مائے نی میں کنوں آکھاں ؟

کالم نگار  |  روبینہ فیصل ....دستک

ساتر نے کہا تھا میں جب لکھتا ہوں تو مایوسی کے جال میں ایک خوبصورتی کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہوں ،میں اُس کی تقلید کرنے کی کوشش کرتی ہوں کبھی کبھار کامیاب بھی ہو جاتی ہوں مگر عورت پر لکھنے کے لئے جب بھی قلم اٹھایا ساتر کی یہ بات میرا منہ چڑھانے لگی اور میں کائنات کی خوبصورت ترین چیزیعنی کہ عورت میں مایوسیاں ہی مایوسیاں پکڑ پائی ۔
کائنات کی خوبصورتی اور مزا عورت کے د©م سے ہے ۔ میں نے جب یہ سنا تو پوری بات نہیں بتائی گئی کہ اس کی قیمت کتنی ہے؟مرد ایک پوری کائنات ہے اور عورت فقط اُس کا ایک مزا ؟ اُس کی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشنے والی ایک خوبصورتی ؟صدیوں سے جنگوں میں مالِ غنیمت کے ساتھ ساتھ لُوٹا ہوا ایک اور مال ۔ جنگ میں مخالف مرد کو مار دیا جاتا ہے اور مخالف کی عورت کو بے حرمت کیا جاتا ہے ۔ پرانے زمانے کی جنگوں سے لے کر آج کے جدید دور تک جب خواتین اپنے حقوق کی جنگ لڑتے لڑتے نڈھال ہوچکی ہیں،جنگ کرنے والے مرد اس بات کی تہہ تک نہیں پہنچ پائے کہ دشمنوں کے مرد مارنے سے قوم شکست کھاتی ہے یا اُن کی عورتوں کو پامال کر کے ؟فوج کسی بھی ملک کی ہوفوجی لیڈر اپنے سپاہیوں کو حکم دیتے ہیں کہ دشمن کے مورچے تباہ کر دو اور عورتوںکی عزتیںلُوٹ لو ۔ان کی نسل ختم کردو اور ان کی عورتیں صرف ہمارے بچے جنیں ۔
 کبھی کبھی جب یہ دھرتی جینے کے قابل نہیں رہ جاتی تو بقول ایک فلاسفر کے "آپ کو جینا پڑے گا کیونکہ زندگی کو قبولنے سے "نہ"نہیں کی جاسکتی اور جب بے بسی کا یہ فلسفہ مجھے اُن معصوم روحوں پر لا گو ہوتا نظر آتا ہے جو ابھی زندگی، موت ،زیادتی اور بد صورتی کے لفظوں سے بھی آشنا نہیںہوتی ہیں۔ پاکستان انڈیا سے پے در پے لڑکیوں اور پانچ پانچ سال کی بچیوں کے ساتھ زیادتی کی جو خبریں آرہی ہیں وہ کسی بھی حساس انسان کو پاگل کر دینے کے لئے کافی ہیں ۔ مغل پورلاہور کی پانچ سالہ بچی کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹہ بربریت کر کے اُسے گنگا رام ہسپتال کے آگے پھینک دیا گیا۔ظالموں نے تو جو ظلم کیا سو کیا مہربانوں نے حد سے بڑھ کر تشہیر کی گئی ۔ اس واقعے کو عبرت کا نشان بنانے کی بجائے ایک سنسنی خیز چیز بنا کر پیش کیا گیا اور اخلاقی گراوٹ جو شائد تاریخ کی سب سے نچلی سطح کو چھُو رہی ہے اس کا شکار لوگوں نے سوچا ۔اوہ اچھا پانچ سال کی بچی کے ساتھ بھی جنسی فعل ہوسکتا ہے اور اگلے دنوں میں ٹی وی چینلز اور اخبارات کو بریکنگ نیوز کے لئے یادہ بھاگ دوڑ نہیں کر نا پڑی ۔۔
ویسے یہ دنیا اندرونی بے حسی سے اتنی ٹھنڈی ہوچکی ہے کہ نہ ہاں کہنے کے لئے سُن ہونٹ کھُلتے ہیں اور نہ "نہ "کہنے کے لئے ۔سڑکوں پر احتجاج کرنے کے لئے فقط چند سر اُٹھے نظر آئے اور پانچ سال کی بچیوں کی ساری زندگی ایک تماشا بن گئی ۔سارہ شگفتہ نے کہا تھا ....
تجھے جب بھی کوئی دُکھ دے
اُس دکھ کا نام بیٹی رکھنا
میں پہلی بار ڈری بیٹی
میں کتنی بار ڈری بیٹی
متحرک اور مستعد خادم ِ اعلی یا حاکم ِ اعلی مگر یہ یقین ہے کہ اُس کی سلطنت کی رعایا میں یہ چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی آتی ہونگی ۔۔پھر سلامت پور کے رکشے والے نے کیسے اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی زینب کو دریا ئے راوی میں پھینک دیا ۔ بچی نے ماں کو پکارا ۔اور ماں اُسے بچا نہ سکی۔
ابھی پیڑوں میں چھُپے تیرے کمان ہیں بیٹی
میرا جنم تُو ہے بیٹی
اور تیرا جنم تیری بیٹی
 (سارہ شگفتہ)
صدیوں سے عورت بھمیبری کی طرح گول گول گھوم رہی ہے ۔ ماں اور اس کی ماں اور پھر اس کی ماں سب شکلیں بدل بدل کر آرہی ہیں ۔ حضور ﷺ کے زمانے میں ایک شخص بیٹی کو زندہ دفنا کر آیا اور بتانے لگا کہ قبر کھودتے وقت جب مٹی میرے کپڑوں پر پڑتی تو میری بیٹی اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اُسے صاف کر تی جاتی تھی ۔ وہ دفن ہونے والی بیٹیاں آج اتنی صدیوں کاسفر طے کرنے کے بعد بھی گول گول گھومتی وہیں کی وہیں کھڑی ہیں ۔ مٹی میں زندہ نہ دفنا یا ، دریا بُرد کر دیا ،یا ٹرین کے آگے پھینک دیا ۔حاکم ِ یا خادم ِ اعلی نے یہ خبر بھی ضرور پڑھی ہوگی کہ دو جڑواں بچیوں کو کوئی شیخوپورہ روڈ پر ریلوے لائن کے آگے مرنے کے لئے پھینک دیاگیا ۔ ٹرین سے پہلے کوئی درد مند انہیں اٹھا کر ایدھی ہوم کے حوالے کر گیا ۔جہاں ایسی ہی بدقسمت روحوں کے لئے ایک جھولا پڑا ہے "قتل نہ کرو انہیں لاوارثوں جھولے میں ڈال دو "۔
عورت کائنات کی خوبصورتی ہے ؟ نہیں عورت کائنات میں لگایا گیا ایک بہت بڑا تماشا ہے ۔درد نمانی دا کوئی نئیں جاندا۔۔ شیخوپورہ کی ایک جواں سالہ لڑکی نے شادی سے انکار کر دیا تو لڑکے نے اس کے منہ پر تیزاب پھینک دیا ۔تیزاب کا یہ واقعہ پہلا نہیں ہے ۔ایسے واقعات پر بنی دستاویزی فلم ایک خوبصورت ، پڑھی لکھی لڑکی کو ایوارڈ بھی دلوا چکی ہے مگر تیزاب سے جھلسے چہروں کو نہ چہرہ دلوا سکی نہ ان واقعات کو روکنے کا کوئی سدِ باب کر سکی ۔ایسے واقعات میڈیا اور سول سوسائٹی کے مگر مچھ کا پیٹ بھرنے کے لئے تو بہت مفید ہیں مگر یہ سب لوگ ان واقعات کو روکنے یا کم کرنے میں کوئی کردار نہیں نبھا رہے۔پولیس اور عدالتوں کی کارکردگی سب کے سامنے ہیں۔
 وہ بچی جسے درندوں نے نوچا کھسوٹا ،سُنا ہے ماں کو دیکھتے ہی چیخ چیخ کر رونا شروع کر دیتی ہے ،تیرے تو سامنے وہ جانور خود بھی آ گئے تو تو اتنی معصوم ہے کہ انہیں خود بھی نہ پہچان سکے گی مگر تیرے آنسو ماں سے پوچھ رہے ہیں ۔مائے نی میں کنوں آکھاں ؟
زیادتی کانشانہ بنی بچیاں ، تیزاب میں جھلسا دی گئی بچیاں ، دریا میں پھینک دی گئیں بچیاں اور ریلوے لائن کے آگے پھنیک دی گئی بچیاں سب قابل ِ عزت ہیں ان کا نام بھی کوئی نہ لے مگر ان کے ساتھ یہ سارے مکروہ فعل کرنے والے وحشیوں کو بقول مجیب الرحمن شامی کے جنگلی کتوں کے آگے پھینک دینا چاہیے ۔ جو ان کے جسم کی بوٹی بوٹی کر کے پوری دنیا میں اس بریکنگ نیوز کے ساتھ بکھیر دیں کہ عورت واقعی ہی میں کائنات کا حسن ہے اوراس کی بے حرمتی کرنے والوں کو ٹکڑوں میں کاٹ دیا جائے گا ۔