”معرکہ کارگل پرمجھے فخر ہے جنرل (ر) پرویز مشرف“

راولپنڈی شہر پٹھان قبائل اور کشمیریوں کے درمیان ہمیشہ سے ہی مجاہدین کا مرکز رہا ہے۔ چنانچہ پاکستان بننے سے قبل خلافت موومنٹ کے دوران بعض علماءکے کہنے پر جو مسلمان ہجرت کر کے کابل گئے تھے ان کا اہم مرکز بھی راولپنڈی ہی تھا پھر اسکے کچھ عرصہ بعد راولپنڈی میںبانسا نوالہ بازار کے قریب ایک سنیما حال میں شیخ عبداللہ نے پنڈی میں رہائشی کشمیریوں کیلئے جلسہ کیا جس کیلئے بڑا مشہور تھا کہ یہ کشمیرکی آزادی کیلئے جلسہ ہے ۔ اس وقت میری عمر بہت کم تھی میں تیسری چوتھی جماعت میں پڑھ رہا تھا مجھے اس وقت پتہ نہیں تھا کہ یہ جلسہ کشمیریوں کی مہاراجہ سے آزادی کیلئے تھا یا انگریزی حکومت کیخلاف تھا ‘اسکے بعد پاکستان بنتے ہی راولپنڈی پٹھان قبائل مجاہدین کا بہت بڑا مرکز بن گیا۔ یہاں سے مجاہدین کو بسوں میں لاد کر بارہ مولا سرینگر بھیجا جاتا اور پنڈی کی خواتین ان مجاہدین کیلئے کھانا پکا کر بھیجتیں یہ مجاہدین بارہ مولا کو فتح کرتے ہوئے سرینگر شہر پہنچ گئے تھے لیکن بدقسمتی سے سرینگر کے کشمیریوں نے شیخ عبداللہ کی حمائت میں ان کو خوش آمدید کرنے کی بجائے سرینگر سے مار کر نکال دیا یا قید کر دیا۔ راولپنڈی جی ٹی ایس کا ڈرائیورمعین الدین جس کو میں نے بھرتی کر وایا تھا اس نے سرینگر سے واپسی پر بتایا کہ ہماری بسیں چھین لی گئی ہیں اور بعض ڈرائیور بھی قید کر لئے اور بعض تو بھاگ کر آگئے ان میں مَیں بھی ہوں ۔ کوئی مہینہ بعد اس نے اپنی جی ٹی ایس بس کو راولپنڈی کینٹ میں دیکھا تو شور مچادیا کہ یہ میری بس ہے۔چنانچہ بس کے سابقہ ڈرائیور معین الدین کو فوجی پکڑ کر لے گئے اوربارہ مولا اور سرینگر کا حال معلوم کیا۔ چنانچہ اسکے بعد اب راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں مجاہدین کے چھوٹے چھوٹے مراکز قائم ہو گئے ہیں جہاں سے حسب ضرورت مجاہدین کو تھوڑی بہت ٹریننگ کے بعد فوجی قیادت میں کشمیر بھیج دیا جاتا تھا۔ایسا ہی ایک مجاہدین کا مرکز پنڈورہ چونگی سے پار اسلام آباد I-9سیکٹرکی ایک کوٹھی میںقائم تھا جو مولانا عبداللہ صاحب چلا رہے تھے ۔ مولانا عبداللہ صاحب اور انکے چند ساتھی سکردو کے علاقہ میں اسلامی مدارس چلاتے تھے۔ ان سے سکردو میںمیری رفاقت تھی کیونکہ انکے پاس سکردو میں کئی دفعہ مدارس کو امداد پہنچانے کیلئے جایا کرتا تھا۔
مولانا عبداللہ جو فوت ہو چکے ہیں اللہ تعالیٰ مغفرت کرے۔ آپ نے بتایا کہ سکردو کے علاقے میںپہاڑوں پر کوئی کارروائی ہو رہی ہے وہاں چونکہ سردی برداشت سے باہر ہے اس لئے کچھ بسترے رضائیاں مہربانی کر کے ہمارے مرکز میں پہنچا دیں۔ چنانچہ راقم ایک ٹرک بھر کر رضائیاں اور بسترے مولانا عبداللہ صاحب کو دینے کیلئے گیا تو انھوں نے بتایا کہ ہم یہاں مجاہدین کو درہ کی رائفلز پرکوئی مہینہ بھر کیلئے ٹرینگ دیتے ہیں۔ اس میں رائفلز کا فائر کرنا شامل نہیں ہوتا چنانچہ فائرنگ کی ٹریننگ ان کو فوجی حضرات سکردو میں دیتے ہیں البتہ جب کوئی مجاہد چھٹی پر واپس آئیں تو وہ بتاتے ہیں کہ ہم کو سکردو کے علاقہ میںپہنچ کر NLI فوج میں بھرتی کرکے ضروری کاغذات وغیرہ دے دئیے جاتے ہیں‘ جس سے ہماری فیملی کو تنخواہ وغیرہ ملنا شروع ہو جاتی ہے۔
سکردو میں عام مشہور تھا کہ باڈر پر جو پہاڑیاں ہیں وہاں سے سردی کے موسم میں بھارتی فوجی اپنے مورچے خالی کر کے واپس چلے جاتے ہیں ‘چنانچہ پاکستان فورسز ان خالی مورچوں پر قابض ہورہے ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرنک میڈیا میں یہ خبر نشر کی جا رہی تھی کہ سکردو کے بارڈر کی پہاڑیوں پر گھمسان کی لڑائی کے بعد پاکستان ان چوٹیوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔ اس طرح جنر ل پرویز مشرف صاحب اسی معرکہ کارگل پر فخر کا اظہار کرتے ہیں اسکی اصل حقیقت تو جنرل مشرف ہی جان سکتے ہیں لیکن جنرل صاحب نے اس معرکہ کی تفصیل نہیں بتائی بلکہ صرف یہ بیان کیا کہ کارگل معرکہ کی وجہ سے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں زمینی پیداوار فروٹ وغیرہ کی شدید کمی ہو گئی ہے اوراس آپریشن سے بھارت کو اربوں روپے کا مالی نقصان پہنچا ہے۔
البتہ آپ نے نوائے وقت مورخہ 3 مارچ 2013ءمیں ” معرکہ کارگل پر بڑا فخر ہے “ کے عنوان سے اپنا مضمون شائع کیا جس میں انہوں نے یہ نہیں بیان کیا کہ حکومت کی اجازت بلکہ اطلاع کے بغیر اور ساری پاکستانی فوج کو اعتماد میں لئے بغیر آپریشن شروع کر دیاجو پورا بھی نہیں ہو سکا۔ آپ کے مضمون کی اشاعت سے پہلے مورخہ 16فروری 2013کو نوائے وقت جاوید صدیق نے جو اسی کارگل معرکہ کے بارہ میں پہلے سے ہی ” کارگل کے سربستہ راز سے پردہ اٹھتا ہے “کے عنوان سے جو مضمون شائع کیا۔ اس میں اشاروں اشاروں سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کیمطابق بھارتی فوجیں کارگل کے راستے ہمارے شمالی علاقہ جات پر حملہ کرنے لگی تھیں ۔ جن کو روکنے کیلئے ہم نے یہ معرکہ شروع کیا تھا راقم کویاد پڑتا ہے کہ انہیں دنوں میں تقریباً مئی 1998ءمیں آپ نے کسی کانفرنس میں یہ بیان فرمایا تھا کہ آپ نے معرکہ کارگل کے ذریعہ سے بھاری خطرناک بھارتی حملہ کو روک دیا ۔ البتہ اُس وقت بھی اور اَب بھی جاوید صدیق کے آرٹیکل میں یہ لکھا گیا ہے کہ اس قسم کی بھارتی حملہ کی اطلاع نہیںتھی اور نہ ہی ہماری فوج ۔ISI۔ ملٹری اورنہ ہی سول انٹیلی جنس نے بیان کیا۔ اور جنرل صاحب کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ سٹاف کالج میں انسٹرکٹر رہے ہیں۔ تو آپ کو بخوبی علم ہو گا کہ سٹاف کالج میں جب بھی کوئی برابلم زیر بحث آتی ہے تو سب سے پہلے فیصلہ کیا جا تا ہے کہ اس آپریشن کا AIMیعنی مقصد کیا ہے۔ اور ہماری طرف سے جو کارروائی کی جائیگی۔ اُس سے کہاں تک یہ مقصد پورا ہو سکے گا۔
 چنانچہ سرینگر سے براستہ زوجی لا پاس اور کارگل سے ہوتے ہوئے بھارتی LOCلداخ علاقہ تک پہنچتی تھی اسلئے اگر یہ معرکہ کارگل بھارتیLOCبند کر دیتا تو بھارتی فوج کا متعلقہ حصہ بغیر لڑے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جاتا۔ اگرچہ جنرل صاحب نے ذکر تو نہیں کیا لیکن اُس زمرے میں امریکی رسالہ نیوز ویک نے تصویروں میں دیکھایا تھا کہ زوجی لا پاس میں ہزاروں بھارتی Ammunition ایمونیشن کی گاڑیاں ہیڈ ٹو ٹیل (Head to Tail) رینگتی نظر آتی تھیں ۔ چنانچہ اگر جنرل صاحب کی کمانڈو مہارت یہا ں پر ایک بھارتی ٹرک بھی Destoryکر دیتی تو زوجی لا پہاڑی پر پھنسا ہوا سارا بھارتی آرٹلری ایمونیشن تباہ ہو کر رہ جاتا ۔ اسکے علاوہ نیوز ویک کے رسالہ میں ہی یہ تصویر بھی دیکھائی گئی تھی کہ کارگل کی سٹرک کے ساتھ ساتھ بھارتی تو پیں shoulder to shoulder جگہ کی کمی کی وجہ سے ایک سیدھی قطارمیں پاکستانی مورچوں پر گولہ باری کر رہی ہیں۔ جنرل مشرف صاحب اور اس معرکہ کے کور کمانڈر چونکہ دونوں ہی آرٹلری کے آفیسرزہیں‘ اس لئے اُن کو معلوم ہوگا کہ shoulder to shoulder توپوں کا فائر صرف Calibration کیلئے فائر ہوتا ہے اور اگر کوئی ایک بھی پاکستانی ائیر فورس کا جہاز سیدھی لائن میں strafingکرتا تو سارا بھارتی توپخانہ ایک دوسرے کے فائر سے ہی تباہ ہو جاتا اور اگرچہ جنرل صاحب کے مضمون میں تو ذکرنہیں آیا لیکن جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کارگل کے معرکہ کے زمانہ میں کسی امریکن مشہور اخبار میں یہ امریکی پالیسی بتائی گئی کہ امریکی حکومت نے پاکستان کوہدایت کی ہے کہ کسی صورت سرینگر کارگل لداخ کی طرف بھارتی LOCکو disturb نہ کیا جائے اور چنانچہ ایسا ہی ہو ا کہ جنرل صاحب نے بھارتی LOCکو بالکل disturbنہیں کیا اور نہ ہی ہونے دیا۔ تو اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ کارگل آپریشن جیسا بھی تھا اور امریکن احکام کے ماتحت چل رہا تھا اور پھرجبکہ ہم نے بھارتی LOCکو disturbنہیں کرتا تھا تو ہمارے خالی چوٹیوں پر رہنے کا AIMکیا تھا جو کہ کارگل آپریشن بغیر کسی AIM کے حصول کے ختم ہو گیا۔ اور بغیرکسی مقصد کے حصول کےلئے ہمیں آرمی اور سول کا کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ یہاں پر یہ واضح کر دوں کہ جنرل صاحب کا یہ دعویٰ کہ کارگل آپریشن مجاہدین کی کارروائی تھی اس بات کو بین الاقوامی حلقوں نے قبول نہیں کیا۔ اور دوسری طرف انڈین آرمی پاکستانی لاشوں اور قیدیوں سے برآمد شدہ فوجی دستاویزات دیکھاتے رہے‘ اس لئے مجاہدین والی کہانی کو بین الاقوامی حلقوں میں بلکہ پاکستان کے اندر بھی کسی نے قبول نہیں کیا بلکہ اُلٹا جارحیت کا الزام پاکستان پر لگا دیا گیا۔
یہاں پر ہمیں بہت تعجب ہوتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے ہماری شمالی علاقہ جات کیخلاف بہت بڑے بھارتی حملہ کی جو کہانی گھڑی ہے اسکی بجائے انکو معرکہ کارگل کی یہ خوبی نظر نہیں آئی جو کہ اس وقت عام افسروں میں بھی مشہور تھی کہ انڈین حکومت ہمارے کارگل آپریشن سے اس قدر خوف زدہ ہو گئی تھی کہ انہوں نے اپنے ڈیفنس کیلئے رحیم یار خان سے اوپر کی تما م آرٹلری یونیٹوں کو کارگل کے ڈیفنس پر بھیج دیا تھا ۔
یہاں پر میں جاوید صدیق کی In-depth فوجی مہارت کی داد دیتا ہوں کہ اگر جنرل پرویز مشرف جاوید صدیق کا مضمون ”کارگل کے سربستہ راز سے پردہ اُٹھتا ہے“ پڑھ لیتے جو آ پکے مضمون سے ایک ماہ قبل چھپ چکا تھا توآپ کسی بھی فوجی معرکہ کو لاتعلق و زراعتی پیداوار اور ہندوستان کے مالی خاسارہ وغیرہ میں ٹانوک ٹوئیاں مارنے سے بچ جاتے۔