شاہ زیب قتل کیس ، دیّت اور سپریم کورٹ

کالم نگار  |  رانا عبدالباقی

گزشتہ روز منڈی بہاﺅالدین سے متعلقہ قتل کے ایک مقدمے میں صلح کے موضوع پر کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری نے آبزرویشن دیتے ہوئے اسلامی شریعت کے حوالے سے کہا کہ قتل کے مقدمات میں فی سبیل اللہ معافی دراصل آیاتِ قرآنی کو اپنے مقاصد کےلئے استعمال کرنے کے مترادف ہے ، چنانچہ اسلامی تعلیمات کی غلط تشریح کی بنیا د پر ہم پر عذاب نازل ہوتا ہے ، اِسلئے عدالت عظمیٰ قتل کے بعد صلح کے حوالے سے بھر پور فیصلہ دیگی ۔ چیف جسٹس کی آبزرویشن اِس لئے بھی بروقت تھی کیونکہ اِسی اثنا میں چند روز قبل شاہ زیب ہائی پروفائل قتل کیس کے حوالے سے میڈیا میں جلی حروف میں یہ مفصل رپورٹ شائع ہوئی کہ مقتول شاہ زیب کے ورثا نے شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان کو جنہیں کراچی دہشت گردی کی عدالت نے قتل عمد کے ضمن میں سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں کو معاف کر دیا ہے جس کا صلح نامہ اپیلٹ ہائی کورٹ میں داخل کیا گیا ہے ۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ شاہ زیب قتل کیس کا اہم ملزم شاہ زیب جتوئی ٹرائل کورٹ سے رخصت ہوتے وقت مسکراتے ہوئے ، ہاتھ سے وکٹری کا نشان بناتا تھا کہ جیسے اُس نے ایک مسلمان کو قتل کرکے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہو ؟ بہرحال اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ملک میں قتال کے بڑھتے ہوئے رجحان میں اوّل تو اُمرا و خواص قانون کی گرفت میں ہی نہیں آتے ہیں اور اگر کچھ کیسوں میں وسائل رکھنے والے خواص اور اُمرا قانون کی گرفت میں آ بھی جاتے ہیں تو قانونی موشگافیوں کے سبب یا تو اِن مقدمات سے صاف بچ نکل جاتے ہیں اور اگر ایسا نہیں ہو پاتا ہے تو اثر و رسوخ رکھنے والے ملزمان وسائل کی فراوانی کے باعث مقتول کے ورثا کو سیاسی و سماجی شخصیتوں کے دباﺅ اور خطیر مالی وسائل کے ذریعے صلح کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور پھر سیاسی و مالی دباﺅ کا یہی حربہ شرعی قوانین کی ناک مڑور کر قاتل کےلئے فی سبیل اللہ معافی اور رہائی کا ذریعہ بن جاتا ہے اور وقت گزرنے کےساتھ بھیانک جرائم میں ملوث یہی چہرے پھر سے معاشرے کی مقتدر ہستی بن جاتے ہیں۔
درج بالا تناظر میں کیا شاہ زیب کیس بھی عوام الناس کےلئے اِسی نوعیت کی نوید لےکر آیا ہے ؟ اِس پر قصاص و دیّت کے قانون کے حوالے سے گیرائی اور گہرائی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت مسلمہ ہے کیونکہ اِسی ضمن میں عام شہری بھی اب اسلامی تعلیمات سے مُرصّع پڑھے لکھے نوجوانوں اور مقتدر دانشوروں کی طرح ہی سوچتے ہیں اور اِس پیچیدہ مذہبی معاملے پر چیف جسٹس کے ریماکس کی پُرزور تائید کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ فی سبیل اللہ معافی کے غلط استعمال کو ملت اسلامیہ کےلئے ایک فتنہ بننے سے روکا جائے ۔ اِس اہم مذہبی پیچیدگی کو دور کرنا اِس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ وسائل رکھنے والے اور وسائل نہ رکھنے والے افراد کے مابین بظاہر یہ شرعی قانونی دو عملی اُلجھنوں اور انتشار کا سبب بن رہی ہے ۔ چنانچہ شاہ زیب قتل کیس کے پیش نظر اہم شرعی نکات پر اجتماعی غور و فکر کے بند دروازے کھولے جانے چاہئیں اور فی سبیل اللہ معافی کے حوالے سے ما¿یہ ناز مفتی اور فقیہ قصاص و دیّت کے قوانین کی صحیح وضاحت قوم کے سامنے پیش کریں ۔
اندریں حالات ، معاشرے میں قتال کے حوالے سے فی سبیل اللہ معافی اور فتنہ و فساد کی اُبھرتی ہوئی کیفیت کو بھی زیر بحث لانے کی ضرورت اِس لئے بھی مسلمہ ہے کیونکہ علماءاکرام کی متفق علیہ تشریح کےمطابق کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کرنے کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی شکار پر تیر یا گولی چلائی جائے اور چوک کر کسی مسلمان کی ہلاکت کا سبب بن جائے ،جہاد کے دوران کسی مسلمان کو کافر سمجھ کر قتل کر دیا جائے ، ہوائی فائرنگ کی صورت میں گولی چھت یا چھجّے پر موجود کسی شخص کی موت کا سبب بن جائے ،وغیر وغیرہ ۔ حقیقت یہی ہے کہ غلطی سے مسلمان کو قتل کرنے پر دیّت لاگو ہوتی ہے جبکہ قتل عمد کی صورت میں سیاسی و سماجی دباﺅ کو استعمال کرتے ہوئے محض پُر کشش خون بہا کی بنیاد پر فی سبیل اللہ معافی دینا دیّت کے قانون کے منافی ہے لیکن وسائل رکھنے والے افراد اِس سے بدستور مستفید ہو رہے ہیں جسے اسلامی تعلیمات کے حوالے سے دین میں فتنہ پیدا کرنے سے ہی تعبیر کیا جائے گا ۔ قرآن حکیم میں سورة النساءکی آیت 92 میں بیان کیا گیا ہے کہ " مسلمان کا کام نہیں کہ قتل کرے مسلمان کو ، مگر غلطی سے اور جو قتل کرے مسلمان کو غلطی سے تو آزاد کرے گردن ایک مسلمان غلام کی اور خون بہا پہنچائے اُس کے گھر والوں کو ، اگر وہ اُس کو معاف کر دیں " جبکہ آیت 93 میں بڑی وضاحت سے کہا گیا ہے " اور جو کوئی قتل کرے مسلمان کو جان کر (قتل عمد) تو اُس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ کا اُس پر غضب ہوگا اور اُس کو لعنت بھی اور اُس کے واسطے بڑا عذاب ہے " ۔
کیا ہم نے اسلامی تعلیمات پر غور و فکر کرنا چھوڑ کر محض نفس و خواہشات کے حصول کی خاطر غیر اسلامی رجحانات کو مہمیز دینے کو ہی اپنا مقصد حیات بنا لیا ہے ؟ ہمیں اِس صورتحال کی اصلاح کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہئیے جس کی نشان دہی شاہ زیب قتل کیس سے بھی ہوتی ہے۔ یہی وہ پیچیدہ صورتحال ہے جو انٹر نیٹ فیس بک، ٹی وی چینلز اور دانشورانہ فورمز پر بل خصوص نوجوان نسل کو اسلامی تعلیمات کے حوالے سے اُلجھنوں میں ڈالے ہوئے ہے ۔ جدید ذرائع ابلاغ سے بھی اِس اَمر کی نشان دہی ہوتی ہے کہ نئی نسل شاہ زیب قتل کیس کے حوالے سے مشکل سوالات قائم کر نے میں اُلجھی ہوئی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ کیا وسائل سے محروم طبقے ہی پھانسی پر چڑھنے کےلئے منتخب کئے گئے ہیں اگر ایسا نہیں ہے تو مالی وسائل رکھنے والی اشرافیہ اور خواص کو سر عام قتل کرنے اور پھر اسلامی قانونِ دیّت کے ذریعے قتل عمد کو اپنی مرضی کے معنی پہنا کر قصاص سے صاف بچ نکلنے کا موقع کیونکر فراہم کیا جا رہا ہے ؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا شاہ زیب قتل کیس میں مبینہ صلح نامے کے آنے سے قبل کراچی دہشت گردی ٹرائل کورٹ اِس مقدمے میں قانونی شہادتیں قلم بند کرنے کے بعد ملزمان کو قتل عمد کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت اور عمر قید کی سزا نہیں سنا چکی ہے؟ اِس مقدمے کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اِس مقدمے میں چند گواہوں کے ٹوٹ جانے کے باوجود چشم دید گواہوں نے قرآن حکیم کی تعلیمات کےمطابق حق کےلئے شہادت دینے کی جرا¿ت کا مظاہرہ کیا ، چنانچہ اب ورثا کے درمیان خطیر رقوم اور مبینہ طور پر بیرون ملک رہائش کے عوض صلح نامے کے بعد اِس مقدمے میں قتل عمد کے چشم دید گواہوں کے تحفظ کا ذمہ دار کون ہوگا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا درج بالا آیات مقدسہ کی روشنی میں قتل عمد کے مرتکب افراد کو شرعی قانون کے تحت فی سبیل اللہ معافی کا اہل قرار دیا جا سکتا ہے یا ایسی کوئی بھی کاروائی ملت اسلامیہ کےلئے فساد اور فتنہ کو مہمیز دینے کے مترادف ہوسکتی ہے ؟ اِس کےلئے ہمیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا۔