز طالب علم کو اعزاز بخشا گیا کہ کچھ کہہ لوں۔ سیمینار کے سٹیج سیکرٹری بھی شعلہ بیاں کے ساتھ ساتھ شیریں بیان تھے۔ کہنے لگے ’’پروفیسر نعیم مسعود کی پہلی محبت کا تو نہیں معلوم تاہم دوسری محبت سرگودہا یونیورسٹی ہے۔‘‘ ہم نے یہ تو نہ جواب دیا کہ، مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ اور نہ ہم نے یہ کہا کہ محبت اب نہیں ہو گی --- یہ کچھ دن بعد میں ہو گی۔ لیکن یہ ضرور کہا کہ محبت پہلی ہو یا دوسری بلاوجہ نہیں ہوتی، اور ہماری محبت ایک عاشق نامُراد والی محبت نہیں بلکہ ایک تجزیہ نگار والی محبت ہے۔ ہمارا تجزیہ، غیر جانبدارانہ تجزیہ یہ کہتا ہے کہ 2002ء ہی میں قیام پانے والی سرگودہا یونیورسٹی جس کی 10 سالہ تقریبات جاری ہیں، وہ اپنی ولاسٹی، اسراع، کیمیکل کمپوزیشن، مکینکس اور سفر کے طے کرنے کے اعتبار سے دس سالہ کے بجائے صد سالہ اعلیٰ روایات کی امین بن گئی ہے۔ گویا صدیوں کا فاصلہ لمحوں میں طے کرنے میں اس کا وائس چانسلر ڈاکٹر اکرم چوہدری ہی نہیں ان کے ڈین آف سائنسز، ڈین آف آرٹس، پرنسپل میڈیکل کالج، پرنسپل ایگریکلچر کالج، پرنسپل انجینئرنگ کالج، ڈین ہیلتھ سائنسز، ڈائریکٹر میانوالی کیمپس، ڈائریکٹر بھکر کیمپس، کنٹرول امتحانات، خازن، رجسٹرار اور پی وی سی پر مشتمل ٹیم بھی قابلِ تحسین ہے --- قابلِ تحسین!
جہاں تک محبت کی بات ہے ہماری پہلی اور دوسری محبت ہو یا 17ویں محبت اس کا تعلق کسی یونیورسٹی یا اُس کے قائد سے نہیں بلکہ حُسنِ عمل سے ہے۔ حُسن جہاں بھی ہو گا وہاں محبت تو ہو گی۔ ہاں تجزیہ نگار کی محبت کا تعلق حُسنِ عمل، حُسن کارکردگی اور نتیجہ حُسن سے ہوتا ہے، سو ہے۔ محبت تو ہمیں میاں محمد نواز شریف سے بھی ہے، اور اس محبت اور عقیدت کے ساتھ ایک وعدہ ارادہ بڑی محبت کے ساتھ، انہیں بھی یاد کرانا ہے۔ پھر ایک محبت میاں نواز شریف کو بھی اپنے عظیم قائد محمد علی جناح سے ہے جنہوں نے 24 دسمبر 1940ء کو ’’تعلیم، تعلیم اور تعلیم‘‘ کی بات کی --- جی! پچھلے دنوں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہائر ایجوکیشن کمشن کے چیئرمین کی تقرری کا کیس زیر سماعت تھا۔ عدالت عالیہ کی جانب سے بار بار کہا جا رہا تھا کہ ایچ ای سی کو عارضی چیئرمین کے بجائے مستقل چیئرمین دیا جائے۔ حکومت کی طرف سے بار بار وعدہ کیا جاتا کہ اگلی تاریخ پر، اگلی تاریخ پر۔ آخر ایک اشتہار کے ذریعے اچانک درخواستیں مانگ لی گئیں۔ اسی اشتہار میں جس میں چیئرمین ایچ ای سی کیلئے درخواستیں مانگی گئیں ساتھ یہ بھی فرمان تھا کہ دانشور حضرات اور خواص و عام بھی اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ احسن اقبال وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کی سربراہی میں وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم و تربیت بلیغ الرحمن سمیت دیگر لوگوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنا دی گئی جو سکروٹنی بھی کرے گی اور انٹرویوز کے علاوہ عوامی رائے کے تناظر میں ایچ ای سی کے چیئرمین کی تقرری بھی۔ اگر واقعی میرٹ مطلوب ہے، تو زندہ باد، طریقہ پسند آیا۔ لیکن کیا پی آئی اے، سٹیل ملز، نادرا، نیب، این ایچ اے، ریلوے، واپڈا وغیرہ وغیرہ سبھی کیلئے یہی طریقہ کار ہو گا؟ یا یہی طریقہ کار اپنایا گیا؟ جو بے شمار محکموں کے سربراہان کی جگہیں خالی ہیں اُن سبھی پر ایسے ہی تقرری ہو گی؟ ہمیں معلوم ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے منشور میں اور قبل از انتخابات کچھ ایسی باتیں کی گئیں لیکن یہ پیچیدگی صرف تعلیم ہی کیلئے کیوں؟ میاں نواز شریف محترم آپ کے حوالے سے ہمارا حُسنِ پختگی سے قائم ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال پر بھی اعتبار ہے لیکن صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ اپنے رشتہ دار وائس چانسلر ڈاکٹر قرار (زرعی یونیورسٹی فیصل آباد) کے حوالے سے کسی سسٹم کو متحرک کر کے بے شمار ای میل اور خطوط کمیٹی کو بھجوا دئیے ہیں، تو؟ چلئے میں ہی اُٹھتا ہوں اور ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی (وی سی قائداعظم یونیورسٹی) کیلئے مہم چلاتا ہوں اور ان گنت خطوط و برقی پیغامات بھجوا دیتا ہوں۔ اگر ایجوکیشن یونیورسٹی لاہور کا وی سی جو میرٹ کی دھجیاں اڑانے میں ماہر ہے جس کے حوالے سے غالباً تحریک التوا بھی اسمبلی میں پیش ہو چکی اگر وہ زورِ بازو یا زورِ قلم سے ’’کوالیفائی‘‘ کر جاتا ہے، تو قائداعظم کی تعلیم، تعلیم اور تعلیم کا کیا حال ہو گا۔ جاتے جاتے ارباب اختیار سے یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کی پہلی ایجوکیشن یونیورسٹی میں گورنر کے اختیارات اور میرٹ کو سبوتاژ کرنے پر رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات اور خازن آسامیوں کا جائزہ لیا جائے۔ غلط تقریروں اور آسامیوں کے مشتہر نہ ہونے کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ بات چلی تھی دوسری محبت سے، ہم اپنے عزیز دوست سے وزیراعظم پاکستان تک کو یہی کہیں گے کہ ’’ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے‘‘ ہم سب کی محبت حب الوطنی ہے، نظریہ پاکستان سے پیار ہے۔ فردِ واحد یا کسی ایک تعلیمی ادارے سے نہیں عظیم قائد کے حکم پر تعلیم، تعلیم اور تعلیم سے محبت کی کوشش ہے۔ اس محبت اور کوشش کو پہلی کہیں، دوسری یا دسویں محبت!