شاطردشمن

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ

آج سے چند سال پہلے مجھے اپنے عزیزوں کے ہاں سا ﺅ تھمپٹن انگلینڈ جانے کاموقعہ ملا۔ ساﺅتھمپٹن سمندر کے کنارے ایک خوبصورت اور صاف ستھرا شہر پایا۔ شہر تو اتنا بڑانہیں تھا لیکن اس کی وجہ شہرت وہ مشہور زمانہ Titanicجہاز تھاجو یہاں سے روانہ ہوااور پھر ڈوب گیا۔ میری میزبان ایک مقامی سکول میں ٹیچر تھی ۔ مقامی نظام تعلیم دیکھنامیری پہلی  ترجیح تھی اور میزبان نے سکول انتظامیہ سے اجازت لے کر ہماری سکول وزٹ کا پروگرام پہلے سے ہی ترتیب دے رکھا تھا۔
دوسرے دن ہم سکول پہنچے۔ صبح کی اسمبلی دیکھی۔ مختلف کلاسزدیکھیں اور پھر لائبریری کی طرف بڑھے۔ لائبریری کے مرکزی دروازے کے سامنے میز پر ایک بڑی سی سفید ریش ہستی کی تصویر رکھی تھی ۔ پہلی ہی نظر میں میں نے پہچان لیا کہ یہ اورنگ زیب عالمگیرکی تصویر ہے جس سے مجھے دلی خوشی محسوس ہوئی۔ میں سیدھا اس تصویر کے پاس گیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ یہ اورنگ زیب عالمگیر کی نہیںبلکہ باباگرونانک کی تصویر تھی۔ بعد میں جب ہم خاتون پرنسپل سے ملے تومیں نے اس تصویر کے بارے میں استفسار کیا۔ خاتون نے بتایاکہ وہاں کے نظام تعلیم میں برصغیرکا ایک مذہب پڑھانا ضروری ہے۔لہٰذا وہاں سکھ مذہب کی تعلیم دی جاتی ہے۔میں نے اسلام کے متعلق سوال پوچھاتو خاتون نے ناگواری سے جواب دیا۔''ہم اپنی قوم کو دہشت گر د نہیں بنانا چاہتے"۔میں مزید کچھ پوچھنا چاہتا تھاکہ میزبان خاتو ن نے منہ پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش کر دیا۔ یہ جواب سن کر مجھے  ایسے محسوس ہواجیسے کسی نے میرے سینے میں خنجرگھونپ دیا ہو۔
واپسی پر بس میں بیٹھے ہوئے خاتون کے جواب کی سوچ میں گم تھا کہ میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک بھاری بھرکم نوجوان آبیٹھا۔ لباس اور شکل صورت دیکھ کر پہلی ہی نظر میں پتہ چل گیا کہ یہ شخص پاکستانی ہے۔بات چیت سے معلوم ہوا کہ ان کا تعلق وزیرآباد سے تھا اور وہ وہاں اسلامک سنٹر میں ڈائریکڑ تھے۔مزید پتہ چلا کہ اس چھوٹے سے شہرمیں پاکستانیوں کی چار مساجدتھیں جہاں صرف پاکستانی ہی نماز پڑھتے تھے۔دو مسجدیں تواسطرح ملحق تھیںکہ ان کی درمیانی دیوار مشترک تھی۔اتنی زیادہ مساجد نمازیوں کی تعداد کی وجہ سے نہیں بلکہ آپس کی تفر قہ بازی کی وجہ سے بنیں۔ ان کے علاوہ ایک مسجد بنگالیوںکی بھی تھی۔ غالباََ "جلال مسجد"جہاں بنگالی مسلمان اور باقی افریقی یا بھارتی مسلمان نماز پڑھتے۔ جمعہ کے دن وہ مجھے بھری ہوئی ملی لیکن پاکستانیوں کی مساجدمیں نمازی خال خال۔جہاں تک اسلامی سنٹر کا تعلق تھا میںدیکھنے کے لئے چار دن مسلسل جاتا رہا مجھے بند ملا۔
مجھے پتہ چلا کہ ساﺅتھمپٹن میں ہندوﺅں کی تعدا د مسلمانوں اور سکھوں کی نسبت زیادہ ہے اور اُنکی صرف ایک ہی عبادت گاہ (مندر)ہے۔ اتوارکو وہاں گیا کھچا کھچ بھراتھا ۔اب اگلی منزل گردوارہ کی وزٹ تھی جس میں بغیراجازت جانا مناسب نہ سمجھا۔ وہاں سکھوں کے چار گردوارے تھے۔ ایک گردوارے کی انتظامیہ کی میرے میزبانوں کے ساتھ اچھی خاصی شناسائی تھی۔ اُنکی اجازت سے اگلے اتوارہم وہاں پہنچے تو میرے لئے پہلی حیرانی تو یہ تھی کہ گردوارے کے باہر گیٹ پر بڑے بڑے الفاظ میں لکھا تھا"GOD IS ONE" اس سے پہلے میں انہیں خدا تعالیٰ کی ذات کا منکر سمجھتا تھا بہرحال ہم اندر گئے۔ اُنکی انتظامیہ کے انچارج سے ملاقات ہوئی ۔وہ انڈین آرمی کا سابق میجر تھا جو 1984کے قتل وغارت کے وقت بھارت سے بھاگ آیا تھا۔ اس وقت ہال میں لنگرجاری تھا۔ خواتین اور مرد علیحدہ علیحدہ کھارہے تھے جن میں سکھ ، انگریز اور حتیٰ کہ پاکستانی بھی نظر آئے۔کھانے میں پکوڑے، حلوہ، لسی، سرسوںکے ساگ سمیت تقریباََ 5یا 6ڈشز تھیں۔
کھانے کے بعد میجر صاحب ہمیں اپنے کمیٹی روم میں لے گئے جہاں کمرے کے اندرباہر جلی الفاظ میں ©"خا لئصتان زندہ باد"کانعرہ لکھا تھا۔ وہاں چائے منگوائی گئی۔ کمیٹی کے باقی ممبران بھی آگئے۔ پاکستان اور ہندوستان کے متعلق بات چیت ہوئی خصوصاََ خالصتاً کے حوالے سے تو ایک سکھ نے افسوس کا اظہار کیاکہ:"©1947میں جناح صاحب نے ہمارے بزرگوں کو خالصتاً بنانے کا کہاتھا لیکن ہمارے بزرگ غلطی کھاگئے"۔میں نے میجر صاحب سے سوال کیاکہ:" یہاںہندوﺅں کی تعداد مسلمانوں اور سکھوں سے زیادہ ہے لیکن انکا ایک ہی مندر ہے ۔سکھوں کے چار گردوارے ہیں اور مسلمانوں کی پانچ مساجد۔ اسکی کیا وجہ  ہے؟" میجر صاحب نے بڑا دلچسپ جواب دیا:"سکھ اور مسلمان دونوں مارشل قو میںہیںپھر فرق تو ہو گا"۔
اصل بات جس کی طرف قارئین کی توجہ دلانا مقصود ہے وہ ایک سردار صاحب کا قصہ ہے۔ ایک بڑے پڑھے لکھے سردار نے طنزاََ کہا:"ویسے تو تم موسلے ہمارا مذاق اُڑاتے ہو لیکن تم لوگ تو ہم سرداروں سے بھی گئے گزرے ہو" تفصیل اس نے یوں بتائی کہ تقسیم ہند سے پہلے ضلع گورداس پور میں مسلمانوں کا ایک گاﺅ ں تھا۔یہ 1946کا واقعہ ہے وہاں مسلمانوں نے چندہ وغیرہ اکٹھا کر کے ایک ہائی سکول بنانے کا فیصلہ کیا۔ عمارت کی تعمیر شروع ہوگئی۔ آدھی سے زیادہ تعمیر ہو گئی تو اُدھر سے پنڈت جواہر لعل نہرو کا گزر ہوا۔بلڈنگ کے باہر اسلامیہ ہائی سکول کا بورڈ لگا تھا۔نہرونے یہ بورڈ پڑھ کر کار رکوالی۔پوچھنے پر لوگوں نے بتا یا کہ مسلمان ہائی سکو ل بنا رہے ہیں۔ یہ سن کر نہرو بڑا پریشان ہوا کہ مسلمان اور ہائی  سکول؟ناممکن !اپنے اے۔ڈی ۔سی کو کہا نوٹ کرلو واپس پہنچ کر مجھے یاد دلانا میں اِنکا بندوبست کرونگا۔بات ختم ہوگئی۔ نہرو نے اس علاقے میں ایک جلسہ کرنا تھا وہ کیا۔
 مسلمانوں کی تعریف کی کہ سکول بنا رہے ہیں۔ امداد کا وعدہ کیااور چلا گیا۔
ایک ہفتے بعد وہاں ایک مولوی صاحب آئے جس نے بتایا کہ پنڈت صاحب نے انہیں بھیجا ہے کہ یہاں کے مسلمانوںکے بچوں کو اسلامی تعلیم دی جائے اور ساتھ ہی امامت کے فرائض بھی پورے کئے جائیں جس سے سب مسلمان بہت خوش ہوئے۔ مولوی صاحب نے اپنا کام شروع کر دیا۔چند ماہ بعد وہاں شیعہ سنی فسادات ہوگئے۔سکول کی تعمیر روک کر علیحدہ علیحدہ مساجد بنانے کا پروگرام بن گیا۔پھر مولوی صاحب نے فتویٰ دیا کہ انگریزی تعلیم حاصل کرنا مسلمان بچوں کے لئے کفر ہے۔ انھیں صرف دینی تعلیم پر زور دینا چاہیئے۔ لہٰذا سکول کی تعمیر رک گئی۔ عین ممکن تھا کہ یہ لوگ آپس میں لڑ لڑ کر ایک دوسرے کا نقصان کرتے لیکن ہندوستان تقسیم ہو گیا اور یہ لوگ پاکستا ن آگئے۔ بعد میں یہ سکول ہم سکھوں نے مکمل کیا اور اب یہ گروگوبند سنگھ خالصہ کالج ہے۔
معزز قارئین یہ ایک سچا واقعہ ہے جو ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے ۔آج جس طرح ہم فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیںوہ یقینا کسی مہذب قوم اور مہذب معاشرے کو زیب نہیں دیتانہ ہی یہ اسلامی تعلیم کے مطابق ہے۔ اسلام کو اسلام ہی کے ذریعے ہی ختم کیاجارہا ہے۔پاکستان پاکستانیوں ہی کے ہاتھوں تباہ ہورہا ہے ۔اگر اب بھی ہم نہ سمجھے تو ہم سے زیادہ بد قسمت قوم اور کوئی نہ ہو گی۔